Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
31 - 176
قلت: وتمامہ فاما ملاقاۃ النجس الطاھر فتوجب تنجیس الطاھر وان لم یغلب علی الطاھر لاختلاطہ بالطاھر علی وجہ لایمکن التمییز بینھما فیحکم بنجاسۃ الکل ۲؎ اھ۔
میں کہتا ہوں مکمل اس طرح ہے، اور نجس کا طاہر کو ملاقی ہونا طاہر کو نجس کردیتا ہے اگرچہ طاہر پر غالب نہ ہو کیونکہ وہ طاہر سے اس طور پر مل گیا ہے کہ دونوں میں امتیاز ممکن نہیں رہا ہے تو کل کی نجاست کا حکم کیا جائے گا اھ۔
 (۲؎ بدائع الصنائع    فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ    سعید کمپنی کراچی    ۱/۶۷)
قال وقال فی موضع اٰخر(ای بعدہ، بورقات) فیمن وقع فی البئر فان کان علی بدنہ نجاسۃ حکمیۃ بان کان محدثا اوجنبا اوحائضا اونفساء(ای وقد انقطعا عنھما) فعلی قول من لا یجعل ھذا الماء مستعملا(قلت یرید الامام ابا یوسف رحمہ اللّٰہ تعالی لاشتراطہ الصبّ) لاینزح شیئ لانہ طھور وکذا علی قول من جعلھا مستعملا وجعل المستعمل طاھرا(یرید محمدا رحمہ اللّٰہ تعالٰی) لان غیرالمستعمل اکثر فلا یخرج عن کونہ طھورا مالم یکن المستعمل غالبا علیہ کما لوصب اللبن فی البئر بالاجماع اوبالت شاۃ فیھا عند محمد ۳؎ رحمہ اللّٰہ تعالی انتھی۔
کہا، اور دوسرے مقام پر فرمایا(یعنی اس کے کچھ ورق بعد) اس شخص کی بابت جو کنویں میں گر پڑا تو اگر اس کے بدن پر نجاست حکمیہ ہو مثلاً یہ کہ وہ بے وضو یا جنب یا حیض ونفاس والی عورت ہو(یعنی ان دونوں عورتوں کی ناپاکی ختم ہوچکی ہو) تو اُس کے قول پر جو پانی کو مستعمل قرار نہیں دیتا ہے(میں کہتا ہوں اس سے ان کی مراد امام ابو یوسف ہیں جن کے نزدیک بہانا شرط ہے) کنویں سے کچھ بھی نہیں نکالا جائے گا کیونکہ وہ پاک کرنے والا ہے، اور اسی طرح اُن کے قول پر جو پانی کو مستعمل کہتے ہیں اور مستعمل کو پاک کہتے ہیں(امام محمدمراد ہیں) کیونکہ غیر مستعمل زائد ہے تو ظہور ہونے سے اس وقت تک خارج نہ ہوگا جب تک مستعمل پانی غالب نہ ہوجائے، مثلاً دودھ کنویں میں ڈال دیا جائے،اور یہ بالاجماع ہے، یا بکری نے کنویں میں پیشاب کردیا، امام محمد کے نزدیک انتہی۔
 (۳؎ بدائع الصنائع    بیان مقدار الذی یصیر بہ المحل نجساً    ۱/۷۴)
قلت: وتمامہ واما علی قول من جعل ھذا الماء مستعملا وجعل الماء المستعمل نجسا(یرید الامام رضی اللّٰہ تعالی عنہ علی روایۃ الحسن بن زیاد رحمہ اللّٰہ تعالٰی عنہ نجاسۃ الماء المستعمل وان کانت روایتہ عنہ رضی اللّٰہ تعالی عنہ فی خصوص المسألۃ ماسیذکرہ) ینزح ماء البئرکلہ کما لووقعت فیھا قطرۃ من دم اوخمر وروی الحسن عن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ انہ ان کان محدثا ینزح اربعون وان کان جنبا ینزح کلہ وھذہ الروایۃ مشکلۃ لانہ لا یخلو اما ان صار ھذا الماء مستعملا اولا فان لم یصر مستعملا لایجب نزح شیئ لانہ بقی طھورا کما کان وان صار مستعملا فالماء المستعمل عند الحسن نجس نجاسۃ غلیظۃ فینبغی ان یجب نزح جمیع الماء ۱؎ اھ۔
میں کہتا ہوں اس کا مکمل یہ ہے کہ، اور ان لوگوں کے قول پر جنہوں نے اس پانی کو مستعمل قرار دیا ہے اور مستعمل پانی کو نجس قرار دیا ہے(اس سے مراد امام ابو حنیفہ ہیں بروایت حسن بن زیاد کہ مستعمل پانی نجس ہوگا اگرچہ حسن کی روایت ابو حنیفہ سے خاص اسی مسئلہ میں ہے کہ جیسا وہ ذکر کریں گے) کُنویں کا کُل پانی نکالا جائے گا، جیسے کہ کُنویں میں خُون یا شراب کا قطرہ گر جائے، اور حسن نے ابو حنیفہ سے روایت کی کہ اگر بے وضو ہو تو چالیس ڈول پانی نکالا جائے گا اور اگر جنب ہو تو کل پانی نکالا جائے گا،اور یہ روایت مشکل ہے کہ یا تو یہ پانی مستعمل ہوگا یا نہیں تو اگر مستعمل نہیں ہے تو کچھ بھی پانی نہ نکالا جائے گا، کیونکہ وہ بدستور پاک ہے جیسا کہ تھا، اور اگر مستعمل ہوگیا تو حسن کے نزدیک مستعمل پانی نجاست غلیظہ ہے تو کنویں کا کُل پانی نکالنا چاہئے اھ
 (۱؎ بدائع الصنائع    بیان مقدار الذی یصیربہ المحل نجسا        سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۴)
وانما ننقل ھذہ التمامات لفوائد ستعرفھا بعون اللّٰہ تعالٰی قال وقال فی موضع اٰخر(ای قبل ھذا باوراق وبعد الاول بقلیل) لواختلط الماء المستعمل بالماء القلیل قال بعضھم لایجوز التوضی بہ وان قل وھذا فاسد اما عند محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی فلانہ طاھر لم یغلب علی الماء المطلق فلا یغیرہ عن صفۃ الطھوریۃ کاللبن واما عندھما رضی اللّٰہ تعالی عنہما فلان القلیل مما لایمکن التحرز عنہ یجعل عفوا ثم الکثیر عند محمد مایغلب علی الماء المطلق وعندھما ان یستبین موضع القطرۃ فی الاناء انتھی۔ ۱؎
یہ جو کچھ ہم نے نقل کیا ہے اُن فوائد کی خاطر ہے جن کو آپ اِن شاء اللہ پہچانیں گے، فرمایا اور کہا ایک دوسرے مقام پر(یعنی اس سے چند ورق پہلے اور پہلے سے کچھ بعد) اگر ماء مستعمل تھوڑے پانی میں مل گیا تو بعض کے نزدیک اُس سے وضو جائز نہیں خواہ وہ کم ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ فاسد ہے امام محمد کے نزدیک تو اس لئے کہ یہ پاک ہے اور ماء مطلق پر غالب نہیں ہوا ہے، تو اس کو طہوریت کی صفت سے تبدیل نہیں کرے گا جیسے دودھ، اور شیخین کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ تھوڑے سے بچنا ممکن نہیں اس لئے معاف ہے پھر امام محمد کے نزدیک کثیر وہ ہے جو مطلق پانی پر غالب آجائے۔ اور شیخین کے نزدیک یہ ہے کہ قطرہ کی جگہ برتن میں ظاہر ہوجائے، انتہیٰ،
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل فی الطہارت الحقیقیۃ    سعید کمپنی کراچی    ۱/۶۸)
قال وقد علمت ان الصحیح المفتی بہ روایۃ محمد عن ابی حنیفۃ رحمھما اللّٰہ تعالیٰ ۲؎ اھ
فرمایا تمہیں معلوم ہوچکا ہے کہ صحیح مفتی بہ محمد کی روایت ابو حنیفہ سے ہے اھ
 (۲؎ الاشتباہ عن مسألۃ المیاہ)
ای فلا یفسد قلیلہ لان غیر المستعمل اکثر الثانی: قال وقال محمد(۱) فی کتاب الاثار بعد روایۃ حدیث عائشۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہا ولا باس ان یغتسل الرجل مع المرأۃ بدأت قبلہ او بدأ قبلھا ۳؎
یعنی قلیل پانی کو فاسد نہیں کرتا ہے کیونکہ غیر مستعمل زائد ہے۔ ثانی: فرمایا، محمد نے کتاب الاثار میں حضرت عائشہ کی اس حدیث۔ کوئی حرج نہیں کہ مرد عورت کے ساتھ غسل کرے خواہ مرد پہل کرے یا عورت۔ کے بعد
 (۳؎ کتاب الاثار    باب غسل الرجل والمرأۃ من اناء واحد     ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ص۱۰)
قال اذا عرفت ھذا لم تتأخر عن الحکم بصحۃ الوضوءمن الفساقی الموضوعۃ فی المدارس عند عدم غلبۃ الظن بغلبۃ الماء المستعمل او وقوع نجاسۃ فی الصغار منھا قال فان قلت اذا تکرر الاستعمال ھل یمنع قلت الظاھر عدم اعتبار ھذا المعنی فی النجس فکیف بالطاھر قال قال فی المبتغی(وھو الثالث) قوم یتوضؤن صفا علی شاطیئ النھر جاز فکذا فی الحوض لان حکم ماء الحوض فی حکم ماء جار انتھی ۴؎۔
فرمایا کہ اس سے بآسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ مدارس میں جو برتن رکھے ہوتے ہیں اُن سے غسل کرلینے میں حرج نہیں، جبکہ یہ ظن غالب نہ ہو کہ مستعمل پانی غالب ہوگیا ہے یا چھوٹے برتن میں نجاست پڑچکی ہے۔ فرمایا اگر تم یہ کہو کہ جب استعمال بار بار ہو تو کیا وضو یا غسل منع ہے؟ میں کہتا ہوں بظاہر اس وصف کا اعتبار نجس پانی میں نہ ہوگا تو طاہر میں کیسے ہوگا؟ فرمایا کہ انہوں نے مبتغیٰ میں فرمایا(یہ تیسرا ہے) اگر کچھ لوگ صف باندھ کر نہر کے کنارے پر وضو کریں تو جائز ہے، حوض کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ حوض کا پانی جاری پانی کے حکم میں ہے انتہیٰ۔
 (۴؎ الاشتباہ عن مسألۃ المیاہ)
قلت: ای ان المنع انما یکون لسقوط الغسالۃ فیھا اولادخال المحدثین ایدیھم فیھا والکل غیر مانع علی ماتقرر عندہ ثم اتی باثار بعضھا فی الملاقی وبعضھا فی الملقی فقال وقدروی ابن ابی شیبۃ عن الحسن فی الجنب یدخل یدہ فی الاناء قبل ان یغسلہا قال یتوضؤبہ ان شاء وعن سعید بن المسیب لاباس الجنب عــہ۱ یدہ فی الاناء قبل ان یغسلھا ۱؎ وعن عائشۃ بنت سعد قالت کان سعد یامرالجاریۃ بتناولہ الطھور من الحوض فتغمس یدھا فیھا فیقال انھا حائض فیقول انا حیضتہا وعن عامر قال کان اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یدخلون ایدیھم فی الاناء وھم جنب والنساء حیض لایرون بذلک بأسا یعنی قبل ان یغسلوھا وعن ابن عباس فی الرجل یغتسل من الجنابۃ فینضح فی انائہ من غسلہ فقال لاباس بہ ۲؎
میں کہتا ہوں، یعنی منع اس لئے ہے کہ دھوون اس میں گرتا ہے یا اس لئے کہ بے وضو لوگ اس میں اپنے ہاتھ ڈالتے ہیں اور یہ سب غیر مانع ہے جیسا کہ ان کے نزدیک مقرر ہے پھر انہوں نے اس کے بعض اثار ملاقی میں اور بعض ملقیٰ میں ذکر کیے پس فرمایا اور تحقیق ابن ابی شیبہ نے حسن سے جنب کے بارے میں روایت کی جو بے دھوئے اپنا ہاتھ برتن میں ڈالے تو فرمایا اگر چاہے تو اُس کے ساتھ وضو کرے، اور سعید بن المسیب سے مروی ہے کہ جنب اگر اپنا ہاتھ دھونے سے قبل برتن میں ڈال دے تو حرج نہیں، اور عائشہ بنت سعد کہتی ہیں کہ حضرت سعد باندی کو حکم دیتے تھے کہ وہ حوض سے پانی لا کر دے، تو وہ حوض میں اپنا ہاتھ ڈبوتی تھی، تو کہا جاتا تھا کہ وہ حائضہ ہے، تو آپ فرماتے تھے: کیا میں نے اس کو حائضہ کیا ہے؟ اور عامر سے مروی ہے کہ اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ پانی میں ڈالتے تھے جبکہ وہ جنب ہوتے تھے اور عورتیں حائض ہوتی تھیں اور یہ لوگ بلا ہاتھ دھوئے پانی میں ڈالنے میں ہرج نہیں سمجھتے تھے، اور ابن عباس سے منقول ہے کہ اگر کوئی شخص غسلِ جنابت کرے اور اس کے چھینٹے برتن میں گریں تو اس میں حرج نہیں،
عــ۱ کذا بالاصل ولعلہ ان یدخل الجنب یدہ ۱۲ منہ۔(م)
اصل میں اسی طرح ہے شاید یوں ہو ''ان یدخل الجنب یدہ''۔(ت)
 (۱؎ مصنفہ ابن ابی شیبہ    فی الرجل یدخل یدہ فی الاناء وہوجنب ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۱/۸۲)

(۲؎ مصنفہ ابن ابی شیبہ    فی الرجل الجنب یغتسل وینفح من غسلہ فی اناء    ایضاً        ۱/۷۲)
وعن الحسن وابراھیم والزھری وابی جعفر وابن سیرین نحوہ قال فان قلت فما محمل حدیث لایبولن احدکم فی الماء الدائم ولا یغتسلن فیہ من الجنابۃ ۱؎
اور حسن، ابراہیم: زہری، ابو جعفر اور ابن سیرین نے اسی قسم کی روایت کی،فرمایا اگر کوئی کہے کہ پھر ''لایبولن احدکم فی الماء الدائم الخ'' حدیث کا کیا مفہوم ہوگا؟
 (۱؎ مصنّف ابن ابی شیبۃ     من کان یکرہ ان یبول فی الماء الراکد    ادارۃ القرآن کراچی    ۱/۱۴۱)
قلت استدل بہ الکرخی علی عدم جواز التطہیر بالمستعمل ولا یطابق عمومہ فروعھم المذکورۃ فی الماء الکثیر فیحمل علی الکراھۃ وبذلک اخبر راوی الخبر فاخرج ابن ابی شیبۃ عن جابر بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما قال کنا نستحب ان ناخذ من ماء الغدیر ونغتسل بہ ناحیۃ ۲؎
میں کہتا ہوں کرخی نے اس سے استدلال کیا ہے کہ مستعمل پانی سے طہارت کا حاصل کرنا جائز نہیں ہے لیکن اس کا عموم زائد پانی میں ان کی فروع سے مطابقت نہیں رکھتا پس اسے کراہت پر محمول کیا جائے گا اور راویِ حدیث نے یہی خبر دی ہے۔ چنانچہ ابن ابی شیبہ نے جابر بن عبداللہ سے روایت کی کہ ہم اس امر کو پسند کرتے تھے کہ تالاب سے پانی لے کر ایک کونے میں جاکر غسل کریں،
 (۲؎ مصنف ابن ابی شیبۃ    الرجل ینتہی الی البئر والغدیر وہوجنب     ادارۃ القرآن کراچی)
قال وما ذکر من الفروع مخالفا لھذا فبناء علی روایۃ النجاسۃ کقولھم لوادخل جنب اومحدث اوحائض یدہ فی الاناء قبل ان یغسلھا فالقیاس انہ یفسد الماء وفی الاستحسان لایفسد للاحتیاج الی الاغتراف حتی لوادخل رجلہ یفسد الماء لانعدام الحاجۃ ولو ادخلھا فی البئر یفسد لانہ محتاج الی ذلک فی البئر لطلب الدلو فجعل عفواً ولو ادخل فی الاناء اوالبئر بعض جسدہ سوی الید والرجل افسدہ لانہ لاحاجۃ الیہ ۳؎
فرمایا اور جو فروع اس کی مخالف ہیں تو وہ نجاست کی روایت پر ہیں، جیسے کسی جُنب یا محدث یا حائض نے اپنا ہاتھ برتن میں بلا دھوئے ڈالا، تو قیاس چاہتا ہے کہ پانی خراب ہوجائے اور استحسان کی رُو سے فاسد نہ ہوگا، کیونکہ چُلّو بھرنے کی حاجت ہوتی ہے یہاں تک کہ اگر کسی نے برتن میں پیر ڈال دیا تو پانی خراب ہوجائے گا کیونکہ ضرورت نہیں، اور اگر پیر کُنویں میں ڈالا تو پانی خراب نہ ہوگا کیونکہ کُنویں سے ڈول نکالنے کیلئے پیر ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے تو اس کو معاف کردیا گیا ہے اور اگر برتن یا کُنویں میں ہاتھ پَیر کے علاوہ جسم کا اور کوئی حصّہ ڈالا تو پانی خراب ہوجائے گا کیونکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں،
 (۳؎ بدائع الصنائع     فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ         سعید کمپنی کراچی    ۱/۶۹)
وامثال ھذہ(ثم ذکر مسائل واٰثارا لا تتعلق بما نحن فیہ الی ان قال)
اور اسی کی مثل دوسری چیزیں ہیں(پھر انہوں نے ایسے مسائل اور آثار ذکر کئے جن کا اس بحث سے تعلق نہیں، پھر فرمایا)
Flag Counter