| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
قلت: وھو(۲) المختار درر عن عیون المذاھب والظھیریۃ وصححہ فی المحیط والاختیار وغیرھما واختار فی الفتح القول الاخر وصححہ تلمیذہ الشیخ قاسم لان مدار الکثرۃ علی عدم خلوص النجاسۃ الی الجانب ولا شک فی غلبۃ الخلوص من جھۃ العرض ۲؎ اھ ش۔
میں کہتا ہوں یہی مختار ہے اس کو درر نے عیون المذاہب سے اور ظہیریہ سے نقل کیا اور محیط واختیار وغیرہما نے اس کی تصحیح کی، اور فتح میں دوسرے قول کو اختیار کیا اور اس کی تصحیح ان کے شاگرد شیخ قاسم نے کی کیونکہ کثرت کا دارومدار نجاست کے دوسری جانب نہ پہنچنے پر ہے، اور اس میں شک نہیں کہ خلوص کا غلبہ چوڑائی کی طرف سے ہے اھ ش۔
(۲؎ ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۴۲)
اقول: ھذا(۱) غیر مسلم اذلو کان علیہ المدار لما جاز الوضوء فی الماء الکثیر من الجانب الذی فیہ النجاسۃ ولیس کذلک فعلم ان المدار ھو المقدار اعنی المساحۃ فلا حاجۃ الی العرض وقد قال المحقق نفسہ قالوا فی غیر المرئیۃ یتوضؤ من جانب الوقوع وفی المرئیۃ لا وعن ابی یوسف انہ کالجاری لایتنجس الا بالتغیر وھو الذی ینبغی تصحیحہ لان الدلیل انما یقتضی عندالکثرۃ عدم التنجس الا بالتغیر من غیر فصل وھو ایضا الحکم المجمع علیہ علی ماقدمناہ من نقل شیخ الاسلام ویوافقہ مافی المبتغی ان ماء الحوض فی حکم ماء جار ۱؎ اھ۔
میں کہتا ہوں یہ مسلّمہ بات نہیں ہے کیونکہ اگر اسی پر مدار ہوتا تو کثیر پانی میں اس جانب سے وضو جائز نہیں ہوتا جس میں کہ نجاست ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ اصل چیز مقدار ہے یعنی پیمایش، تو چوڑائی کی کوئی حاجت نہیں، اور خود محقق نے فرمایا ہے ''مشائخ کا غیر مرئی نجاست میں کہنا ہے کہ جہاں نجاست گری ہے وہاں سے وضو کرسکتا ہے اور مرئیہ میں نہیں، اور ابویوسف سے مروی ہے کہ یہ جاری پانی کی طرح ہے جب تک تغیر نہ ہوگا نجس نہ ہوگا اسی کی تصحیح ہونی چاہئے، کیونکہ دلیل کا تقاضا تو یہ ہے کہ کثرت کی صورت میں صرف اسی وقت ناپاک ہو جبکہ تغیر آجائے اور اس میں کوئی قید نہ ہو، یہ بھی اجماعی حکم ہے ہم اس پر شیخ الاسلام کی نقل بیان کر آئے ہیں، اور مبتغیٰ میں اس کے موافق ہے کہ حوض کا پانی جاری پانی کے حکم میں ہے اھ
(۱؎ فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء مالایجوز نوریہ رضویہ سکھر ۱/۷۲)
والعلامۃ نفسہ اطال فیہ الکلام فی رسالتہ تلک واحتج بالاحادیث والاٰثار وقال فی اٰخرہ فثبت ان ماء الغدر لایتنجس الا بالتغیر سواء کان الواقع فیہ مرئیا اوغیر مرئی فالجاری اولی ۲؎ اھ۔
اور علّامہ نے خود اپنے اس رسالہ میں اس پر طویل بحث کی ہے اور احادیث وآثار سے استدلال کیا ہے اور اس کے آخر میں فرمایا ہے کہ اس سے معلوم ہوا کہ تالابوں کا پانی تغیر سے ناپاک ہوتا ہے خواہ گرنے والی چیز مرئی ہو یا غیر مرئی، تو جاری میں یہ حکم بطریق اولیٰ ہوگا اھ۔
(۲؎ زہر الروض فی مسئلۃ الحوض )
وقال قبلہ علی قول صاحب الاختیار ان کانت النجاسۃ مرئیۃ لایتوضؤ من موضع الوقوع۔۔۔ الخ مانصہ یقال لہ اذا کان الحکم ھذا فاین الاصل الذی ادعیتہ وھو ان الکثیر لاینجس وکیف خرج ھذا عن دلیل الاصل الذی اوردتہ وھو الحدیث ۳؎۔۔۔الخ وقال علی قول البدائع ان کانت مرئیۃ لایتوضؤ من الجانب الذی فیہ الجیفۃ مانصہ کلہ مخالف للاصل المذکور والحدیث ۴؎ اھ۔
اور اس سے قبل صاحبِ اختیار پر کلام کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر نجاست مرئیہ ہو تو گرنے کی جگہ سے وضو نہیں کرے گا۔۔۔الخ ان کی عبارت اس طرح ہے ''اُس سے کہا جائے گا کہ جب حکم یہ ہے تو اس اصل کا کیا ہوا جو آپ نے بیان کی تھی کہ کثیر پانی ناپاک نہیں ہوتا اور یہ اُس دلیل اصل سے کیسے خارج ہوگیا جس کو آپ نے بیان کیا تھا اور وہ حدیث ہے۔۔۔الخ اور بدائع کے قول پر فرمایا کہ اگر نجاست مرئیہ ہو تو جہاں مردار گرا ہے وہاں سے وضو نہیں کرے گا، ان کی یہ تمام عبارت اصل مذکور اور حدیث کے مخالف ہے اھ
(۳؎ زہر الروض فی مسئلۃ الحوض ) (۴؎ زہر الروض فی مسئلۃ الحوض )
ثم اقول: بل ادارۃ(۱) الامر علیہ یبطل اعتبار العرض فان المناط ح ان یکون بین النجاسۃ والماء یرید ان یأخذہ عشرۃ اذرع فاذا وقع النجس فی احد اطراف ذلک الخندق لم یخلص الی الطرف الاٰخر طولا وان خلص عرضا فیجوز الاخذ من الطول بعد عشرۃ اذرع وان لم یجز من العرض بل(۲) ھی تبطل اعتبار المساحۃ رأسا اذ المدار علی ھذا علی الفصل فلوان خندقا طولہ عشرۃ اذرع وعرضہ شبر وقع فی طرف منہ نجس جاز الوضوء من الطرف الاٰخر لوجود الفصل المانع للخلوص وھذا لایقول بہ احد منا ولو وقع(۳) النجس فی الوسط والغدیر عشر فی عشر بل عشرون فی العشرین الا اصبعا فی الجانبین تنجس کلہ لان الفصل فی کل جانب اقل من عشر وکذا اذا کان(۴) مائۃ فی مائۃ بل الفا فی الف عہ۱ ووقع بفصل عشرفی الاطراف ثم کل عشرین فی الاوساط قطرۃ نجس وجب تنجس الکل من دون تغیر وصف، مع کونہ عشرۃ اٰلاف ذراع بل الف الف، فالحق ان المدار ھو المقدار، والماء بعدہ کماء جار، واللّٰہ تعالی اعلم۔
پھر میں کہتا ہوں کہ اس پر دارومدار کرنا عرض کے اعتبار کو باطل کردیتا ہے کیونکہ اس وقت علت حکم یہ ہے کہ اس کے اور نجاست کے درمیان دس ہاتھ کا فاصلہ ہو تو اگر اس خندق کے ایک کنارے میں نجاست گر گئی تو وہ لمبائی میں دوسرے کنارے تک نہیں آسکتی اگرچہ چوڑائی میں دوسری طرف پہنچ جائے، تو لمبائی میں دس ہاتھ کے بُعد سے اس پانی کا استعمال جائز ہوگا اگرچہ چوڑائی سے جائز نہیں، بلکہ یہ مساحت کے اعتبار کو باطل کرتا ہے کیونکہ اس صورت میں دارومدار فصل پر ہے اب اگر کسی خندق کی لمبائی دس ہاتھ ہے مگر چوڑائی ایک بالشت ہے اور اس کے ایک کنارہ میں نجاست گر جائے تو دوسرے کنارے سے وضو جائز ہے کیونکہ خلوص کے لئے مانع موجود ہے، اور ہم میں سے یہ قول کسی کا نہیں۔ اور اگر نجاست تالاب کے بیچوں بیچ گر گئی اور تالاب دہ در دہ بلکہ بست دربست ہے مگر دونوں طرف سے ایک ایک انگل کم ہے تو پورے کا پورا ناپاک ہوجائے گا، کیونکہ فصل ہرجہت میں دس سے کم ہے، اسی طرح اگر وہ سَو در سَو ہو بلکہ ہزار در ہزار ہو، اور نجاست دس ہاتھ کہ فاصلہ سے اطراف میں واقع ہو اور پھر ہر بیس کے درمیان میں ایک نجس قطرہ ہو تو کل نجس ہوجائیگا خواہ وصف میں تغیر نہ ہوا ہو دس ہزار گز ہونے کے باوجود بلکہ لاکھ گز ہونے کے باوجود حق یہ ہے کہ دارومدار مقدار پر ہے اور پانی اس کے بعد ماءِ جاری کی طرح ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
(عہ۱)فتکفی لتنجیس عشرۃ اٰلاف ذراع خمس وعشرون قطیرۃ کحبۃ الجاورس مثلا ولتنجیس ماء منبسط فی الف الف ذراع الفان وخمسمائۃ۔ اھ منہ غفرلہ۔ (م) دس ہزار گز کو نجس کرنے کیلئے نجاست کے پچیس قطرے باجرہ کے دانہ برابر کافی ہیں اور ایک لاکھ گز میں پھیلنے والے پانی کو نجس کرنے کیلئے دو ہزار پانچ سو قطرے کافی ہیں اھ منہ غفرلہ (ت(