Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
38 - 176
وما احسن ماقال المحقق رحمہ اللہ تعالی فی فتح القدیرفی مسائل البئر من الطریق ان یکون الانسان فی ید النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم واصحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کالاعمٰی فی یدالقائد ۱؎ اھ۔ نسأل اللّٰہ تعالٰی حسن التوفیق اٰمین۔
اور محقق نے فتح القدیر میں خوب فرمایا کنویں کے مسئلہ میں، صحیح راستہ یہ ہے کہ انسان حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے ہاتھ میں اس طرح ہاتھ دے دے جیسے اندھا اپنے قائد کے ہاتھ میں ہاتھ دیتا ہے، ہم اللہ تعالٰی سے احسن توفیق کے سائل ہیں۔
 (۱؎ فتح القدیر    فصل فی البئر        نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۸۶)
وثانیا: وھو الثامن (۲) عشر لیس مذھبنا ان النجس اذا وقع فی الماء القلیل لم ینجس منہ الاما اتصل بہ عینا والباقی باق علی طھارتہ وانما یمتنع استعمالہ مخافۃ استعمال النجس لاختلاطہ بہ بحیث لایمکن التمییز بل المذھب قطعا شیوع النجاسۃفینجس الکل وحینئذ۔
اور ثانیا (اور یہی اٹھارھواں ہے) ہمارا مذہب یہ نہیں ہے کہ جب نجاست تھوڑے پانی میں گر جائے تو صرف وہی پانی ناپاک ہوگا جو اس سے متصل ہے اور باقی پاک رہے گا اور اس کا استعمال اس لئے ممنوع ہوگا کہ کہیں اس میں ناپاک مل کر نہ آجائے اور پتا نہ چل سکے، بلکہ قطعی مذہب یہ ہے کہ نجاست تمام کو شامل ہوگی۔
اقول ماذا یشیع(۳) من النجاسۃ عینہا ام حکمہا ای یکتسب الماء بمجاورتہا حکمھا الاول باطل قطعا لما علمت من انجاس لاتختلط وایضا قطرۃ من بول مثلا کیف تمتزج بغدیر کبیر غیر کبیر فان قسمۃ الاجسام متناھیۃ عندنافیستحیل ان یکون فی الصغیر مایساوی عدۃ حصص الکبیر وللثانی وجھان الانتقال التدریجی ای یکتسب الحکم مایلیھا من الماء من کل جانب ثم الاجزاء التی تلی ھذہ المیاہ تکتسب من ھذہ ثم وثم الی ان ینتھی الی جمیع الماء مالم یبلغ حد الکثرۃ ام الثبوت الدفعی بان ینجس الکل بوقوع النجس معامن دون توسیط وسائط الاول باطل لانا نعلم قطعا ان بوقوع قطرۃ من بول مثلافی ھذا الطرف من غدیر طولہ مائۃ ذراع وعرضہ ذراع الانصف اصبع وعمقہ الف ذراع یتنجس الطرف الاخر واخر القعرمعالاان الشرع یحکم بتأخر تنجس ذلک الطرف بزمان صالح لانتقال الحکم شیئا فشیئا فاذن ثبت ثبوت الحکم للکل معااصالۃ بدون توسط ،
اور اس صورت میں میں کہتا ہوں کہ نجاسۃ کے عموم سے کیا مراد ہے کیا عین نجاست عام ہوگی یا اس کا حکم عام ہوگا؟ یعنی قریبی پانی پر بھی اس کا حکم لاگو ہوگا، پہلی صورت تو قطعاً باطل ہے کیونکہ معلوم ہوچکا ہے کہ نجاستوں میں اختلاط نہیں پایا جاتا ہےمثلا پیشاب کا ایک قطرہ تالاب سے کیسے مختلط ہوگا، کیونکہ ہمارے نزدیک اجسام کی تقسیم متناہی ہے، تو یہ امر محال ہے کہ چھوٹی چیز بڑی چیز کے متعدد حصّوں سے مل جائے اور دُوسری شق میں بھی دو صورتیں ہیں، ایک تو تدریجی انتقال ہے، یعنی جو پانی نجاست کے متصل ہے وہ حکم کو حاصل کرلے ہر طرف سے، پھر اس سے متصل پانی کے دوسرے اجزأ ان سے حکم کو حاصل کرلیں اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے جب تک کہ یہ حکم تمام پانی کو عام نہ ہوجائے، جب تک حدِ کثرت کو پانی نہ پہنچے یا انتقال دفعۃً اور یکدم ہو کہ نجاست گرتے ہی سارا پانی ناپاک ہوجائے اور درمیان میں کوئی واسطہ نہ آئے، پہلا باطل ہے کیونکہ ہم قطعی طور پر جانتے ہیں کہ اگر پیشاب کا ایک قطرہ ایسے حوض میں گرجائے جس کی لمبائی سَو ہاتھ ہے اور چوڑائی ایک ہاتھ سے ایک انگلی کم اور گہرائی ایک ہزار ہاتھ ہے اب جس کنارے میں وہ قطرہ گرا ہے وہ قطعاً ناپاک ہے اور دوسرا کنارہ بھی ناپاک ہے اور گہرائی کا آخری حصہ تک ناپاک ہے اور یہ سب بیک وقت ہوگا یہ نہیں کہ شریعت دوسرے کنارے کی ناپاکی کا حکم قدرے تاخیر سے دے گی کہ آہستہ آہستہ حکم اس کی طرف منتقل ہو، اس سے معلوم ہوا کہ حکم اصالۃً تمام پانی کیلئے بیک وقت بلا توسط کے منتقل ہوگا،
ومعلوم من الشرع ان الماء لاینجسہ الاملاقاۃ النجس وقد افدتم انتم ھھنا ان ملاقاۃ النجس الطاھر توجب تنجیس الطاھر وان لم یغلب علی الطاھر فوجب ان الملاقاۃ حصلت لکل الماء دفعۃ لابالوسائط ومعلوم قطعا ان اللقاء الحسی اٰن الوقوع لیس الا لجزء خفیف والامر اظھرفی نحو الشعرۃ المذکورۃ فثبت انھا حین وقعت لاقت جمیع اجزاء الماء القلیل والا لما تنجس الکل معالعدم السبب فظھر وللّٰہ الحمد ان الماء القلیل فی نظرالشرع کشیئ واحد بسیط وان ملاقاۃ جزء منہ ملاقاۃ للکل فثبت(۱) ان المحدث اذا ادخل یدہ مثلافی الغدیر الغیر الکبیر فبمجرد الادخال لاقاھا الماء کلہ فصار جمیعہ مستعملا والحمد للّٰہ علی حسن التفھیم وتواتر الائہ
اور یہ بات معلوم ہے کہ شریعت پانی کو اس وقت تک نجس قرار نہیں دیتی ہے جب تک کہ نجاست اس کی طرف منتقل نہ ہو اور آپ نے یہاں فرمایا ہے کہ نجس کا پاک سے ملنا پاک کو نجس کردیتا ہے خواہ وہ پاک پر غالب نہ ہوا ہو، تو معلوم ہوا کہ ملاقاۃ تمام پانی سے دفعۃً بلا واسطوں کے ہوئی ہے، اور یہ قطعی معلوم ہے کہ یہ حسی لقاء محض ایک خفیف جزء سے ہے، یہ چیز بال کی مثال سے واضح ہے جو گزر چکی ہے، اس سے ثابت ہوا کہ جب وہ نجاست گِری تو کم پانی کے تمام اجزأ سے ملی، ورنہ تو تمام پانی بیک وقت ناپاک نہ ہوتا کیونکہ اس کا سبب موجود نہیں، اس سے ثابت ہوا کہ تھوڑا پانی شارع کی نگاہ میں شیئ واحد ہے اور بسیط ہے اور اس کے ایک جزء کی اس سے ملاقاۃ کُل سے ملاقاۃ ہے تو ثابت ہوا کہ مُحدِث جب اپنا ہاتھ مثلاً چھوٹے تالاب میں ڈالے تو ہاتھ ڈالتے ہی کُل پانی اُس سے مل گیا تو سب مستعمل ہوگیا،
وبالجملۃ لوکان اللقاء یقتصر علی مااتصل بہ حقیقۃ لم یتنجس بوقوع الشعرۃ الاقطیرات تحیطھا لان سبب التنجیس لیس الاملاقاۃ النجس وھی مقصورۃ علی تلک القطیرات لکنہ باطل قطعا فعلم ان الکل ملاق وانہ لامساغ لان یقال ان غیر الملاقی اکثر من الملاقی وللّٰہ الحمد دائم الباقی والصّلٰوۃ والسلام علی المولی الکریم الواقی، واٰلہ وصحبہ اجمعین الی یوم التلاقی۔
اور خلاصہ یہ کہ اگر ملاقاۃ صرف اسی حد تک ہوتی جس سے پانی حقیقۃً ملا ہے تو بال گرنے سے صرف چند قطرات ہی نجس ہوتے جو بال کے گردا گرد ہوتے کیونکہ ناپاکی کا سبب نجس سے ملاقاۃ ہے جو اِن چند قطروں تک محدود ہے، مگر یہ چیز قطعاًباطل ہے، تو معلوم ہوا کہ سارے کا سارا مُلاقی ہے اور اس کے سوا چارہ کار نہیں کہ یہ کہا جائے کہ غیر مُلاقی، ملاقی سے زیادہ ہے۔ (ت)
ثالثا وھو التاسع(۲) عشر قصر الحکم علی الملاقی یحیل الاستعمال، ویسلکہ فی سلک المحال، وذلک لان الاجسام لاتتلاقی الابالسطوح لاستحالۃ تداخل الاجسام وانی یقع السطح من الجسم فماء الوضوء والغسل یجب ان یبقی طھور الان الذی لاقی منہ بدن المحدث سطح والباقی جسم فلا یسلبہ الطھوریۃ لان المستعمل اقل بکثیرۃ من غیرہ۔
ثالثا، یہی (انیسواں) ہے حکم کا محض ملاقی تک محدود رکھنا استعمال کو محال کرنا ہے کیونکہ اجسام کی ملاقاۃ صرف سطوح سے ہوتی ہے، کیونکہ اجسام میں تداخل محال ہے اور سطح کو جسم سے کتنی نسبت ہے؟ تو وضو اور غسل کا پانی واجب ہے کہ طہور ہے کیونکہ پانی کے جس حصّے کو مُحدِث کا بدن ملا ہے وہ فقط سطح ہے اور باقی جسم ہے تو وہ اس کی طہوریۃ کو سلب نہ کرے گا، کیونکہ مستعمل، اپنے غیر سے بہت کم ہے۔
فان قلت: نعم ھو الحقیقۃ ولکن الشرع المطھر اعتبر کل الجسم المصبوب علی بدن المحدث مستعملا لانہ شیئ واحد متصل۔
اگر کہا جائے کہ حقیقۃ تو ایسا ہی ہے لیکن شریعت نے کل پانی کو جو مُحدِث کے جسم پر بہا گیا ہے مستعمل قرار دیا ہے کیونکہ وہ شیئ واحد ہے اور متصل ہے۔
قلت: فکذا کل ماء قلیل شیئ واحد حکما شرعیا متصل حسا عادیا ولم یکن ذلک فی المصبوب للصب بل لقلتہ الا تری ان ماء الغدیر یتنجس کلہ معا بوقوع قطرۃ من نجس وما ھو الا لانہ شیئ واحد لقاء جزء منہ لقاء الکل کما بینا فبا دخال المحدث یدہ فی الاناء لاقاھا کل مافی الاناء لاالسطح المتصل بھا فقط وفیہ المقصود فان قلت المؤثر الاستعمال وھوبالصب یعد مستعملا لکل المصبوب فیصیر کلہ مستعملا۔
میں کہتا ہوں اسی طرح ہر تھوڑا پانی حکم شرعی کے اعتبار سے شیئ واحد ہے اور حسّی اعتبار سے متصل ہے اور یہ چیز بہائے پانی میں بہانے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس کی قلت کی وجہ سے ہے، اس لئے تالاب کا کل پانی بیک وقت ناپاک ہوجاتا ہے جبکہ اس میں نجاست کا کوئی قطرہ گر جائے، اور یہ اسی لئے ہے کہ وہ شَے واحد کی طرح ہے، اُس کے ایک جُزء سے ملاقات کل سے ملاقات ہے، جیسا کہ ہم نے بیان کیا تو جب مُحدِث نے اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا تو برتن میں جو کچھ تھا اُس سے ہاتھ کی ملاقات ہوگئی، یہ نہیں کہ صرف اس کی متصل سطح سے ملاقات ہوئی اور اسی میں مقصود ہے، اگر کہا جائے کہ استعمال میں مؤثر بہانا ہے تو کل بہایا ہوا مستعمل شمار ہوگا تو کل مستعمل ہوگا۔
Flag Counter