Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
34 - 176
فان قلت الیس ان حکم الاستعمال انما یعطی بعد الانفصال والبدن کلہ شیئ واحدفی الاغتسال فمادام فیہ لم یکن مستعملا واذا صار مستعملا لم یکن فیہ فعن ھذا یخرج طاھرا مع نجاسۃ الماء المستعمل عندھمافیما یذکر عنہما قلت بلی ولکن اما یتمشی علی قول الامام اما عند ابی یوسف فیثبت حکم الاستعمال باول ملاقاۃ البدن الماء قال فی البدائع ابویوسف یقول ان ملاقاۃ اول عضو المحدث الماء یوجب صیرورتہ مستعملا فکذا ملاقاۃ اول عضو الطاھر الماء علی قصد اقامۃ القربۃ واذا صار الماء مستعمل باول الملاقاۃ لا تتحقق طھارۃ بقیۃ الاعضاء بالماء المستعمل ۱؎ اھ۔ فکیف یقول الماء مستعمل والرجل طاھر ،
اگر تُو یہ کہے کہ آیا یہ بات درست نہیں کہ پانی پر مستعمل ہونے کا حکم اُسی وقت لگایا جائیگا جب وہ بدن سے جدا ہو، اور بدن غسل کی صورت میں شیئ واحد ہے، تو جب تک پانی بدن پر رہے گا مستعمل نہ ہوگا اور جو مستعمل ہوگا تو بدن پر نہ رہے گا اسی وجہ سے وہ شخص پاک ہوجاتا ہے اور پانی شیخین کے نزدیک نجس ہوجاتا ہے جیسا کہ شیخین کی بابت مشہور ہے۔ میں کہتا ہوں یہ درست ہے، مگر یہ صرف امام ابو حنیفہ کے قول پر چل سکتا ہے کیونکہ ابویوسف کے نزدیک پانی کے مستعمل ہونے کا حکم بدن سے پہلی ملاقات ہی میں دے دیا جائیگا بدائع میں ہے ابو یوسف نے فرمایا مُحدِث کے پہلے عضو سے ملتے ہی پانی مستعمل ہوجاتا ہے، اور اسی طرح پاک آدمی کے کسی عضو کا بہ نیت ادائیگی قربۃ پانی کو لگنا پانی کو مستعمل بنا دیتا ہے اور جب پانی پہلی ملاقات ہی سے مستعمل ہوگیا تو باقی اعضاء کی طہارت پانی سے نہیں ہوسکتی ہے اھ تو پھر وہ کس طرح فرماتے ہیں کہ پانی مستعمل ہوگیا اور مرد پاک ہے۔
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل فی الطہارۃ الحقیقۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۰)
وقد قال فی البدائع ان کان علی یدہ نجاسۃ حکمیۃ فقط فان ادخلھالطلب الدلوا والتبرد یخرج من الاول (ای الماء الاول فان المسألۃ مفروضۃفی الانغماس فی عدۃ میاہ) طاھرا عند ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما اللّٰہ تعالٰی ھو الصحیح لزوال الجنابۃبالانغماس مرۃ واحدۃ وعند ابی یوسف ھو نجس ولا یخرج طاھرا ابدا ۲؎ اھ۔ فان حملتہ ھنا علی حال الضرورۃ لقول البدائع اما ابو یوسف فقد ترک اصلہ عند الضرورۃ علی مایذکر وروی بشر عنہ ان المیاہ کلہا نجسۃ وھو قیاس مذھبہ ۳؎ اھ۔
اور بدائع میں فرمایا کہ اگر اس کے ہاتھ پر صرف نجاست حکمیہ ہے پھر وہ اس کو کنویں میں ڈول نکالنے یا ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے داخل کرتا ہے تو وہ اول (یعنی پہلا پانی کیونکہ مسئلہ اس مفروضہ پر ہے کہ کئی پانیوں میں ہاتھ ڈبویا) سے پاک نکلے گا، یہ ابو حنیفہ اور محمد کے نزدیک ہے، یہی صحیح ہے کیونکہ جنابت ایک ہی مرتبہ ڈبونے سے زائل ہوگئی اور ابو یوسف کے نزدیک وہ نجس ہے، اور وہ کبھی پاک نہ ہوگا۔ اگر آپ اس کو یہاں ضرورت پر محمول کریں کیونکہ بدائع میں ہے ''بہرحال ابو یوسف نے اپنی اصل کو ضرورت کے وقت ترک کیا ہے، جیسا کہ اُن سے مروی ہے اور بشر نے ان سے روایت کی ہے کہ سب کے سب پانی نجس ہیں اور یہی چیز ان کے مذہب سے لگّا کھاتی ہے۔
 (۲؎ بدائع الصنائع    فصل فی الطہارۃ الحقیقۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۰)

(۳؎ بدائع الصنائع    فصل فی الطہارۃ الحقیقۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۰)
دفعـہ۸۰۹ ان مامر ھھنا ان الماء مستعمل والرجل طاھر عکس مایقول بہ الامام الثانی حال الضرورۃ الا تری ان مذھبہ فی مسألۃ البئر جحط الحاء ای ان الماء طاھر علی حالہ والرجل لم یطھر کما کان قال فی البدائع ابو یوسف یقول یجب العمل بھذا الاصل ای ماتقدم من ثبوت الحکم باوّل اللقاء) الا عند الضرورۃ کالجنب والمحدث اذا ادخل یدہ فی الاناء لاغتراف الماء لایصیر مستعملا ولا یزول الحدث الی الماء لمکان الضرورۃ لان ھذا الماء لوصار مستعملا انما یصیر مستعملا بازالۃ الحدث ولو ازال الحدث لتنجس ولو تنجس لایزیل الحدث واذا لم یزل الحدث بقی طاھرا واذ بقی طاھرا یزیل الحدث فیقع الدور فقطعنا الدور من الابتداء فقلنا انہ لایزیل الحدث عنہ فبقی ھو بحالہ والماء علی حالہ ۱؎ اھ۔
دفعہ ۸۰۹ جو یہاں گزرا کہ پانی مستعمل ہے اور آدمی پاک ہے، امام ثانی کے قول کے برعکس ہے ضرورت کی حالت میں، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ان کا مذہب کنویں کے مسئلہ ''جحط'' میں ''ح'' ہے یعنی پانی اپنی سابقہ حالت پر پاک ہے اور انسان بھی جیسا کہ پہلے تھا ناپاک ہے۔ بدائع میں فرمایا ابو یوسف فرماتے ہیں اس اصل پر عمل لازم ہے (یعنی یہ کہ پہلی ملاقات ہی میں حکم ثابت ہوجاتا ہے) ہاں ضرورت کے وقت اس کو ترک بھی کرسکتے ہیں، جیسے جنب اور بے وضوجب برتن میں سے پانی لینے کیلئے اپنے ہاتھ ڈبوئیں تو پانی مستعمل نہ ہوگا اور حدث بھی زائل نہ ہوگا کیونکہ یہاں ضرورت موجود ہے، کیونکہ یہ پانی اگر مستعمل ہوتا تو حَدَث کے زائل کرنے کی وجہ سے ہوتا، اور اگر یہ حدث کو زائل کرتا تو ناپاک ہوجاتا اور اگر ناپاک ہوتا تو حدث کو زائل نہ کرتا، اور جب حدث کو زائل نہیں کیا تو پاک رہا اور جب پاک رہا تو حدث کو زائل کرے گا تو دور لازم آئے گا، تو ہم نے دور کو ابتداء ہی سے قطع کیا اور وہ اس طرح کہ یہ پانی حدث کو زائل نہیں کرتا ہے تو انسان اپنی حالت پر رہا اور پانی اپنی حالت پر رہا اھ۔
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۰)
وبالجملۃ لااستقامۃ لہذا علی قول ابی یوسف اصلا الابان یقال انہ مبنی علی طہارۃ الماء المستعمل عندھم جمیعاوھو قول صحیح قد قواہ ملک العلماء وجعلہ مختار المحققین وان مشی فی مواضع کثیرۃ علی نسبۃ التنجیس الی الشیخین کما اشتھر فعلی ھذا تکون المسألۃ نصا عن ائمتنا الثلثۃ علی سریان حکم الاستعمال الی جمیع الماء مع طھارتہ واللّٰہ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
خلاصہ یہ کہ ابو یوسف کے قول پر یہ قول کسی طرح درست نہیں بیٹھتا ہے، اس کی محض ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ پانی ان تمام ائمہ کے نزدیک پاک ہے اور یہی قول صحیح ہے، اس کو ملک العلماء نے قوی قرار دیا اور اس کو محققین کا مختار قرار دیا، اگرچہ اکثر مقامات پر انہوں نے اس پانی کو شیخین کے نزدیک نجس قرار دیا ہے، جیسا کہ مشہور ہے، اس بنا پر یہ مسئلہ اس امر کی تصریح ہوگا کہ ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک استعمال کا حکم تمام پانی میں جاری ہوگا اور انسان پاک رہے گا، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
الرابع عشر:(۱۱) ثم قال قدس سرہ فی من انغمس فی ثلثۃ اٰبار واکثر عندھما (ای الطرفین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما)ان انغمس لطلب الدلواوالتبرد فالمیاہ باقیۃ علی حالھا وان کان الانغماس للاغتسال فالماء الرابع فصاعدا مستعمل لوجود اقامۃ القربۃ ۱؎ اھ۔ فانظر علی ای شیئ حکم بکونہ مستعملا الماء الرابع فصاعد الا خصوص مالاقی منہ سطح البدن۔
چودھواں: پھر قدس سرہ نے فرمایا کہ جس شخص نے تین یا تین سے زیادہ کُنوؤں میں غوطہ لگایا تو ان دونوں (یعنی طرفین) کے نزدیک اگر ڈول کی تلاش میں لگایا ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے، تو پانی اپنی حالت پر باقی رہیں گے، اور اگر غوطہ خوری غسل کیلئے تھی تو چوتھا پانی اور اس کے بعد والے پانی مستعمل ہوں گے کہ ان سے قربۃ ادا ہوئی ہے اھ۔ تو دیکھے انہوں نے کس چیز پر مستعمل ہونے کا حکم لگایا ہے، چوتھا پانی اور اس سے زائد خاص وہ پانی نہیں جس سے مُحدِث ملا۔
قلت والمعنی جمیع المیاہ من اولہا وانما خص الرابع فما فوقہ بالذکر دفعا لتوھم انہ یقتصر حکم الاستعمال علی المیاہ الثلثۃ الاول اذ لاقربۃ بعد التثلیث فالرابع وما بعدہ لایصیر مستعملا لعدم السببین فنبّہ علی بطلانہ بان ذلک عند اتحاد المجلس ولا مساغ لہ فی باب الاٰبار۔
میں کہتا ہوں مراد یہ ہے کہ پہلے پانی سے لے کر تمام پانی مستعمل ہیں، انہوں نے چوتھے اور اُس کے بعد والے کا خصوصی ذکر اس لئے کیا تاکہ یہ وہم نہ ہو کہ استعمال کا حکم صرف تین پانیوں تک ہی محدود ہے کیونکہ تثلیث کے بعد قربۃ باقی نہیں رہتی ہے تو چوتھا اور اس کے بعد والا مستعمل نہ ہوگا، کیونکہ اس میں دونوں سبب موجود نہیں ہیں، تو اس کے بطلان پر انہوں نے متنبّہ کیا کہ یہ اتحاد مجلس کی صورت میں ہے، اور یہ چیز مختلف کُنوؤں میں نہیں پائی جاتی ہے۔
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۰)
Flag Counter