Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
36 - 176
اقول: فھذہ صرائح نصوص المسألۃ عن ائمۃ المذھب رضی اللّٰہ تعالی عنھم اتی بھا ملک العلماء فلا یعارضھا ماوقع منہ فی تعلیل اوجدل اما الجدل فظاھر والعلۃ(۱) ان صحت لزمت صحۃ الحکم ولاعکس لجواز ان تکون ھٰذہ باطلۃ والحکم معللا بعلۃ اخری وھھنا کذلک فان القول بنجاسۃ المستعمل معلل بوجوہ اخر ذکرت فی البدائع نفسھا والہدایۃ والکافی والتبیین وغیرھا وھذا العلامۃ قاسم قدرد علی ملک العلماء استدلالہ بھذا الحدیث فی رسالتہ ھذہ وقد تقدم قولہ انہ لایطابق عمومہ فروعھم المذکورۃفی الماء الکثیرفیحمل علی الکراھۃ۔۔۔الخ وقال قبلہ حیث رد بعض کلام البدائع قولا قولا قولہ وروی عن النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم انہ قال لایبولن احدکم فی الماء الدائم ولا یغتسلن فیہ من الجنابۃ من غیر فصل بین دائم ودائم۔۔۔الخ یقال علیہ انظر ھل انت من اکبر مخالفی ھذا الحدیث حیث قلت انت ومشائخک انہ یتوضؤ من الجانب الاخرفی المرئیۃ ویتوضؤ من ای جانب کان فی غیر المرئیۃ کما اذا بال فیہ انسان اواغتسل جنب ام انت من العاملین بہ فانہ لااعجب ممن لیستدل بحدیث ھو احد من خالفہ اھ۔ وھذا مااشار الیہ بقول لایطابق عمومہ۔۔۔الخ۔
میں کہتا ہوں یہ تصریحات ہیں جو اس مسئلہ میں ائمہ مذہب سے منقول ہیں، ان کو ملک العلماء نے ذکر کیا ہے، ان کے معارض وہ عبارت نہیں ہوسکتی ہے جو انہوں نے علّت کے بیان کے وقت یا جدل کے طور پر بیان کی ہے، جدل کی بات تو ظاہر ہے اور علّۃ اگر صحیح ہوئی تو حکم کی صحت کو لازم ہوگی، اور اس کا عکس نہ ہوگا، کیونکہ ممکن ہے کہ یہ علت باطلہ ہو اور حکم دراصل کسی اور علۃ کی وجہ سے ہو، اور یہاں یہی صورت حال ہے، کیونکہ مستعمل پانی کی نجاست کا قول دوسری علتوں کی وجہ سے ہے جو بدائع میں مذکور ہیں، ہدایہ، کافی اور تبیین وغیرہا میں بھی یہی ہے، اور علّامہ قاسم نے اپنے رسالہ میں ملک العلماء کے اس حدیث سے استدلال پر رَد کیا ہے اور ان کا یہ قول گزر چکا ہے کہ اس کے عموم اور ان کے مذکورہ فروع میں مطابقت نہیں پائی جاتی ہے جو ماءِ کثیر سے متعلق ہیں تو اس کو کراہت پر محمول کیا جائے گا الخ اور اس سے قبل فرمایا جہاں انہوں نے بدائع کے بعض کلام کو رد کیا ہے، اور ایک ایک بات کا رد کیا ہے کہ ان کا قول کہ روایت کیا گیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے اور نہ ہی غسلِ جنابت کرے، اس میں کوئی تفصیل نہیں ہے ایک ٹھہرے ہوئے اور دوسرے ٹھہرے ہوئے کے درمیان ۔۔۔الخ اس پر یہ کہا جائے گا غور کرو کیا تم اس حدیث کے بڑے مخالفین میں سے ہو۔ کیونکہ تم نے اور تمہارے مشائخ نے کہا ہے کہ اگر نجاست نظر آرہی ہو تو دوسرے کنارے سے وضو کرلے اور اگر نظر نہ آتی ہو تو جس کنارے سے چاہے وضو کرے، جیسے کسی انسان نے اس پانی میں پیشاب کیا یا جنب نے غسل کیا۔ یا تم اس حدیث پر عمل کرنے والوں میں سے ہو، اس سے زیادہ تعجب خیز بات کیا ہوگی کہ جو شخص اس حدیث کا مخالف ہے وہی اس حدیث سے استدلال بھی کرتا ہے اھ اور یہ ہے وہ بات جس کی طرف انہوں نے اپنے قول لایطابق عمومہ میں اشارہ کیا تھا الخ۔
اقول: رحمکم اللّٰہ جاوزتم الحدفی الاخذ والرد فاولا ماقالوہ(۱) انما ھوفی الکثیر والکثیر ملحق بالجاری والحدیث فی الدائم ثانیا: الکراھۃ(۲) ان ارید بہا کراھۃ التحریم لم یلائم قولہ وبذلک اخبر راوی الخبر قال کنا نستحب الی اخرمامر مع انھا لاتفید کم اذلولم یتغیر بہ الماء لم یکن وجہ للنھی عنہ الاتری ان الماء الکثیر لعدم تغیرہ یجوز الاغتسال فیہ اجماعا کمافی البدائع وقد استدل ھو علی نجاسۃ الماء المستعمل وشیخکم المحقق علی الاطلاق علی انسلاب الطہوریۃ عنہ بھذا النھی المفید کراھۃ التحریم وان ارید بہا کراھۃ التنزیہ فعدول عن الحقیقۃ من دون ضرورۃ ملجئۃ ولا یلائمہا نون التأکیدفی قولہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لایغتسلن وقددفع العلامۃ الاکمل فی العنایۃ کراھۃ التنزیہ بان تقییدہ بالدائم ینافیہ فان الماء الجاری یشارکہ فی ذلک المعنی فان البول کما انہ لیس بادب فی الماء الدائم فکذلک فی الجاری فلا یکون للتقیید فائدۃ وکلام الشارع مصون عن ذلک ۱؎ اھ۔ وقد قال فی المجتبی اما البول فیہ فمکروہ(۱) قلیلا کان اوکثیرا دائما اوجاریا وسمی ابو حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ من یبول فی الماء الجاری جاھلا ۲؎ اھ۔ کمافی ابن الشلبی علی التبیین۔
میں کہتا ہوں اللہ تم پر رحم کرے تم نے قبول کرنے اور رد کرنے دونوں میں حد سے تجاوز کیا ہے اول تو یہ کہ جو کچھ انہوں نے فرمایا ہے وہ کثیر پانی کی بابت ہے اور کثیر جاری کے حکم میں ہے اور حدیث ٹھہرے ہوئے پانی سے متعلق ہے۔

ثانیاً اگر کراہت سے مراد کراہت تحریم ہے تو یہ ان کے قول کے موافق نہ ہوگی، اور اسی کی خبر حدیث کے راوی نے دی فرمایا ''کنا نستحب الخ'' پھر یہ آپ کیلئے مفید نہیں، اس لئے کہ اگر اس کی وجہ سے پانی میں تغیر نہ ہوتا تو اس سے منع کرنے کی کوئی وجہ نہ ہوتی، مثلاً کثیر پانی کہ وہ متغیر نہیں ہوتا اس سے غسل کرنا بالاجماع جائز ہے، جیسا کہ بدائع میں ہے اور اس نے خود اس سے مستعمل پانی کے نجس ہونے پر استدلال کیا ہے اور آپ کے شیخ محقق نے پانی سے طہوریۃ کے سلب ہوجانے پر استدلال کیا ہے، اور دلیل، یہی نہی ہے جو کراہت تحریمی کو ظاہر کرتی ہے اور اگر اس سے کراہت تنزیہی کا ارادہ کیا جائے تو یہ حقیقت سے بلا اشد ضرورت کے انحراف کرنا ہے اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول ''لایغتسلن میں جو نُون تاکید ہے اس سے بھی اس کی مطابقت نہیں، اور علامہ اکمل نے عنایہ میں کراہت تنزیہ کو دفع کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کو ''دائم'' کی قید سے مقید کرنا اس کے منافی ہے کیونکہ جاری پانی بھی اس کا شریک ہے کرا ہۃ تنزیہ میں۔ کیونکہ پیشاب کرنا ٹھہرے ہوئے پانی میں خلافِ ادب ہے اس طرح جاری پانی میں مکروہ ہے تو مقید کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا، اور شارع کا کلام اس سے محفوظ ہے اھ۔ اور مجتبی میں ہے کہ پانی میں خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر، ٹھہرا ہوا ہو یا جاری، پیشاب کرنا مکروہ ہے، اور ابو حنیفہ نے جاری پانی میں پیشاب کرنے والے کو جاہل کہا ہے اھ جیسا کہ ابن شلبی علی التبیین میں ہے۔
 (۱؎ العنایۃ مع فتح القدیر    باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء        نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۶۴)

(۲؎ شلبی علی تبیین الحقائق    کتاب الطہارۃ        الامیریۃ ببولاق مصر    ۱/۲۱)
اقول: المقرر(۲) عندنا ان نصوص الشارع لانظرفیھا الی مفہوم الخالف ویجوز ان یکون ذکر الدائم نظرا الی الحکم الثانی ھو النھی عن الاغتسال۔ وثالثا: ھب انھم(۳) لم یعملوافی بعض الصور باطلاقہ فلیس من قید اطلاقا اوخصص عموما لدلیل لاح ممنوعا عن التمسک بہ فی شیئ اخر ھذا وکذا عدم استعمال الماء بوقوع محدث فی البئر عند محمد علی تسلیمہ لم لا تعللونہ بما تقرر عندکم وصرحتم بہ غیر مرۃ ان محمدا لا یقول بالاستعمال الا بنیۃ القربۃ وای نیۃ للساقط وانتم المصرحون (۴) کما تقدم ان الطاھران انغمس فیھا للاغتسال صار الماء مستعملا عند اصحابنا الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالی عنھم فلم لم یقل محمد ثم ان غیر المستعمل اکثر فلا یخرج عن کونہ طھوراً۔
میں کہتا ہوں ہمارے نزدیک طے شدہ اصول یہ ہے کہ شارع کے نصوص میں مفہوم مخالف کا اعتبار نہیں، یہ جائز ہے کہ دائم کی قید دوسرے حکم کے لحاظ سے ہو، یعنی غسل کی ممانعت۔

ثالثا: مان لیا کہ بعض صورتوں میں انہوں نے اس کے اطلاق پر عمل نہیں کیا ہے تو جس نے کسی مطلق کو مقید کیا ہو یا عام کو خاص کیا ہو کسی دلیل کی بناء پر، اس کو یہ ممنوع نہیں ہے کہ وہ اس جگہ سے کسی اور چیز کا استدلال کرے، اور اسی طرح پانی کا مستعمل نہ ہونا کسی مُحدِث کے کنویں میں گرجانے کی وجہ سے محمد کے نزدیک، اگر اس کو تسلیم بھی کرلیا جائے، تو آپ اس کی علت وہ کیوں نہیں بتاتے ہو جو تمہارے نزدیک مقرر ہے، اور تم نے ایک سے زائد مرتبہ اس کی وضاحت کی ہے کہ محمد فرماتے ہیں کہ پانی اس وقت مستعمل ہوگا جب قربۃ کی نیت ہو، اور جو پانی میں گرجائے اس کی کیا نیت ہوگی! اور تم نے تصریح کی ہے جیسا کہ گزرا کہ اگر پاک آدمی کنویں میں غوطہ لگائے نہانے کیلئے تو پانی ہمارے اصحاب ثلثہ کے نزدیک مستعمل ہوجائے گا، تو محمد نے کیوں نہیں کہا پھر غیر مستعمل اکثر ہے تو طہور ہونے سے خارج نہ ہوگا۔
Flag Counter