| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
قلت: والوجہ فیہ ان الماء طاھر عند محمد فلا یسلبہ وصف الطھوریۃ مالم یغلب علیہ ونجس عندھمافیما یقال وقطرۃ نجس تنجس کل ماء قلیل غیر ان الذی لایستبین لایعتبر کرشاش البول قدر رؤس الابر فعفی عنہ لعسر التحرز فاین ھذا مما نحن فیہ نعم جل مافی یدہ ماذکر البدائع فی الجدل عن روایۃ ضعیفۃ وتعلیل قول محمدفی مسألۃ جحط ان المستعمل مالاقی البدن وھو اقل من غیرہ۔
میں کہتا ہوں اس میں وجہ یہ ہے کہ محمد کے نزدیک پانی پاک ہے تو ا س کی پاکیزگی کا وصف اس وقت تک اس سے سلب نہ ہوگا جب تک کہ اس پر کوئی نجاست غالب نہ آجائے، اور شیخین کے نزدیک نجس ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے، اور نجس کا ایک قطرہ ہی تمام قلیل پانی کو نجس کردیتا ہے البتہ جو پانی میں ظاہر نہیں ہوتا وہ معتبر نہیں ہوتا ہے جیسے سُوئی کی نوک کے برابر پیشاب کے چھینٹے، تو چونکہ اس سے بچنے میں دشواری ہے اس لئے اس کو معاف کردیا گیا، تو اس کا ہماری بحث سے کیا تعلق ہے، ہاں قابلِ غور وہ عبارت ہے جو انہوں نے بدائع سے نقل کیا ہے، وہ ایک ضعیف روایت پر جھگڑا ہے اور مسئلہ جحط پر محمد کے قول کی توجیہ ہے کہ مستعمل پانی وہ ہے جس کی ملاقات بدن سے ہوئی ہو اور وہ دوسرے سے کم ہے۔
اقول :وباللّٰہ التوفیق وھو المستعان علی افاضۃ التحقیق ایش انا ومن انا حتی اتکلم بین یدی ھذا الامام الھمام ÷ ملک العلماء الکرام ÷ اعلی اللّٰہ درجاتہ فی دار السلام ÷ وافاض علینا برکاتہ علی الدوام ÷ اٰمین ولکن المذھب قد تقرر ÷ والنقل الصحیح الصریح عن الائمۃ الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالی عنھم قد توفر ÷ ورأیت ھذا الامام الجلیل قد وافق الاجلۃ الفحول ÷فی تلک النقول ÷ عند ذکر المنقول ÷ وعلمت ان ما یقال فی الجدل ÷ اویبدی فی العلل ÷ لایقضی علی نصوص المذھب ÷ بل ربما لایکون المبدی أیضا الیہ یذھب ÷ کما ھو معلوم عند من خدم ھذا الفن المذھّب فجرّأنی ذلک علی ان اقول وھو:
میں کہتا ہوں وباللہ التوفیق وھوا لمستعان علی افاضۃ التحقیق، میں اور میری حقیقت کیا جو امام ہمام، علمائے کرام کے بادشاہ، اللہ تعالٰی جنت میں ان کے درجات بلند فرمائے ہم ان کی برکتوں سے ہمیشہ مستفید ہوتے رہیں آمین، کے سامنے لب کشائی کروں؟ لیکن مذہب ثابت شدہ ہے اور ائمہ ثلثہ کی تصریحاتِ صحیحہ موجود ہیں، اور اس امام جلیل القدر نے نقول کی حد تک ان ائمہ سے اتفاق کیا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ ہماری بحثوں سے مذہب کی تصریحات باطل نہیں قرار پاسکتی ہیں جیسا کہ اس فن کے خُدّام پر واضح ہے، اس لئے میں کچھ معروضات پیش کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہوں اور وہ یہ ہیں:
الثالث عشر: الامام(۱) ملک العلماء قدس سرّہ ھو القائل فی بدائعہ بعد ماذکر سقوط حکم الاستعمال فی مواضع الضرورۃ کالیدفی الاناء للاغتراف والرجل فی البئر لطلب الدلو مانصہ ولو ادخل فی الاناء والبئر بعض جسدہ سوی الید والرجل افسدہ لانہ لاحاجۃ الیہ وعلی ھذا الاصل تخرج مسألۃ البئر اذا انغمس الجنب فیھا لطلب الدلولا بنیۃ الاغتسال ولیس علی بدنہ نجاسۃ حقیقیۃ والجملۃفیہ أن الرجل المنغمس اما أن یکون طاھرا اولم یکن بان کان علی بدن نجاسۃ حقیقیۃ اوحکمیۃ کالجنابۃ والحدث وکل وجہ علی وجہین اما ان ینغمس لطلب الدلو اوالتبرد اوالاغتسال وفی المسألۃ حکمان حکم الماء الذی فی البئر وحکم الداخل فیھا فان کان طاھرا وانغمس لطلب الدلو اوللتبرد لایصیر مستعملا بالاجماع لعدم ازالۃ الحدث واقامۃ القربۃ وان انغمس فیھا للاغتسال عہ۱ صار الماء مستعملا عند اصحابنا الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم لوجود اقامۃ القربۃ وعند زفر والشافعی رحمھما اللّٰہ تعالٰی لایصیر مستعملا لانعدام ازالۃ الحدث والرجل طاھرفی الوجہین جمیعا ۱؎ اھ۔
میں کہتا ہوں: سیز دہم: امام ملک العلماء قدس سرہ نے بدائع میں ذکر کیا کہ وہ کون سے مقامات ہیں جہاں ضرورتاً پانی کے مستعمل ہونے کا حکم ساقط ہوجاتا ہے، جیسے چُلّو بھرنے کیلئے ہاتھ کا پانی کے برتن میں ڈالنا اور ڈول تلاش کرنے کیلئے پیر کا کنویں میں ڈالنا، پھر انہوں نے فرمایا کہ اگر کسی نے برتن یا کنویں میں اپنا جسم کے بعض حصے کو ڈال دیا ہاتھ پیر کے علاوہ، تو پانی فاسد ہوجائے گا کیونکہ یہ بے ضرورت ہے اور اسی اصل پر کنویں کے مسئلہ کی تخریج کی جائے گی کہ جنب انسان اس میں ڈول کی تلاش میں اُترا ہو بغیر نیت غسل کے بشرطیکہ اس کے جسم پر کوئی حقیقی نجاست موجود نہ ہو، اور خلاصہ یہ کہ اس میں بحث یہ ہے کہ یا تو غوطہ لگانے والا پاک ہوگا یا ناپاک ہوگا، مثلاً یہ کہ اس کے جسم پر حقیقی یا حکمی نجاست موجود ہو جیسے جنابۃ اور حدث، اور ہر وجہ کی پھر دو وجہیں ہیں یا تو غوطہ ڈول کی تلاش میں لگائے یا ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے اور اس مسئلہ میں دو حکم ہیں ایک تو اُس پانی کا حکم جو کنوئیں میں ہے اور دوسرے اُس شخص کا حکم جو کنویں میں داخل ہوا، اگر وہ پاک ہے اور اس نے ڈول نکالنے یا ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے غوطہ لگایا تھا، تو پانی بالاتفاق مستعمل نہ ہوگا، کیونکہ اس پانی سے نہ تو حدث کا ازالہ کیا گیا ہے اور نہ کوئی قربۃ ادا کی گئی ہے اور اگر اس میں غسل کیلئے غوطہ کھایا تو ہمارے اصحاب ثلثہ کے نزدیک پانی مستعمل ہوجائے گا کیونکہ اس سے قربۃ ادا ہوئی ہے اور زفر اور شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک مستعمل نہ ہوگا کیونکہ اس سے حدث زائل نہیں کیا گیا ہے اور آدمی دونوں صورتوں میں پاک ہے اھ۔
(عہ۱) یرید الاغتسال علی وجہ القربۃ بدلیل التعلیل وھو المرادفی سائر المواضع الاٰتیۃ دون الاغتسال لازالۃ درن اودفع حر فانہ والتبرد سواء لایفید الاستعمال اذا کان من طاھر لانعدام السببین اھ۔ منہ حفظہ ربہ تبارک وتعالٰی۔ (م)
علت کے بیان سے معلوم ہوا ہے کہ قربت کے طور پر غسل مراد ہے اور آئندہ تمام مقامات میں یہی مراد ہے، میل کو دُور کرنے یا گرمی کو دفع کرنے کا غسل مراد نہیں کیونکہ جب طاہر آدمی دفعِ گرمی اور حصولِ ٹھنڈک کیلئے غسل کرے تو پانی مستعمل نہ ہوگا کہ دونوں ازالہ حدث اور اقامت قربت نہیں پائے گئے اھ (ت)
(۱؎ بدائع الصنائع فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۶۹)
فانظر إلی قولہ فی المسألۃ حکمان حکم الماء الذی فی البئر فھل تری ان الذی فی البئر ھو مالاقی سطح بدنہ عند الانغماس کلا بل کل مافی البئر وھو المقصود بیان حکمہ وقد حکم علیہ فی الصورۃ الثانیۃ بانہ صار مستعملا باجماع ائمتنا الثلثۃ رضی اللہ تعالی عنھم وفیھم محمد القائل بطھارتہ وقد حکم بانہ بالانغماس سلب ماء البئر طھوریتہ فظھر ان حکم الاستعمال لیسری فی الماء القلیل کلہ سریان حکم النجاسۃ باجماع اصحابنا رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم فان السریان علی القول بنجاسۃ الماء المستعمل ظاھر لاخلف فیہ وھذا محمد القائل بالطھارۃ قد حکم بالسریان فکان القول بہ مجمعا علیہ ولم یبق لاحد بالخلاف ید ان بل یظن ان ملک العلماء ماش ھہنا علی جعل طہارۃ الماء المستعمل متفقا علیھا بین اصحابنا کما قال فی(۱) البدائع ومشائخ العراق لم یحققوا الخلاف فقالوا انہ طاھر غیر طھور عند اصحابنا رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم حتی روی عن القاضی ابی حازم العراقی انہ کان یقول انا نرجو ان لاتثبت روایۃ نجاسۃ الماء المستعمل عن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ وھو اختیار المحققین من مشائخنا بما وراء النھر ۱؎ اھ۔
اب ان کے اس قول کو دیکھئے جس میں وُہ فرماتے ہیں :کہ مسئلہ میں دو حکم ہیں ایک تو اس پانی کا حکم جو کنویں میں ہے، تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کنویں میں وہی پانی ہے جو غوطہ کے وقت سطحِ بدن سے ملاقی ہوا تھا؟ ہرگز نہیں، بلکہ کُنویں کا کُل پانی ہے اور اسی کا حکم بیان کرنا مقصود ہے، اور دوسری صورت میں اس پر یہی حکم ہوا ہے کہ وہ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک مستعمل ہوگیا ہے، ان میں امام محمد بھی شامل ہیں جو اس کی طہارت کے قائل ہیں، اور انہوں نے فرمایا کہ غوطہ کی وجہ سے پانی کے پاک کرنے والی صفت سلب ہوگئی ہے تو ظاہر ہوا کہ استعمال کا حکم تھوڑے پانی میں مکمل طور پر جاری ہوتا ہے، جیسے کہ نجاست کا حکم، اس پر ہمارے اصحاب کا اجماع ہے کیونکہ سرایت کرنا مستعمل پانی کو نجس کہنے کی صورت میں ظاہر ہے، اس میں خلاف نہیں، اور امام محمد جو پانی کی طہارت کے قائل ہیں سرایت کا حکم دے رہے ہیں تو گویا یہ قول اجماعی ہے، اس میں کسی کا خلاف نہیں رہا بلکہ یہاں یہ گمان بھی کیا گیا ہے کہ ملک العلماء نے پانی کے پاک ہونے کو ہمارے اصحاب کے درمیان متفق علیہ قرار دیا ہے جیسا کہ بدائع میں فرمایا ہے، اور مشائخ عراق نے اختلاف کی تحقیق نہیں کی، تو انہوں نے فرمایا کہ یہ طاہر تو ہے مگر طاہر کرنے والا نہیں، یہ ہمارے اصحاب رضی اللہ عنہم کے نزدیک ہے، یہاں تک کہ قاضی ابو حازم العراقی سے مروی ہے کہ وُہ فرماتے تھے کہ ہمیں توقع ہے کہ مستعمل پانی کی نجاست کی روایت ابو حنیفہ کے نزدیک ثابت نہیں ہے اور یہی ہمارے وراء النہر کے محققین مشائخ کا مختار ہے اھ
(۱؎ بدائع الصنائع فصل فی الطہارۃ الحقیقۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۶۷)
وذلک لان سوق کلامہ ھھنا کما قدم لاحاطۃ احکام الماء والرجل فی جمیع الصور المحتملۃ ھنا وقد التزم فی کل صورۃ بیان الخلاف بین ائمتنا الثلثۃ ان کان وفصل فی شقی الطاھر حکم الماء فقال فی الاوّل لایصیر مستعملا بالاجماع وفی الثانی صار مستعملا عند ائمتنا الثلثۃ خلافا لزفر والشافعی بقی علیہ بیان حکم الرجل فی المسئلتین عند ائمتنا فجمعھما وقال الرجل طاھرفی الوجھین جمیعا فکما انہ یستحیل عند الذوق السلیم کون ھذا تتمۃ قول زفر والشافعی فیبقی ساکتا عن بیان حکم الرجل فی الوجہین عند ائمتنا رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم کذلک یبعد ان یکون ھذا قول بعض دون بعض منھم اذلو کان کذلک لبین الخلاف کما بین فی سائر الصور ولم یأت بہ ھکذا مرسلا لایھام الخلاف اعنی عدم الخلاف مع وجودہ لاسیما مع قرینتی الاجماع والاتفاق فی حکم الماءفی ھذین الوجہین فلا ینقدح فی الذھن الاکونہ وفاقیا بین اصحابنا کقرینتیہ السابقتین وھذا لایتأتی الا علی القول بطھارۃ الماء المستعمل حیث لم یتنجس الماء فلا یحتمل ان ینجس الطاھر بخلاف مااذا قیل بنجاسۃ اذیتطرق القول بان الماء تنجس فنجس فلا یکون الرجل طاھر اوفاقا ۔
اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ان کے کلام کی روش جیسا کہ گزرا پانی کے احکام کے احاطہ کیلئے ہے اور مرد کے احکام کی بابت ہے یہ تمام محتمل صورتوں میں ہے، اور انہوں نے یہ التزام کیا ہے کہ ہر صورۃ میں ہمارے ائمہ ثلثہ کا اختلاف بیان کیا ہے اگر واقعۃً اختلاف ہو۔ اور پاک کی دونوں شقوں میں پانی کا حکم تفصیلاً ذکر کیا ہے، پہلی صورت میں کہا بالاجماع مستعمل نہ ہوگا اور دوسری صورت میں کہا مستعمل ہوگیا ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک، اس میں زفر اور شافعی کا خلاف ہے اب ان پر یہ بیان کرنا باقی ہے کہ دونوں مسئلوں میں اُس شخص کا حکم ہمارے ائمہ کے نزدیک کیا ہے، تو ان دونوں کو جمع کردیا اور فرمایا کہ دونوں صورتوں میں وہ شخص پاک ہے، تو جس طرح ذوق سلیم پر یہ گراں ہے کہ اس کو زفر وشافعی کے اقوال کا تتمہ قرار دیا جائے، اور مرد کے حکم میں ہمارے ائمہ دونوں صورتوں میں خاموش رہے، یوں یہ بعید ہے کہ یہ قول بعض کا ہو اور بعض کا نہ ہو، اس لئے کہ اگر ایسا ہوتا تو وہ اختلاف کو ضرور بیان کرتے جیسا کہ تمام صورتوں میں بیان کیا ہے لیکن اس کو انہوں نے اس طرح مطلق ذکر نہ کیا تاکہ خلاف کا ایہام ہو یعنی عدمِ خلاف مع وجود خلاف بالخصوص جبکہ دو قرینے اجماع اور اتفاق کے اس امر پر موجود ہیں کہ دونوں صورتوں میں پانی کا حکم کیا ہے لہٰذا ذہن میں جو خلش ہے وہ اس کی ہے کہ یہ مسئلہ ہمارے اصحاب کے درمیان اتفاقی ہے، جیسے اس کے دو سابقہ قرینے ہیں، اور یہ اُسی صورت میں ہوگا جبکہ مستعمل پانی کی طہارت کا قول کیا جائے اس لئے کہ پانی نجس نہیں ہوا، تو یہ احتمال نہیں ہے کہ وہ پاک کو نجس بنا دے بخلاف اس صورت کے کہ پانی کو نجس کہا جائے کہ اس صورت میں کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ پانی نجس ہوگیا ہے اس لئے اس نے طاہر کو نجس کردیا تو مرد بالاتفاق پاک نہ ہوگا۔