Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
52 - 176
وانا اقول: احالۃ الخانیۃ علی استقرار المستعمل یحتمل البناء علی احد ضعیفین نجاسۃ المستعمل اوخروج الماء عن الطھوریۃ بوقوع المستعمل وان قل وھو المتعین فی کلام الحصیری وکلاھما خلاف الصحیح المعتمد بتصریح اجلۃ الاکابر حتی الشیخ نفسہ فی ھذہ الرسالۃ نفسھا کما سیأتی ان شاء اللّٰہ تعالی فھھنا افسد الشیخ علینا مااردنا حمل کلامہ علیہ من ان المراد الوضوء بالغمس اما الفروع فلیس الاولی بناء ان نعمد الی کلمات الائمۃ فنحملھا علی محمل ضعیف غیر مقبول مع صحۃ الصحیح وباللّٰہ التوفیق۔
میں کہتا ہوں خانیہ کا مستعمل پانی کے استقرار پر محوّل کرنا دو میں سے کسی ایک ضعیف چیز پر مبنی ہے یا تو مستعمل پانی کی نجاست یا پانی کا طہوریت سے خارج ہونا مستعمل پانی کے مل جانے کی وجہ سے خواہ وہ کتنا ہی کم ہو، اور حصیری کے کلام میں بھی یہی متعین ہے، اور اکابر کی تصحیح کے مطابق یہ دونوں صحیح معتمد کے خلاف ہیں، یہاں تک کہ شیخ نے خود بھی اسی رسالہ میں اس کی تصریح کی ہے جیسا کہ عنقریب آئے گا اِن شاء اللہ تعالیٰ، اس طرح ہم نے شیخ کے کلام کا جو حل تلاش کیا تھاوہ بھی درست نہ ہوسکا، یعنی یہ کہ وضو سے مراد اعضاء کا ڈبونا ہے، اور جہاں تک فروع کاتعلق ہے تو ہم ایسا نہیں کرسکتے کہ ائمہ کے کلمات کو ضعیف محمل پر محمول کریں حالانکہ صحیح بھی موجود ہو، وباللہ التوفیق۔
ثم عقد رحمہ اللّٰہ تعالی فصلا فی تعریف الماء المستعل وما یصیر بہ مستعملا ومالا وذکر فیہ ماقدمنا عن القدوری عن الجرجانی وعن مبسوط شمس الائمۃ السرخسی من ان سقوط حکم الاستعمال عند محمد فی من دخل البئر للدلولاجل الضرورۃ وکذا ادخال الجنب یدہ فی الاناء (ای للاغتراف عند عدم مایغترف بہ کما قدمنا) وطالب الدلو رجلہ فی البئر ولو ادخل رجلہ فی الاناء اورأسہ صار مستعملا لعدم الحاجۃ قال فیالیت شعری ماجواب التمسک بھذہ المسألۃ (ای مسألۃ من دخل البئر للدلو لم یستعمل عند محمد) عن کلام ھؤلاء الائمۃ الاساطین ثم ذکر ماقدمنا عن الفوائد الظھیریۃ عن شیخ الاسلام خواھر زادہ عن محمد قال وھذا نقل صریح عن الامام الثالث نقل مثل خواھر زادہ ثم ذکر کلام الکافی المقدم وانہ حکی کلام القدوری ولم یتعقبہ قال فظھرلک بھذا ان ادخال الید فی الحوض الصغیر بقصد التوضی فیہ سالب عن الماء وصف الطھوریۃ لارتفاع الحدث والتقرب بادخال الید ونزعھا باتفاق علمائنا الاربعۃ (یرید الائمۃ الثلثۃ وزفر) رضی اللّٰہ عنھم واذا تجرد عن القصد المذکور فھو غیر مؤثر فی قول مردود ثبوتہ عن محمد ردہ ھؤلاء الاساطین الذین لایلتفت الی قول غیرھم فی المذھب،
پھر انہوں نے مستعمل پانی کی تعریف میں ایک فصل قائم کی، اس میں یہ بتایا کہ کب پانی مستعمل ہوتا ہے اور کب نہیں، اور انہوں نے اس سلسلہ میں قدوری، جرجانی اور شمس الائمہ سرخسی کی مبسوط سے عبارات نقل کیں، اور بتایا کہ محمد کے نزدیک جو شخص کُنویں سے ڈول نکالنے کیلئے داخل ہو اس سے پانی کا مستعمل نہ ہونا ضرورت کی وجہ سے ہے، اور اسی طرح جُنب شخص کا چھوٹا برتن نہ ہونے کی صورت میں ٹب میں ہاتھ کو داخل کرنے کا معاملہ ہے، اسی طرح کوئی شخص ڈول نکالنے کیلئے کنویں میں اپنا پیر ڈالے تو اس کا حکم وہی ہے، اگر یہ شخص اپنا پیر برتن ڈال دے یا سر ڈال دے تو پانی مستعمل ہوجائے گا کہ حاجت منعدم ہے، فرمایا معلوم نہیں جو اس مسئلہ سے استدلال کرتے ہیں ان کا جواب کیا ہوگا (یعنی یہ مسئلہ کہ محمد کے نزدیک کنویں سے ڈول نکالنے سے پانی مستعمل نہ ہوگا) ان ائمہ کے کلام کا! پھر انہوں نے وہ ذکر کیا جو ہم فوائد ظہیریہ سے شیخ الاسلام خواہر زادہ سے محمد سے روایت کو نقل کیا، فرمایا یہ صریح نقل ہے تیسرے امام سے اس کو خواہر زادہ جیسے شخص نے نقل کیا، پھر کافی کا گزشتہ کلام نقل کیا اور قدوری کا کلام نقل کیا مگر اس کا تعاقب نہ کیا، فرمایا اس سے ظاہر ہوا کہ وضو کرنے والے کا چھوٹے حوض میں ہاتھ کو داخل کرنا بہ نیت وضو پانی سے طہوریت کے وصف کو سلب کردے گا کیونکہ ہاتھ کے ڈال کر نکالنے سے ہمارے ائمہ اربعہ (ائمہ ثلثہ وزفر) کے اتفاق سے پانی کا وصف طہوریت ختم ہوجائے گا، حدث کے ختم ہوجانے اور تقرب کے حاصل کرنے کی وجہ سے، اور جب قصد مذکور نہ ہو تو وہ غیر مؤثر ہے ایک قول کے مطابق جس کا ثبوت محمد سے نہیں ہے اس کو ائمہ مذ ہب نے رد کیا ہے جن کا قول فیصل ہے،
ثم اید رد ثبوتہ عن محمد(۱) بقول الامام قاضی خان فی شرح الجامع الصغیر لانص فیہ عن اصحابنا قال وذکر المتأخرون فیھا خلافا ثم حکی ان من علمائنا من قال ان الماء یصیر مستعملا عند محمد برفع الحدث ایضا لانتقال الاثام الی الماء وانما لم یصر ماء البئر مستعملا فی مسألۃ الجنب عند محمد لمکان الضرورۃ ثم قال ولعمری انی لاعجب ممن یقول فی مسألتنا ھذہ ان مستندہ فی افتائہ یجوز التوضی فی ھذا الحوض مسألۃ البئر والحال انہ لاجامع بینھما لان تلک فی من تجرد عن النیۃ وھذہ فیمن یتوضأ ماھذا الا عجیب واللّٰہ الموفق ثم اورد کلام شیخہ فی الفتح الذی ذکرنا فی النمرۃ الاولی الی قولہ کذا فی الخلاصۃ ۱؎۔
پھر اس کو محمد کا قول نہ ہونے پر شرح جامع صغیر میں قاضی خان کے قول سے مؤید کیا ہے کہ اس میں ہمارے اصحاب کی کوئی نص نہیں، فرمایا کہ متاخرین نے اس میں ہمارے اصحاب کی کوئی نص نہیں، فرمایا کہ متاخرین نے اس میں اختلاف کا ذکر کیا ہے، پھر یہ حکایت کی کہ ہمارے علماء میں سے بعض نے فرمایا ہے کہ محمد کے نزدیک حدث کے مرتفع ہونے سے بھی پانی مستعمل ہوجاتا ہے، کیونکہ پانی کی طرف گناہ منتقل ہوتے ہیں، اور کنویں کے مسئلہ میں جنب کے داخل ہونے سے پانی کا مستعمل نہ ہونا محمد کے نزدیک ضرورت کی وجہ سے ہے، پھر فرمایا مجھے بے انتہا تعجب ہے اس مسئلہ میں کہ انہوں نے اپنے فتوٰی کی سند کنویں کے مسئلہ کو بنایا ہے اور یہ فتوٰی دیا ہے کہ اس حوض میں وضو جائز ہے حالانکہ دونوں کے درمیان کوئی علت جامع موجود نہیں کیونکہ وہ مسئلہ نیت کے نہ ہونے کا ہے اور یہ وہ ہے جس میں نیتِ وضو پائی جاتی ہے یہ بڑی عجیب بات ہے واللہ الموفق۔ پھر انہوں نے اپنے شیخ کا کلام ذکر کیا جو ہم نے نمرہ اولیٰ میں ذکر کیا کذافی الخلاصہ تک۔
 (۱؎ شرح جامع الصغیر لقاضی خان اور رسالہ ابن شحنہ)
(وقع فی صدر الرسالۃ عند ذکر الکتب عدالعنایۃ سھوا مرتین فلیکن ھذا متم الاربعین بل الذی یاتی عن خزانۃ المفتین اھ منہ غفرلہ)
شروع ر سالہ میں جہاں کتابوں کا ذکر ہے عنایہ کا شمار سہواً دو۲ دفعہ کیا ہے۔ پس چاہئے یہ چالیس کا تتمہ ہو بلکہ وہ جو خزانۃ المفتین سے آرہا ہے اھ (ت)
اقول: کلہ کلام طیب وعنہ اخذت عبارۃ الفوائد الظھیریۃ غیر(۱) ان ما قال فی لعمری انی لاعجب فلعمری انی لاعجب واذ قد حقق الشیخ ان الصحیح عن محمد ایضا عدم الفرق بین النیۃ وعدمھا فما منشؤ ھذا الفارق وانما کان علیہ ان یقول تلک للضرورۃ وھذہ بدونھا ثم عقد تذنیبا یسرد فروع مایصیر بہ الماء مستعملا ومالا وقدم علیھا تنبیھا فی ان الفتوی فی سبب الاستعمال علی قولھما انہ رفع حدث اوالتقرب لاعلی قول محمد انہ التقرب فقط ونقل تصحیح قولھما عن الخلاصۃ والخانیۃ وخزانۃ المفتین والاختیار والبزازیۃ۔
میں کہتا ہوں سارا کلام اچھا ہے اور اسی سے فوائد ظہیریہ کی عبارت لی گئی ہے سوائے اس قول کے کہ ''مجھے بے انتہا تعجب ہے''۔ تو مجھے ان پر بے انتہا تعجب ہے کیونکہ جب شیخ نے یہ تحقیق کی ہے کہ محمد سے صحیح یہ ہے کہ نیت اور عدمِ نیت میں کوئی فرق نہیں، تو یہ فارق کہاں سے آگیا، دراصل ان کو کہنا یہ چاہئے تھا کہ وہ ضرورت کی وجہ سے ہے اور یہ بلا ضرورت ہے، پھر ایک تذنیب قائم کی اس میں ان فروع کا ذکر کیا ہے جن میں پانی مستعمل ہوتا ہے اور نہیں ہوتا ہے اس سے پہلے ایک تنبیہ ذکر کی، اس میں یہ بتایا ہے کہ سبب استعمال میں فتوٰی شیخین کے قول پر ہے اور وہ سبب یا تو رفع حدث ہے یا تقرب ہے، محمد کے قول پر نہیں ہے کہ سبب صرف تقرب ہے اور انہوں نے اُن دونوں کے قول کی تصحیح نقل کی خلاصہ، خانیہ، خزانۃ المفتین، اختیار اور بزازیہ سے۔
اقول اراد التنبیہ علیہ علی تسلیم خلاف محمد والا فلا حاجۃ الیہ بعدما قدثبت ان الاول قولھم جمیعا وان الثانی لم یثبت عن الثالث ھذا وفیہ مما یفیدنا فی المسألۃ فرع الخلاصۃ وخزانۃ المفتین ادخل یدہ فی الاناء اورجلہ للتبرد یصیر مستعملا لانعدام الضرورۃ ۱؎ اھ وقدمناہ عن الخلاصۃ والخانیۃ والبزازیۃ والغنیۃ ۔
میں کہتا ہوں تنبیہ سے ان کا مقصود محمد کے خلاف کو تسلیم کرنا ہے، ورنہ اس بات کے ثابت ہوجانے کے بعد کہ پہلا سب ہی کا قول ہے اس کی حاجت نہیں ہے اور دوسرا تیسرے سے ثابت نہیں، اس کو سمجھئے کہ یہ ہمیں مسئلہ میں فائدہ دے گا، خلاصہ اور خزانہ کی فرع، کسی نے اپنا ہاتھ یا پیر برتن میں ٹھنڈا کرنے کو ڈالا تو مستعمل ہوجائیگا کہ ضرورت نہ تھی اھ، ہم نے خلاصہ، خانیہ، بزازیہ، اور غنیہ سے پیش کردیا ہے۔
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوی     فصل فی الماء الستعمل    نولکشور لکھنؤ    ۱/۶)
Flag Counter