Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
44 - 176
نعم المشہور ان طاءہ للطاھر الطھور کما ذکرتم فی البحر وحینئذ یرد الفرع من قبل ان سقوط حکم الاستعمال لاجل الضرورۃ قلتم فی البحر عند محمد الرجل طاھر والماء طاھر طھور وجہ قول محمد علی ماھو الصحیح(عہ۱) عنہ ان الصب لیس بشرط عندہ فکان الرجل طاھرا ولا یصیر الماء مستعملا وان ازیل بہ حدث للضرورۃ واما علی ماخرجہ ابو بکر الرازی لایصیر مستعملا لفقد نیۃ القربۃ ۱؎ اھ۔ فان ابیتموھا لانھا روایۃ غیر مختارۃ کما قدمنا کانت المختارۃ اشد فی الرد،
ہاں مشہور یہی ہے کہ اس کی ''طا'' طاہر کیلئے ہے اور طہور کیلئے، جیسا کہ تم نے بحر میں ذکر کیا، اور اس وقت فرع اس جانب سے وارد ہوگی کہ استعمال کا حکم ضرورت کی وجہ سے ساقط ہوتا ہے تم نے بحر میں کہا ہے کہ محمد کے نزدیک مرد پاک ہے اور پانی طاہر طہور ہے امام محمد کے قول کی وجہ (صحیح روایت کے بموجب) یہ ہے کہ ان کے نزدیک بہانا شرط نہیں، تو آدمی پاک ہوا اور پانی مستعمل نہ ہوگا خواہ اس سے حدث زائل کیا گیا ہو، ضرورت کی وجہ سے، اور ابو بکر الرازی کی تخریج کے مطابق پانی مستعمل نہ ہوگا کیونکہ اس میں قربت کی نیت نہیں اھ تو اگر آپ اس روایت کا انکار کریں کہ یہ غیر مختار روایت ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا تو مختار روایت تردید میں زائد ہوگی۔
 (۱؎ بحرالرائق    کتاب الطہارت    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۱/۹۷ )
 (عہ۱) اقول والمراد بہ استعمال الماء بازالۃ حدث وان لم ینوقربۃ خلافا لتخریج الامام الرازی ولذا قال واما علی ماخرج الخ فلیس تصحیحا لھذہ الروایۃ بل الصحیح ما تقدم انہ طاھر غیر طھور اھ منہ غفرلہ (م(
میں کہتاہوں اس سے مراد یہ ہے کہ ازالہ حدث سے پانی مستعمل ہوجائے گا اگرچہ قربت کی نیت نہ ہو بخلاف امام رازی کی تخریج کے، اسی وجہ سے انہوں نے اما علی ما خرج الخ فرمایا لہٰذا صحیح روایت یہ نہیں بلکہ وہ ہے جو گزری کہ پانی طاہر غیر طہور ہے اھ۔ (ت(
وفرع(۴) الاسرار وھو کلامہ علی حدیث لایبولن اذیقول من قال ان الماء المستعمل طاھر طہور لایجعل الاغتسال فیہ حراما وکذا من قال طاھر غیر طھور لان المذھب عندہ ان الماء المستعمل اذا وقع فی ماء اٰخر لم یفسدہ حتی یغلب علیہ وقدرما یلاقی بدن المستعمل یصیر مستعملا وذلک القدر من جملۃ مایغتسل فیہ عادۃ یکون اقل من ماء فضل عن ملاقاۃ بدنہ فلا یفسدہ ویبقی طھورا ولا یحرم فیہ الاغتسال الا ان محمدا یقول بصیر ورتہ مستعملا بالاغتسال فیہ ۲؎ اھ
اسرار(۴) کی فرع حدیث ''لایبولن'' پر انکی گفتگو یہ ہے کہ جو یہ کہتا ہے مستعمل پانی طہور وطاہر ہے تو وہ اس میں غسل کو حرام قرار نہیں دیتا ہے اور اسی طرح جو اس پانی کو طاہر غیر طہور کہتے ہیں کیونکہ ان کا مذہب یہ ہے کہ جب مستعمل پانی دوسرے پانی میں مل جائے تو جب تک اس پر غالب نہ ہو اس کو فاسد نہیں کرتا اور صرف اسی قدر مستعمل ہوتا ہے جو بدن سے متصل ہوتا ہے اور یہ مقدار اُس مجموعی پانی کی مقدار سے جس سے کہ غسل کیا جاتا ہے عادۃً اس پانی سے کم ہوا کرتی ہے جو ملاقاۃ بدن سے بچ رہا ہوتا ہے، تو یہ اس کو فاسد نہیں کرے گا اور طہور ہی رہے گا اور اُس سے غسل حرام نہ ہوگا، تاہم محمد فرماتے ہیں کہ اس میں غسل کرنے سے یہ مستعمل ہوجائیگا اھ
 (۲؎ الرسالۃ فی جواز الوضوء من رسائل ابن نجیم مع الاشباہ، ادارۃ القرآن کراچی    ۲/۸۱۹/۶)
ونقلہ فی البحر بلفظ ان محمدا یقول لما اغتسل فی الماء القلیل صار الکل مستعملا حکما ۳؎ اھ ۔واجاب عنہ ایضا بمامر۔
اور بحر میں اس کو ان الفاظ سے نقل کیا ہے کہ محمد فرماتے ہیں کہ جب کوئی تھوڑے پانی میں غسل کرے گا تو سب کا سب حکماً مستعمل ہوجائے گا اھ اور اس کا جواب بھی وہ دیا جو گزرا۔
 (۳؎ بحرالرائق    کتاب الطہارت    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۱/۷۱)
اقول سبحٰن(۱) اللّٰہ صریح منطوق الاسرار ان المذھب اعتبار الغلبۃ وان قضیتہ ان لایصیر الکل مستعملا لان الملاقی حقیقۃ اقل من غیرہ الا ان محمدا جعل الکل مستعملا حکما فکیف یتوھم انہ مبنی علی روایۃ ضعیفۃ خلاف ذلک المذھب وانما ھو تخصیص لقضیتہ وتخصیص الحکم انما یبتنی علی الحکم لاعلی خلافہ وھذا واضح جدا وسرکلام الاسرار قد بیناہ ۔
میں کہتا ہوں سبحان اللہ، اسرار کا صریح منطوق یہ ہے کہ مذہب یہ ہے کہ اعتبار غلبہ کو ہے، اگرچہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ کل مستعمل نہ ہوگا کیونکہ ملاقی حقیقۃ غیر ملاقی سے کم ہے مگر یہ کہ محمد نے کل کو حکما مستعمل قرار دیا ہے، تویہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ یہ کسی ضعیف روایت پر مبنی ہے جو اُس مذہب کے خلاف ہے، یہ اس کے مقتضی کی تخصیص ہے اور حکم کی تخصیص حکم پر ہی مبنی ہوتی ہے نہ کہ خلافِ حکم پر، اور یہ بہت واضح ہے، اور اسرار کے کلام کار ازہم نے بیان کردیا۔
وفرع(۵) المبتغی بالغین لو ادخل الکف صار مستعملا ۱؎ وزاد فی البحر فرع(۶) العنایۃ والدرایۃ وغیرھما ان الجنب اذا نزل فی البئر بقصد الاغتسال یفسد الماء عند الکل ۲؎
مبتغیٰ(۵) کی فرع: اگر ہتھیلی ڈالی تو پانی مستعمل ہوگیا اھ، اور بحر میں اضافہ کیا ہے عنایہ اور درایہ(۶) وغیرہما کی فرع کا: جنب اگر کنویں میں غسل کی نیت سے اُترے گا تو سب ہی کے نزدیک پانی فاسد ہوجائیگا۔''
 (۱؎ الرسالۃ فی جواز الوضوء مع الاشباہ    من رسائل ان نجیم    ادارۃ القرآن کراچی    ۲/۸۱۹/۶)

(۲؎ بحرالرائق            کتاب الطہارت    سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۱)
وفرع(۷) الخانیۃ لوادخل یدہ اورجلہ فی الاناء للتبرد یصیر الماء مستعملا لانعدام الضرورۃ ۳؂
خانیہ (۷) کی فرع: اگر کسی نے اپنا پیر یا ہاتھ برتن میں ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے ڈالا تو پانی مستعمل ہوجائے گا کہ ضرورت موجود نہیں ہے۔
 (۳؎ بحرالرائق           کتاب الطہارت    سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۱)
وفرع (۸) الاسبیجابی والولوالجی فیمن اغتسل فی بئر الی العشرۃ ولا نجاسۃ علیہ قال محمد صارت المیاہ کلہا مستعملا ۴؎ وزاد قولہ الی اخر الفروع ارشادا الی الکثیر الباقی قال وھذا صریح فی استعمال جمیع الماء عند محمد بالاغتسال فیہ ۵؎ اھ۔ واجاب عن الکل بانہ مبنی علی روایۃ ضعیفۃ عن محمد قائلۃ بنجاسۃ الماء المستعمل ۱؎ ثم استشھد بحمل الفتح فرعا فی الخانیۃ علیھا وقد مرما فیہ من ستۃ اوجہ۔
اسبیجابی(۸) اور ولوالجی کی فرع: جو کنویں میں دس ہاتھ تک نہایا اور اس پر کوئی نجاست بھی نہیں ہے تو محمد نے فرمایا کل پانی مستعمل ہوجائیگا، اور اپنے قول الی آخر الفروع کا اضافہ کیا، باقی کثیر فروع کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا یہ صریح ہے امام محمد کے نزدیک تمام پانی کے مستعمل ہونے میں اس میں غسل کرنے کی وجہ ہے، اور سب کا جواب یہ دیا کہ یہ ضعیف روایۃ پر مبنی ہے، یعنی محمد کی اس روایت پر کہ مستعمل پانی نجس ہوجاتا ہے، پھر یہ استشہاد کیا کہ فتح نے خانیہ کی ایک فرع کو اسی پر محمول کیا ہے، اور جو اس پر اعتراض ہے وہ چھ وجوہ سے گزر چکا ہے۔
 (۴؎ بحرالرائق       کتاب الطہارت    سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۱)

(۵؎ بحرالرائق        کتاب الطہارت    سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۱)

(۱؎ الرسالۃ جواز الوضوء مع الاشباہ من رسائل ابن نجیم     ادارۃ القرآن کراچی    ۲/۸۲۰/۷)
وفرع(۹) منیۃ المصلی عن الفقیہ ابی جعفر(۱) توضا فی أجمۃ القصب فان کان لایخلص بعضہ الی بعض یجوز وفی الخلاصۃ توضأ فی أجمۃ القصب اوارض فیھا زرع متصل بعضھا ببعض ان کان عشرا فی عشر یجوز قال فمفھومہ انہ اذا کان اقل لایجوز التوضی فیہ والاجمۃ محرکۃ الشجر الکثیر الملتف ۲؎۔
منیۃ(۹) المصلی کی فرع: یہ فقیہ ابو جعفر سے ہے کسی نے بانسوں کے جُھنڈ میں وضو کیا اگر وہ اتنے گھنے ہیں کہ پانی کے حصّے ایک دوسرے سے جُدا رہتے ہیں تو جائز ہے اور خلاصہ میں ہے کہ بانسوں کے جُھنڈ میں یا ایسی زمین میں جس میں پودے ایک دوسرے سے متصل ہوں، اگر وہ دَہ در دَہ ہو تو وضو جائز ہے، اس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر اس سے کم ہو تو جائز نہیں، اور أجَمَہ محّرکہ، گھنے درختوں کو کہتے ہیں۔
 (۲؎ الرسالۃ جواز الوضوء مع الاشباہ من رسائل ابن نجیم     ادارۃ القرآن کراچی    ۲/۸۲۰/۷)
وفرع(۱۰) الکتابین الخلاصۃ والمنیۃ توضأ(۲) فی حوض وعلی جمیع وجہ الماء الطحلب ان کان بحال لوحرک یتحرک یجوز قال ومفھومہ انہ لوکان لایتحرک الطلحب بتحریک الماء لایجوز فان عدم تحرکہ بتحریک الماء یدل علی انہ بحالۃ من التکاثف والاستمساک لسطح الماء بحیث یمنع انتقال الماء المستعمل الواقع فیہ الی محل اخر فیقع الوضوء بماء مستعمل والطحلب نبت اخضر یعلو الماء بعضہ علی بعض اھ وھو ماخوذ عن الحلیۃ قال وھذا کلہ یدل ان الماء یصیر مستعملا بالوضو فیہ مطلقا ۱؎ اھ۔
خلاصہ اور منیہ کی فرع(۱۰): حوض میں وضو کیا اور طحلب پانی کی تمام سطح پر ہو اگر وہ ایسا ہے کہ اس کو حرکت دی جائے تو سب ہل جائے تو جائز ہے، فرمایا اس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر حرکت نہ کرے طحلب پانی کے حرکت دینے سے تو جائز نہیں کیونکہ پانی کے حرکت دینے سے اس کا متحرک نہ ہونا اس امر پر دلالت ہے کہ وہ اتنا کثیف ہے کہ مستعمل پانی کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا مشکل ہے، تو وضو مستعمل پانی سے ہوگا، اور طحلب سبز رنگ کی گھاس ہے جو پانی پر تیرتی رہتی ہے اھ اور یہ حلیہ سے ماخوذ ہے، فرمایا یہ سب اس امر پر دلیل ہے کہ پانی اس میں وضو کرنے سے مطلقا مستعمل ہوجاتا ہے اھ۔
 (۱؎ الرسالۃ جواز الوضوء من رسائل ابن نجیم مع الاشباہ    ادارۃ القرآن کراچی    ۲/۸۲۰/۷)
Flag Counter