Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
30 - 176
ولنقتصر علی ھذا القدر خاتمین بما اعترف البحر انہ کشف اللبس وازاح الحدس وھی کما تری نصوص صرائح تفید ان ملاقاۃ الماء القلیل لعضو علیہ حدث یجعلہ مستعملا سواء وردالماء علی العضو اوالعضو علی الماء علی سبیل النجاسۃ الحقیقیۃ فالماء نجس سواء وردت ھی علی الماء اوالماء علیھا وبالجملۃ کانت الفروع ÷ تأتی علی ھذا السنن المطبوع ÷ والاقوال ÷ تنسج علی ھذا المنوال ÷ الی ان جاء الدور بتلامذۃ الامام المحقق علی الاطلاق ÷ ودارت مسألۃ التوضی فی الفساقی الصغار بین الحذاق ۔ فافتی العلامۃ زین الدین قاسم بن قطلو بغا بالجواز والف رسالۃ سماھا رفع الاشتباہ عن مسألۃ المیاہ ۱؎
ہم اسی پر اکتفاء کرتے ہیں اور اختتام پر بحر کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے ابہام کو رفع کردیاہے،اور جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں یہ صریح نصوص ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ تھوڑے سے پانی کا عضو سے ملنا جس پر حدث ہے پانی کو مستعمل بنا دیتا ہے خواہ پانی عضو پر وارد ہو یا عضو پانی پر وارد ہو، اور اگر یہ پانی نجس عضو پر آئے، خواہ پانی عضو پر یا عضو پانی پر تو پانی نجس ہوجائے گا۔ خلاصہ کلام یہ کہ مسئلہ کی فروع کو اِس انداز سے بیان کیا گیا ہے، اور اس قسم کے اقوال علماء وفقہاء کے ذکر کئے گئے ہیں، پھر جب محقق علی الاطلاق کے شاگردوں کا دور آیا اور  چھوٹے حوضوں میں وضو کا مسئلہ ماہرین کے درمیان زیر بحث آیا تو علّامہ زین الدین قاسم بن قطلو بغانے جواز کا فتوٰی دیا اور ایک رسالہ لکھا جس کا نام ''رفع الاشتباہ عن مسئلۃ المیاہ''ہے
 (۱؎ بحرالرائق     کتاب الطہارۃ    مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۲)
وخالفہ تلمیذہ العلامۃ عبدالبربن الشحنۃ وصنف رسالۃ سماھا زھرالروض فی مسألۃ الحوض ۲؎
اس پر ان کے شاگرد علّامہ عبدالبربن الشحنہ نے ان کی مخالفت کی، اور ایک رسالہ ''زھر الروض فی مسئلۃ الحوض'' لکھا۔
 (۲؎ بحرالرائق     کتاب الطہارۃ    مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۲)
والامام ابن امیرالحاج فی الحلیۃ ایضامیل الی شیئ مما اعتمدہ العلامۃ قاسم وھم جمیعا من جلۃ اصحاب الامام ابن الھمام علیھم رحمۃ الملک المنعام ثم جاء المحقق زین بن نجیم صاحب البحر رحمہ اللّٰہ تعالٰی فانتصر الزین للزین ونمق رسالۃ سماھا الخیر الباقی فی جواز الوضوء من الفساقی ثم تتابع المتاخرون علی اتباعہ کالنھر والمنح والدر وذکر فی الخزائن ان لہ رسالۃ فیہ والعلامۃ الباقانی والشیخ اسمٰعیل النابلسی وولدہ العارف باللّٰہ سیدی عبدالغنی ومحشی الاشباہ شرف الدین الغزی فیما ذکرہ المدقق العلائی بلاغا وکذا بعض مشائخ الشامی والسادات الثلثۃ ابو السعود الازھری وط وش میلا مع تردد والیہ یمیل کلام العلامۃ نوح افندی ووافق العلامۃ ابن الشحنۃ منھم العلامۃ ابن الشلبی وبہ افتی والمحقق علی المقدسی والعلامۃ حسن الشرنبلالی ۔
امام ابن الحاج نے حلیہ میں علّامہ قاسم کی طرف کچھ میلان کیا ہے، یہ تمام کے تمام ابن ہُمام کے جلیل القدر تلامذہ ہیں، پھر ابنِ نُجیم صاحب بحر آئے اور انہوں نے زین کی مدد کی اور ایک رسالہ لکھا جس کا نام ''الخیر الباقی فی جواز الوضوء من الفساقی'' ہے پھر متاخرین نے پے درپے اس مسئلہ پر کلام کیا اور ان کی پیروی کی مثلاً نہر، منح، درر اور خزائن میں ہے کہ انہوں نے اس پر ایک رسالہ لکھا ہے، اور علّامہ باقانی، شیخ اسماعیل نابلسی اور ان کے صاحبزادہ عارف باللہ عبدالغنی نابلسی اور اشباہ کے محشی شرف الدین الغزی بقول مدقق علائی بطور بلاغ، اور اسی طرح بعض مشائخ شامی اور سادات ثلثہ ابو السعود الازہری 'ط' اور 'ش' کا اس طرف میلان ہے، کچھ تردّد بھی کیا ہے اور اسی طرف علامہ نوح آفندی کا کلام ہے اور علامہ ابن الشحنہ نے موافقت کی اور علّامہ ابن شلبی نے بھی موافقت کی اور اسی پر فتوٰی دیا اور محقق علی المقدسی اور علّامہ حسن شرنبلالی نے بھی یہی فرمایا۔(ت)
قلت والیہ یرشد کلام المحقق فی الفتح وقد علمت انھا الجادۃ المسلوکۃ الی زمن العلامۃ قاسم والمروی عن جمیع اصحابنا وعن ائمتنا الثلثۃ عینا ولم یخالفھا احد ممن تقدمہ غیر الامام صاحب البدائع فی جدل وتعلیل اما عند ذکر الاحکام فھو مع الجمھور وکذلک قدمنا عن عدۃ من ھٰؤلاء المتأخرین خلاف ما مالوا الیہ اماما نسب الی العلامۃ قارئ الھدایۃ فلا یتم کما ستعرف ان شاء اللّٰہ تعالٰی وبالجملۃ فالمسألۃ ذات معترک عظیم والرسائل الثلث جمیعا بحمداللّٰہ تعالٰی عندی وھٰانا الخصھا لک مع مالھا وعلیھا اجمالا مفصلا وباللّٰہ التوفیق فلنوزع الکلام علی اربعۃ فصول
میں کہتا ہوں محقق کا کلام فتح میں اسی طرف رہنمائی کرتا ہے اور آپ جان چکے ہیں کہ علّامہ ابن قاسم کے زمانہ تک یہی روش رہی، اور یہی ہمارے تمام اصحاب اور ائمہ ثلثہ سے منقول ہے، اور متقدمین میں سے سوائے صاحبِ بدائع کے کسی اور نے مخالفت نہ کی، جدل اور تعلیل میں، اور احکام کے ذکر کے وقت وہ جمہور کے ساتھ ہیں، اور اسی طرح ہم بہت سے متاخرین سے ان کے خلاف نقل کر چکے ہیں، اور جو علامہ قارئ الہدایہ کی طرف منسوب ہے وہ ثابت نہیں، جیسا کہ آپ عنقریب جان لیں گے اِن شاء اللہ تعالٰی، اور خلاصہ یہ ہے کہ مسئلہ بہت معرکہ کا ہے اور تینوں رسائل بحمداللہ میرے پاس ہیں جن کا خلاصہ میں آپ کے سامنے مالہا وما علیہا کے ساتھ پیش کرتا ہوں یہ کلام چار فصول پر مشتمل ہے۔
الفصل الاول فی کلام العلامۃ قاسم رسالتہ رحمۃ اللّٰہ تعالی نحو کراسۃ اطال فیھا الکلام فی حدالماء الکثیر وحقق(۱) ان جمیع جوانبہ سواء فی جواز الطھارۃ سواء کانت النجاسۃ مرئیۃ اولا واکثر من الرد علی شرح المختار والتحفۃ والبدائع حتی تجاوز الی المؤاخذات اللفظیۃ ولسنا الاٰن بصدد ذلک وانما یتعلق منھا بغرضنا نحو ورقۃ فی اٰخرھا ذکر فیھا الماء المستعمل وانہ لایغیر الماء مالم یغلب علیہ واختار التسویۃ فی ذلک بین الملقی والملاقی ای کما ان الماء المستعمل لوالقی فی حوض اوجرۃ وکان ماء الجرۃ اکثر منہ جازالطھارۃ بہ علی ماھو الصحیح المعتمد وعلیہ عامۃ العلماء کذلک ان ادخل المحدث اوالجنب یدہ مثلا فی جرۃ لم یتغیر ماؤھا لان المستعمل منہ مالاقی بدنہ وھو اقل بالنسبۃ الی الباقی واحتج علی ذلک بثلثۃ اشیاء الاولکلام البدائع حیث قال فی الکلام علی حدیث لایبولن احدکم فے الماء الدائم(ای حین استدل بہ للامام علی نجاسۃ الماء المستعمل) لایقال انہ نھی(ای عن الاغتسال فیہ لالان المستعمل نجس بل) لما فیہ من اخراج(۲) الماء من ان یکون مطھرا من غیر ضرورۃ وذلک حرام لانانقول الماء القلیل انما یخرج عن کونہ مطھرا باختلاط غیر المطھر بہ اذاکان غیر المطھر غالبا کماء الورد واللبن ونحوذلک فاما ان یکون مغلوبا فلا وھھنا الماء المستعمل مایلاقی البدن ولا شک ان ذلک اقل من غیر المستعمل فکیف یخرج بہ من ان یکون مطھرا ۱؎ انتھی۔
پہلی فصل، علّامہ قاسم کاکلام علامہ قاسم کا رسالہ تقریباً ایک کاپی ہے جس میں ''ماءِ کثیر'' کی تعریف پر انہوں نے مفصل گفتگو کی ہے، اور تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ اس کے تمام کنارے برابر ہیں طہارت کے جواز میں، خواہ نجاست نظر آنے والی ہو یا نہ ہو، اور شرح مختار، تحفہ، بدائع وغیرہ پر کافی رد کیا یہاں تک کہ لفظی گرفت سے بھی نہ چُوکے۔ ہم اس وقت یہ چیزیں بیان کرنا نہیں چاہتے، ہماری غرض اس رسالہ کے آخری ورق سے متعلق ہے جس میں انہوں نے ماءِ مستعل کے مسائل بیان کیے ہیں اور یہ کہ وہ پانی کو اس وقت تک تبدیل نہیں کرتا ہے جب تک وہ اس پر غالب نہ آجائے، اور انہوں نے اس سلسلہ میں ملقیٰ اور ملاقی کو برابر قرار دیا ہے یعنی جس طرح مستعمل پانی اگر کسی حوض یا ٹھلیا میں ڈالا جائے اور ٹھلیا کا پانی مستعمل پانی سے زیادہ ہو تو اس سے طہارت حاصل کرنا جائز ہے۔ صحیح، معتمد قول یہی ہے اور عام علماء کا یہی قول ہے اور اسی طرح اگر محدِث یا ناپاک نے اپنا ہاتھ کسی ٹھِلیا میں ڈالا تو پانی متغیر نہ ہوگا کیونکہ اس میں سے مستعمل وہ ہے جو اس کے بدن سے ملا اور بہ نسبت باقی کے کمتر ہے، اس پر تین چیزوں سے استدلال کیاہے:اوّل صاحبِ بدائع نے ''لایبولن احدکم فی الماء الدائم''(ٹھہرے پانی میں کوئی پیشاب نہ کرے) پر کلام کرتے ہوئے فرمایا(یعنی جب امام نے اس سے مستعمل پانی کی نجاست پر استدلال کیا) یہ نہ کہا جائے کہ یہ نہی ہے(یعنی اس میں غسل کرنے سے اس لئے نہیں کہ مستعمل نجس ہے بلکہ) کیونکہ اس میں پانی کو بلا ضرورت مُطِہرّہونے سے خارج کرنا ہے اور یہ حرام ہے، کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ ماءِ قلیل مطِہرّ ہونے سے اس لئے خارج ہوجاتا ہے کہ وہ غیر مطہر پانی سے ملتا ہے مگر یہ اس وقت ہوگا جب غیر مطہر غالب ہو، مثلاً گلاب کا پانی اور دودھ وغیرہ، اور اگر مطلوب ہو تو نہ ہوگا اور یہاں مستعمل پانی وہ ہے جو بدن سے ملاتی ہوتا ہے اور اس میں شک نہیں کہ یہ غیر مستعمل سے کم ہے تو اس کی وجہ سے مطہر ہونے سے کیسے خارج ہوگا انتہیٰ۔
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ    سعید کمپنی کراچی    ۱/۶۷)
Flag Counter