Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
29 - 176
وفیہ قال الخبازی فی حاشیۃ الھدایۃ قال القدوری رحمہ اللّٰہ تعالی کان شیخنا ابو عبداللّٰہ الجرجانی یقول الصحیح عندی من مذھب اصحابنا(الٰی اٰخر ماقدمنا عن الحلیۃ غیر انہ قال لواحتاجوا الی الغسل عند نزح ماء البئر کل مرۃ لحرجوا الخ وزاد فی اٰخرہ) بخلاف مااذا ادخل غیرالید فیہ صار الماء مستعملا ۴؎ اھ
اُسی میں ہے خبازی نے کہا حاشیہ ہدایہ میں کہ قدوری نے کہا کہ ہمارے شیخ ابو عبداللہ الجرجانی فرماتے ہیں میرے نزدیک ہمارے اصحاب کا صحیح مذہب(آخر تک جو ہم نے حلیہ سے نقل کیا، البتہ انہوں نے فرمایا کہ اگر وہ غسل کے محتاج ہوں ہر مرتبہ کنویں سے پانی نکالتے وقت تو لوگ حرج میں پڑ جائیں گے الخ اور اس کے آخر میں اضافہ کیا) بخلاف اس صورت کے کہ جب ہاتھ کے علاوہ اور کوئی عضو پانی میں ڈالا تو پانی مستعمل ہوجائے گا اھ
 (۴؎ بحرالرائق    کتاب الطہارت    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۹۷)
وفیہ عن ابی حنیفۃ ان الرجل طاھر لان الماء لایعطی لہ حکم الاستعمال قبل الانفصال من العضو قال الزیلعی والھندی وغیرھما تبعا للھدایۃ وھذہ الروایۃ اوفق الروایات وفی فتح القدیر وشرح المجمع انھا الروایۃ المصححۃ ۱؎ اھ
اور اس میں ابو حنیفہ سے منقول ہے کہ آدمی پاک ہے کیونکہ پانی کو مستعمل ہونے کا حکم نہیں دیا جائے گا تاوقتیکہ وہ عضو سے جدا نہ ہو، زیلعی وہندی وغیرہما نے ہدایہ کی متابعت میں فرمایا اور یہ روایت تمام روایات میں مطابقت پیدا کرنے والی ہے اور فتح القدیر اور شرح المجمع میں ہے کہ تصحیح شدہ روایت یہی ہے اھ
 (۱؎ بحرالرائق    کتاب الطہارت    سعید کمپنی کراچی    ۱/۹۷)
فعلم(۱) بما قررناہ عہ ان المذھب المختار فی ھذہ المسألۃ ان الرجل طاھر والماء طاھر غیر طھور ۲؎ اھ
تو ہماری تقریر سے معلوم ہوا کہ اس مسئلہ میں مذہب مختار یہ ہے کہ آدمی پاک ہے اور پانی پاک تو ہے مگر پاک کرنے والا نہیں اھ
 (۲؎ بحرالرائق    کتاب الطہارت    سعید کمپنی کراچی    ۱/۹۸)
عہ :قال الشامی قال الرملی اقول سیاتی قریبا انہ طاھر طھور علی الصحیح اھ اقول وھذا تصریح بتصحیح روایۃ ط من جحط فما فی المنحۃ عن شرح ھدیۃ ابن العماد لسیدی عبدالغنی قدس سرہ ان مسألۃ جحط الاقوال الثلثۃ فیھا ضعیفۃ فکانہ لاختیار الروایۃ الرابعۃ المختارۃ فے البحر لاان لاشیئ من الثلث مصححا اھ منہ۔
شامی نے کہا رملی نہ کہا میں کہتا ہوں عنقریب آئیگا کہ یہ صحیح روایت پر طاہر وطہور ہے میں کہتا ہوں یہ مسئلہ بئر جحط سے طحطاوی کی تصحیح شدہ روایت کی تصریح ہے تو جو منحہ میں سید عبدالغنی کی شرح ہدیۃ ابن عماد سے ہے کہ مسئلہ بئر جحط کے تینوں قول ضعیف ہیں تو اس وجہ سے کہ وہ بحرالرائق کی اختیار کردہ چوتھی روایت کو اختیار کرتے ہیں یہ نہیں کہ تین میں سے کسی کی تصحیح نہیں کی گئی۔ ت
وفیہ وان انغمس للاغتسال صار مستعملا اتفاقا وحکم الحدث حکم الجنابۃ ذکرہ فی البدائع ۳؎ اھ
اور اسی میں ہے اگر کسی نے غسل کیلئے غوطہ لگایا تو پانی اتفاقا مستعمل ہوجائے گا اور حدث کا حکم جنابت والا ہی ہے، ا س کو بدائع میں ذکر کیا اھ
 (۳؎ بحرالرائق    کتاب الطہارت    سعید کمپنی کراچی    ۱/۹۸)
وفیہ وکذا(۲) الحائض والنفساء بعد الانقطاع اما قبل الانقطاع فھما کالظاھر اذا انغمس للتبرد لایصیر الماء مستعملا کذا فی فتاوٰی قاضی خان والخلاصۃ ۴؎ اھ
اور اسی میں ہے کہ یہی حکم حائض اور نفاس والی عورت کا ہے جس کا خون منقطع ہوچکا ہو، اور انقطاعِ خون سے قبل تو وہ دونوں اُس پاک شخص کی طرح ہیں جس نے ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے غوطہ لگایا تو پانی مستعمل نہ ہوگا، فتاوٰی قاضی خان اور خلاصہ میں یہی ہے اھ۔
(۴؎بحرالرائق    کتاب الطہارت    سعید کمپنی کراچی    ۱/۹۸)
وفیہ قال القاضی(۳) الاسبیجابی فی شرح مختصر الطحاوی جنب اغتسل فی بئرثم فی بئر الی عشرۃ قال محمد یخرج من الثالثۃ(عہ۱) طاھرا ثم ان کان علی بدنہ عین نجاسۃ تنجست المیاہ کلھا(یرید الثلثۃ) وان لم تکن صارت المیاہ(الثلثۃ) کلھا مستعملۃ ثم بعد الثالثۃ ان وجدت منہ النیۃ یصیر مستعملا وان(عہ۲) لم توجد لا۱؎ اھ
اور اسی میں ہے کہ قاضی اسبیجابی نے شرح مختصر طحاوی میں فرمایا کہ ایک جنب شخص نے ایک کنویں میں غسل کیا اور پھر دوسرے کنویں میں یہاں تک کہ دس کنوؤں میں غسل کیا، تو محمد نے فرمایا تیسرے سے پاک نکلے گا، پھر اگر اس کے بدن پر نجاست ہو تو تمام پانی نجس ہوجائیں گے(یعنی تینوں) اور اگر نجاست نہ ہو تو تینوں مستعمل ہوجائیں گے ۔۔۔۔۔۔ پھر اگر تیسرے کنویں کے بعد اس نے نیت کی تو پانی مستعمل ہوجائے گا اگر نیت نہ کی تو مستعمل نہ ہوگا
 (۱؎ بحرالرائق    کتاب الطہارت    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۹۹)
 (عہ۱) اقول بل من الاولی لان التثلیث لیس الاسنۃ فکانہ اراد الطھارۃ المسنونۃ ثم لا یخفی التقیید بالمضمضۃ والاستنشاق اھ منہ۔
میں کہتا ہوں بلکہ پہلے سے کیونکہ تثلیث تو سنت ہے گویا انہوں نے مسنون طہارت کا ارادہ کیا ہے پھر مضمضہ اور استنشاق کی قید لگانا مخفی نہیں اھ۔ ت
 (عہ۲) اقول ان لم یحدث بعد الثالثۃ کما لایخفی اھ منہ
میں کہتا ہوں اگر تیسرے کے بعد حدث لاحق نہ ہوا ہو جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت
ومثلہ عنہ فی خزانۃ المفتین مع التصریح بتصحیح قول محمد المذکور ورأیت ایضا فیہ التصریح بارادۃ الثلثۃ کما زدتہ توضیحا(۱) وزاد وکذلک فی الوضوء اھ ثم رأیت فی المنحۃ عن السراج الوھاج ایضا التصریح باستعمال ثلث دون مابعدھا الا بالنیۃ وھو ظاھر وفیہ من ابحاث الماء المقید صرحوا بان الجنب اذا نزل فی البئر بقصد الاغتسال یفسد الماء عند الکل صرح بہ الاکمل وصاحب معراج الدرایۃ وغیرھما ۲؎ اھ
اور اسی کی مثل اُن سے منقول ہے اور خزانۃ المفتین میں محمد کا مذکور قول صحیح قرار دیا گیا ہے اور اس میں میں نے تین کے ارادہ کی تصریح دیکھی ہے، جس طرح میں نے اس کی وضاحت بخوبی کردی ہے،اور اسی طرح انہوں نے وضو میں اضافہ کیا ہے اور پھر میں نے منحہ میں سراج وہاج سے اس امر کی تصریح دیکھی کہ صرف تین مستعمل ہوں گے نہ کہ ان کے بعد والے، اور یہ ظاہر ہے اور اس میں ماء مقید کی ابحاث سے ہے، اور انہوں نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ جنب جب کنویں میں اُترے اور غسل کا ارادہ کرے تو سب کے نزدیک پانی مستعمل ہوجائے گا، اس کی تصریح اکمل، صاحبِ معراج الدرایہ اور دوسرے علماءنے کی ہے اھ ۔
 (۲؎ بحرالرائق    الماء المقید         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۱)
وفیہ وکذا صرحوا ان الماء یفسد اذا ادخل الکف فیہ وممن صرح بہ صاحب المبتغی بالغین المعجمۃ ا؎ اھ
اور اسی میں ہے، اسی طرح فقہاء نے تصریح کی ہے کہ جب کوئی شخص پانی میں ہتھیلی ڈال دے تو پانی مستعمل ہوجائے گا، اور اس کی تصریح صاحبِ مبتغی نے کی ہے(غین معجمہ سے) اھ،
 (۱؎ فتح القدیر    کتاب الطہارت    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۶)

(بحرالرائق     کتاب الطہارت    سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۱)
وفیہ قال الاسبیجابی والو لوالجی فی فتاواہ جنب اغتسل فی بئر ثم بئر الی اٰخر ماتقدم ۲؎ اھ
اور اسی میں ہے کہ اسبیجابے اور ولوالجی نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ ایک جنب ایک کنویں میں غسل کیلئے اترا پھر دوسرے میں اُتراالیٰ آخر ماتقدم۔
 (۲؎ بحرالرائق    کتاب الطہارت     سعید کمپنی کراچی        ۱/۷۱ ، ۹۹)
وفیہ قال الامام القاضی ابو زید الدبو سی فی الاسرار ان محمد ا یقول لما اغتسل فی الماء القلیل صار الکل مستعملا حکما ۳؎ اھ
اور اسی میں ہے کہ امام قاضی ابو زید الدبُّوسی نے اسرار میں فرمایا کہ محمد فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص نے تھوڑے پانی میں غسل کیا تو کل پانی حکماً مستعمل ہوجائے گا اھ
 (۳؎ بحرالرائق    کتاب الطہارت     سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۱     )
فھٰذہ العبارۃ کشف اللبس واوضحت کل تخمین ۴؎ وحدس اھ
اس عبارت نے کل معاملہ وضاحت سے کھول کر رکھ دیا ہے اھ
 (۴؎ بحرالرائق    کتاب الطہارت     سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۱ )
Flag Counter