Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
42 - 176
زاد فی الرسالۃ ان تلمیذہ فی الحلیۃ حمل علیھا فرعی الاجمۃ والطحلب وحمل فروعا کثیرۃ علی ھذا النحو ۳؎ اھ فھل بعض فروع وردت متفرقۃ فی غضون بعض الفتاوٰی کھذہ الفروع الوافرۃ، المتکاثرۃ المتواترۃ، الثابتۃ الدائرۃ، فی عامۃ الشروح والفتاوی مع عدۃ من المتون، من دون نکیر ولا مجال ظنون، ام ھی کھذہ فی الکتب الظاھرۃ، ام ھی مذیلات بالتصحیحات المتظافرۃ، ام ھی منصوص علیھا من جمیع ائمۃ المذھب الحنفی، ام ھی مزینۃ بطراز الاتفاق وبانھا قولنا جمیعا وبانھا مذھب اصحابنا فاین ذی من اتی، ام ھل لھا محمل غیر ھذا فکیف یقاس علی المتعین، مالہ سبیل واضح متبین۔
رسالہ میں یہ اضافہ ہے کہ ان کے شاگرد نے حلیہ میں اس پر اجمہ اور طحلب کی دو فروع کو محمول کیا، یہ خلاصہ اور منیہ میں مذکور ہیں اور فرمایا کہ اسی نہج پر انہوں نے بہت سی فروع اخذ کی ہیں، اھ تو کیا ان فروع کی طرح کچھ اور ایسی فروع ہیں جو متفرق فتاوی میں اس کثرت کے ساتھ مذکور ہوں، کیا شروح اور کیا متون اور ان پر کیسے کوئی نکیر نہیں کی؟ یا ان کی طرح کتب ظاہر روایت میں ہوں؟ یا ان کی اتنی تصحیحات ہوں؟ یا تمام مذہب حنفی کی کتب میں منصوص ہوں؟ـ یا ان پر اتفاق کیا گیا ہو کہ یہ ہم سب کا قول ہے یہ ہمارے اصحاب کا مذہب ہے؟ یا ان کا کوئی اور محمل ہے کہ ان کی طرف روشن راستہ ہو۔
 (۳؎ جواز الوضوء من الفساقی رسالۃ من رسائل ابن نجیم    ادارۃ القرآن کراچی    ۲/۸/۸۲۱)
السادس والعشرون: کلام العلامۃ علی حدیث لایبولن احدکم فی الماء الدائم قدمنا الکلام علیہ واشرنا الی کلام شیخہ المحقق علی الاطلاق حیث یقول اما قولہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم (وذکر الحدیث) فغایہ مایفید نھی الاغتسال کراھۃ التحریم ویجوز کونھا لکیلا تسلب الطھوریۃ فیستعملہ من لاعلم بہ بذلک فی رفع الحدث ویصلی ولافرق بین ھذا وبین کونہ یتنجس فیستعملہ من لاعلم لہ بحالہ فی لزوم المحذور وھو الصلاۃ مع المنافی فیصلح کون کل منھما مثیرا للنھی المذکور ۱؎ اھ۔
چھبیسواں علاّمہ نے لایبولن احدکم فی الماء الدائم (ٹھہرے پانی میں پیشاب نہ کرے) پر جو کلام کیا ہے اس پر ہم پہلے ہی بحث کر چکے ہیں، اور اُن کے شیخ محقق علی الاطلاق کے کلام کی طرف اشارہ کرآئے ہیں، وہ فرماتے ہیں ''بہرحال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان (پھر انہوں نے مذکور حدیث بیان کی) میں جو غسل کرنے کی نہی ہے اس سے زیادہ سے زیادہ جو ثابت ہوتا ہے وہ نہی تحریم ہے تاکہ ایسا نہ ہو کہ طہوریت سلب ہوجائے، اور اس کو کوئی شخص لاعلمی میں رفعِ حَدَث کیلئے استعمال کر بیٹھے اور نماز پڑھ لے اور اس میں اور اس مضمون میں کہ پانی نجس ہوجاتا ہے تو ایسا نہ ہو کہ اس کو کوئی شخص لاعلمی میں استعمال کرے، دونوں صورتوں میں محذور لازم ہے، یعنی منافی کے ہوتے ہوئے نماز پڑھنا، پس جائز ہے کہ ان میں سے ہر ایک مذکور نہی کا باعث ہو اھ۔
 (۱؎ فتح القدیر    الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالا یجوز    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۵)
ودفع البحر(۱) ایاہ ببحث البدائع المذکور دفع للصحیح بمالیس بہ کما علمت اماحدیث المستیقظ،فاقول: لیس من حجتنا فی ھذا الباب لاحتمال انہ لاحتمال النجاسۃ العینیۃ بل ھو الظاھر من قولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فانہ لایدری این باتت یدہ والعلامۃ عدل عن ھذا الجواب الواضح الی ثلثۃ لایستقیم(۱) منھا شیئ فاوّلا: دعوی الخصوص لادلیل علیہ وثانیا: کیف یجعل تعبدیا غیر معقول المعنی مع الارشاد الی المعنی فی نفس الحدیث فانہ لایدری این باتت یدہ وثالثا: ماعن اصحاب عبداللّٰہ رضی اللّٰہ تعالی عنھم یجوز ان یکون لان اباھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کان یرسلہ ارسالا فاشاروا الی تخصیص مواضع الضرورۃ کما ھو الحکم المصرح بہ عندنا اذا کان الماء فی جب ولا اٰنیۃ یغترف بھا۔
بحر کا اس کو بدائع کی مذکور بحث سے دفع کرنا صحیح کو غیر صحیح سے دفع کرنا ہے جیسا کہ آپ نے جان لیا اور رہی مستیقظ والی حدیث،تو میں کہتا ہوں اس سلسلہ میں ہماری دلیل یہ نہیں ہے کیونکہ یہ احتمال ہے کہ یہ نجاست عینیہ کی وجہ سے ہو بلکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ''فانہ لایدری این باتت یدہ'' (وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات کو کہاں رہا) سے یہی ظاہر ہے، اور علّامہ نے اس جواب سے عدول کرکے تین جوابات دیے جن میں سے کوئی ٹھیک نہیں، پہلا دعوائے خصوص، جس پر کوئی دلیل نہیں۔ دوسرے یہ کہ کس طرح اس کو تعبدی اور غیر معقول المعنی قرار دیا جاسکتا ہے جبکہ خود حدیث میں معنی کی طرف رہنمائی ہے اور وہ یہ ہے کہ فانہ لایدری این باتت یدہ۔ تیسرے عبداللہ کے اصحاب سے جو مروی ہے ممکن ہے وہ اس لئے ہو کہ ابو ہریرہ اس کا ارسال کرتے ہوں تو انہوں نے ضرورت کے مقامات کے ساتھ اس کو مختص کرنے کی طرف اشارہ کیا ہو، جیسا کہ ہمارے یہاں یہ واضح حکم موجود ہے کہ جب پانی تالاب میں ہو اور کوئی برتن پانی نکالنے کیلئے نہ ہو۔
السابع والعشرون: قولہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی تکرار الاستعمال الظاھر عدم اعتبار ھذا المعنی فی النجس فکیف بالطاھر غیر(۲) مُظھر ولا ظاھر الاتری ان النجاسۃ تصیب الثوب او البدن فی مواضع متفرقۃ تجمع فان بلغت حد المنع منعت وما یتراأی من عدم جمع الواقعۃ فی الماء الکثیر فان الوقوع فی عشرۃ مواضع منہ کالوقوع فی موضع فلیس لعدم الجمع بل لعدم البلوغ الی حدالمنع حتی لوبلغت بان غیر المجموع احد اوصافہ وما کانت الافراد لتغیرہ فلا شک فی الجمع واللّٰہ تعالی اعلم ھذا تمام الکلام مع العلامۃ قاسم رحمہ اللّٰہ تعالٰی وقد ظھر بہ الحق السدید، بحیث لاحاجۃ الی المزید، والحمدللّٰہ الحمید المجید۔
ستائیسواں :ان کا قول تکرار استعمال کی بابت، ظاہر یہی ہے کہ یہ معنیٰ نجس میں اعتبار نہ کیا جائے تو پھر طاہر کا کیا حال ہوگا۔ یہ نہ ظاہر کرنے والا ہے اور نہ بذاتِ خود ظاہر ہے، مثلاً نجاست جو بدن یا کپڑے کو متفرق مقامات پر لگ جائے تو اس کو جمع کیا جائے گا۔ اب اگر منع کی حد کو پہنچ جائے تو منع کرے گی۔ اگر کثیر پانی میں نجاست گر جائے تو اس کو بظاہر جمع نہیں کیا جاسکتا ہے، کیونکہ پانی میں اگر دس جگہ نجاست گِر جائے تو وہ ایسی ہے جیسے ایک جگہ گری ہو، تو یہ چیز عدم جمع کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ وہ حدِ منع تک نہیں پہنچی ہے اور اگر حدِ منع تک پہنچ جائے مثلاً یہ کہ نجاست کا مجموعہ اس کے اوصاف میں سے کسی وصف کو بدل دے، اور ہر فرد نہ بدلے تو جمع کرنے میں شک نہیں۔ یہ مکمل گفتگو تھی علّامہ قاسم کے ساتھ، اس سے حق ظاہر ہوگیا، اس سے زیادہ کی حاجت نہیں، والحمدللہ الحمید المجید۔
الفصل الثانی فی کلام العلامۃ زین فی البحر والرسالۃ کانت قضیۃ ترتیب الزمان ان نقدم علیہ کلام العلامۃ ابن الشحنۃ رحمھما اللّٰہ تعالٰی لکن اردنا الحاق الموافق بموافقہ لم یات رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی رسالتہ ولا فی بحرہ بشیئ یزید علی مااورد العلامۃ قاسم الا مالا مساس لہ بمحل النزاع افاض اولا فی تحدید الماء الکثیر وان المذھب تفویضہ الی رأی المبتلی وان التقدیر بعشرفی عشر انما اختارہ المتأخرون تیسیرا علی من لارأی لہ وانہ لایرجع الی اصل شرعی یعتمد علیہ ثم تکلم علی صفۃ الماء المستعمل وان المفتی بہ انہ طاھر غیر طھور ثم اتی علی المسألۃ فقال وقد قالوا ان الماء المستعمل اذا اختلط بالطھور تعتبر فیہ الغلبۃ فان کان الماءالطھور غالبا یجوز الوضوء بالکل والا لایجوز وممن نص علیہ الامام الزیلعی فی شرح الکنز والعلامۃ سراج الدین الہندی فی شرح الہدایۃ والمحقق فی فتح القدیر قال وھی باطلاقۃ تشمل مااذا استعمل الماء خارجا ثم القی الماء المستعمل واختلط بالطھور اوانغمس فی الماء الطھور اوتوضأ فیہ ۱؎ اھ۔
دُوسری فصل علّامہ زین کے کلام میں جو بحر اور رسالہ میں ہے: زمانی ترتیب کا تقاضا یہ تھا کہ ہم ابن الشحنہ کا کلام اس پر مقدم کرتے، لیکن ہم نے ایک موافق کو دوسرے موافق سے لاحق کرنا چاہا ہے انہوں نے اپنے رسالہ میں یا بحر میں علامہ قاسم کے کلام سے کچھ مزید اضافہ نہیں کیا ہے، صرف وہی بات مذکور ہے جس کا محلِ نزاع سے کچھ تعلق نہیں، پہلے تو انہوں نے کثیر پانی کی تحدید کی ہے اور کہا کہ مذہب میں یہ معاملہ صاحبِ معاملہ کے سپرد ہے، اور دَہ در دَہ کے اندازہ کو متأخرین نے اُن لوگوں کی آسانی کیلئے وضع کیا ہے جن کی اپنی کوئی رائے نہ ہو اور اس کی کوئی قابلِ اعتماد شرعی دلیل نہیں، پھر انہوں نے مستعمل پانی پر کلام کیا ہے اور بتایا ہے کہ مفتیٰ بہ قول یہ ہے کہ یہ طاہر تو ہے مگر پاک کرنے والا نہیں ہے، پھر اصل مسئلہ بیان کیا ہے اور فرمایا ہے کہ مشائخ فرماتے ہیں کہ مستعمل پانی جب پاک کرنے والے پانی کے ساتھ مل جائے تو اس میں غلبہ کا اعتبار ہوگا اگر پاک کرنے والا پانی زیادہ ہو تو سب پانی سے وضو جائز ہوگا ورنہ ناجائز ہوگا۔ اس کی تصریح زیلعی نے شرح کنز میں، علّامہ سراج الدین الہندی نے شرح ہدایہ میں اور محقق نے فتح القدیر میں کی ہے، اور فرمایا ہے کہ اُس صورت کو بھی شامل ہے کہ جب پانی خارجی طور پر استعمال کیا جائے پھر مستعمل پانی ڈالا جائے اور وہ پاک کرنے والے پانی سے مل جائے یا آدمی پاک کرنے والے پانی میں غوطہ کھائے یا اس سے وضو کرے اھ۔ (ت)
 (۱؎ الرسالۃ فی جواز الوضوء مع الاشباہ من رسائل ابن نجیم    ادارۃ القرآن کراچی    ۲/۸۱۹/۶)
Flag Counter