الرابع والعشرون: یمکن الجواب عن الاستناد الیٰ کلام البدائع بما (عـــہ۱) اوردہ فی البحر ولم یردّہ وان لم یردہ اذ نقل عن اسرار القاضی الامام الدبوسی ما تقدم ان محمدا یقول لما اغتسل فی الماء القلیل صار الکل مستعملا حکما ثم قال فھذہ العبارۃ کشفت اللبس واوضحت کل تخمین وحدس ۱؎ فانھا افادت ان مقتضی مذھب محمد ان الماء لایصیر مستعملا باختلاط القلیل من الماء المستعمل الا ان محمدا حکم بان الکل صار مستعملا حکما لاحقیقۃ فما فی البدائع محمول علی ان مقتضی مذھب محمد عدم الاستعمال الا انہ یقول بخلافہ ۲؎ اھ۔
چوبیسواں، صاحب بدائع کے کلام کی طرف جو منسوب ہے اس کا بیان صاحبِ بحر کے بیان سے ممکن ہے جس کو انہوں نے رَد نہیں کیا اگرچہ صاحب بحر نے یہ ارادہ نہیں کیونکہ انہوں نے قاضی امام دبّوسی کی اسرار سے نقل کیا ہے جو گزرا کہ امام محمد فرماتے ہیں تھوڑا پانی ہو اور اس میں کوئی غسل کرے تو کل حکما مستعمل ہوگا، تواس عبارت نے التباس کو ختم کردیا ہے، اس عبارت سے معلوم ہوا کہ محمد کے مذہب کا مقتضٰی یہ ہے کہ تھوڑے سے مستعمل پانی کے مل جانے سے پانی مستعمل نہ ہوگا، مگر محمد نے حکم کیا ہے کہ کل حکماً مستعمل ہوگا نہ کہ حقیقۃ، تو جو کچھ بدائع میں ہے وہ یہ ہے کہ محمد کے مذہب کا مقتضی یہ ہے کہ پانی مستعمل نہ ہوگا، مگر وہ کہتے اس کے خلاف ہیں اھ
(عـــہ ۱) ذکرہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی ضمن سؤال وعدل فی الجواب الی حمل الروایات المتواترۃ الظاھرۃ علی الضعیفۃ النادرۃ وغیر ذلک مما یأتیک الجواب عنہ ان شاء اللّٰہ اھ، منہ غفرلہ ۔(م)
انہوں نے اس کو سوال کے ضمن میں ذکر کیا ہے اور جواب میں روایت متواترہ ظاہرہ کو روایت ضعیفہ نادرہ وغیرہ پر محمول کرنے کی طرف عدول کیا ہے جس کا جواب ان شاء اللہ تعالٰی آپ کو دیا جائے گا اھ منہ غفرلہ (ت)
(۱؎ بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۱)
(۲؎ بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۲)
قال فی منحۃ الخالق یعنی ان صاحب البدائع نسب الی محمد عدم الاستعمال بناء علی مااقتضاہ مذھبہ من ان المستعمل لایفسد الماء مالم یغلبہ اویساوہ لکن محمد ا ما قال بذلک الذی اقتضاہ مذھبہ بل قال فی ھذہ الصورۃ انہ صار مستعملا حکما کما صرحت بہ عبارۃ الدبوسی ۱؎ اھ۔
منحۃ الخالق میں فرمایا یعنی صاحبِ بدائع نے محمد کی طرف عدمِ استعمال کی طرف منسوب کیا، جیسا کہ ان کے مذہب کا مقتضٰی ہے کہ مستعمل پانی، پانی کو فاسد نہ کرے گا تاوقتیکہ اس پر غالب ہوجائے، یا اس کے برابر ہوجائے، لیکن محمد نے یہ نہیں فرمایا ہے حالانکہ یہ اُن کے مذہب کا مقتضٰی ہے بلکہ اس صورت میں انہوں نے فرمایا کہ یہ حکماً مستعمل ہوگیا جیسا کہ دبّوسی کی عبارت سے صراحۃً معلوم ہوتا ہے۔
(۱؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۲)
میں کہتا ہوں استعمال کا ثبوت ملاقاۃ سے ہوتا ہے، اور حقیقۃ ملاقاۃ ان اجزاء سے ہوتی ہے اور حکم تمام پانی کے لئے ثابت ہوتا ہے کیونکہ شریعت میں قلیل شے واحد ہے، جیسا کہ ہم اس کی تحقیق اور نورانی طریقہ بیان کر آئے ہیں، کیونکہ حکم حقیقی طور پر منتفی ہے تو اس حکم کو ثابت کرنا اندازاً ہوگا۔
(عــہ ۱) ای الحسیۃ العرفیۃ اھ منہ غفرلہ (م)
یعنی حقیقۃ حسی عرفی۔ ت
الخامس والعشرون: محاولۃ العلامۃ رحمہ اللّٰہ تعالٰی رد جمیع تلک الفروع المتواترۃ الدائرۃ فی عامۃ کتب المذھب المنصوص علیھا عن جمیع ائمۃ المذھب المطبق علیھا سلف المذھب وخلفہ الی روایۃ نجاسۃ الماء المستعمل شیئ عجیب من مثلہ المحقق۔
پچیسواں ______ وہ تمام فروع جو تواتر کے ساتھ عام کتبِ مذہب میں مذکور ہیں اور ائمہ شراح نے ان کو ذکر کیا ہے، اور تمام ائمہ مذہب سے منصوص ہیں جن پر سلف مذہب اور خلف مذہب متفق ہیں ان سب کو انہوں نے مستعمل پانی کے نجس ہونے والی روایت کی طرف راجع کیا ہے، علامہ جیسے محقق سے یہ بات بعید ہے۔
فاقول: اولا کیف(۱) یسوغ ان ترد بھذہ الکثرۃ وتدور فی جمیع کتب المذھب وتتداولھا الائمۃ والشراح ولا ینبہ احد انھا تبتنی علی روایۃ ضعیفۃ متروکۃ بل یذکرونھا ویقرونھا ویفرعون علیھا وعند الحجاج والحاج یفزعون الیھا فرد جمیع ذلک بعید کل البعد۔
میں کہتا ہوں اوّلا یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ فروع اس کثرت سے تمام کتب مذہب میں ذکر کی جائیں اور ائمہ وشُرّاح ان کو قبول کریں اور کسی کو یہ خبر نہ ہو کہ یہ ضعیف ومتروک روایت پر مبنی ہیں، بلکہ وہ حضرات ان کو مسلسل ذکر کرتے چلے جائیں اور ان پر مزید تفریعات کرتے چلے جائیں اور مناظروں میں ان کو پیش کرتے رہیں تو ان سب کو روایت نجاست کی طرف لوٹانا سخت بعید ہے۔
وثانیا: ھو منصوص علیہ فی الروایۃ الظاھرۃ وما روایۃ التنجیس الانادرۃ روی ھذہ الحسن ونص علی ذلک محمد فی الاصل وثالثا: تظافرت علیہ التصحیحات کما قدمنا عن البحر عن الخبازی عن القدوری عن الجرجانی وعن الحلیۃ عن ابی الحسین عن ابی عبداللّٰہ وعن خزانۃ المفتین ومتن الملتقی وعن البحرانہ المذھب المختار فکیف یبتنی علی روایۃ متروکۃ،
اور ثانیاً یہ ظاہر روایت میں نص ہے اور تنجیس کی روایت نادرہ ہے، اس کو حسن نے روایت کیا، اصل میں محمد نے اس پر نص کی۔
اور ثالثاً اس پر پے درپے تصحیحات موجود ہیں جیسا کہ ہم نے بحر، خبازی، قدوری، جرجانی، حلیہ، ابی الحسین، ابی عبداللہ، خزانۃ المفتین، اور متن ملتقی کے حوالوں سے نقل کیا، اور بحر سے نقل کیا کہ یہی مذہب مختار ہے تو پھر یہ متروک روایت پر کس طرح مبنی ہوسکتا ہے۔
ورابعا: توافرت فیہ نقول الاتفاق علیہ وانہ مذھب اصحابنا جمیعا کما سبق عن النھایۃ والعنایۃ والھندیۃ ومجمع الانھر والدر المختار وغیرھا وعن البحر عن البدائع وعنہ عن العنایۃ والدرایۃ وغیرھا وعن الحلیۃ وعن البحر عن الخبازی کلاھما عن ابی الحسین عن الجرجانی وعن شیخکم المحقق انہ قولنا جمیعا فکیف یجوز رجعہ الی روایۃ متروکۃ،
اور رابعاً متفقہ نقول کثرت سے ہیں یہی ہمارے تمام اصحاب کا مذہب ہے جیسا کہ گزرا نہایہ، عنایہ، ہندیہ، مجمع الانہر، درمختار وغیرہ سے اور بحر نے بدائع، عنایہ ودرایہ اور حلیہ سے اور بحر وخبازی دونوں نے ابو الحسن، جرجانی اور شیخ محقق سے یہ تمام کا قول ہے تو متروکہ روایت کی طرف اس کو راجع کرنا کیسے جائز ہوسکتا ہے۔
وخامسا اکثروا من عزوہ لمحمد کمامر عن الفوائد الظھیریۃ عن شیخ الاسلام خواھر زادہ وابی بکر الرازی وشمس الائمۃ السرخسی وعن الزیلعی وشیخکم المحقق حیث اطلق وعن البحر عن الاسبیجابی والولوالجی وحیث حکم محمد بسقوط حکم الاستعمال عللوہ بالضرورۃ کما سلف عن البحروالنھر والفتح والتبیین والکافی والبرھان والحلیۃ والفوائد والصغری والخبازی والقدوری والجرجانی وشمس الائمۃ الحلوانے و عن البحر عن السرخسی عن نص محمد فی الاصل وعن البحر عن الدبوسی ان محمدا یقول صار الکل مستعملا حکما وقد قال (عہ۱) فی البحر ان ھذہ العبارۃ کشفت اللبس واوضحت کل تخمین وحدس ۱؎ ومعلوم ان محمدا لم یقل قط بالتنجیس فکیف تحمل علیہ وبہ (۱) ظھر الجواب عما اراد بہ البحر فی البحر والرسالۃ دفع الاستبعاد عن ھذا الحمل بان المحقق فی الفتح حمل فرعافی الخانیۃ علی نجاسۃ المستعمل وقال لایفتی بمثل ھذہ الفروع ۲؎ اھ۔
اور خامساً اکثر نے اس کو محمد کی طرف منسوب کیا ہے جیسا کہ فوائد ظہیریہ، شیخ الاسلام، خواہر زادہ، ابو بکر رازی، شمس الائمہ سرخسی، زیلعی اور تمہارے شیخ محقق، بحر، اسبیجابی، ولوالجی سے گزرا، اور جہاں محمد نے استعمال کا حکم ساقط ہونے کی بات کی اس کو انہوں نے ضرورت پر محمول کیا جیسا کہ بحر، نہر، فتح، تبیین، کافی، برہان، حلیہ، فوائد، صغری، خبازی، قدوری، جرجانی، شمس الائمہ حلوانی سے گزرا اور بحر سے سرخسی سے اصل میں امام محمد کی نص سے گزرا اور بحر سے دبوسی سے گزرا کہ محمد فرماتے ہیں کُل حکماً مستعمل ہوگا اور بحر میں فرمایا ہے کہ اس عبارت سے مشکل حل ہوگئی ہے، اور یہ معلوم ہے کہ محمد نے پانی کے نجس ہونے کا قطعاً قول نہیں کیا ہے تو اس کو اس پر کیسے محمول کیا جائے گا، اور اس سے بحر اور رسالہ کا جواب بھی ظاہر ہوگیا، انہوں نے اس حمل کو بعید گردانا تھا، اور کہا تھا کہ محقق نے فتح میں مستعمل پانی پر ایک فرع خانیہ کی اس پانی کی نجاست پر محمول کی ہے، اور کہا ہے کہ اس قسم کی فروع پر فتوی نہ دیا جائے اھ
(عـــہ۱) ای اوردہ علی نفسہ ولم یجب عنہ۔ منہ غفرلہ (م)
یعنی انہوں نے اسکو اپنے اوپر وارد کیا ہے اوراس کا جواب نہیں دیا۔ (ت(
(۱؎ بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۱)
(۲؎ بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۳)