Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
37 - 176
السادس عشر: الروایۃ(۱)الصحیحۃ المعتمدۃفی مسألۃ جحط رابعۃ لم تشملھا الحروف وھی طم ای ان الرجل طاھر زال حدثہ والماء طاھر غیر طھور قال فی الھدایۃ والکافی والتبیین والسراج وغیرھا انھا اوفق الروایات ۱؎ وفی الدر انہ الاصح ۲؎
سولھواں: صحیح روایت اور معتمد روایت مسئلہ جحط میں چوتھی ہے اس کو حروف شامل نہیں اور وہ طم ہیں یعنی انسان پاک ہے اس کا حدث زائل ہوگیا ہے اور پانی پاک توہے مگر طہور (پاک کرنے والا) نہیں ہے، ہدایہ، کافی، تبیین اور سراج وغیرہا میں ہے کہ یہ تمام روایتوں میں سب سے زیادہ جامع ہے، اور دُر میں اسی کو اَصَحّ کہا،
 (۱؎ شلبی علی    تبیین الحقائق    کتاب الطہارۃ    الامیریہ ببولاق مصر    ۱/۲۵)

(۲؎ دُرمختار    باب میاہ        مجتبائی دہلی                ۱/۷)
وفی الفتح وشرح المجمع انھا الروایۃ المصححۃ ۳؎ وفی البحر انہ المذھب المختار وانہ الحکم علی الصحیح ۴؎ فانقطعت الشبھۃ رأسا واستقر بحمداللہ عرش التحقیق علی ان الاستعمال یشیع فی الماء القلیل سریان النجاسۃ۔
اور فتح اور شرح مجمع میں کہا کہ یہی مصححہ روایت ہے اور بحر میں اسی کو مذہب مختار قرار دیا ہے اور یہ کہ صحیح قول کے مطابق حکم یہی ہے تو شبہ بالکل منقطع ہوگیا اور یہ امر محقق ہوگیا کہ مستعمل ہونا تھوڑے پانی میں اسی طرح سرایت کرتا ہے جس طرح نجاست سرایت کرتی ہے۔
 (۳ ؎ بحرا لرائق کتاب الطھارۃ سعید کمپنی کراچی ۱/۹۷)

(۴؎ بحرا لرائق کتاب الطھارۃ سعید کمپنی کراچی               ۱/۹۸)
السابع عشر: فرق قدس سرہ فی الحدث والنجاسۃ  حیث تشیع ولا یشیع بان النجس یختلط بالطاھر علی وجہ لایمکن التمییز بینھمافیحکم بنجاسۃ الکل۔
سترھواں: قدس سرہ نے حَدَث اور نجاسۃ میں فرق کیا ہے کہ نجاست سرایت کرتی ہے اور حدث سرایت نہیں کرتا ہے کیونکہ نجس پاک چیز کے ساتھ اس طرح مل جاتا ہے کہ دونوں میں امتیاز نہیں ہوسکتا ہے تو کل پر نجاست کا حکم ہوگا۔
اقول: اولا(۱) الوجہ قاصر عن المدعی فرب نجس لایختلط ورب نجس یختلط ویمکن التمییز فلم یسری الحکم الی جمیع الماء القلیل ارأیتم لووقع فی الغدیر شعرۃ من خنزیر افلا یتنجس الا القدر الذی لاقاھا اذلا شیئ ھناک یختلط فلا یمکن التمییز ھذا لایقول بہ احد منا فان قلت تنجس بھا ماولیھا وھو مختلط بسائر الاجزاء بحیث لایمکن التمییز اقول فصبغ نجس القی فی غدیر یلزم ان لاینجس الاماینصبغ بہ لحصول التمییز باللون فان قلت مالم ینصبغ جاور المنصبغ فسری الحکم الی الکل۔
میں کہتا ہوں اول وجہ مدعی سے قاصر ہے کہ بہت سے نجس مختلط نہیں ہوتے اور بہت سے نجس مختلط ہوتے ہیں اور ممتاز رہتے ہیں تو حکم قلیل پانی میں مکمل طور پر نہ ہوگا مثلاً تالاب میں خنزیر کا ایک بال گرجائے تو کیا صرف وہی نجس ہوگا جو بال سے متصل ہوا ہو کہ اس میں کوئی چیز مختلط ہونے والی نہیں پائی جاتی ہے لہٰذا امتیاز نہیں ہوسکتا ہے، یہ قول ہم سے کسی کا نہیں، اگر یہ کہا جائے کہ اس سے وہ پانی نجس ہوگا جو اُس سے متصل ہے اور وہ تمام اجزاء سے ملا ہوا ہے کہ تمیز ممکن نہیں ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ تھوڑی سی نجس قے کا تالاب میں مل جانا اس امر کو مستلزم ہے کہ صرف اتنا پانی ہی نجس ہو جو اس میں ملا ہو کیونکہ یہاں رنگ کی وجہ سے امتیاز حاصل ہوجائیگا۔ اگر کہا جائے کہ جو پانی قے سے آلود ہوگیا وہ اُس پانی سے مل جائے گا جو آلودہ نہیں ہوا ہے اس طرح کل پانی نجس ہوگیا۔
اقول : ھذہ طریقۃ اخری غیر ماسلک الامام ملک العلماء من ان الحکم بنجاسۃ الکل لعدم التمییز لاللسریان بالجوار وسیأتیک الرد علیھافی المائع وقد انکرھافی البدائع بقولہ قدس سرہ الشرع ورد بتنجیس جار  النجس لابتنجیس جارجار النجس الا تری (۲) ان النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم حکم بطھارۃماجاور السمن الذی جاور الفأرۃ وحکم بنجاسۃ ماجاور الفارۃ وھذا لان جار جارالنجس لوحکم بنجاسۃ لحکم ایضا بنجاسۃ ماجاور جار جار النجس الی مالانھایۃ لہ فیودی الی ان قطرۃ من بول اوفأرۃ لووقعت فی بحر عظیم ان یتنجس جمیع مائہ لاتصال بین اجزائہ وذلک فاسد ۱؎ اھ۔
میں کہتا ہوں یہ ملک العلماء کے راستے کے علاوہ ایک اور راستہ ہے، اور وہ یہ ہے کہ کل پانی کی نجاست کا حکم عدمِ تمییز کی بناء پر ہے اس لئے نہیں کہ متصل پانی میں اس نے سرایت کی ہے، اس کی تردید آپ مائع کے بیان میں پڑھ لیں گے، اور بدائع میں اس کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ شریعت نے ناپاک کے متصل کے ناپاک ہونے کا حکم دیا ہے یہ نہیں کہ متصل کے متصل کی ناپاکی کا حکم دیا ہے مثلاً یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس پانی کے پاک  ہونے کا حکم دیا جو اس گھی سے متصل ہے جو چُوہے سے متصل ہے اور جو گھی چُوہے کے متصل ہے وہ ناپاک ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ نجس کے متصل کا متصل اگر اس پر نجاسۃ کا حکم لگایا جائے تو جو متصل کے متصل کے ساتھ متصل ہوگا اس پر بھی نجاست کا حکم لگایا جائے گا اور یہ سلسلہ لامتنا ہی چلے گا، اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اگر پیشاب کا ایک قطرہ یا چُوہیا بڑے سمندر میں گرجائے تو تمام کا تمام پانی ناپاک ہوجائے گا کیونکہ پانی کے تمام اجزاء ایک دوسرے سے متصل ہیں،ا ور یہ غلط ہے اھ۔
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل اما بیان المقدار الذی یصیربہ المحل نجساً    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۵)
وقد کان سنح لی فی الرد علی ھذا ثلثۃ اوجہ ذکرتھا علی ھامش نسختی البدائع اولھا: التقریرفی الجامد(۱) فلا سرایۃ وثانیھا: الشرع(۲) جعل الکثیر والجاری لایقبلان النجاسۃ مالم یتغیر احد اوصافھما والماء القلیل شیئ واحد فقیہ جار الجار جار۔
میں نے اس کی تردید تین طرح کی ہے اور یہ وجوہ میں نے اپنے بدائع کے نسخہ کے حاشیہ پر ذکر کی ہیں:

(۱)گفتگو جامد چیز میں ہے تو سرایت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

) ۲) شریعت نے کثیر اور جاری پانی کے بارے میں یہ حکم دیا ہے کہ وہ اس وقت تک ناپاک نہ ہوگا جب تک اس کے اوصاف میں سے کسی ایک وصف میں تبدیلی نہ ہوجائے اور تھوڑا پانی شیئ واحد ہے، اس میں متصل کا متصل، متصل ہے۔
وثالثھا: ذکر الشیخ الامام ھذا لابداء الفرق فی حکم الفارۃ والھر والشاۃ الواقعۃفی البئر بنزح عشرین واربعین والکل بان الفارۃ یجاورھا من الماء عشرون دلو الصغر جثتہا فحکم بنجاسۃ ھذا القدر لان ماوراءہ لم یجاور الفأرۃ بل جاور ماجاور الفأرۃ والشرع ورد الی اخرمامر،
) ۳) شیخ امام نے یہ اس لئے بیان کیا ہے کہ چُوہیا، بلّی اور بکری جو کنویں میں گِر جائے ان کے حکم میں فرق ظاہر ہوجائے، بیس، چالیس ڈول اور کل پانی نکالا جائیگا۔ چُوہیا کے ساتھ پانی کے بیس ڈول متصل ہیں کیونکہ اس کا جسم چھوٹا ہے تو اتنی ہی مقدار پانی کی نکالی جائے گی کیونکہ اس مقدار کے علاوہ پانی چُوہیا کے متصل نہیں ہے بلکہ جو چُوہیا سے متصل ہے اس کے متصل ہے اور حکم شرعی اس کی مثل وارد ہوا ہے۔۔الخ۔
فکتبت(۳) علیہ ان لوفرض عدم التنجیس بالفأرۃ الالقدر عشرین لزم فساد الکل للاختلاط بحیث لایمتاز ثم رأیت العلامۃ ابن امیرالحاج ذکرفی الحلیۃ الوجھین الاولین بعبارات مطنبۃ مفیدۃ کما ھو دابہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی فقال فی الاول معلوم ان الماء لیس بشیئ کثیف یمنع کثافتہ سریان النجاسۃ الواقعۃفیہ من محلھا الذی حلت بہ الی غیرہ کمافی السمن الجامد لیقع الاقتصارفی التنجیس علی الجار المتصل دون غیرہ بل ھو مائع رقیق لطیف تعین لطافتہ ورقۃ اجزائہ مع الاضطراب العارض لہ بواسطۃ الاخذ منہ علی سرایۃ النجاسۃ الی سائر اجزائہ ثم ذکر الثانی بعد کلام اٰخر ۱؎۔
میں نے اس پر لکھا ہے کہ اگر یہ فرض کیا جائے کہ چُوہیا سے صرف بیس ڈولوں کی مقدار نجس ہوگی تو کُل کا فساد لازم آئیگا کہ اختلاط ہوا ہے اور امتیاز ختم ہوگیا۔ پھر میں نے علامہ ابن امیر الحاج کو دیکھا کہ انہوں نے حلیہ میں دو پہلی وجوہ مفصل عبارات سے لکھی ہیں، جیسا کہ ان کا اسلوب ہے، پہلی میں فرمایا یہ معلوم ہے کہ پانی کثیف شیئ نہیں کہ اس کی کثافت اس نجاست کی سرایت کو مانع ہو جو اس میں گری ہے، جیسا جامد گھی، تاکہ ناپاکی صرف متصل تک ہی محدود رہے دوسرے تک تجاوز نہ کرے، بلکہ پانی مائع ہے رقیق ہے لطیف ہے اس کی لطافت واجزاء کی رقت عارض ہونے والے اضطراب کے ساتھ، دوسرے تمام اجزاء تک نجاست کے سرایت کرنے میں معاون ہے، پھر دوسری وجہ دوسرے کلام کے بعد ذکر کی۔ (ت)
 (۱؎ حلیہ)
والاٰن اقول: السمن(۱) الجامد ھل یقبل التنجس بجوار النجس ام لاعلی الثانی لم امر صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم بتقویر ماحول الفأرۃ وسلمتم نجاستہ وعلی الاول اذا فرض ان جار النجس نجس وھلم جراوجب تنجیس مایجاور ھذا المأمور بتقویرہ لکونہ مجاورا لھذا النجس وان لم یجاور الفارۃ فلا یجدی الفرق باللطافۃ والکثافۃ بل لقائل ان یقول(۱) اذا تنجس السمن حولھا فما یجاور ھذا السمن لیس جار جار النجس بل جار النجس وھکذا الی الاخر فان فرق بان السمن متنجس لانجس وجار النجس یتنجس لاجار المتنجس لزم ان لایتنجس الماء اذا القی فیہ ھذا السمن بعد التقویر لانہ لاقی متنجسا لانجسا وبہ یظھر مافی کلام ملک العلماء ویطوی ھذا البساط من اولہ۔
اور اب میں کہتا ہوں منجمد گھی نجس کے ملنے کی وجہ سے نجس ہونے کو قبول کرے گا یا نہیں! دوسری تقدیر پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چُوہیا کے ارد گرد کے گھی کو دُور کرنے کا حکم کیوں فرمایا اور تم نے اس کی نجاست تسلیم کرلی، اور پہلی تقدیر پر جب یہ فرض کیا گیا کہ نجس کا پڑوسی نجس ہے اور ھلم جرا تو جو حصہ صفائی والی جگہ سے ملا ہوا ہے اس کو نجس کر دے گا کیونکہ وہ اس نجس کے مجاور ہے اگرچہ چُوہیا کے مجاور نہیں تو لطافت وکثافت کا فرق کچھ مفید نہ ہوگا، بلکہ کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ جب چُوہیا کے اردگرد گھی نجس ہوگیا تو جو اس گھی کے مُجاور ہے وہ نجس کے متصل کا متصل نہیں ہے بلکہ نجس کا متصل ہے اور اسی طرح اخیر تک، اگر یہ فرق کیا جائے کہ گھی متنجس ہے نجس نہیں ہے اور نجس کا متصل نجس ہوتا ہے نہ کہ متنجس کا متصل، تو لازم آئے گا کہ پانی اس وقت نجس نہ ہو جب اس میں گھی نتھارنے کے بعد ملایا جائے کیونکہ اس کی ملاقات متنجس سے ہوئی نجس سے نہیں ہوئی، اس سے ملک العلماء کے کلام کی خامی ظاہر ہوجاتی ہے اور بساط ابتدأ سے لپیٹ دی جاتی ہے۔
فاقول: وباللّٰہ التوفیق لیس(۲) سبب تنجس الطاھر مجاورتہ لنجس الا تری(۳) ان لولف ثوب نجس فی ثوب طاھر لم یتنجس الطاھر اذا کانا یابسین بل ولا اذا کانت فی النجس بقیۃ نداوۃ یظھر بھافی الطاھر مجرد اثر کمافی الدر والشامی وبیناہ فی فتاوٰنا بل ھو اکتساب الطاھر حکم النجاسۃ عند لقاء النجس وذلک یحصل فی الطاھر المائع القلیل بمجرد اللقاء وان کان النجس یابسالا بلۃفیہ وفی الطاھر الغیر المائع بانتقال البلۃ النجسۃ الیہ فلا بد لتنجیسہ من بلۃ تنفصل ثم یختلف الامر باختلاف جرم الطاھر لطافۃ وکثافۃ فالسرایۃفی اللطیف اکثر منھافی الکثیف وکذلک قد یختلف باختلاف زمن التجاور اذا عرفت ھذا فالسمن یقور ویلقی منہ قدر مایظن سرایۃ البلۃ النجسۃ الیہ ویبقی الباقی طاھرا لان التنجس لم یکن لمجاورۃ النجس حتی یقال ان السمن الذی بعدہ مجاور لہذا النجس بل لسرایۃ البلۃ وقد انتھت(۱) فظھران استشھاد ملک العلماء بمسألۃ السمن علی التفرقۃ بین الفأرۃ وما فوقھا لاوجہ لہ وانما الاٰبار تتبع الاٰثار،
میں کہتا ہوں وباللہ التوفیق، پاک کا ناپاک ہونا اس لئے نہیں ہے کہ وہ ناپاک سے متصل ہے مثلاً یہ کہ اگر ایک نجس کپڑا پاک کپڑے میں لپیٹ دیا جائے تو پاک ناپاک نہ ہوگا، اگر وہ دونوں خشک ہیں بلکہ اس صورت میں بھی نجس نہ ہوگا جبکہ ناپاک میں تری باقی ہو جس کا محض اثر پاک پر ظاہر ہو، جیسا کہ دُر اور شامی میں ہے اور ہم نے اس کو اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے بلکہ وہ پاک کا نجاست کے حکم کو حاصل کرنا ہے نجس کے ملنے سے اور یہ اُس پاک میں ہوتا ہے جو مائع قلیل ہو، اور یہ محض ملنے سے ہوگا اگرچہ نجس خشک ہو اور اس میں تری نہ ہو، اور طاہر غیر مائع میں نجس تری اس کی طرف منتقل ہوگی تو اس کو ناپاک کرنے کیلئے تری کا ہونا ضروری ہے جو اس سے جُدا ہو، پھر معاملہ پاک کے جرم کے اختلاف کی وجہ سے مختلف ہوگا، یعنی لطافت وکثافت کے اعتبار سے، تو لطیف میں بہ نسبت کثیف کے سرایت زیادہ ہوگی، اور اسی طرح یہ اختلاف اتصال کے زمانہ کے اختلاف سے بھی پیدا ہوتا ہے، جب تم نے یہ جان لیا تو گھی کو نتھارا جائے گا اور اس میں سے اتنی مقدار پھینک دی جائے گی جتنی اس کی طرف نجس تری کی سرایت کا گمان ہو اور باقی پاک رہے گا کیونکہ ناپاک ہونانجس کے اتصال کی وجہ سے نہ تھا کہ یہ کہا جائے کہ اس کے بعد والا گھی اس نجس کے مجاور (متصل ) ہے بلکہ اس کی نجاست تری کے اس کی طرف آجانے کی وجہ سے ہے اور تری ختم ہوچکی ہے، تو معلوم ہوا کہ ملک العلماء کا استشہاد گھی کے مسئلہ سے چُوہیا اور اس سے بڑے جانور کے مسئلہ میں اختلاف کو ثابت کرنے کے لئے بلا وجہ ہے اور بیشک کُنویں آثار کے تابع ہوتے ہیں،
Flag Counter