تو میں کہوں گا ہمارے نزدیک مکلّف کے فعل کا کوئی دخل نہیں، موثر تو صرف یہ ہے کہ تھوڑا پانی شرعاً ایک شَے ہے خواہ وہ فرض کو ساقط کرے یا قربۃ ادا کرے اور یہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔
ورابعا وھو العشرون(۱) ماءفی طست اراد المحدث ان یغسل بہ یدہ فلہ فیہ وجھان ان یصبہ علی یدہ فیرد الماء علی الحدث اویدخل یدہ فی الطست فیرد الحدث علی الماء فان صبہ کلہ علی یدہ یصیر کلہ مستعملا قطعا باجماع اصحابنا وان کان یکفیہ بعضہ وقد اسرف لکن لامساغ لان یقال انما استعمل قدرما یکفیہ والفضل بقی علی طھوریتہ فکذا اذا ادخل یدہ فی کلہ وغسلہا ھناک وای فرق بینھما وباللّٰہ التوفیق۔
اور رابعاً اور یہی (بیسواں) ہے، اگر ایک طشت میں پانی ہے اور مُحدِث یہ چاہتا ہے کہ اس سے اپنا ہاتھ دھوئے، تو اس کے دو طریقے ہیں ایک تو یہ کہ اس کو ہاتھ پر بہائے تو پانی حَدَث پر واقع ہوگا اور یا یہ کہ ہاتھ کو طشت میں ڈال دے تو حَدَث پانی پر وارد ہوجائیگا تو اگر سب ہاتھ پر بہایا تو کل قطعا مستعمل ہوجائیگا، اس پر ہمارے اصحاب کا اجماع ہے اگرچہ اس کو بعض کفایت کرتا، اور اس نے اسراف کیا مگر یہ کہنے کا جواز نہیں کہ صرف اتنی مقدار مستعمل ہوئی جو اس کو کفایت کرتی اور باقیما ندہ اپنی طہوریۃ پر رہا تو اسی طرح جب اس نے اپنا ہاتھ سب پانی میں داخل کیا اور اس کو وہاں دھویا، اور ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ وباللہ التوفیق۔
وخامسا اقول: وباللّٰہ التوفیق وھو(۱) الحادی والعشرون: الاستعمال مبنیا للمفعول ای صیر ورۃ الماء مستعملا لایمکن ثبوتہ لا یلاقی بدن المحدث وھو سطح الماء الباطن لان الاستعمال انسلاب الطھوریۃ فلا یثبت الافیما کان طھورا کما ان الموت لایلحق الاما کان حیا ومعلوم ان الطھوریہ صفۃ جرم الماء
قال اللّٰہ عزوجل وانزلنا من السماء ماء طھورا ۱؎ وقال تبارک وتعالی وینزل علیکم من السماء ماء لیطھر کم ۲؎
بہ لاصفۃ احدا اطرافہ التی لاوجود لھا الا بالانتزاع علی فرض اتصال الاجسام ولافی الغسل صفۃ طرف لایتجزی لانہ اسالۃ ولا اسالۃ الا بالجسم والا ففیم یمتاز عن المسح ،
اور خامسا میں کہتا ہوں، وباللہ التوفیق ، اور یہ (اکیسواں) ہے، استعمال مبنی للمفعول ہے یعنی پانی کے مستعمل ہونے کا ثبوت ممکن نہیں ہے اس چیز کیلئے جو بدن محدث کو ملاقی ہو اور وُہ باطنی پانی کی سطح ہے اس لئے کہ استعمال کے بعد طہوریت کا سلب ہوجانا ہے تو یہ اسی چیز میں ثابت ہوگا جو طہور ہو، جیسے موت اُسی چیز پر طاری ہوتی ہے جو زندہ ہو اور یہ معلوم ہے کہ طہوریت پانی کے جسم کی صفت ہے، اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے وانزلنا من السماء ماء طھورا (ہم نے آسمان سے پاک پانی برسایا) نیز فرمایا وینزل علیکم من السماء ماءً لیطھرکم بہ (وہ آسمان سے تم پر پانی برساتا ہے تاکہ تم کو اسی سے پاک کرے) یہ اس کی کسی طرف کی صفت نہیں ہے جس کا وجود محض انتزاعی ہے جبکہ اجسام کا اتصال فرض کیا جائے، اور نہ ہی غسل میں کسی طرف کی صفت ہے جس میں تجزی نہ ہو، اس لئے کہ غسل کا معنی بہانا ہے اور بہانا جسم پر ہی ہوگا ورنہ غسل مسح سے کیونکر ممتاز ہوگا؟
(۱؎ القرآن ۲۵/۴۸)
(۲؎ القرآن ۸/۱۱)
وبعبارۃ اخری ھل استعمال الماء عدم صلوحہ للتوضی بہ ام سقوط الصلوح بعد ثبوتہ علی الاول کان الملاقی مستعملا قبل ان یلاقی لان السطح لایمکن التوضی بہ وعلی الثانی لایصیر الملاقی مستعملا ابدا لانہ لم یکن صالحا لہ قط ،
اور بالفاظِ دیگر، آیا پانی کے مستعمل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اس میں اس بات کی صلاحیت ہی نہیں ہے کہ اس سے وضو کیا جاسکے؟ یا صلاحیت ثابت ہونے کے بعد ساقط ہوئی؟ پہلی صورت میں ملاقی مستعمل ہوگا قبل اس کے کہ ملاقات کرے کیونکہ سطح سے وضو ممکن نہیں اور دوسری تقدیر پر مُلاقی کبھی مستعمل نہ ہوگا کیونکہ اس میں اس کی صلاحیت کبھی نہ تھی،
وبہ ظھر وللّٰہ الحمد ان(۱)فی مسائل انغماس المحدث والفروع الکثیرۃ الناطقۃ بصیر ورۃ الماء مستعملا بدخول بعض عضو المحدث من دون ضرورۃ صرف الکل الی معنی ان القدر الملاقی للبدن یصیر مستعملا لابقیۃ ماء البئر او الزیر،(الغدیر) کما فعلہ فی الحلیۃ محتجا بما وقع فی البدائع وتبعہ البحرفی البحر صرف ضائع لامساغ لہ اصلا وفیہ ابطال(۲) صرائح النصوص الدائرۃ السائرۃفی الروایات الظاھرۃ عن جمیع ائمۃ المذھب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم حیث حکموا بالاستعمال وحصل بالصرف ان لااستعمال فان صح تاویل الاثبات بالنفی والنقیض بالنقیض صح ھذا(۳)
اور اس سے معلوم ہوا کہ مُحدث کا غوطہ لگانا، اور بہت سی فروع جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر ضرورت محدث کے کسی بھی عضو کے پانی میں داخل ہوجانے سے پانی مستعمل ہوجاتا ہے بغیر اس معنی کی طرف پھیرنے کی ضرورت کے کہ جس قدر پانی بدن سے ملا ہے وہ مستعمل ہوگا نہ کہ کنویں کا باقی پانی یا تالاب کا باقی پانی، جیسا کہ حلیہ میں کیا ہے، انہوں نے بدائع کی عبارت سے استدلال کیا ہے، اور محقق نے بحر میں اس کی متابعت کی ہے۔ مگر اس کا کوئی جواز نہیں، اور اس میں صریح نصوص جو تمام ائمہ مذہب سے ظواہر روایت میں ہیں، کا اِبطال ہے کہ ان سب نے استعمال کا حکم لگایا ہے اور یہ معنی کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانی مستعمل نہیں، اگر اثبات کی تاویل نفی سے اور نقیض کی نقیض سے ہوسکتی ہے تو یہ بھی صحیح ہے،
ورحم اللّٰہ البحر حیث صدر منہ فی البحر الاعتراف بالحق ان ھذا التاویل لیس بتاویل بل تبدیل للحکم وتحویل حیث عبر عنہ تحت جحط بقولہ ان ماء البئر لایصیر مستعملا مطلقا ۱؎ ۔۔۔الخ۔ فھذا ھو معنی ذلک التاویل حقیقۃ ولا مساغ لما انصرف الیہ ان المستعمل ماتساقط عن الاعضاء وھو مغلوب فان ما تساقط لم یلاق ایضا انما الملاقی سطح وھو لایقبل الاستعمال۔
علامہ محقق نے بحر میں منصفانہ بات کہی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ تاویل نہیں بلکہ حکم کی تبدیلی ہے، کیونکہ
جحط کے تحت انہوں نے فرمایا کہ ''کنویں کا پانی مستعمل نہ ہوگا مطلقا۔۔۔ الخ'' یہ ہیں اُس تاویل کے حقیقی معنی، اور جو انہوں نے فرمایا ہے اس کا کوئی جواز نہیں۔ وہ فرماتے ہیں مستعمل وہ ہے جو اعضاء سے گرا اور وہ مغلوب تھا کیونکہ جو گرا اس کی ملاقات نہ ہوئی تھی ملاقی تو صرف سطح ہے اور وہ استعمال کو قبول نہیں کرتی ہے۔
وسادسا: وھو(۱) الثانی والعشرون: ماذکر قدس سرہ علی مذھب الامام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ومن وجوب نزح الماء کلہ یھدم اساس الفرق بین النجاسۃ العینیۃ والحدث اذلیس فی بدن المحدث مایختلط بالطاھر علی وجہ لایمکن التمییز وانما یتنجس مایلاقی وقد قصرتموہ علی مااتصل ببدنہ فکان یجب ان لایتنجس الا ھو واختلاط ماجاورہ من الماء بسائرہ یدفعہ ماذکرتم فی الفرق بین الفأر والھر ولایسری لما افدتم من ان النجس ھو جار النجس لاجار الجار لکن الامام اوجب نزح الکل فوجب القول بان الملاقی کل الماء واذن کما یتنجس کلہ عند الامام فیما یروی عنہ کذلک تنسلب الطھوریۃ عن کلہ علی مذھبہ المعتمد المفتی بہ لحصول السبب فی الکل،
اور سادساً (اور وہ بائیسواں ہے) جو قدس سرہ نے مذہب امام پر ذکر کیا ہے کہ کل پانی نکالا جائے گا وہ نجاست عینیہ اور حَدَث کے فرق کی اساس کو منہدم کرتا ہے کہ بدن محدث میں کوئی ایسی چیز نہیں جو طاہر سے اس طور پر مل جائے کہ تمیز ممکن نہ ہو، اور نجس صرف وہ ہوتا ہے جو اُس سے ملاقی ہو اور تم نے اس کو صرف اُس پر منحصر رکھا ہے جو اُس کے بدن سے ملتا ہے تو چاہئے کہ صرف وہی نجس ہو اور اس پانی کا اختلاط جو باقی بدن سے لگا ہے اس کو وہ فرق دفع کرتا ہے جو تم نے بلّی اور چُوہے میں بیان کیا ہے، اور وہ سرایت نہ کرے گا، کیونکہ آپ نے کہا ہے کہ نجس وہ ہے جو نجس کا پڑوسی ہے نہ کہ پڑوسی کا پڑوسی، لیکن امام نے کل پانی کے نکالنے جانے کو ضروری قرار دیا ہے تو یہ قول لازم ہوا کہ ملاقی کل پانی ہے، اور اس صورت میں جیسے کل پانی امام کے نزدیک نجس ہوتا ہے جیسا کہ اُن سے مروی ہے اسی طرح طہوریۃ کل پانی سے سلب ہوجائے گی جیسا کہ اُن کا مذہبِ معتمد مفتی بہ ہے کیونکہ سبب کل میں موجود ہے،
وبعبارۃ اخری کما قال قدس سرہ علی روایۃ الحسن الفرق بین المحدث والجنب کذلک نقول ھنا ان بوقوع المحدث فی البئر ھل ثبت اللقاء للماء کلہ اولا علی الثانی لم وجب نزح الجمیع فقد افدتم ان الجوار لایتعدی وعلی الاول حصل المقصود وبالجملۃ ھنا شیئاٰن السبب والحکم اما السبب فمتفق علیہ وھو اللقاء وانما الخلف فی الحکم انہ التنجس اوانسلاب الطھوریۃ فان اقتصر السبب علی مااتصل وجب قصر الحکم علیہ ای حکم کان وان شمل احد الحکمین جمیع الماء ثبت ثبوت السبب فی الکل فوجب شمول الحکمین للکل وباللّٰہ التوفیق۔
اور بالفاظِ دیگر جیسا کہ قدس سرہ نے فرمایا حسن کی روایت کے مطابق فرق محدث اور جنب کے درمیان میں۔ اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ محدث کے کنویں میں گرنے سے کیا کل پانی سے لِقاء ثابت ہوگی یا نہیں؟ اور بر تقدیر ثانی کنویں کا کل پانی نکالنا کیوں لازم ہوا کیونکہ آپ نے کہا ہے کہ جواز متعدی نہیں ہوتا ہے اور پہلی تقدیر پر مقصود حاصل ہوگیا۔ اور خلاصہ یہ کہ یہاں دو چیزیں ہیں، سبب اور حکم۔ سبب تو متفق علیہ ہے اور وہ ملاقاۃ ہے اور اختلاف صرف حکم میں ہے اور وہ ناپاک ہونا ہے یا طہوریت کا سلب ہونا ہے، اگر سبب متصل پر موقوف ہو تو حکم کا بھی اس پر مقصود کرنا واجب ہوگا، جو بھی حکم ہو، اور اگر ایک حکم تمام پانی کو شامل ہو تو سبب کل میں ہونا ثابت ہوجائے گا تو دونوں حکموں کا کل کو شامل ہونا لازم ہوگا، وباللہ التوفیق۔
سابعاً (اور وہ تئیسواں ہے) آپ نے کہا ہے کہ چُوہیا سے متصل بیس ڈول پانی ہوتا ہے کیونکہ اس کا جسم چھوٹا ہے اور مُرغی اور بلّی میں ان کی ضخامت کی وجہ سے زائد پانی متصل ہوتا ہے اور آدمی اپنے جُثّہ کے بڑے ہونے کی وجہ سے کل پانی کے متصل ہوتا ہے اھ