| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
واجاب: عنھا بحملھما علی نجاسۃ الماء المستعمل صرح بہ شارح المنیۃ العلامۃ ابن امیر الحاج فقال وانما قید الجواز بعدم الخلوص لانہ لوکان یخلص بعضہ الی بعض لایجوز لکن علی القول بنجاسۃ الماء المستعمل اما علی القول بطھارتہ فیجوز مالم یغلب علی ظنہ ان القدر الذی یغترفہ منہ لاسقاط فرض من مسح اوغسل ماء مستعمل اویمازجہ مستعمل مساو اوغالب اھ۔ قال فھذا صریح فیما قلناہ من جواز الوضوء فی الفساقی،
اور ان دونوں سوالوں کا جواب انہوں نے یہ دیا ہے کہ ان دونوں کو مستعمل پانی کی نجاست پر محمول کیا ہے، اس کی تصریح شارح منیہ علامہ ابن امیر الحاج نے کی ہے، اور فرمایا کہ جواز کو عدم خلوص کے ساتھ مقید کیا کیونکہ اگر پانی کا کچھ حصّہ دوسرے حصہ کی طرف چلا گیا تو جائز نہیں، لیکن یہ تب ہے کہ جب مستعمل پانی کو نجس قرار دیا جائے، لیکن اگر اس کو پاک قرار دیا جائے تو جائز ہے تاوقتیکہ اس کو اس بات کا ظن غالب نہ ہوجائے کہ وہ مقدار جو اس پانی سے وہ چُلّو بھر کر لے رہا ہے مسح یا دھونے کے فرض کو ساقط کرنے کیلئے کہ وہ مستعمل پانی ہے یا اس میں مستعمل پانی ملا ہوا ہے جو اس کے برابر ہے یا غالب ہے اھ فرمایا یہ اس بارے میں صریح ہے جو ہم نے کہا ہے کہ وضو فساقی میں جائز ہے،
واما مسألۃ الطحلب فقال شارح المنیۃ ایضا ھذا ایضا بناء علی نجاسۃ الماء المستعمل اومساواتہ اھ۔ وکذا صرح فی مسألۃ توضأ(۱) فی حوض انجمد ماؤہ قالوا ان کان الجمد رقیقا ینکسر بالتحریک یجوز اما اذا کان کبیرا قطعا قطعا لایتحرک بالتحریک لایجوز فقال ھذا ایضا بناء علی نجاسۃ الماء المستعمل اما علی طہارتہ فالجواب ماذکرنا فی السابقات ۲؎ اھ
اور گھاس کا مسئلہ، تو منیہ کے شارح نے بھی فرمایا یہ بھی مستعمل پانی کی نجاست پر مبنی ہے یا وہ مستعمل پانی کے مساوی ہو، اھ اور اسی طرح انہوں نے اس مسئلہ میں تصریح کی کہ کسی شخص نے ایسے حوض میں وضو کیا جس کا پانی منجمد ہوچکا تھا فرمایا اگر منجمد پانی ایسا ہے کہ ہلانے سے بآسانی ٹوٹ جاتا ہے تو جائز ہے اور اگر اس کے بڑے بڑے ٹکڑے ہوں کہ ہلانے سے نہ ہلیں تو جائز نہیں، فرمایا یہ بھی اسی پر مبنی ہے کہ مستعمل پانی نجس ہے، اور اس کی پاکی کی صورت میں تو جواب وہی ہے جو ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں اھ۔
(۲؎ الرسالۃ جواز الوضوء من رسائل ابن نجیم مع الاشباہ ادارۃ القرآن کراچی ۲/۸۲۱/۸)
وانت تعلم انہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی سلک بفرعی الاجمۃ والطحلب مسلکین وذلک ان کلامنھما حکم بعدم جواز الوضوء ان کان ماء الاجمۃ دون عشر فی عشر اولا یتحرک الطحلب بتحریک الماء فجعلہ واردا علیہ حیث افاد صیرورۃ کل الماء مستعملا بالتوضی فیہ اذا کان قلیلا واجاب بحملہ علی روایۃ النجاسۃ وحکم الحلیۃ بالجواز وان کان قلیلا مادام اکثر بناء علی الطہارۃ فجعلہ دلیلا لہ حیث افادان الوضوء فی الماء القلیل لایفسدہ مادام الطھور غالبا علی المستعمل واضاف الیھما فرع الجمد فی الاحتجاج وان کان یصلح ایضا للایراد واقتصر فی البحر علی ایراد الفروع الثلثۃ تصریحا بالاول وتلویحا بالباقیین فیما ھو لہ لافیما ھو علیہ فقال ثم رأیت العلامۃ ابن امیر الحاج قال (فذکر قولہ المار) قال ثم قال ایضا وا تصال الزرع بالزرع لایمنع اتصال الماء بالماء وان کان مما یخلص فیجوز علی الروایۃ المختارۃ فی طہارۃ المستعمل بالشرط الذی سلف (ای غلبۃ الطھور علی غیرہ) ثم ذکرای الحلبی مسائل علی ھذا المنوال وھو صریح فیما قدمناہ من جواز الوضوء بالماء الذی اختلط بہ ماء مستعمل قلیل ۱؎ اھ۔
اور تمہیں معلوم ہے کہ انہوں نے جُھنڈ اور کائی کے مسئلہ میں دو را ہیں اختیار کی ہیں، اور یہ اس لئے ہے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک نے حکم عدمِ جواز کا لگایا، اگر جھُنڈ کا پانی دَہ در دَہ سے کم ہو یا پانی کو حرکت دینے سے کائی میں حرکت پیدا نہ ہو، انہوں نے قلیل پانی میں وضو پر تمام پانی کو مستعمل قرار دینے کو اعتراض قرار دیا اور اس کا جواب یہ دیا کہ یہ نجاست والی روایت پر محمول ہے اور حلیہ نے قلیل پانی میں وضو کو جائز کہا ہے بشرطیکہ وہ مستعمل پانی سے زیادہ ہو کیونکہ وہ پاک ہے، اس کو انہوں نے اپنی دلیل بنایا جہاں انہوں نے کہا کہ قلیل پانی میں وضو پانی کو فاسد نہیں کرتا جب تک پاک پانی غالب رہے، ان دونوں صورتوں کے ساتھ انہوں نے استدلال میں انجماد کی فرع کا اضافہ کیا اگرچہ یہ بھی اعتراض کی صورت بن سکتی ہے اور بحر میں تینوں فروع کا ذکر پر اکتفا کیا ہے پہلی کی تصریح کی ہے اور باقی میں تلویح کی ہے، ماھو لہ کا بیان کیا ہے نہ کہ ماھوعلیہ کا۔ پھر فرمایا کہ میں نے علّامہ ابن امیر الحاج کو دیکھا انہوں نے فرمایا (پھر ان کا گزشتہ قول نقل کیا) کہا نیز انہوں نے فرمایا کہ کھیتی کا کھیتی سے متصل ہونا پانی کے پانی سے متصل ہونے کو نہیں روکتا ہے اگرچہ یہ اس قبیلہ سے ہے کہ پہنچ سکتا ہے، تو مختار روایت کے مطابق جو مستعمل پانی سے طہارۃ جائز ہوگی مگر شرط وہی رہے گی جو گزری، (یعنی طہور کا غلبہ غیر پر) پھر حلبی نے چند مسائل اسی قسم کے ذکر کیے، اور وہ اُس میں صریح ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے، یعنی اگر غیر مستعمل پانی میں تھوڑا سا مستعمل مل جائے تو اس سے وضو جائز ہے اھ
(۱؎ بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۴)
وقولہ(۱) فی الرسالۃ ھذا صریح فیما قلناہ من جواز الوضوء فی الفساق اوفق بمقصودہ اذلا نزاع فی مسألۃ الاختلاط غیر انہ رحمہ اللّٰہ تعالی لما حکم بعدم الفرق بین الملقی والملاقی طفق لایفرق بینھما فی الحجاج ثم انھی کلامہ فی البحر بایراد حجۃ لہ اخری عن فتاوی العلامۃ قارئ الھدایۃ جمع تلمیذہ المحقق علی الاطلاق سئل عن فسقیۃ صغیرۃ یتوضؤ فیھا الناس وینزل فیھا الماء المستعمل فی کل یوم ینزل فیھا ماء جدید ھل یجوز الوضوء فیھا اجاب اذا لم یقع فیھا غیر الماء المذکور لایضر اھ یعنی اذا وقعت فیھا نجاسۃ تنجست لصغرھا ۱؎ اھ عہ۱ اھ
اور ان کا قول "رسالہ" میں ''یہ صریح ہے اس امر میں کہ فساقی سے وضو جائز ہے'' ان کے مقصود سے زیادہ موافق ہے، کیونکہ اختلاط کے مسئلہ میں تو کوئی نزاع ہی نہیں، البتہ صرف یہ ہے کہ چونکہ انہوں نے ملقی اور ملاقی میں فرق نہیں کیا ہے تو قریب تھا کہ وہ ان دونوں سے استدلال میں بھی فرق نہ کرتے، پھر انہوں نے اپنا کلام بحر میں اس پر ختم کیا کہ اپنی ایک مزید دلیل فتاوی علامہ قارئ ہدایہ سے دی، اس کو ان کے شاگرد محقق علی الاطلاق نے جمع کیا ہے اُن سے ایک چھوٹے گڑھے کے بارے میں دریافت کیا گیا جس میں لوگ وضو کریں اس میں مستعمل پانی گرے اور ہر روز نیا پانی بھی آئے، اس سے وضو جائز ہے یا نہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اس میں مذکورہ پانی کے علاوہ اور پانی نہ گرتا ہو تو کچھ حرج نہیں اھ یعنی اس میں اگر کوئی نجاست گرے گی تو یہ نجس ہوجائے گا کیونکہ یہ چھوٹا ہے۔ اھ (ت)
(۱؎ بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۴)
عہ۱ :اھ السابق علی ھذین لکلام العلامۃ قارئ الہدایۃ وھو قول الامام ابن الھمام والاول من ھذین لکلام ابن الھمام من کلام البحر والاخیر لکلام البحر من کلام المصنف ۱۲ (م(
ان دونوں سے پہلے ''اھ'' علامہ قاری الہدایہ کے کلام کی انتہا ہے جس کو ابن ہمام نے ذکر کیا اور ان دونوں میں سے پہلی ''اھ'' ابن ہمام کے کلام کی انتہا ہے جس کو بحر نے بیان کیا اور آخری بحر کے کلام کی انتہا ہے جس کو مصنف نے ذکر کیا ہے ۱۲ (ت(
اقول وباللّٰہ التوفیق(۱) الایرادان والحجج الاربع کلھا مبنیۃ علی الذھول عن محل النزاع لان تلک الفروع طرافی الملقی لاالملاقی اما فرع قارئ الہدایۃ فظاھر لقول السؤال ینزل فیھا الماء المستعمل و قولہ فی الجواب اذالم یقع فیھا غیرہ واما فروع الحلیۃ الثلثۃ فلان مستندالجوابین والاحتجاجات کلام العلامۃ الحلبی وھو مصرح بانھا جمیعا فی الملقی دون الملاقی الا تری الی قولہ فی الاول ان کان لایخلص بعضہ الی بعض جازلان الماء حینئذ کثیر ولوکان الماء المستعمل الواقع فیہ نجاسۃ لم یمنع فکیف وھو طاھر وانما قید الجواز الی اٰخر مانقلتم وقال فی الثانی یمنع انتقال الماء المستعمل الواقع فیہ وقد نقلتموہ وان لم تعزوہ وقال فی الثالث ان کون الجمد ینکسر بتحریک الماء لایمنع من انتقال الماء المتصل منہ فی الحوض من ذلک المحل الواقع فیہ ۔۔۔الخ وکذلک قال فی نظائرہ بل ھذا علی طریق الحلیۃ مستفاد من نفس الفروع فانھا فی الوضوء فی حوض اوغدیر،
میں بتوفیق الٰہی کہتا ہوں دونوں اعتراض اور چاروں استدلال اس پر مبنی ہیں کہ محلِ نزاع پر نظر نہیں رکھی گئی کیونکہ یہ تمام فروع ملقی میں ہیں نہ کہ ملاقی میں، قارئ الہدایہ کی فرع تو ظاہر ہے، کیونکہ سوال میں ہے کہ اس میں مستعمل پانی روز آتا ہے اور جواب میں ہےکہ جبکہ اس میں اس پانی کے علاوہ کوئی اور چیز نہ گرتی ہو، اور حلیہ کی تینوں فروع اس لئے کہ دونوں جوابوں کی سند اور استدلالات علّامہ حلبی کا کلام ہیں، اور انہوں نے تصریح کردی ہے یہ تمام ملقیٰ میں ہیں نہ کہ ملاقی میں۔ چنانچہ ان کا پہلا قول دیکھا جائے کہ اس کا بعض دوسرے بعض کی طرف نہ جاتا ہو تو جائز ہے، کیونکہ اس صورت میں پانی کثیر ہوگا، اور اگر وہ ماء مستعمل جس میں نجاست گر گئی ہو مانع نہیں ہے تو جو طاہر ہے وہ کیسے ہوگا، اور بیشک جواز کو مقید کیا الی آخر مانقلتم اور دوسرے میں فرمایا منع کرتا ہے مستعمل پانی کا منتقل ہونا جس میں وہ واقع ہے حالانکہ تم نے اس کو نقل کیا ہے اگرچہ اس کے قائل کا نام نہیں لیا ہے، اور تیسرے میں فرمایا کہ برف کا پانی کو حرکت دینے سے ٹوٹ جانا حوض میں جو پانی اس سے متصل ہے اس کے منتقل ہونے کو مانع نہیں ہے الخ اور اسی طرح اس کی نظیروں میں فرمایا بلکہ حلیہ کے طریق کے مطابق یہ نفس فروع سے مستفاد ہے کیونکہ یہ بظاہر حوض یا تالاب سے وضو سے متعلق ہیں،