اقول: مبنی(۱) علی جعل المستعمل ھی الاجزاء المتصلۃ بالبدن فما وراء ھا طھور اختلط بہ الماء المستعمل ولیس ھکذا بل کلہ ملاق فکلہ مستعمل فکیف یشملہ الاطلاق قال: ویدل علیہ ایضا مافی البدائع وذکر عبارات الثلاث قال فھذا صریح فیما قلنا ۲؎
میں کہتا ہوں یہ قول اس پر مبنی ہے کہ مستعمل پانی اُن اجزاء کو قرار دیا جائے جو بدن سے متصل ہوں اور اس کے علاوہ پاک کرنے والا ہے جس کے ساتھ مستعمل پانی مل گیا ہے، حالانکہ بات یہ نہیں ہے بلکہ کل پانی اس سے ملنے والا ہے لہٰذا کل مستعمل ہوگا، اس کو اطلاق کیسے شامل ہے؟ فرمایا اس پر بدائع کی عبارت بھی دلالت کرتی ہے اور پھر انہوں نے تینوں عبارات ذکر کی ہیں، فرمایا یہ ہمارے قول کی صریح دلیل ہے۔
(۲؎ الرسالۃ فی جواز الوضوء مع الاشباہ من رسائل ابن نجیم ادارۃ القرآن کراچی ۲/۸۱۹/۶)
اقول: لامحل لایضا(۲) فان تلک الدلالۃ مبتنیۃ علی ما فی البدائع والا فلادلالۃ کما علمت وما فی البدائع قدفرغنا عنہ بابدع وجہ وللّٰہ الحمد! قال: ویدل علیہ ایضا مافی خلاصۃ الفتاوی جنب اغتسل فانتضح من غسلہ شیئ فی انائہ لم یفسد علیہ الماء اما اذا کان یسیل فیہ سیلانا افسدہ وکذا حوض الحمام علی ھذا وعلی قولہ محمد رحمہ اللّٰہ تعالی لایفسد مالم یغلب علیہ یعنی لایخرجہ عن الطھوریۃ ۱؎ اھ بلفظہ۔
میں کہتا ہوں ''ایضا'' کا یہاں کوئی مقام نہیں، کیونکہ یہ دلالت مفہوم بدائع پر مبنی ہے ورنہ کوئی دلالت نہیں جیسا کہ تم نے جانا، اور جو کچھ بدائع میں ہے اس پر اچھی طرح ہم بحث کرچکے ہیں وللہ الحمد، فرمایا اس پر خلاصۃ الفتاوی کی عبارت بھی دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک ناپاک شخص نے غسل کیا؟ اس سے کچھ چھینٹے اُڑ کر اس کے برتن میں پڑے تو اس کا پانی فاسد نہ ہوگا، اگر مستعمل بہہ کر اس میں گیا تو فاسد کردے گا اسی طرح حمام کا حوض، اور امام محمد کے قول پر فاسد نہ کرے گا جب تک غالب نہ ہوجائے، یعنی اس کو پاک کرنے کے وصف سے خارج نہ کریگا الّایہ کہ وہ پاک پر غالب ہوجائے اھ بلفظہ۔ (ت(
(۱؎ رسالہ فی جواز الوضوء مع الاشباہ من رسائل ابن نجیم ادارۃ القرآن ۲/۸۱۹/۶)
اقول رحمک(۱) اللّٰہ ھذا ملقی والکلام فی الملاقی ثم اورد علی نفسہ سؤالا من قبل فروع کثیرۃ فی کتب مشھورۃ تخالف ماجنح الیہ اورد منھا فرع( ۱) الخانیۃ لوصب الوضوء فی بئرولم یکن استنجی بہ علی قول محمد لایکون نجسا لکن ینزح منھا عشرون لیصیر الماء طھور ۲؎ اھ۔
میں کہتا ہوں خدا آپ پر رحم کرے یہ مُلقیٰ ہے جبکہ گفتگو ملاقی میں ہے، پھر انہوں نے خود ہی اپنے اوپر ان فروع کثیرہ سے سوال وارد کیا جو کتب کثیرہ میں وارد ہیں، یہ سب ان کے نظریہ کے مخالف ہیں۔
خانیہ کی فرع(۱): اگر وضو کا بچا ہوا پانی کنویں میں بہا دیا مگر اس سے استنجا نہیں کیا تھا تو یہ محمد کے قول پر نجس نہ ہوگا، تاہم اس سے بیس ڈول نکالے جائیں گے تاکہ پانی طہور ہوجائے اھ۔
(۲؎ رسالہ فی جواز الوضوء مع الاشباہ من رسائل ابن نجیم ادارۃ القرآن ۲/۸۱۹/۶)
وفرع(عہ۱) الخلاصۃ نحوہ غیر ان فیہ ینزح الاکثر من عشرین دلوا ومن ماء صب فیہ عند محمد ۳؎ اھ۔ قال فھذا ظاھر فی استعمالہ الماء بوقوع قلیل من الماء المستعمل فیہ علی قول محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی ۴؎ واجاب بانہ مبنی علی روایۃ ضعیفۃ عن محمد ان الماء یصیر مستعملا بوقوع قلیل من الماء المستعمل لاعلی الصحیح من مذھبہ انہ لایصیر مستعملا مالم یغلب علیہ ۱؎ اھ۔
خلاصہ کی فرع(۲): یہ بھی اُسی طرح ہے مگر اس میں بیس ڈول سے زیادہ نکالے جانے کا ذکر ہے اور اُس پانی سے جو اس میں بہا یا گیا ہے محمد کے نزدیک اھ۔ فرمایا اس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اگر تھوڑا مستعمل پانی، پانی میں گر جائے تو وہ پانی مستعمل ہوجائیگا، یہ محمد کا قول ہے اھ اس کا یہ جواب دیا کہ محمد کا یہ قول ایک ضعیف روایت پر مبنی ہے کہ پانی تھوڑے مستعمل پانی کے گرنے کی وجہ سے مستعمل ہوجائیگا، ان کا صحیح مذہب یہ ہے کہ پانی صرف اسی وقت مستعمل ہوگا جب اس پر مستعمل پانی کا غلبہ ہوجائے اھ
(۳؎ رسالۃ فی جواز الوضوء مع الاشباہ من رسائل ابن نجیم ادارۃ القرآن ۲/۸۲۰/۷)
(۴؎ رسالہ فی جواز الوضوء مع الاشباہ من رسائل ابن نجیم ادارۃ القرآن ۲/۸۱۹/۶)
(۱؎ رسالۃ فی جواز الوضوء مع الاشباہ من رسائل ابن نجیم ادارۃ القرآن ۲/۸۲۰/۷ )
(عہ۱ (اوردہ بعد عدۃ فروع والحقناہ بفرع الخانیۃ لاتحاد صورتھما اھ منہ غفرلہ (م(
انہوں نے اس فرع کو متعدد فروع کے بعد ذکر کیا ہے اور ہم نے اسے خانیہ کی فرع سے ملحق کیا ہے کیونکہ دونوں کی صورت ایک جیسی ہے اھ (ت(
ونقل تصحیحہ عن المحیط وعن شرح الھدایۃ للعلامۃ سراج الدین الھندی ونقل عنہ عن التحفۃ انہ المذھب المختار ۲؎۔
اور اس کی تصحیح کو محیط، سراج الدین ہندی کی شرح ہدایہ سے نقل کیا اور اُن سے تحفہ سے نقل کیا کہ وہی مذہب مختار ہے۔ (ت(
(۲؎ رسالۃ فی جواز الوضوء مع الاشباہ من رسائل ابن نجیم ادارۃ القرآن ۲/۸۲۰/۷)
اقول :ھو کما(۱) قال والفرعان فی الملقی فلا یمسان مورد النزاع والاستعمال لایتوقف علی غلبۃ المستعمل بل عدمہ علی غلبۃ المطھر فان تساویا صار الکل مستعملا کما نصوا علیہ منھم ھو فی البحر۔
میں کہتا ہوں یہ ویسا ہی ہے جیسا کہ انہوں نے فرمایا اور یہ دونوں فرعیں مُلقیٰ میں ہیں لہٰذا محلِ نزاع سے ان کا کوئی تعلق نہیں بنتا ہے اور استعمال مستعمل کے غلبہ پر موقوف نہیں بلکہ اس کا عدم غلبہ مطہّر پر مبنی ہے، تو اگر دونوں برابر ہوں تو کل مستعمل ہوجائے گا، جیسا کہ مشائخ نے اس کی تنصیص کی، بحر میں بھی یہی ہے۔ (ت(
اقول:واقتصار المحیط والسراج والتحفۃ والخلاصۃ وغیرھا علی ذکر الغلبۃ لان المساواۃ الحقیقۃ نادرۃ جداکما(۲) قالوہ فی انفھام افضلیۃ زید من قول القائل لاافضل منہ وفرع(۳) جحط المذکور فی المتون والشروح وصورتھا رجل نزل لطلب الدلو ولیس علی بدنہ نجاسۃ فعند محمد الماء طاھر غیر طھور والرجل طاھر مع ان الماء الذی لاقی بدنہ فی البئر اقل من غیرہ وقد جعلہ محمد مستعملا لانعدام الضرورۃ ۱؎ اھ واجاب بمامر۔
میں کہتا ہوں محیط، سراج، تحفہ اور خلاصہ وغیرہ میں غلبہ کے ذکر پر اقتصار کیا ہے، کیونکہ حقیقی مساوات نادر ہے، مشائخ نے اس کو اس مثال سے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی لاافضل من زید، کہے تو اس سے زید کی افضلیت سمجھ میں آتی ہے۔جحط(۳) کی فرع جو متون وشروح میں مذکور ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص کُنویں میں ڈول نکالنے کیلئے اُترا اور اس کے بدن پر نجاست نہیں ہے تو محمد کے یہاں پانی طاہر ہے طہور نہیں اور آدمی طاہر ہے حالانکہ وہ پانی جو کنویں میں سے اس کے بدن پر لگا ہے دوسرے سے کم ہے، اور محمد نے اس کو مستعمل قرار دیا ہے کیونکہ ضرورت نہیں اھ اس کا جواب وہ دیا جو گزرا۔ (ت(
(۱؎ الرسالۃ فی جواز الوضوء مع الاشباہ والنظائر ادارۃ القرآن کراچی ۲/۸۱۹/۶)
اقول رحمکم(۱) اللّٰہ ورحمنا بکم اذا ارید بطاء جحط طاھر غیر طھور فکیف تجعلونہ مبنیا علی روایۃ ضعیفۃ عن محمد وانتم القائلون فی بحر کم علم بما قررناہ ان المذھب المختار فی ھذہ المسألۃ ان الرجل طاھر والماء طاھر غیر طھور علی الصحیح ۲؎ اھ۔
میں کہتا ہوں اللہ تم پر اور ہم پر رحم فرمائے اگر جحط کی ''طا'' سے طاہر غیر طہور مراد ہو تو آپ اس کو محمد کی روایت ضعیفہ پر کیونکر مبنی کرتے ہیں حالانکہ آپ بحر میں کہتے ہیں کہ ہماری تقریر سے معلوم ہوا کہ مذہب مختار اس مسئلہ میں یہ ہے کہ آدمی پاک ہے اور پانی طاہر غیر طہور ہے صحیح مذہب پر اھ
(۲؎ بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۹۸)