Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
51 - 176
اقول: لیس(۱) باوجہ فضلا عن ان یکون الاوجہ وانما الا وجہ الجواز کما علمت وباللّٰہ التوفیق ھذا ثم ذکر فی زھرالروض فرع(۴) الخانیۃ حوض کبیر فیہ مشرعۃ ان کان الماء متصلا بالالواح بمنزلۃ التابوت لایجوز فیہ الوضوء واتصال ماء المشرعۃ بالماء الخارج منھا لاینفع کحوض(۵) کبیر(۶) انشعب منہ حوض صغیر فتوضأ فی الصغیر لایجوز وان کان ماء الصغیر متصلا بماء الکبیر وکذا لایعتبر اتصال ماء المشرعۃ بما تحتہا من الماء ان کانت الالواح مشدودۃ ۲؎ اھ۔
میں کہتا ہوں یہ اوجہ نہیں، چہ جائیکہ الاوجہ ہو، اوجہ تو جواز ہی ہے جیسا کہ آپ نے جانا وباللہ التوفیق پھر زہرالروض میں فرمایا، خانیہ(۴) کی فرع، ایک بڑا حوض ہے جس میں ایک نالی ہے، اب اگر اس کے تختے تابوت کی طرح ملے ہوئے ہیں تو اس میں وضو جائز نہیں اور نالی کے پانی کا متصل ہونا نفع بخش نہیں ہے، جیسے بڑے حوض(۵) میںسے چھوٹا حوض نکال لیا جائے اور کوئی شخص اس چھوٹے حوض سے وضو کرے تو جائز نہیں اگرچہ چھوٹے کا پانی بڑے کے پانی سے متصل ہو اسی طرح نالی کے پانی کا نیچے کے پانی سے متصل ہونا معتبر نہیں اگر تختے بندھے ہوں اھ ۔
 (۲؎ فتاوٰی خانیۃ المعروف قاضی خان    فصل فی الماء الراکد    نولکشور لکھنؤ    ۱/۴)
اقول: انما مبناہ فیما یظھر ماتقدم فی فرعہا الثالث من اشتراط العرض والا فلاشک فی حصول المساحۃ المطلوبۃ عند اتصال الماء وقد علمت ان اشتراطہ خلاف الصحیح الرجیح الوجیہ وفرع (۶)الخانیۃ(۱) حوض صغیر یدخل الماء من جانب ویخرج من جانب قالوا ان کان اربعا فی اربع فمادونہ یجوز فیہ التوضی وان کان اکثر لا الا فی موضع دخول الماء وخروجہ لان فی الوجہ الاول مایقع فیہ من الماء المستعمل لایستقر فیہ بل یخرج کما دخل فکان جاریا وفی الوجہ الثانی یستقر فیہ الماء ولا یخرج الا بعد زمان والاصح ان ھذا التقدیر لیس بلازم وانما الاعتماد علی ماذکر من المعنی فینظر فیہ ان کان ماوقع فیہ من الماء المستعمل یخرج من ساعتہ ولا یستقر فیہ یجوز فیہ التوضی والا فلا وذلک یختلف بکثرۃ الماء الذی یدخل فیہ وقوتہ وضد ذلک ۱؎ اھ۔
میں کہتا ہوں اس کا دارومدار بظاہر اسی چیز پر ہے جو تیسری فرع میں گزرا یعنی چوڑائی کی شرط ورنہ مطلوبہ پیمائش کے پانی کے اتصال کے وقت حاصل ہوجانے میں کوئی شک نہیں، اور آپ جان چکے ہیں کہ اس کی شرط صحیح رجیح وجیہ کے خلاف ہے۔ خانیہ کی فرع، ایک چھوٹا حوض ہے جس میں ایک طرف سے پانی داخل ہوتا ہے اور دوسری طرف سے نکلتا ہے تو فقہاء نے فرمایا ہے کہ اگرچہار در چہار ہے یا اس سے کم ہے تو اس میں وضوجائز ہے اور اگر زیادہ ہے تو نہ ہوگا، صرف پانی کے داخل ہونے کی جگہ سے یا خارج ہونے کی جگہ سے ہوجائے گا کیونکہ پہلی صورت میں جو مستعمل پانی اس میں داخل ہوگا وہ اس میں نہیں ٹھہریگا بلکہ داخل ہوتے ہی نکل جائے گا تو جاری ہوگا اور دوسری صورت میں پانی اس میں ٹھہریگا اور کافی دیر بعد نکلے گا اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ اندازہ لازم نہیں ہے، اور اعتماد صرف اسی وصف پر ہے جو ذکر کیا گیا ہے، تو اس میں غور کیا جائے کہ اگر مستعمل پانی داخل ہوتے ہی نکل جاتا ہے اور اس میں ٹھہرتا نہیں تو اس میں وضوء جائز ہے ورنہ نہیں اس کا دارومدار اس پانی کی قوت وضعف پر ہے جو اس میں داخل ہوتا ہے اور نکلتا ہے اھ۔
 (۱؎ فتاوٰی خانیۃ المعروف قاضی خان    فصل فی المیاہ    نولکشور لکھنؤ        ۱/۳)
اقول: ھو خلاف ماعلیہ الفتوٰی قال فی الدر والحقوا بالجاری حوض الحمام لو الماء نازلا والغرف متدارک کحوض صغیر یدخلہ الماء من جانب ویخرج من اٰخر یجوز التوضی من کل الجوانب مطلقا یفتی ۲؎ اھ
میں کہتا ہوں یہ مفتی بہ قول کے خلاف ہے، در میں فرمایا فقہاء نے حوض حمام کو جاری پانی کا حکم دیا ہے، خواہ پانی اتر رہا ہو اور مسلسل چلّو بھر کر پانی لیا جائے جیسے چھوٹا حوض کہ جس میں ایک طرف سے پانی داخل ہو کر دوسری طرف سے نکل جاتا ہو تو ایسے حوض کے ہر طرف سے وضو جائز ہے، اسی پر فتوٰی ہے،
 (۲؎ درمختار            باب المیاہ        مجتبائی دہلی         ۱/۳۶۹)
ای سواء کان اربعا فی اربع اواکثر اھ۔ ش ۳؎
یعنی وہ چار چار کا ہو یا زیادہ ہو اھ ش۔
 ( ۳؎ ردالمحتار            باب المیاہ        مصطفی البابی مصر     ۱/۱۴۰)
وعلیہ الفتوی من غیر تفصیل ھندیۃ عن صدر الشریعۃ والمجتبی والدرایۃ وفرع(۷) الخانیۃ بعد مامرو کذا قالوا فی(۱) عین ماء ھی سبع فی سبع ینبع الماء من اسفلہا ویخرج من منفذھا لایجوز فیہ التوضی الا فی موضع خروج الماء منھا ۱؎ اھ
اور اسی پر فتوٰی ہے بلا تفصیل ہندیہ، صدر الشریعۃ، مجتبی اور درایہ سے۔ خانیہ(۷) کی فرع: اسی طرح فقہاء نے اس چشمے کی بابت فرمایا ہے جو سات سات کا ہو، اس کے نیچے پانی کا سوتا ہو اور پانی اس کی نالی سے نکلتا ہو، اس حوض سے صرف اسی جگہ سے وضو جائز ہے جہاں سے پانی نکل رہا ہے اھ
 (۱؎ قاضی خان        فصل فی المیاہ    نولکشور لکھنؤ    ۱/۳)
اقول: ھو ایضا خلاف الفتوی قال فی الدر بعد ماتقدم وکعین ھی خمس فی خمس ینبع الماء منہ بہ یفتی ۲؎ اھ۔
میں کہتا ہوں یہ بھی خلاف فتوٰی ہے، در میں فرمایا اور جیسے وہ چشمہ جو پانچ پانچ کا ہو، جس میں پانی پھُوٹ رہا ہو، یہ مفتیٰ بہ ہے اھ
 (۲؂  درمختار         باب المیاہ        مجتبائی دہلی     ۱/۳۶)
قال الشیخ اعنی ابن الشحنۃ وصرح الامام الحصیری فی خیر مطلوب بان الحاصل ان الشرط عدم استعمال الماء الذی استعملہ ووقع منہ ۳؎ اھ قال وھذا محقق استعمالہ فی الحوض الذی سألت عنہ وھذہ الفروع صریحۃ فی عین مسألتک ۴؎ اھ۔
شیخ ابن الشحنہ نے فرمایا اور امام حصیری نے خیر مطلوب میں صراحت کی کہ اصل چیز یہ ہے کہ مستعمل پانی کو دوبارہ مستعمل نہیں ہونا چاہئے اھ اور جو تم سے سوال کیا ہے اس میں ایسا ہونا متحقق ہے، اور یہ فروع تمہارے سوال کے سلسلہ میں صریح ہیں اھ اور جو تم سے سوال کیا ہے اس میں ایسا ہونا متحقق ہے، اور یہ فروع تمہارے سوال کے سلسلہ میں صریح ہیں اھ
 (۳؂   رسالہ ابن شحنۃ )

( ۴؎ رسالہ ابن شحنۃ)
اقول: اولا(۲) کل ھذہ الفروع ماعدا الاولین خلاف الصحیح والمفتی بہ کما علمت وکذا الاولان علی محمل یفیدہ کما سیأتی فلا یصح الاحتجاج بھا وثانیا(۳) ھذہ سبعۃ فروع وان عددت فرع البزازیۃ والتجنیس والخانیۃ الاولی کلا بحیالہ فتسعۃ ولیس فی شیئ منھا مایفید دعوی التسویۃ بین الملقی والملاقی فی سلب الطہوریۃ حتی الفرع السادس فرع حوض صغیر یدخل فیہ الماء ویخرج وذلک لان کلھا یحتمل الوضوء فیہ بالمعنی الثانی اعنی بغمس الاعضاء وقد علمت انہ الاقرب الی الظرفیۃ وقد قال فی الخانیۃ حوض کبیر وقعت فیہ النجاسۃ ان کانت النجاسۃ مرئیۃ لایجوز الوضوء ولا الاغتسال فی ذلک الموضع بل یتنحی الی ناحیۃ اخری بینہ وبین النجاسۃ اکثر من الحوض الصغیر وان کانت غیر مرئیۃ قال مشائخنا ومشائخ بلخ جاز الوضوء فی موضع النجاسۃ ۱؎ اھ۔
میں کہتا ہوں اولا یہ تمام فروع سوائے پہلی دو کے صحیح اور مفتیٰ بہ کے خلاف ہیں، جیسا کہ آپ کو معلوم ہوا، اور پہلی دو بھی ایسے محمل پر جو اس کا فائدہ دے، جیسا کہ آگے آئے گا تو ان سے استدلال صحیح نہیں، اور ثانیا یہ سات فروع ہیں اور اگر آپ بزازیہ، تجنیس اور خانیہ کی پہلی عبارت کو مستقل شمار کریں تو کل نَو ہوئیں مگر ان میں کہیں یہ دعویٰ نہیں کہ ملقی اور ملاقی میں سلبِ طہوریت میں مساوات ہے، یہاں تک کہ چھٹی فرع جو چھوٹے حوض سے متعلق ہے جس میں ایک طرف سے پانی داخل ہو کر دوسری طرف سے نکل جاتا ہو کیونکہ ان میں سے ہر ایک میں اس امر کا احتمال ہے کہ اس میں وضو کرنا دوسرے معنی کے اعتبار سے ہو، یعنی اعضاء کو ڈبو کر، اور تم جان چکے ہو کہ یہی معنی ظرفیت کے زیادہ قریب ہیں۔ اور خانیہ میں فرمایا کہ ایک بڑا حوض ہے جس میں نجاست گر گئی اب اگر نجاست مرئیہ ہے تو اس سے نہ وضو جائز ہے نہ غسل، اُس جگہ سے جہاں نجاست گری ہے بلکہ وہ نجاست گرنے کی جگہ سے ایک چھوٹے حوض کے فاصلہ کی مقدار میں دُور ہو جائے، اور اگر وہ نجاست غیر مرئیہ ہے تو ہمارے مشائخ اور بلخ کے مشائخ نے فرمایا جہاں نجاست گری ہے وہاں سے بھی وضو کرنا جائز ہے اھ
 (۱؎ فتاوٰی خانیۃ المعروف قاضی خان    فصل فی الماء الراکد    نولکشور لکھنؤ    ۱/۴)
فلیس بخاف ان المراد(عہ۱۱) المعنی الثانی اذلا معنی لعدم جواز الوضوء خارج الحوض بحیث تقع الغسالۃ فی موضع النجاسۃ ولا وجہ علی ھذا للفرق بین المرئیۃ وغیرھا وھذا کما تری یشمل الفرع السادس فانہ اذالم یسقع مایقع فیہ من الماء بل یخرج من ساعتہ کان جاریا کما ذکر والجاری لایتاثر بالغمس واذا کان یستقر ولا یخرج الا بعد زمان کان راکدا وھو صغیر فیضرہ الغمس فلیس فی الفروع شیئا مما یفید دعواہ نعم ھی صریحۃ فی دعوٰنا ان الملاقی کلہ یصیر مستعملا اماما اراد الشیخ فانما یلمح الیہ تعلیل الفرع السادس المذکور فی الخانیۃ لزیادۃ لفظ المستعمل ولولم یزدہ لرجع الی ماذکرنا انہ اذالم یستقر الماء فیہ کان جاریا وکذا تعلیل الحصیری وقد علمتم(۱) ماافادہ شیخکم المحقق علی الاطلاق فی فرع فی الخانیۃ انہ بناء علی کون المستعمل نجسا وکذا کثیر من اشباہ ھذا فاما علی المختار من روایۃ انہ طاھر غیر طھور فلا فلتحفظ لیفرع علیھا ولا یفتی بمثل ھذہ الفروع ۱؎ اھ
تو ظاہر ہے کہ یہاں دوسرے معنی مراد ہیں کیونکہ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ آدمی حوضِ کے باہر اس طرح وضو کرے کہ اس کا دھوون حوض میں خاص اس جگہ کرے جہاں نجاست گری تھی، اور پھر اس صورت میں مرئیہ اور غیر مرئیہ کے درمیان فرق کی کوئی وجہ نہیں، اور یہ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں چھٹی فرع کو شامل ہے، کیونکہ جب اس میں جانے والا پانی ٹھہرا نہیں، تویہ جاری پانی کے حکم میں ہوگیا اور جاری پانی اعضاء کے ڈبونے سے متاثر نہیں ہوتا ہے،اور اگر وہ ٹھہر کر تھوڑی دیر میں خارج ہوتا ہے تو وہ ٹھہرا ہوا ہے، تو حوض کے چھوٹا ہونے کی صورت میں اس کو مضر ہوگا، تو فروع میں سے کوئی بھی ان کے دعویٰ کے حق میں مفید نہیں ہے ہاں یہ فروع ہمارے دعویٰ میں صریح ہیں کہ کل ملاقی مستعمل ہوجائے گا اور جو شیخ کی مراد ہے اس کی طرف خانیہ کی چھٹی فرع کی تعلیل میں اشارہ ہے کیونکہ انہوں نے مستعمل کے لفظ کا اضافہ کیا ہے اور اگر وہ یہ لفظ نہ بڑھاتے تو اس کا مفہوم بھی وہی نکلتا کہ جب پانی اس میں ٹھہرا نہیں تو جاری ہے اور یہی حال حصیری کی تعلیل کا ہے، اور آپ جان چکے ہیں، خانیہ کی فرع میں جو تمہارے شیخ محقق علی الاطلاق نے فرمایا ہے وہ مستعمل پانی کے نجس ہونے پر مبنی ہے اور اسی طرح اس کے بہت سے نظائر کا حال ہے اور اگر مختار روایت لی جائے جس میں اس پانی کو طاہر غیر طہور قرار دیا گیا ہے تو ایسا نہ ہوگا، اس کو یاد رکھا جائے اور اسی پر تفریعات کی جائیں اور ان جیسی فروع پر فتوٰی نہ دیا جائے اھ
 (۱؎ فتح القدیر     قبیل بحث الغدیر العظیم    سکھر    ۱/۷۰)
فاذا کان ھذا فی الفروع فما بالک بالتعلیلات۔
جب فرع کا یہ حال ہے تو تعلیلات کا کیا حال ہوگا!
(عہ۱) وحمل الوضوء والاغتسال علی الاغتراف وفی علی من بعید یاباہ الذوق السلیم اھ منہ م)

اور وضو اور غسل کو چُلّو سے لینے پر محمول کرنا اور ''فی'' کو ''من'' کے معنی میں کرنا بعید ہے، ذوقِ سلیم اس سے انکار کرتا ہے اھ (ت)
Flag Counter