Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
40 - 176
وذکرتم انہ الفقہ الخفی فھذا تصریح منکم بان المحدث الواقع فی البئر قد جاور جمیع الماءفیجب ان یصیر جمیعہ مستعملا وطاح القول بان المستعمل ما یلاقیہ وھو اقل من غیرہ وایضا ماء الطست وکثیر من الاجانات لایبلغ عشرین دلوا ولا عشرا وکف الانسان لیس باصغر من فأرۃ فاذا ادخل محدث یدہ فی اجانۃ وجب ان یصیر کلہ مستعملا ولا مساغ ھھنا للفرق بین النجاستین العینیۃ والحکمیۃ فان الجواریحصل بین الجسمین لذا تھما ولامدخل فیہ لوصف قام باحدھما حتی یختلف باختلافہ۔
اور تم نے ذکر کیا ہے کہ یہ فقہ حنفی ہے، یہ تمہاری طرف سے اس امر کی صراحت ہے کہ جو محدث کنویں میں گرتا ہے وہ تمام پانی کے مجاور ہوتا ہے تو لازم ہے کہ وہ تمام مستعمل ہو، اور یہ قول غلط ہوا کہ مستعمل وہ ہے جو اس سے ملا ہوا ہے اور وہ اس کے غیر سے اقل ہے اور طشت کا پانی اور بہت سے مٹکوں کا پانی بیس ڈول بلکہ دس ڈول کی مقدار تک نہیں ہوتا اور انسان کی ہتھیلی چوہیا سے چھوٹی نہیں ہوتی، تو جب محدث نے اپنا ہاتھ مٹکے میں ڈالا تو واجب ہے کہ اس کا کل مستعمل ہو، اور یہاں کوئی فرق نہیں دو نجاستوں کے درمیان عینیہ اور حکمیہ میں، کیونکہ جوار دو جسموں کی ذاتوں کو حاصل ہوتا ہے اور اس میں کسی ایسے وصف کو دخل نہیں جو ان میں سے کسی ایک کے ساتھ قائم ہوتا کہ اس کے اختلاف کی وجہ سے مختلف ہوجائے۔
فان قیل: حقیقۃ المجاورۃ لیست الالما اتصل بالجسم وانما سری الی عشرین فی الفأرۃ واربعین فی الھر والکل فی الادمی لان المیت تنفصل منہ بلات وتتفاوت بتفاوت الجثت قال ملک العلماء وجب تنجیس جمیع الماء اذا تفسخ شیئ من ھذہ الواقعات اوانتفخ لان عند ذلک تخرج البلۃ منھا لرخاوۃفیھا فتجاور جمیع اجزاء الماء وقبل ذلک لایجاور الاقدر ماذکرنا لصلابۃفیھا ۱؎ اھ۔ فالمراد بمجاورۃ عشرین واربعین والکل مجاورۃ البلۃ دون الجثۃ وانما لاقت الجثۃ مالاقت۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حقیقی مجاورۃ تو اسی چیز کیلئے ہے جو جسم سے متصل ہو، اور یہ بیس ڈول تک چوہیا میں سرایت کرتی ہے اور چالیس تک بلّی میں، اور کل پانی میں آدمی کے گرنے کی صورت میں کیونکہ میت سے تریاں جُدا ہوتی ہیں اور ان میں جُثّوں کے اعتبار سے فرق ہوتا ہے۔ ملک العلماء نے فرمایا کہ ان اشیاء میں سے اگر کوئی چیز پُھول جائے یا پھَٹ جائے تو کل پانی کا نجس قرار دینا ضروری ہے، کیونکہ اس صورت میں ان اشیاء سے تری خارج ہوگی کیونکہ ان میں نرمی ہے اور پانی کے تمام اجزاء سے متصل ہوجائے گی، اور اس سے قبل صرف اس مقدار کے متصل تھی جس کا ہم نے ذکر کیا کیونکہ اس صورت میں یہ اشیاء سخت تھیں اھ۔ تو بیس، چالیس یا کل کی مجاورۃ سے مراد تری کی مجاورۃ ہے نہ کہ جُثّہ کی، جُثّہ تو جس سے ملا ہے سو ملا ہے۔
 (۱؎ بدائع الصنائع    المقدار الذی یصیربہ المحل نجساً    سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۵)
اقول: فاذن ینتقض ماذکر تم فی وقوع محدث فی البئرعلی قول الامام بنجاسۃ الماء المستعمل لعدم بلۃ ھناک تنفصل والحق علی مایظھر للعبد الضعیف غفرلہ ان الماء ان کان شیئا واحدا متصلا حقیقۃ کما تزعمہ الفلاسفۃ فلا شک ان لقاء بعضہ لقاء کلہ بل لابعض ھناک لعدم التجزی بالفعل وان کان(۱) اجزاء متفرقۃ کما ھو عندنا ان تألف الاجسام من جواھر فردۃ تتجاور ولا تتلاصق لاستحالۃ اتصال جزئین۔
میں کہتا ہوں جو آپ نے کہا ہے اس پر یہ نقض وارد ہوتا ہے کہ اگر محدث کنویں میں گر جائے تو امام کے قول پر مستعمل پانی نجس ہوجائے گا کیونکہ وہاں کوئی تری موجود نہیں جو محدث سے الگ ہوئی ہو، اور جو حق مجھ پر ظاہر ہوا ہے وہ یہ ہے کہ پانی اگر متصل واحد ہے حقیقۃ جیسا کہ فلاسفہ کا خیال ہے تو اس میں شک نہیں کہ اس کے بعض سے ملاقاۃ کل سے ملاقات متصور ہوگی، بلکہ یہاں بعض کا تصوّر ہی نہیں کیونکہ بالفعل تجزی نہیں ہے اور اگر متفرق اجزاء ہوں جیسا کہ ہمارے نزدیک ہے کیونکہ ہمارے نزدیک اجسام جواہر منفردہ سے مرکب ہیں تو اس صورت میں اجزاء مجاور ہوں گے لیکن متصل نہیں ہونگے، کیونکہ دو اجزاء کا اتصال محال ہے۔
اقول وکل ماتجشمہ الفلاسفۃ وخدمہم من اقامۃ براھین ھندسیۃ وغیرھا علی استحالۃ الجزء وقد اوصلھا الشیرازی فی شرح الغوایۃ المسماۃ ھدایۃ الحکمۃ الے اثنی عشرو سماھا حججا انما تدل علی استحالۃ الاتصال دون امتناع نفس وجود الاجزاء ومبنی الھندسۃ علی توھم خطوط متصلۃ ولا حاجۃ لھا الی وجودھا عینا فضلا عن اتصالھا کالھیأۃ تبتنی علی توھم مناطق ومحاور واقطاب ودوائر وان لم یکن لہا وجود عینی بل اولی فان الہندسۃ تستغنی عن وجودھا بوجود المناشی ایضا فلا یرد علینا شیئ من ذلک وللّٰہ الحمد وقد(۲) اغفل ذلک کثیر من المتکلمین فاحتاروافی دفع شبہ المتفلسفین وباللّٰہ التوفیق ،
میں کہتا ہوں فلاسفہ نے جو تگ ودَو کی ہے کہ براہین ہندسیہ سے جزء کا اِبطال کیا ہے، اور شیرازی نے شرح الغوایہ جس کا نام "ہدایۃ الحکمۃ" ہے ایسے بارہ دلائل قائم کئے ہیں اور ان کا نام حجۃ رکھا ہے، اُن سے صرف اجزاء کا اتصال محال ثابت ہوتا ہے نفس جزء کا استحالہ ثابت نہیں ہوتا ہے اور ہندسہ کی بنیاد خطوط متصلہ کے تو ہم پر ہے، اور ان کا موجود ہونا خارج میں کچھ ضروری نہیں چہ جائیکہ ان کا اتصال، جیسے علم ھیأۃ کا دارومدار،مِنطقوں،مِحوروں، قطبوں اور دوائر کے تو ہم پر مبنی ہے اگرچہ ان کا خارجی وجود نہ ہو، بلکہ اس سے بھی اولیٰ ہے کیونکہ علمِ ہندسہ ان کے وجود سے ان کے منشاء کے وجود سے بھی مستغنی ہے، توان میں سے کوئی چیز ہم پر وارد نہیں ہوتی وللہ الحمد، اس سے بہت متکلمین غافل رہے اور متفلسفین کے اعتراضات کے رد میں حیران رہ گئے،
بل الجسم عہ ۱ عندنا اجزاء متفرقۃ حقیقۃ متصلۃ حساکماتری فی الھباء عند دخول الشمس من کوۃ بل وفی الدخان والبخار والغبار فح لااتصال حقیقۃ لشیئ من الماء بشیئ من البدن فلو اعتبرت الحقیقۃ لم یتنجس الماء بوقوع شیئ من الخبث فظھر ان الشرع المطھر قد اعتبر ھھنا الحس ولا شک ان کلہ فی الحس شیئ واحدکما ھوفی الحقیقۃ عند المتفلسفۃ ولیس ثم حاجز ینتھی الجوار الحسی بالبلوغ الیہ فوجب ان یکون علی ھذا ایضا لقاء بعضہ لقاء کلہ بل لابعض لعدم التجزی حسا اما الکثیر فجعلہ الشرع لایحتمل الخبث فلا یضرہ الجوار الحسی وبہ استقر(۱) عرش التحقیق علی ان الماء الکثیر لایتنجس شیئ منہ بوقوع النجاسۃ ولو مرئیۃ حتی ماحولھا مما یلیھا ھکذا ینبغی التحقیق واللّٰہ تعالٰی ولی التوفیق وھنا تم الکلام مع الامام الھمام، ملک العلماء الکرام، نفعنا اللّٰہ تعالٰی ببرکاتہ علی الدوام،فی دار السلام، امین۔
ہمارے نزدیک جسم اجزائے متفرقہ حقیقۃً متصلہ حِسّاً سے عبارت ہے جیسے کمرہ کے سوراخ سے روشنی کی کِرن جب اندر داخل ہوتی ہے تو اس میں ذرات نظر آتے ہیں، بلکہ دھوئیں، بخارات اور غبار میں بھی نظر آتے ہیں، لہٰذا پانی حقیقی طور پر بدن سے متصل نہیں ہے، تو اگر حقیقت کا اعتبار کیا جائے تو پانی کسی بھی گندی چیز کے گرنے سے نجس نہ ہو، پس معلوم ہوا کہ شریعت مطہرہ نے یہاں حِسّ کا اعتبار کیا ہے، اور اس میں شک نہیں کہ حِسّ کے نزدیک کل ایک چیز ہے جیسا کہ متفلسفہ کے نزدیک حقیقت یہی ہے اور وہاں کوئی ایسی روک بھی موجود نہیں جہاں پہنچ کر جوار حسی رک جائے تو اس بنا پر لازم ہوا کہ بعض کی ملاقات کل کی ملاقات قرار پائے، بلکہ وہاں بعض ہے ہی نہیں کیونکہ تجزّی نہیں ہے حِسّاً، اور رہا کثیر تو شرع نے فرمایا ہے کہ اس میں نجاسۃ اثر نہیں کرے گی تو اس کو جوار حسّی کچھ مضر نہ ہوگا، اس تحقیق عرش نشیں سے معلوم ہوا کہ کثیر پانی نجاسۃ کے گرنے سے نجس نہ ہوگا خواہ وہ نظر آنے والی ہو، یہاں تک کہ نجاست کا گردوپیش بھی نجس نہ ہوگا، اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے یہاں تک کہ امام ہمام ملک العلماء کے ساتھ گفتگو مکمل ہوئی، اللہ تعالٰی ان کی برکات سے ہم کو ہمیشہ جنت تک مستفید فرمائے۔ آمین
عہ۱:  تنبیہ فان قلت(۳) کیف یری الجسم والجزء لایری اقول اولا جرت السنۃفی بصر البشر ان شیئا بالغ النہایۃفی الدقۃ اذا کان منفردا لم یحط بہ البصر واذا اجتمع امثالھا وکثرت ظھرت کما اذا کان فی جلد ثورا بیض نقطۃ سوداء کرأس الابرۃ لاتحس وان کثرت امثالھا متجاورات ابصرت بل قدلا یری من البعد الا لونھا وھو السواد وھذا ظاھرفی الھباء فان فیہ ذرات قلائل تری کریۃ الشکل وعامتہ لایحس البصر اشکالھا بل لونا سحابیا ککواکب المجرۃ والنثرۃ ولو تفرد شیئ منھا ماامکن عادۃ ان یبصرو بتکاثرھا وتراکمھا تری کعمود بنیک وبین الکوۃ مثل السحاب بل السحاب نفسہ من ذلک فان البخار اجزاء متفرقۃ ولا تبصر واحد منھا وبتراکمھا تری سحبا کالجبال ولعل الوجہ فیہ ان المنفرد یقتضی خصوص النظر الیہ فاذا کان علی ھذا القدر من الدقۃ انطبق الخطان الشعاعیان الواصلان الیہ وانعدمت زاویۃ الرؤیۃ کما ھو السبب فی انتفاء زاویۃ اختلاف المنظر لما فوق الشمس فاتحد تقویماہ المرئی والحقیقی واذا کثرت وانبسطت وقعت بین ساقی مثلث ذی زاویۃ مبصرۃ فابصرت
تنبیہ اگر تو کہے کہ جسم کیسے دکھائی دیتا ہے جبکہ جزء تو نظر نہیں آتی اوّلاً میں کہتا ہوں کہ نگاہ انسانی فطری طور پر انتہائی باریک چیز کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے جبکہ وہ چیز منفرد ہو۔ لیکن اگر اس چیز کے ساتھ اس کی متعدد امثال مجتمع ہوں تو وہ ظاہر ہوجاتی ہے، جیسے سفید بیل کی جلد پر سُوئی کے سرے کے برابر سیاہ نقطہ دکھائی نہیں دیتا لیکن اگر متعدد سیاہ نقطے مجتمع ہوجائیں تو نظر آنے لگتے ہیں، بلکہ دُور سے تو محض ان کا سیاہ رنگ ہی دکھائی دیتا ہے۔ یہ بات غبار میں ظاہر ہے کیونکہ اس میں چھوٹے چھوٹے کروی الشکل ذرات ہوتے ہیں جن میں سے اکثر کی شکلوں کو آنکھ محسوس نہیں کرتی بلکہ بادلوں کی مانند ان کا رنگ دکھائی دیتا ہے جیسے کہکشاں اور بکھرے ہوئے ستارے، ان میں سے کوئی بھی اگر منفرد ہو تو عادتاً اس کا دکھائی دینا ناممکن ہے۔ البتہ کثرت واجتماعیت کی وجہ سے نظر آجاتے ہیں، جیسے تیرے اور روشندان کے درمیان روشنی کا ستون بادل کی مثل دکھائی دیتا ہے، بلکہ خود بادل بھی اسی قبیل سے ہے کیونکہ بخارات متفرق اجزاء ہوتے ہیں جن میں سے کوئی ایک دکھائی نہیں دیتا مگر مجتمع ہو کر پہاڑوں جیسے بادل نظر آتے ہیں، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ منفرد چیز خصوصی نظر کا تقاضا کرتی ہے جب وہ نہایت باریک ہو تو دونوں آنکھوں سے نکلنے والی شعاعیں اس تک پہنچ کر باہم منطبق ہوجاتی ہیں اور زاویہ نظر معدوم ہوجاتا ہے جیسا کہ مافوق الشمس اختلافِ منظر کے زاویہ کے منتفی ہونے کا یہی سبب ہے۔ پس اس کی حقیقی اور مرئی تقویمیں متحد ہوجاتی ہے اور جب یہ اجزاء کثیر اور پھیلے ہوئے ہوں تو بصری زاویہ والی مثلث کے دو خطوں کے درمیان واقع ہونے پر دکھائی دینے لگتے ہیں۔
وثانیا ھذا علی طریقتھم فان سلموا والا فانما اصلنا الایمانی ان الابصار وکل شیئ بارادۃ اللّٰہ تعالٰی وحدہ لاغیر فان شاء رأی الاعمی فی لیلۃ ظلماء عین نملۃ سوداء وان لم یشاء عمیت الزرقاءفی رابعۃ النھار عن جبل بالغ افق السماء فاذا اراد ان لاتری الاجزاء علی الانفراد واذا تجسمت اُبصرت یکون کما اراد اھ منہ حفظہ ربہ تبارک وتعالٰی (م)
ثانیاً مذکورہ بالا دلیل فلاسفہ کے مذہب کے مطابق ہے اگر مان لیں تو فبہا وگرنہ ہماری ایمانی دلیل یہ ہے کہ نگاہیں اور تمام چیزیں اللہ تبارک وتعالٰی کے ارادے کے تابع ہیں۔ اگر وہ چاہے تو ایک اندھا تاریک رات میں سیاہ چیونٹی کی آنکھ کو دیکھ سکتا ہے اور اگر وہ نہ چاہے تو دن کی روشنی میں فلک بوس پہاڑ سے نیلگوں آسمان کو بھی نہیں دیکھا جاسکتا چونکہ اس نے چاہا کہ اجزاء انفرادی طور پر نظر نہ آئیں اور جب وہ مجتمع ہوجائیں تو نظر آنے لگیں لہٰذا جیسا اس نے چاہا ویسا ہی واقع ہوا۔ (ت)
Flag Counter