Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
47 - 176
واقول: خامسا لوصح(۱) ھذا لما احتجتم الی حمل تلک الروایات الظاھرۃ الکاثرۃ الوافرۃ علی روایۃ ضعیفۃ مرجوحۃ نادرۃ وکان یکفیکم ان تقولو انعم صار مستعملا لکن مالاقی البدن اوالکف وھو مستھلک مغلوب فلا یضر۔
خامسا میں کہتا ہوں اگر یہ بات درست ہوتی تو آپ ان کثیر ظاہر روایات کو ایک ضعیف روایت پر محمول نہ کرتے بلکہ صرف اتنا کہتے کہ ہاں وہ پانی مستعمل ہوگیا ہے، لیکن جو پانی بدن اور ہاتھوں کو لگا ہے وہ تھوڑا سا ہے اور مغلوب ہے تو نقصان دہ نہ ہوگا۔
وسادسا: حیث(۲) حکموا بسقوط الاستعمال فی ادخال الکف والانغماس اطبقوا سلفا وخلفا وانتم معھم علی تعلیلہ بالضرورۃ کما قدمنا عن الفتح والخلاصۃ والتبیین والبزازیۃ والکافی والخانیۃ والغنیۃ والحلیۃ والنھر والقدوری والجرجانی والبرھان والصغری والفوائد الظھیریۃ والشمس الائمۃ الحلوانی وعن بحرکم وعنکم عن شمس الائمۃ السرخسی وشارح الھدایۃ الخبازی والمحقق حیث اطلق والزیلعی وابی الحسن وابی عبداللّٰہ رحمہم اللّٰہ تعالٰی وقدمناہ عن الخلاصۃ عن نص محرر المذھب محمد فی کتاب الاصل وعن الفتح عن کتاب الحسن عن صاحب المذھب الامام الاعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم ولو کان لایستعمل الاما لصق بالبدن فای حرج یلحق وای ضرورۃ تمس فان الماء مع ثبوت الاستعمال یبقی طاھرا مطھر اکما کان۔
سادساً مشائخ نے سقوط استعمال کا حکم لگایا ہے ہاتھ ڈالنے اور غوطہ کھا نے کی صورت میں،سلف سے خلف تک اسی پر چلے آرہے ہیں اور آپ بھی اُن کے ہمنوا ہیں اور اس کیلئے علت ضرورت بتائی ہے جیسا کہ ہم فتح، خلاصہ، تبیین، بزازیہ، کافی، خانیہ، غنیہ، حلیہ، نہر، قدوری، جرجانی، برہان، صغری، فوائد ظہیریہ، شمس الائمہ حلوانی، بحر اور آپ کی سند سے شمس الائمہ سرخسی سے، شارح ہدایہ خبازی، محقق (انہوں نے اطلاق سے کام لیا) ابو الحسن وابو عبداللہ سے روایت کر آئے ہیں اور اس کو ہم نے خلاصہ سے محرر المذہب امام محمد کا قول ان کی اصل سے نقل کیا ہے اور فتح سے حسن کی کتاب سے صاحب المذہب امام اعظم سے نقل کیا ہے، اگر صرف اتنا ہی مستعمل ہوتا ہے جو بدن سے لگا ہوتو کیا حرج لاحق ہوتا ہے؟ اور کونسی ضرورت درپیش ہوتی ہے؟ کیونکہ پانی باوجود ثبوت استعمال کے طاہر مطہر ہی رہے گا جیسا کہ پہلے تھا۔
وسابعا: قدمنا(۱) عن الامام شمس الائمۃ الکردری ان ادخال المحدث یدہ فی الماء لالضرورۃ یفسدہ ۱؎ وعنکم عن المبتغی انہ یفسد الماء ۲؎
سابعاً ہم امام شمس الائمہ کردری سے نقل کر آئے ہیں کہ محدث کا اپنے ہاتھ کو پانی میں بلا ضرورت ڈالنا پانی کو فاسد کردیتا ہے اور تم سے مبتغیٰ سے روایت کی ہے کہ وہ پانی کو فاسد کردیتا ہے،
 (۱؎ الہندیۃ بالمعنی    فصل فیما لایجوزبہ الوضوء    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۲۲)

(۲؎ الہندیۃ   بالمعنی    فصل فیما لایجوزبہ الوضوء    نورانی کتب خانہ پشاور  ۱/۲۳)
وعنکم عن المبسوط عن نص محمد فی الاصل اغتسل الطاھر فی البئر افسدہ ۳؎ وعن مجمع الانھر فسد عندالکل ۴؎
اور تم سے مبسوط سے، محمد کی اصل میں نص سے روایت کی ہے کہ اگر پاک آدمی کُنویں میں غسل کرے تو اس کو فاسد کردے گا، اور مجمع الانہر میں ہے کہ سب کے نزدیک فاسد ہوگیا،
 (۴؎ مجمع الانہر         فصل فی الماء    بیروت        ۱/۳۱)
وعن الھندیۃ عن النھایۃ یفسد بالاتفاق ۱؎ ولفظ العنایۃ فسد الماء عند الکل ۲؎ وعنکم عن الدرایۃ والعنایۃ وغیرھما یفسد عندالکل ۳؎ فھذ اصریح نص محمد فی الروایۃ الظاھرۃ وصرائح لقول الاجماع فی الکتب المعتمدۃ منھا بحرکم علی ان الماء کلہ یصیر مستعملا حتی لایبقی صالحا لان یتوضأ بہ اذلیس الفساد الاخروج الشیئ عما یصلح لہ ولوکان یجوزبہ الوضوء فایش فسد وکیف فسد۔
اور ہندیہ سے نہایہ سے منقول ہے کہ بالاتفاق فاسد ہوجائے گا، اور عنایہ کے الفاظ یہ ہیں کہ سب کے نزدیک پانی فاسد ہوگیا اور تم سے درایہ وعنایہ وغیرہما سے روایت کی ہے سب کے نزدیک فاسد ہوگیا تو یہ ظاہر روایت میں محمد کی صریح نص ہے، اور اجماع کی صریح نقول کتب معتمدہ میں موجود ہیں، بحر میں ہے علاوہ ازیں تمام پانی مستعمل ہوجاتا ہے حتیّٰ کہ اس سے وضو بھی نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ فساد کے معنی ہی یہ ہیں کہ جو چیز جس کام کی صلاحیت رکھتی تھی اب اس کے لائق نہ رہی اور اگر اس سے وضو جائز رہے تو پھر اس میں فساد کیوں اور کیسے ہوا؟ (ت(
 (۱؎ ہندیۃ        الفصل الثانی من المیاہ    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۳۳)

(۲؎ عنایۃ مع فتح القدیر    ماء الذی یجوزبہ الوضوء    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۹)

(۳؎ حاشیۃ الہدایۃ     ماء الذی یجوزبہ الوضوء           المکتبۃ العربیہ کراچی    ۱/۲۳)
وثامنا: قدمنا(۱) عن الفتح عن کتاب الحسن عن صاحب المذھب الامام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ التصریح بابین لفظ لایقبل تاویلا ولا یرضی تحویلا وھو قولہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ لم یجز الوضوء منہ فثبت قطعا ان لامساغ لھذا التاویل وانہ مضاد لصریح نص امام المذھب وجلی نص محمد فی ظاھر الروایۃ بل ومصادم لاجماع ائمۃ المذھب المنقول فی المعتمدات کبحرکم فالحق الناصع ھو المذھب المنصوص علیہ من ائمۃ المذھب فی الکتب الظاھرۃ المطبق علیہ فی الروایات المتواترۃ اعنی ثبوت الاستعمال لجمیع الماء القلیل قلیلا کان اوکثیرا بدخول جزء من بدن محدث فیہ لم یروما یخالفہ ولم یرفی کلام احدما ینازعہ الالفظۃ وقعت فی کلام البدائع فی تعلیل وجدل مع وفاقہ فی المروی وما قدر بحث مع نصوص صاحب المذھب وتصریح محررہ فی کتاب ظاھر الروایۃ بل مع اجماع ائمۃ المذھب لا جرم ان بقیت تلک الکلمۃ لم یعرج علیھا احد فیما نعلم الی عصر الامام المحقق علی الاطلاق حتی اتی تلمیذاہ العلامتان القاسم والحلبی فاثراھا، واٰثراھا واثاراھا، وجعلھا العلامۃ قاسم نصا مرویا، وحکما مرضیا، رد بہ نصوص المذھب المشہورۃ، والفروع المتواترۃ فی الکتب المنشورۃ، الی روایۃ ضعیفۃ مھجورۃ، ولم یات علیھا بروایۃ منقولۃ ماثورۃ، ولا درایۃ مقبولۃ منصورۃ، فالمذھب ھو المتبع، والحق احق ان یتبع، واللّٰہ المستعان، وعلیہ التکلان، وصلی اللّٰہ تعالٰی علی سید الانس والجان، واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ ماتعاقب الملوان، وبارک وسلم ابدا اٰمین، والحمدللّٰہ رب العٰلمین۔
ثامناً ہم نے فتح کے حوالہ سے حسن کی کتاب سے صاحب مذہب امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول نقل کیا ہے، اور یہ اتنا واضح اور صریح قول ہے کہ کسی قسم کی تاویل کو قبول نہیں کرتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ اس سے وضوء جائز نہیں، تو قطعی طور پر ثابت ہوگیا کہ اس تاویل کی کوئی گنجائش نہیں اور یہ امام مذہب کے نص صریح کے مخالف ہے اور امام محمد کے واضح نص کے بھی خلاف ہے بلکہ کتب معتمدہ میں ائمہ مذہب کا جو اجماع منقول ہے اس کے بھی مخالف ہے، مثلاً آپ ہی کی بحر میں حکایت اجماع موجود ہے تو حق وہی ہے جو ظاہر روایت کی کتب میں ائمہ مذہب سے منقول ہے اور جس پر متواتر روایات منطبق ہیں یعنی تمام قلیل پانی پر مستعمل ہونے کا حکم لگایا جانا خواہ قلیل ہو یا کثیر جبکہ محدث کے بدن کا کوئی حصہ بھی اس میں داخل ہوجائے اس پر یہی حکم ہوگا، اس کے خلاف کسی کے کلام میں منقول نہیں صرف ایک لفظ بدائع میں تعلیل وجدل کے طور پر آیا ہے حالانکہ روایت کردہ پر وہ متفق ہیں، لیکن نصوص مذہب کی موجودگی میں محض ایک بحث کی کیا قدر وقیمت ہوسکتی ہے، پھر محرر مذہب کی تصریح ظاہر الروایۃ کی کتاب میں ہے اور ائمہ مذہب کا اجماع ہے، پھر ایک اس کلمہ پر محقق علی الاطلاق کے زمانہ تک کسی نے غور نہ کیا یہاں تک کہ ان کے شاگرد علامہ قاسم اور حلبی آئے تو انہوں نے اس بات کو بڑھایا اور ترجیح دی اور پھیلایا اور علامہ قاسم نے تو اس کو اپنی پسندیدہ نص قرار دیا جس سے نصوص مذہب اور فروع متواترہ تک کو رد کردیا اور اس کی تائید میں صرف ایک ضعیف روایت لاسکے اور کوئی قابل عقلی یا نقلی دلیل پیش نہ کرسکے، تو مذہب حق وہی ہے جس کی پیروی کی گئی ہے اور حق ہی اس کا مستحق ہے کہ اس کا اتباع کیا جائے واللہ المستعان، اسی پر بھروسا ہے، انس وجن کے سردار پر درود اور ان کی آل واصحاب، اولاد اور باقی جماعت پر تاقیامت برکتیں اور سلام نازل ہو، آمین والحمدللہ رب العالمین۔
Flag Counter