وعن ابی جریج قال قلت لعطاء رأیت رجلا توضأفی ذلک الحوض متکشفا فقال لاباس بہ قدفعلہ ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما وقد علم انہ یتوضؤ منہ الابیض والاسود وفی روایۃ وکان ینسکب من وضوء الناس فی جوفھا قال وکأنھم رأوا حدیث المستیقظ خاصا بہ او انہ امر تعبدی علی أن ابن ابی شیبۃ قد روی عن أبی معویۃ عن الاعمش عن ابرھیم قال کان اصحاب عبداللّٰہ رضی اللّٰہ تعالی عنہ اذا ذکر عندھم حدیث ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ قالوا کیف یصنع أبو ھریرۃ بالمھراس الذی بالمدینۃ ۱؎ اھ فھذا کل ما أتی ÷ بہ فی ھذا الباب فی کتابہ ÷ رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی ماٰبہ۔
اور ابن جریج سے مروی ہے اُنہوں نے کہا کہ میں نے عطا سے کہا کہ ایک شخص نے حوض میں ننگے ہو کر غسل کیا تو انہوں نے کہا اس میں حرج نہیں، خود ابن عباس نے ایسا کیا حالانکہ ان کو معلوم تھا کہ اس میں سیاہ وسپید سب ہی غسل کرتے ہیں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اس حوض میں لوگوں کے وضو کا پانی گرتا تھا، فرمایا کہ غالباً انہوں نے مستیقظ کی حدیث کو اُسی کے ساتھ خاص دیکھا یا یہ کہ یہ امر تعبدی ہے، علاوہ ازیں ابن شیبہ نے ابو معٰویہ سے اعمش سے ابراہیم سے روایت کی کہ ا صحاب عبداللہ کے سامنے جب حضرت ابو ھریرہ کی حدیث کا ذکر آتا تھا تو فرماتے تھے کہ ابو ھریرہ مہراس میں کیا کرتے تھے جو مدینہ میں تھی اھ اس باب میں اس قسم کی چیزیں ذکر کی ہیں۔
(۱؎ رسالہ علامہ قاسم (
اقول: وباللّٰہ التوفیق الکلام فیہ من وجوہ الاوّل من العجب(۱) استنادہ رحمہ اللّٰہ تعالی بعبارۃ المبتغی فلیس فیھا أثر مما ابتغی لان کلامہ عہ فی الحوض الکبیر الاتری إلی قولہ إن ماء الحوض فی حکم ماء جار ومعلوم قطعا أن ذلک انما ھوفی الحوض الکبیر ذی الماء الکثیر اما الصغیر فکالاوانی وقد قال(۱) العلامۃ نفسہ فی ھذہ الرسالۃ أن ماء الاوانی یتنجس بوقوع النجاسۃ وإن لم یتغیر قال وما کان فی غدیر اومستنقع وھو نحو ماء الاوانی فھو ملحق بھا إذلا اثر للمحل۔ ۱؎ اھ
میں بتوفیق الٰہی کہتا ہوں کہ اس میں چند وجوہ سے کلام ہے:اول تعجب ہے کہ انہوں نے مبتغی کی عبارت سے استدلال کیا ہے، حالانکہ وہ جو چاہتے تھے اس میں موجود نہیں، کیونکہ اس میں وہ بڑے حوض کے بارے میں گفتگو کررہے ہیں جیسا کہ آپ ان کے قول ان ماء الحوض فی حکم ماء جار سے معلوم کرسکتے ہیں اور یہ قطعی معلوم ہے کہ حوض وہی ہوگا جس میں پانی بہت زیادہ ہو اور چھوٹا حوض تو برتنوں کی طرح ہے، خود علامہ نے اس رسالہ میں فرمایا کہ برتنوں کا پانی نجاست کے گرنے سے نجس ہوجائے گا خواہ اس میں تغیر نہ ہو، فرمایا جو پانی تالاب اور گڑھے میں ہو وہ برتنوں کے پانی کے برابر ہو تو وہ بھی برتنوں کے ساتھ ملحق ہے کیونکہ محل کا کوئی اثر نہیں اھ
(۱؎ رسالہ علامہ قاسم (
عــہ: ثم رأیت التصریح بہ فی کلام شیخہ المحقق علی الاطلاق حیث اورد کلام المبتغی فی مسائل الماء الکثیر ثم قال وانما اراد الحوض الکبیر بالضرورۃ اھ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
پھر میں نے اس کی تصریح ان کے شیخ محقق علی الاطلاق کے کلام میں دیکھی جہاں انہوں نے کثیر پانی کے مسائل میں مبتغی کا کلام وارد کیا پھر فرمایا بالضرورۃ اس سے مراد حوضِ کبیر ہے اھ (ت)
الثانی قدمنا(۲)فی نمرۃ۳۸ عن المبتغی التصریح بان الماء یفسد بادخال الکف ۲؎ الثالث کذلک(۳) لاأثر لتأیید شیئ من مقصودہ فی عبارۃ کتاب الاثار فلیس أن الرجل یدخل یدہ فی الاناء قبل الغسل اوالمرأۃ ثم یغتسلان منہ وکیف یظن ھذا برسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم او ام المؤمنین رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا وانما مراد محمد رحمہ اللّٰہ تعالی نفی قول من ابطل الوضوء بفضل وضوء المرأۃ مطلقا اواذا کانت جنبا اوحائضا وھما قولان للحنابلۃ والمالکیۃ ولذا قال بدأت قبلہ اوبدأ قبلہا وترجم لہ باب غسل الرجل والمرأۃ من إناء واحد من الجنابۃ ۔۳؎
دوم نمبر ۳۸ میں ہم نے مبتغی کی تصریح کہ پانی ہاتھ ڈالنے سے خراب ہوگا،سوم اسی طرح کتاب الآثار سے بھی ان کی تائید نہیں ملتی ہے، اس میں یہ نہیں کہ کوئی شخص اپنا ہاتھ دھوئے بغیر برتن میں ڈالے یا عورت ڈالے پھر دونوں اس سے غسل کریں، اور اس قسم کا گمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المومنین حضرت عائشہ سے کیسے ہوسکتا ہے، امام محمد کا مقصود تو صرف ان لوگوں کے قول کی تردید ہے جو عورت کے بچے ہوئے پانی سے مطلق مرد کیلئے وضو کرنے کو باطل قرار دیتے ہیں یا جب عورت جنب یا حائض ہو، اوریہی دو قول حنابلہ ومالکیہ کے ہیں، اور اس لئے فرمایا، عورت نے مرد سے پہلے یا مرد نے عورت سے پہلے ابتدا کی ہو، اور اس کا عنوان یہ قائم کیا ''باب عورت اور مرد کے ایک برتن سے غسلِ جنابت کرنے کے بیان میں'' ،
(۲؎ بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱/۷۱)
(۳؎ کتاب الاثار غسل الرجل والمرأۃ من اناء واحد من الجنابۃ ادارۃ القرآن کراچی ص۱۰)
الرابع قد اوضح(۴) رضی اللّٰہ تعالی عنہ مرادہ الشریف فی مؤطاہ المنیف إذ قال باب الرجل یغتسل اویتوضأ بسور المرأۃ اخبرنا مالک حدثنا نافع عن ابن عمر رضی اللّٰہ تعالی عنھما أنہ قال لاباس بأن یغتسل الرجل بفضل وضوء المرأۃ مالم تکن جنبا اوحائضا قال محمد لابأس بفضل وضوء المرأۃ وغسلھا وسؤرھا وإن کانت جنبا اوحائضا بلغنا أن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کان یغتسل ھو وعائشۃ من إناء واحد یتنازعان الغسل جمیعا فھو فضل غسل المرأۃ الجنب وھو قول ابی حنیفہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی۔ ۱؎
چہارم امام محمد نے اپنی مراد کی وضاحت اپنی مؤطا میں کردی ہے، فرمایا: باب اس بیان میں کہ مرد عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے۔ ہمیں مالک نے خبر دی، ہم سے نافع نے ابن عمر سے روایت کی، انہوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں کہ مرد عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے، بشرطیکہ جنب یا حائض نہ ہو۔ محمد نے فرمایا اس میں حرج نہیں کہ عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا جائے خواہ وہ اس کے وضو کا ہو یا غسل کا ہو یا جھوٹا ہو اور خواہ وہ جنب ہو یا حائض ہو، ہمیں حدیث پہنچی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ عائشہ ایک ہی برتن سے پانی چھین جھپٹ کر غسل کرتے تھے، یہ جنب عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کا ثبوت ہے، اور یہی ابو حنیفہ کا قول ہے۔
(۱؎ موطا امام محمد الرجل یغتسل اویتوضأ بسؤر المرأۃ مجتبائی لاہور ص۸۳)
الخامس: قدمنا(۱) عن الائمۃ ابی بکر الرازی وشمس الائمۃ السرخسی والاسبیجابی والولوالجی وابی زید الدبوسی والزیلعی وابن الھمام وغیرھم الجم الغفیر غفراللّٰہ تعالی لنابھم وعن الخلاصۃ عن نفس کتاب الاصل لمحمد صرائح نصوصہ فی الحکم بخصوصہ فکیف یحمل ھذا الکلام علی خلاف وباللّٰہ التوفیق۔
پنجم ہم نے ابو بکر الرازی، شمس الائمہ سرخسی، اسبیجابی، ولوالجی، ابو زید الدبوسی، زیلعی، ابن الھمام وغیرہم، جلیل القدر ائمہ کی ایک عظیم جماعت سے پہلے ہی نقل کیا ہے اور خلاصہ سے امام محمد کی اصل کی تصریح نقل کی ہے کہ اسی میں خاص حکم بیان کیا ہے تو اس کلام کو اس کے خلاف پر کیونکر محمول کیا جاسکتا ہے وباللہ التوفیق۔ السادس: ماذکر(۲) رحمہ اللّٰہ تعالٰی عن ابن عباس والامام الباقر والحسن البصری وابن سیرین وابراھیم النخعی والزھری رضی اللّٰہ تعالی عنھم لایمس المقصود لانہ فی الملقی والکلام فی الملاقی۔
ششم انہوں نے جو ابن عباس، امام باقر، حسن بصری، ابن سیرین، ابراہیم نخعی اور زہری رضی اللہ عنہم سے نقل کیا ہے وہ مقصود سے متعلق نہیں کیونکہ وہ ملقی کے بارے میں ہے جبکہ گفتگو ملاقی کی بابت ہے۔
السابع: ماذکر(۳) أخرا عن عطاء وابن عباس رضی اللّٰہ تعالی عنھم فاخرہ فی الملقی ولا حجۃفی اولہ فإنہ ان کان المراد التوضی فی الحوض بحیث تسقط الغسالۃفیہ کالتوضی فی الطست فھو من الملقی وان کان المراد التوضی بادخال الیدفیہ للاغتراف فقد مر ان ھذا القدر معفو عنہ عند عدم اٰنیۃ وان فرض ان المراد أن یلج الحوض ویتوضأفیہ لم تنتھض أیضا حجۃ إذلیس فیہ بیان قدر الحوض فجاز أن یکون کبیرا۔
ہفتم: جو آخر میں انہوں نے عطا اور ابن عباس سے نقل کیا ہے تو اس کا آخری حصہ ملقی میں ہے اور اس کے اول میں کوئی حجت نہیں، کیونکہ اگر مراد حوض سے وضو کرنا ہے کہ اس طرح اس کا دھوون حوض میں گرے جیسے طشت میں وضو کیا جاتا ہے تو وہ مُلقٰی سے ہے اور اگر مراد یہ ہو کہ حوض میں ہاتھ ڈال کر چلّو بھر کر وضوکیا تو گزر چکا ہے کہ اِس قدر کو شرع نے معاف رکھا ہے جبکہ دوسرے برتن نہ ہوں، اور اگر مراد یہ ہو کہ حوض میں اتر کر وضو کیا تو بھی حجت قائم نہ ہوگی کیونکہ اس میں حوض کے سائز کا ذکر نہیں، پس ممکن ہے کہ حوض بڑا ہو۔
الثامن :کذلک(۱) حدیث سعد رضی اللّٰہ تعالی عنہ فإنہ فی الحیض قبل الانقطاع وقدمنا عن الخانیۃ والخلاصۃ وغیرھما أنھا لاتفسد الماء اذا ذاک لعدم السببین سقوط الفرض واقامۃ القربۃ۔
ہشتم: اسی طرح سعد کی حدیث ہے کیونکہ وہ حیض کے منقطع ہونے سے قبل سے متعلق ہے اور ہم نے خانیہ اور خلاصہ وغیرہما سے نقل کیا کہ یہ پانی کو خراب نہیں کرتا، کیونکہ دونوں سبب ہی موجود نہیں ہیں نہ تو سقوط فرض ہے اور نہ ہی قربۃ کی ادائیگی ہے۔
التاسع: ماذکر(۲) عن عامر فظاھر ان لفظۃ یعنی قبل ان یغسلوھا مدرج فی الحدیث ولا یدری قول من ھو ولاحجۃفی المجہول۔
نہم: جو عامر سے نقل ہوا تو ظاہر یہ ہے کہ "قبل ان یغسلوھا'' کا لفظ حدیث میں مندرج ہے، اور معلوم نہیں کہ یہ کس کا قول ہے، اور مجہول سے استدلال نہیں ہوتا۔
العاشر: ماحکی (۳) عن الحسن یعارضہ مافی البدائع عنہ فی وقوع قلیل ماء مستعمل فی الماء سئل الحسن البصری عن القلیل فقال ومن یملک نشر الماء وھو ما تطایر منہ عندالوضوء وانتشر اشار الی تعذر التحرز عن القلیل فکان القلیل عفو اولا تعذرفی الکثیر فلا یکون عفوا ۱؎ اھ ھذا کلامہ فی الملقی فکیف فی الملاقی
دہم: جو حسن سے نقل کیا گیا ہے وہ اس کے مخالف ہے جو انہی سے بدائع میں نقل کیا گیا ہے یعنی یہ کہ کم پانی میں اگر مستعمل پانی گر جائے تو کیا حکم ہوگا، حسن بصری سے کم کی بابت پوچھا گیا، تو آپ نے جواب دیا کہا پانی کے چھینٹوں کا مالک کون ہے؟ تو کم تو تعذر کی وجہ سے معاف ہے مگر زائد میں یہ صورت نہیں تو وہ معاف نہ ہوگا، ان کی یہ گفتگو مُلْقٰی میں ہے تو ملاقی میں کیا حال ہوگا۔
(۱؎ بدائع الصنائع بحث الماء المستعمل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۶۸)
الحادي عشر: ما(۴) حکی عن سعید فعلی تقدیر الصحۃ عنہ مذھب تابعی فکیف یحتج بہ علی المذھب وکفی(۵) بہ جوابا عن سائر الاثار ۔
یا زدہم: جو سعید سے نقل کیا گیا ہے اگر وہ صحیح ہو تو وہ ایک تابعی کا مذہب ہے تو اس سے مذہب پر کیسے استدلال ہوسکتا ہے اور یہی جواب دوسرے آثار میں ملحوظِ خاطر رکھنا چاہئے۔
الثاني عشر: کذلک(۶) العبارۃ الثالثۃ عن البدائع بمعزل عن المقصود فانھافی الملقی ولا کلام فیہ الا تری إلی قولہ ثم الکثیر عند محمد مایغلب علی الماء المطلق وعندھما ان یستبین مواقع القطرفی الاناء ۱؎ اھ ۔
دوا زدہم: اس طرح بدائع سے نقل کردہ تیسری عبارت بھی مقصود سے الگ ہے کیونکہ وہ مُلْقٰی کی بابت ہے اور اس میں گفتگو نہیں، اس میں یہ بھی ہے کہ ''پھر محمد کے نزدیک کثیر وہ ہے جو مطلق پانی پر غالب آجائے اورشیخین کے نزدیک یہ کہ قطروں کی جگہ برتن میں ظاہر ہوجائے اھ۔
(۱؎ بدائع الصنائع بحث الماء المستعمل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۶۸)