| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
وقد افاد فی الحلیۃ قبل الفرع الاول بصفحۃ فی الفرق بین التوضی من حوض وفیہ ان التوضی منہ لایستلزم البتۃ وقوع الغسالۃ فیہ بخلاف التوضی فیہ قال وکون وضوء المتوضئین من موضع وقوع غسالا تھم فیہ ھو مقصود الافادۃ من التفریع بخلاف کون وضوء المتوضی منہ بحیث تقع غسالاتھم خارجہ جائزا فان ذلک مجمع علیہ لایتفرع علی قول قوم دون اٰخرین ۱؎ اھ ۔
ا ور حلیہ میں فرع اول سے ایک صفحہ قبل فرمایا: حوض سے وضو اور حوض میں وضو کے اندر فرق ہے، اور اسی میں ہے کہ حوض سے وضو کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دھوون حوض میں گرے، لیکن اگر حوض میں وضو کیا جائے تو دھوون لازمی طور پر اس میں گرے گا، فرمایا لوگوں کا اس جگہ سے وضو کرنا جہاں اُن کے دھوون کا پانی پڑتا ہے یہی تفریع کا اصل مقصود ہے اور ایسی جگہ وضو کرنا جہاں دھوون باہر گرتا ہو تو اس میں کسی کا اختلاف نہیں، یہ ایسا نہیں کہ کچھ لوگوں کے قول پر متفرع ہو اور کچھ کے قول پر متفرع نہ ہو اھ۔
(۱؎ حلیہ)
ھذا کلہ علی طریق الحلیۃ وانا اقول وبہ(۱) استعین الوضوء فی الحوض یحتمل معنیین احدھما ان یغترف منہ بید اواناء ویتوضأ خارجہ بحیث تقع غسالتہ فیہ کقولک توضأت فی الطست وھو الذی اقتصر علیہ المحقق الحلبی والاخر ان یغسل اعضاء ہ بغمسھا فیہ کما یفعل کثیر من الناس فی الرجلین کقولک غسلت الثوب فی الاجانۃ وھذا اقرب الی ظرفیۃ الحوض للوضوء بالضم وان اطلق علی الاول لصیرورۃ الحوض ظرف الوضوء بالفتح فلاوجہ(۲) للقصر علی الاول والماء فی الاول ملقی ای استعمل فی الخارج ثم القی فی الماء المطلق وفی الثانی ملاق ای ماء مطلق لاقی بدنا ذاحدث فاسقط فرضا اوبدن (عہ۱ )متقرب فاقام قربۃ،
یہ تمام بحث حلیہ کے نہج پر ہے۔میں کہتا ہوں حوض سے وضو کے دو۲ معنی ہیں ایک تو یہ کہ حوض سے چُلّو سے پانی لیا جائے یا برتن سے لیا جائے اور حوض کے باہر وضو کیا جائے اور اس کا دھوون حوض میں گرتا رہے، جیسے کہا جاتا ہے، میں نے طشت سے وضو کیا۔ محقق حلبی نے اس پر اکتفا ء کیا ہے، اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ حوض میں اپنے اعضاء ڈبو کر وضو کرے جیسے عام طور پر لوگ پیر دھوتے ہیں، جیسے کہا جاتا ہے ''میں نے ٹب میں کپڑے دھوئے، اور یہ حوض سے وُضو بالضم کا ظرف ہونے کے اقرب ہے، اگرچہ اس کا اطلاق پہلے پر اس تاویل سے ہوتا ہے کہ وہ وضوء بالفتح کا ظرف ہے، تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کو پہلے تک ہی مقصور رکھا جائے اور پہلے میں پانی ملقی ہے یعنی پہلے باہر استعمال کیا گیا پھر مطلق پانی میں ڈالا گیا اور دوسرے میں ملاقی ہے، یعنی مطلق پانی جو حدث والے بدن کو ملا اور ایک فرض کو ساقط کیا یا متقرب کے بدن کو ملا اور ایک قربۃ اس سے ادا ہوئی،
عہ۱ :ادخلہ فی البحر فی المحدث حکما تبعا للدرایۃ وتقدم الرد علیہ فی الطرس المعدل اھ (م( بحر نے اس کو حکماً محدث میں داخل کیا درایہ کی پیروی کرتے ہوئے طرس معدل میں اس کا رد پہلے گزرا اھ (ت(
وانت تعلم(۳) ان العبارۃ فی الفروع الثلثۃ تحتمل الوجہین بیدانا لوحملناھا علی الثانی وجب ردھا الی روایۃ ضعیفۃ وھو نجاسۃ المستعمل اوصیرورۃ المطلق مستعملا بوقوع المستعمل ولوقلیلا الا ماترشش کالطل فانہ عفو دفعا للحرج وکلتاھما ضعیفۃ مھجورۃ والصحیح المعتمد طہارتہ وعدم تاثیرہ فی المطلق مطلقا مالم یساوہ اویغلب علیہ والروایات تصان عن مثلہ مھما امکن فظھر ان المراد فی الثلاثۃ معنی الثانی لامافھم المحقق واضطر الی حملھا علی ضعیف واذن صارت الثلثۃ حججالنا ولا دلیل ناطق علی صرفھا الی ضعیف ومن یفعلہ(۱) ینقلب مدعیا بعد ان کان سائلا فلینور دعواہ ببرھان واین البرھان وذلک لان الاصل فی روایات الائمۃ الاعتماد فمن استندبھا فقد قضی ماعلیہ، ومن یرید ردھا الی مایردھا فلیات بدلیل یلجیئ الیہ،
اور آپ جانتے ہیں کہ تینوں فروع کی عبارت دونوں وجہوں کا احتمال رکھتی ہے، صرف اتنا ہے کہ اگر ہم اس کو دُوسرے پرمحمول کریں تو اس کو ایک ضعیف روایت کی طرف راجع کرنا پڑے گا اور وہ مستعمل پانی کا نجس ہوتا ہے یا مطلق پانی کا تھوڑے مستعمل پانی سے مل جانے کی وجہ سے مستعمل ہوجانا، ہاں شبنم جیسے قطرے معاف ہیں حرج کو دفع کرنے کیلئے۔ یہ دونوں روایتیں متروک اور ضعیف ہیں، اور صحیح اور قابلِ اعتماد اس کی پاکی ہے اور اس کا مطلق پانی پر اثر انداز نہ ہونا ہے تاوقتیکہ اس کے برابر یا اس پر غالب نہ ہوجائے ____________ اور روایتیں اس قسم کی چیز سے حتی الامکان محفوظ رکھی جاتی ہیں، تو معلوم ہوا کہ تینوں فروع میں دوسرے معنی ہی مراد ہیں، وہ معنی نہیں ہیں جو محقق نے لئے ہیں اور پھر ان کو ضعیف روایت پر حمل کرنا پڑا اور اس طرح تینوں فروع ہماری دلیل بن گئی ہیں اور ان کو ضعیف روایت پر محمول کرنے کیلئے کوئی دلیل ناطق موجود نہیں، اور جو ایسا کرتا ہے وہ سائل کے بجائے اپنے آپ کو مدعی بناتا ہے اور ایسی صورت میں اس کو برہان لانا چاہئے، اور برہان کہاں سے ملے گا کیونکہ ائمہ کی روایات میں اصل اعتماد ہے تو جو ان سے استناد کرے گا اس نے اپنی ذمہ داری پُوری کردی، اور جو ان کو کسی اور طرف رد کرنا چاہتا ہے تو اُسے اس کی دلیل پیش کرنا ہوگی،
ودعوای ھذہ قداعترف بھا العلامۃ فی البحر والرسالۃ معا اذحکم بابتناء تلک الفروع علی روایۃ ضعیفۃ فقال وسیظھرلک صدق ھذہ الدعوی الصادقۃ بالبینۃ العادلۃ فقد اقرانہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی عاد بھذا مدعیا فکیف تسلم بلا دلیل اماما ذکر فی البینۃ وھو قول المحیط والعلامۃ السراج الھندی والتحفۃ اذا وقع الماء المستعمل فی البئر عند محمد یجوز التوضؤ بہ مالم یغلب علی الماء وھو الصحیح ولفظ التحفۃ علی المذھب المختار ۱؎۔
اور میرے اس دعوی کا اعتراف علامہ نے بحر اور رسالہ دونوں میں کیا ہے کیونکہ انہوں نے ان کی بنیاد کو ضعیف روایت پر مبنی قرار دیا ہے اور فرمایا کہ تم پر اس دعوی کی صداقت بینہ عادلہ سے ظاہر ہوجائیگی۔انہوں نے اس میں اعتراف کرلیا کہ وہ اس طرح مدعی بن گئے ہیں، تو اب یہ دعوی بلا دلیل کس طرح قبول کیا جائیگا، اور بینہ میں جو انہوں نے ذکر کیا ہے وہ محیط علامہ سراج ہندی اور تحفہ کا قول ہے کہ اگر مستعمل پانی کنویں میں گر جائے تو محمد کے نزدیک اس سے وضو جائز ہے تاوقتیکہ وہ پانی پر غالب نہ ہوجائے اور یہی صحیح ہے اور تحفہ میں صراحت ہے کہ یہی مذہب مختار ہے۔ (ت(
(۱؎ الرسالہ فی جواز الوضوء مع الاشباہ والنظائر ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲/۸۲۰/۷)
فاقول:(۱) رحم اللّٰہ الشیخ العلامۃ ماذکروہ فھو فی الملقی فکیف یدل علی ابتناء مافی الاسرار والعنایۃ والدرایۃ وغیرہما من شروح الہدایۃ وشرح الاسبیجابی وفتاوی الولو الجی وغیرھا علی روایۃ ضعیفۃ مع کونھا فی الملاقی والی ھنا تم الکلام مع البحر والرسالۃ معا ولم یبق فیھا شیئ غیر حرف واحد فی البحر وھو قولہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی لایعقل (عہ۱)فرق بین الصورتین من جھۃ الحکم یعنی الملقی والملاقی۔
میں کہتا ہوں اللہ تعالٰی شیخ علامہ پر رحم فرمائے، جو کچھ انہوں نے ذکر کیا ہے وہ ملقٰی میں ہے تو یہ اسرار، عنایہ، درایہ (شروح ہدایہ)، شرح اسبیجابی اور فتاوٰی ولوالجی وغیرہ کی عبارات کے ضعیف روایت پر مبنی ہونے پر کیونکر دلیل بن سکتا ہے کیونکہ وہ ملاقی کے بارے میں ہیں۔ یہاں تک بحر اور رسالہ سے جو گفتگو تھی پُوری ہوئی البتہ بحر نے ایک لفظ کہا ہے وہ یہ کہ ملقی اور ملاقی دونوں صورتوں میں حکم کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں۔ (ت(
(عہ۱) ذکر ھھنا عن بعض معاصریہ الفرق بان فی الوضوء یشیع الاستعمال فی الجمیع بخلافہ فی الصب اھ۔ ثم ردہ وھی عبارۃ مدخولۃ فتحت علی نفسھا باب الرد فکان لما ذکر فی البحر مساغ فلذا طوینا ذکرہ وسنعود الیہ ان شاء اللّٰہ تعالٰی فی الفصل الرابع اھ منہ غفرلہ۔ یہاں انہوں نے اپنے بعض معاصرین سے یہ فرق نقل کیا ہے کہ وضو سے استعمال تمام پانی میں ہوتا ہے اور بہانے میں یہ نہیں ہے، پھر خود ہی انہوں نے اس کا رد کیا اور یہ عبارت مدخولہ ہے، اس نے اپنے اوپر رد کا دروازہ کھول دیا ہے، تو جو بحر میں اس کا جواز تھا اس لئے ہم نے اس کو ذکر نہ کیا اور چوتھی فصل میں ہم اس کو ذکر کریں گے اِن شاء اللہ تعالٰی اھ منہ (ت(
اقول ای(۲) لعمرک فرق وای فرق لان الاستعمال انما یثبت بازالۃ الماء حدثا اواسقاطہ فرضا اواقامتہ قربۃ وذلک بملاقاتہ بدن المحدث اوالمتقرب لاملاقاتہ مالاقاہ والموجود فی الملاقی الاول وفی الملقی فیہ الثانی ھذا کل ماذکرہ فی الرسالۃ وھھنا اعنی فی بحث الماء المطلق فی البحر اماما ذکر فی مسألۃ البئر جحط مفرعا علی قول الحلیۃ الماء المستعمل ھو الذی لاقی الرجل بقولہ فعلی ھذا قولھم (ای فیمن نزل البئر للاغتسال) صار الماء مستعملا معناہ صار الماء الملاقی للبدن مستعملا لاجمیع ماء ۱؎ البئر اھ ۔فقد قدمنا الکلام علیہ کافیا شافیا بتوفیق اللّٰہ تعالٰی تحت الحادی والعشرین من الکلام مع العلامۃ قاسم وثلثۃ حجج قبلہ من التاسع عشر فھذہ اربعۃ۔
میں کہتا ہوں دونوں صورتوں میں بہت بڑا فرق ہے کیونکہ پانی کا مستعمل ہونا یا تو حَدَث کے ازالہ کی وجہ سے ہوتا ہے یا اسقاط فرض کی وجہ سے یا کسی قربۃ کی ادائیگی کے باعث ہوتا ہے اور یہ اسی وقت ہوگا جبکہ وہ مُحدِث یا متقرب کے بدن سے لگے نہ کہ اُس چیز کو لگے جو بدن کو لگی ہے، اور جو چیز مُلَاقیِ میں موجود ہے وہ اوّل ہے اور مُلْقیٰ میں دوسری چیز ہے یہ رسالہ میں ہے، اور بحر کی مطلق پانی کی بحث میں ہے، اور بحر نے مسئلہ جحط میں حلیہ کے اس قول پر تفریع کی ہے ''الماء المستعمل ھو الذی لاقے الرجل'' (مستعمل پانی وہ ہے جو آدمی کے جسم سے متصل ہو) تفریع کے لفظ یہ ہیں، تو اس بنا پر ان کا قول (یعنی جو شخص کنویں میں نہانے کو اُترا) پانی مستعمل ہوگیا، اس کا مفہوم یہ ہے کہ بدن کو لگنے والا پانی مستعمل ہوگیا، یہ نہیں کہ کنویں کا سارا پانی مستعمل ہوجائے، اھ ہم نے اس پر مکمل بحث علامہ قاسم کے کلام پر گفتگو کرتے ہوئے اکیسویں نمبر کے تحت کردی ہے اور اس سے قبل انیسویں نمبر میں تین دلائل بیان کیے ہیں تو یہ چار ہوئے۔
(۱؎ بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۹۸)