Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
48 - 176
الفصل الثالث فی کلام العلّامۃ ابن الشحنۃ رسالتہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی اکثر من نصف کراسۃ سلک فیھا مسلکا یخالف ماسلکہ شیخہ العلامۃ قاسم خلافا کلیا فانہ کان ادعی تسویۃ الملقی والملاقی فی جواز الوضوء وادعی ھذا تسویتھما فی عدم الجواز ذکر رحمہ اللّٰہ تعالٰی مخاطبا لسائلہ سألت ارشدنی اللّٰہ وایاک عن حوض دون ثلثۃ اذرع فی مثلھا ھل یجوز الوضوء فیہ ام لاوھل یصیر مستعملا بالتوضی فیہ وذکرت ان المفتی بہ قول محمد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ انہ طاھر غیر طھور وان المتقاطر من الوضوء قلیل لاقے طھورا اکثر منہ فلا یسلبہ وصف الطھوریۃ واجبتک انہ یجوز الاغتراف منہ والتوضی خارجہ لافیہ ۱؎ اھ ۔
تیسری فصل علّامہ ابن الشحنہ کے کلام میں ان کا رسالہ آدھی کاپی سے زیادہ ہے اس میں انہوں نے اپنے شیخ علّامہ قاسم کے سراسر خلاف راہ اپنائی ہے کیونکہ وہ تو جوازِ وضو میں ملقٰی اور ملاقی کی برابری کے قائل تھے اور انہوں نے عدمِ جواز میں دونوں کی برابری کا قول کیا ہے وہ بصیغہ خطاب فرماتے ہیں تُونے مجھ سے سوال کیا خدا تجھ کو اور مجھے ہدایت دے ایک حوض کے بارے میں جو تین ہاتھ سے کم ہے، اس میں وضو جائز ہے یا نہیں؟ اور اس میں وضو کرنے سے پانی مستعمل ہوگا یا نہیں؟ اور تُونے ذکر کیا مفتی بہ محمد کا قول ہے کہ وہ پاک ہے پاک کرنے والا نہیں ہے اور وضو سے جو ٹپکا ہے وہ کم ہے اور جس پانی سے ملا ہے وہ زیادہ ہے تو وہ اس کی طہوریت کے وصف کو سلب نہیں کرسکتا ہے، میں نے تجھ کو یہ جواب دیا ہے کہ اس سے چلّو بھر کر پانی لے کر وضو باہر کرنا جائز ہے اس کے بیچ وضو کرنا جائز نہیں اھ۔
 (۱؎ رسالہ ابن الشحنۃ)
اقول: فھذا ظاھر(۱) فی الملقی وان المراد التوضی فیہ بالمعنی الاول ای بحیث تقع الغسالۃ فیہ وقد کان السائل نبہ علی الحکم الصحیح فیہ ان المتقاطر طاھر مغلوب لکن اجابہ بالمنع وھو خلاف الصحیح کما علمت والعجب ان الشیخ سینقل ان الصحیح خلافہ ثم مشی علیہ وکان حریا بنا ان نحمل کلامہ علی التوضی فیہ بالمعنی الثانی ای بغمس الاعضاء فیہ ومعنی قولہ التوضی خارجہ ان تکون اعضاء المتوضی خارج الحوض کی یوافق الصحیح ولا یناقض کلام نفسہ فیما ینقل من التصحیح وکان تخطئۃ السائل حیث سأل عن الوضوء فیہ بغمس الاعضاء ولم یکن بعدہ محل لذکر قلۃ المتقاطر ایسر علینا من تطرق امثال الخلل الی کلام العلامۃ ولکنہ رحمہ اللّٰہ سیصرح بھذا الظاھر فانسد باب التاویل ثم قدم مقدمۃ فی بیان الماء الذی یظھر فیہ اثر الاستعمال والذی لایظھر فیہ قاصدا اثبات ان الحوض المسئول عنہ اعنی الصغیر مما یتأثر بالاستعمال تأثرہ بالنجس فقال اعلم ان الماء الذی یظھر فیہ اثر الاستعمال ھو الذی (عہ۱) یظھر فیہ اثر النجاسۃ وکل مالایظھر فیہ اثر النجاسۃ لایظھر فیہ اثر الاستعمال ولا فرق ثم جعل یسرد الاقوال فی حد القلیل واطال الی ان قال فثبت ح ظھور اثرالاستعمال وھو سلب الطھوریۃ عن ماء الحوض الذی سألت عنہ وکان حکمہ کالاناء والجب والبئر اھ۔
میں کہتا ہوں یہ ملقیٰ میں ظاہر ہے اور یہ کہ اس سے مراد پہلے معنی کے اعتبار سے وضو کرنا ہے یعنی دھوون اس میں گرے اور سائل نے اس میں صحیح حکم پر خبر دار کیا تھا کہ ٹپکنے والا پانی طاہر مغلوب ہے مگر انہوں نے اس کا جواب منع کے ساتھ دیا اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں یہ صحیح کے خلاف ہے، اور تعجب خیز بات یہ ہے کہ خود شیخ عنقریب یہ نقل کریں گے کہ صحیح اس کے خلاف ہے اور پھر خود اسی پر چلے ہیں، اور ہمارے لائق بات تو یہ تھی کہ ہم اس کو دوسرے معنی میں لیتے وہ یہ کہ اس میں وضو کرنے پر محمول کرتے یعنی اس میں اعضاء کا ڈبو دینا، اور ان کے اس قول کے معنی کہ وضو حوض کے باہر، یہ ہیں کہ وضو کر نے والے کے اعضاء حوض کے باہر ہوں تاکہ صحیح کے موافق ہو اور خود کلام آپس میں متناقض نہ ہو یعنی اُس تصحیح کے جو نقل کی جائے گی، اور انہوں نے سائل کو غلط اس لئے ٹھہرایا کیونکہ اس نے یہ سوال کیا تھا کہ وہ اپنے اعضاء کو حوض میں داخل کرکے وضو کرنا چاہتا ہے اس کے بعد اس کا محل نہ تھا کہ ٹپکنے والا کم ہے یہ ہم پر بہ نسبت اس کے آسان ہے کہ علّامہ کے کلام میں خلل کو مان لیں مگر وہ خود اس ظاہر کی تصریح کریں گے تو تاویل کا باب بند ہوگیا، پھر ایک مقدمہ اُس پانی کے بارے میں بیان کیا جس میں اثرِ استعمال ظاہر ہوتا ہے اور جس میں نہیں ہوتا ہے، اس سے ان کا ارادہ یہ بتانا کہ وہ چھوٹا حوض جس کے بارے میں دریافت کیا جارہا ہے مستعمل پانی سے اسی طرح متاثر ہوتا ہے جس طرح نجس پانی سے، اور فرمایا جاننا چاہئے کہ وہ پانی جس میں استعمال کا اثر ظاہر ہوتا ہے وہی ہے جس میں نجاست کا اثر ظاہر ہوتا ہے اور جس میں نجاست کا اثر ظاہر نہ ہو اس میں استعمال کا اثر بھی ظاہر نہ ہوگا اور کوئی فرق نہیں، پھر انہوں نے قلیل کے حد میں کئی اقوال پیش کیے اور کافی طوالت اختیار کی اور آخر میں کہا، تو ثابت ہوگیا کہ استعمال کے اثر ظاہر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تم نے جس حوض کی بابت دریافت کیا ہے اس کے پانی سے طہوریت سلب ہوگئی اور اس کا حکم برتن، گڑھے اور کنویں کی مانند ہوگیا۔
 (عہ۱) تعقیب المسند الیہ بضمیر الفصل یفید قصر المسند علی المسند الیہ فمفاد القضیۃ الاولی ان تأثیر النجاسۃ مقصور علی مایؤثر فیہ الاستعمال ای کل مالایظھر فیہ اثر الاستعمال لایظھر فیہ اثر النجاسۃ ثم ذکر عکسہ کلیا فافاد انھما شیئ واحد وانہ لاانفکاک لتأثیر عن اٰخر اھ منہ غفرلہ۔ (م(

مسند الیہ کے بعد ضمیر فصل لانا مسند کے مسند الیہ پر حصر کا فائدہ دیتا ہے تو پہلے قضیہ کا فائدہ یہ ہے کہ نجاست کا مؤثر ہونا اس چیز پر منحصر ہے جس میں استعمال مؤثر ہو یعنی جس میں استعمال کا اثر ظاہر نہ ہو اس میں نجاست کا اثر بھی ظاہر نہ ہوگا پھر انہوں نے اس کا عکس کلی ذکر کیا جس کا مفادیہ ہے کہ دونوں شیئ واحد ہیں اور یہ کہ ایک کی تاثیر دوسرے سے جُدا نہ ہوگی اھ منہ غفرلہ، (ت(
اقول: رحمکم اللّٰہ کل مااتیتم(۱) بہ الی ھنا انما بین ان القلیل الذی تؤثر فیہ النجاسۃ کذا وکذا ولیس فی شیئ منہ مایدل علی ان کل قلیل یتأثر بالاستعمال کالنجاسۃ وانما کان المقصود فیہ ولم تذکر وافیۃ غیر قولکم ان کل ما تأثر بھا تأثر بہ ولافرق وھی القضیۃ الاولی فی کلامکم اما الاخری القائلۃ ان کل ماتأثر بہ تأثر بھا فلا کلام فیھا ولا تمس المقصود اصلا ثم ذکر تکمیلا لتوضیحہ وسرد فیہ فرع(۱) الخلاصۃ ان الحوض الصغیر قیاس الاوانی والجباب لایجوز التوضی فیہ ولو وقعت فیہ قطرۃ خمر تنجس ۱؎
میں کہتا ہوں یہاں تک آپ نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ قلیل پانی وُہ ہے جس میں نجاست اثر کرے وہ پانی فلاں فلاں ہے، اس میں یہ کہیں نہیں ہے کہ ہر قلیل پانی استعمال سے متاثر ہوتا ہے جس طرح کہ نجاست سے متاثر ہوتا ہے اور اس سے وہ مقصود تھا جس کا آپ نے ذکر نہیں کیا صرف یہ ذکر کیا ہے کہ ہر پانی جو نجاست سے متاثر ہوگا وہ استعمال سے بھی متاثر ہوگا بغیر کسی فرق کے، یہ ہوا پہلا قضیہ تمہارے کلام میں اور دوسرا قضیہ یہ ہے کہ جو پانی استعمال سے متاثر ہوگا وہ نجاست سے بھی متاثر ہوگا، تو اس میں کلام نہیں، اور اس کا مقصود سے کوئی تعلق نہیں، پھر اپنی وضاحت کی تکمیل کی اور یہ فروع ذکر کیں، فرع(۱) خلاصہ کہ چھوٹا حوض جو برتنوں اور گڑھوں کی مانند ہو اس میں وضو جائز نہیں ہے اور اس میں اگر ایک قطرہ شراب کا گر جائے تو وہ نجس ہوجائے گا۔
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوی    الجنس الاول فی الحیاض    نولکشور لکھنؤ        ۱/۵)
وفرع(۲) البزازیۃ والتنجیس والخانیۃ اذا نقص الحوض من عشر فی عشر لایتوضؤ فیہ بل یغترف منہ ویتوضؤ خارجہ ۲؎ ولفظ الخانیۃ لایجوز فیہ الوضوء ۳؎ ولفظ التجنیس اعلاہ(۲) عشر فی عشر واسفلہ اقل وھو ممتل یجوز التوضی فیہ والاغتسال فیہ وان نقص لاولکن یغترف منہ ویتوضأ ۴؎ اھ۔
 (۲) بزازیہ، تجنیس اور خانیہ میں ہے کہ جب حوض دَہ در دَہ سے کم ہو تو ا س میں وضو نہ کرے گا بلکہ اس میں سے چُلّو کے ذریعہ لے گا اور وضو حوض سے باہر کرے گا، اور خانیہ کے الفاظ یہ ہیں اس میں وضو جائز نہیں، اور تجنیس کے الفاظ یہ ہیں کہ اس کا بالائی حصہ دہ در دہ ہے اور نچلا کم ہے اور وہ بھرا ہوا ہو تو اس سے وضو بھی جائز ہے اور غسل بھی، اور کم ہو تو جائز نہیں البتہ ا سے چُلّو بھر کر پانی لے کر وضو کرسکتا ہے۔
 (۲؎ بزازیہ مع الھندیہ    نوع فی الحیض    نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/۵)

(۳؎ قاضی خان    فصل فی الماء الراکد    نولکشور لکھنؤ        ۱/۴)

(۴؎ بحرالرائق        کتاب الطہارۃ     سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۷)
قلت: وفی عکسہ عکسہ ای (۳) اذا کان اسفلہ عشرا فی عشر واعلاہ اقل لم یجز الوضوء فیہ ممتلئا فاذا نقص وبلغ الکثرۃ جاز وبہ(۱) یلغزای ماء لایجوز الاغتسال فیہ مادام کثیرا واذا قل جاز وفرع(۳)الخانیۃ خندق طولہ مائۃ ذراع او اکثر فی عرض ذراعین قال عامۃ المشائخ لایجوز فیہ الوضوء ثم حکی عن بعضھم الجواز ان کان ماؤہ لوانبسط یصیر عشرا فی عشر ۱؎ اھ۔
میں کہتا ہوں اس کے برعکس میں حکم برعکس ہے یعنی جب اس کا نچلا حصّہ دہ در دہ ہو اور اوپر والا کم ہو تو اس میں وضو جائز نہیں جبکہ بھرا ہوا ہو، پس جب کم ہوجائے اور کثرت کو پہنچ جائے تو جائز ہے، اسی لئے ایک فقہی پہیلی مشہور ہے ''وہ کون سا پانی ہے کہ جب کثیر ہو تو اُس سے غسل جائز نہیں اور جب کم ہو تو جائز ہے۔ خانیہ(۳) کی فرع، ایک خندق ہے جس کی لمبائی سَو ہاتھ یا اُس سے زیادہ ہے اور چوڑائی دو ہاتھ ہے تو عام مشائخ فرماتے ہیں اُس سے وضو جائز نہیں، اور بعض مشائخ سے جواز منقول ہے، بشرطیکہ وہ حوض ایسا ہو کہ اگر اس کے پانی کو پھیلا دیا جائے تو وہ دَہ در دَہ ہوجائے اھ۔
 (۱؎ قاضی خان         فصل فی الماء الراکد    نولکشور لکھنؤ        ۱/۴)
Flag Counter