Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
35 - 176
اقول: لکن(۱) یشکل علیہ انہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی اما ذکر ھذافی من کان علی بدنہ نجاسۃ حقیقیۃ لان عبارتہ ھکذا وان لم یکن طاھرا فان کان علی بدنہ نجاسۃ حقیقیۃ وھو جنب اولا فانغمس فی ثلثۃ اٰبار اواکثر من ذلک لایخرج من الاولی والثانیۃ طاھرا بالاجماع ویخرج من الثالثۃ طاھرا عند ابی حنیفۃ ومحمد رضی اللہ تعالی عنہما والمیاہ الثلثۃ نجسۃ لکن نجاستھا علی التفاوت علی ماذکرنا وعند ابی یوسف کلھا نجسۃ والرجل نجس سواء انغمس لطلب الدلواوالاغتسال وعندھما ان انغمس لطلب الدلواوالتبرد فالمیاہ باقیۃ علی حالھا ۱؎ ۔۔۔الخ۔ وکیف تبقی علی حالہا والفرض ان علی بدنہ نجاسۃ حقیقیۃ الا ان یقال انتھی الکلام علیھا الی قولہ المیاہ کلھا نجسۃ والرجل نجس وقولہ سواء انغمس لطلب الدلو۔۔۔الخ۔ بیان لعدم اقتصار الحکم عند ابی یوسف علی النجاسۃ الحقیقیۃ بل کذلک الحکمیۃ کما قدمنا ان عند ابی یوسف ھو نجس ولا یخرج طاھرا ابدا فلما استطرد ھذا ابان خلاف الطرفین فیہ ان ھذا التعمیم لیس عندھما ۔
میں کہتا ہوں اس پر اشکال یہ ہے کہ انہوں نے یہ حکم اس شخص کا بیان کیا ہے جس کے بدن پر حقیقی نجاست ہو، ان کی عبارت اس طرح ہے ''پس اگر وہ پاک نہیں ہے تو یا تو اس کے بعدن پر حقیقی نجاست ہوگی، اور وہ جنب ہوگا یا نہیں، ایسا شخص اگر تین کُنووں میں غوطہ لگائے یا زیادہ میں تو پہلے اور دوسرے سے بالاجماع پاک نہیں نکلے گا اور تیسرے سے ابو حنیفہ اور محمد کے نزدیک پاک نکلے گا اور تینوں پانی نجس ہیں، مگر ان کی نجاست مختلف ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا، اور ابو یوسف کے نزدیک سب نجس ہیں، اور انسان بھی نجس ہے، خواہ اس نے ڈول نکالنے کیلئے غوطہ لگایا ہو یا غسل کرنے کیلئے، اور طرفین کے نزدیک اگر ڈول نکالنے کیلئے یا ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے غوطہ لگایا تو پانی اپنی حالت سابقہ پر باقی ہے۔۔۔ الخ۔ لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ فرض یہ کیا گیا ہے کہ اُس کے بدن پر حقیقی نجاست ہے۔ ہاں اگر یہ کہا جائے کہ ان کا کلام المیاہ کلھا نجسۃ والرجل نجس پر پورا ہوا اور ان کا قول سواء انغمس لطلب الدلو۔۔۔الخ۔ اس امر کا بیان ہے کہ ابو یوسف کے نزدیک حکم نجاسۃ حقیقیہ پر مقصور نہیں ہے بلکہ حکمیہ کا بھی یہی حال ہے جیسا کہ ہم ذکر کر آئے ہیں کہ ابو یوسف کے نزدیک انسان ناپاک ہے تو کبھی پاک نہ ہوگا، اس سے معلوم ہوا کہ اس میں طرفین کا خلاف ہے، کہ یہ تعمیم اُن دونوں کے نزدیک نہیں ہے۔
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۰)
ویکدرہ ان الکلام المستطرد اذنفی النجاسۃ الحکمیۃ فکیف یقول عندھما ان انغمس لطلب الدلو اوالتبرد فالمیاہ باقیۃ علی حالھا فان عند الامام رضی اللّٰہ تعالی عنہ یصیر الماء مستعملا بازالۃ الحدث وان لم ینوبل کذلک عند محمد ایضا عند التحقیق،
اس پر یہ اعتراض ہے کہ کلام مستطرد نجاست حکمیہ کی بابت ہے تو پھر یہ کیسے فرمایا کہ طرفین کے نزدیک اگر ڈول نکالنے یا ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے غوطہ لگایا تو پانی اپنی حالت پر باقی ہیں کیونکہ امام کے نزدیک پانی حدث کے ازالہ سے مستعمل ہوجائیگا اگرچہ اُس نے نیت نہ کی ہو، بلکہ تحقیق یہ ہے کہ امام محمد کے نزدیک بھی یہی حکم ہے،
وقد(۱) قال فی البدائع فی اٰدمی وقع فی البئر ان کان علی بدنہ نجاسۃ حکمیۃ فعلی قول من جعل ھذا الماء مستعملا والمستعمل نجسا ینزح ماء البئر کلہ ۱؎ کما تقدم ،
بدائع میں ہے کہ اگر کوئی انسان کُنویں میں گر گیا تو اگر اس کے بدن پر نجاست حکمیہ ہے توجولوگ اس پر پانی کو مستعمل قرار دیتے ہیں اور مستعمل کو نجس کہتے ہیں تو انکے نزدیک کنویں کا کُل پانی نکالا جائیگا جیسا کہ گزرا،
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل اما بیان المقدار الذی یصیر بہ المحل نجسا    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۴)
فاذا کان ھذافی الواقع بلا قصد فکیف فی المنغمس قصد ا للتبرد ثم قد (۲) اتی بشق النجاسۃ الحکمیۃ بعد ھذا وصرح فیہ بالحکم الصحیح علی خلاف ماھنا کما سیأتی وان حمل ماھنا علی الضرورۃ فمع بعدہ یاباہ قولہ اوالتبرد الا ان یقال انھم قد ادخلوہ فیہا کما یأتی فبناء علی ھذا التسامح یصح ھذا الحمل غیر انہ لایسلم فان زید الاستطراد حتی یشمل الطاھر فمع ان التعمیم المذکورفی قول الامام الثانی سواء انغمس۔۔۔الخ لم یکن لیشملہ قطعا یعکر علیہ ان الشمول لایخرج المحدث فکیف یصح اطلاق الحکم بان المیاہ باقیۃ علی حالھا ولا وجہ لتخصیص الحکم بالطاھر فان الکلام مسوق فی شق وان لم یکن طاھرا وقد قدم حکم الطاھر من قبل،
اور جب یہ حکم بلا قصد گرنے والے کا ہو تو پھر اس کا کیا حال ہوگا جو ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے قصداً غوطہ لگائے، پھر انہوں نے نجاست حکمیہ والی شق کا ذکر کیا ہے اور وہاں انہوں نے یہاں کے برعکس حکم صحیح کی صراحت کی، جیسا کہ آئے گا، اور اگر یہاں جو کچھ ہے اس کو ضرورت پر محمول کرلیا جائے تو یہ بعید ہونے کے علاوہ اُن کے قول اوالتبرد کے مناقض ہے، مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اس کو بھی اسی میں شامل کرلیا ہے، جیسا کہ  آئیگا، تو اس تسامح کی بنیاد پر یہ حمل صحیح ہے لیکن محفوظ نہیں، اور اگر استطراد کو زائد کیا جائے اتنا کہ طاہر کو بھی شامل ہوجائے تو ایک تو امام ثانی کے قول کی تعمیم ''سواء انغمس۔۔۔الخ'' اس کو قطعا شامل نہیں، پھر اس پر یہ بھی اشکال ہے کہ شمول بے وضو کو نہیں نکالے گا تو یہ مطلق حکم کیسے لگایا جاسکتا ہے کہ تمام پانی اپنی حالت پر باقی ہیں، اور حکم کو پاک کے ساتھ مخصوص کردینے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ گفتگو اس شق سے متعلق ہے کہ اگر پاک نہ ہو حالانکہ پاک کا حکم پہلے ہی گزر چکا،
وبالجملۃ فالعبارۃ ھھنافیما وصل الیہ فھمی القاصر لاتخلو عن قلق وحزازۃ ولعلھا وقع فیھا من قلم الناسخین تغییر وتقدیم وتاخیر وکم لہ من نظیر فلیتأمل واللّٰہ تعالی اعلم بمراد خواص عبادہ۔
اور خلاصہ یہ کہ میری ناقص فہم میں یہاں عبارت اضطراب سے خالی نہیں، اور شاید اس میں ناسخین سے کچھ تغیّر، تقدیم یا تاخیر واقع ہوئی ہے، اور اس کی بہت نظائر ہیں، غور کر اور اللہ تعالٰی زیادہ جانتا ہے اپنے خاص بندوں کے ارادوں کو۔
الخامس عشر: ثم قال قدس(۱) سرہ تحت قولہ المار وان کان علی یدہ نجاسۃ حکمیۃ فقط مانصہ واما حکم المیاہ فالماء الاول مستعمل عند ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ لوجود ازالۃ الحدث والبواقی علی حالھا لانعدام مایوجب الاستعمال اصلا (ای لان الصورۃ مفروضۃفی الانغماس للتبرد اوطلب الدلو فلانیۃ قربۃ والحدث قدزال بالاول) وعند ابی یوسف ومحمد المیاہ کلھا علی حالھا اما عند محمد فظاھر لانہ لم یوجد اقامۃ القربۃ بشیئ منھا واما ابو یوسف فقد ترک اصلہ عند الضرورۃ علی مایذکر ۱؎ اھ۔ فقد افادان لووجدت نیۃ القربۃ لصار الماء مستعملا عند الامام الربانیّ ایضا بل ھو کذلک فان التحقیق انہ لایقصر الاستعمال علی نیۃ القربۃ کما تقدم۔
پندرھواں، پھر انہوں نے ان کے گزرے ہوئے قول ''وان کان علی یدہ نجاسۃ حکمیۃ فقط'' کے تحت فرمایا بہر حال پانی ، تو پہلا پانی امام ابو حنیفہ کے نزدیک مستعمل ہے کیونکہ اس میں حدث کا ازالہ پایا جاتا ہے اور باقی اپنے حال پر باقی ہیں کہ وہاں کوئی ایسا سبب موجود نہیں جس کی بنا پر ان کو مستعمل قرار دیا جائے (یعنی مفروضہ تو یہ ہے کہ ٹھنڈک حاصل کرنے یا ڈول کی طلب میں غوطہ لگایا اور قربۃ کی نیت نہیں ہے، اور حدث پہلے ہی سے زائل ہوگیا) اور ابو یوسف اور محمد کے نزدیک کل پانی اپنی حالت پر ہیں، محمد کے نزدیک تو ظاہر ہے کیونکہ ان سے قربۃ ادا نہیں کی گئی ہے اور ابو یوسف نے ضرورت کی وجہ سے اپنی اصل کو چھوڑا ہے جیسا کہ ذکر کیا جاتا ہے اھ ۔پس انہوں نے بتایا کہ اگر قربۃ کی نیت ہوگی تو پانی مستعمل ہوگاامام ربانی کے نزدیک، بلکہ حقیقۃً یہی ہے کیونکہ تحقیق یہ ہے کہ مستعمل ہونا نیتِ قربۃ پر موقوف نہیں جیسا کہ گزرا۔
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصلفی الطہارۃ الحقیقیۃ    سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۰)
Flag Counter