Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
28 - 176
وفی فوائد الامام ظھیرالدین ابی بکر محمد بن احمد بن عمر علی شرح الجامع الصغیر للامام الصدر الشھید حسام الدین عمر بن عبدالعزیز رحمہما اللّٰہ تعالی لو ادخل رجلہ فی البئر ولم ینوبہ الاستعمال ذکر شیخ الاسلام المعروف بخواھرزادہ رحمہ اللّٰہ تعالی ان الماء یصیر مستعملا عند محمد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ وذکر شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ اللّٰہ تعالی انہ لایصیر مستعملا لان الرجل فی البئر بمنزلۃ الید فی الاٰنیۃ فعلی ھذا التعلیل اذا ادخل الرجل فی الاناء یصیر مستعملا لعدم الضرورۃ ۱؎ اھ۔
اور امام ظہیر الدین ابو بکر محمدبن احمد بن عمر کے جو فوائد شرح جامع صغیر امام صدر شہید حسام الدین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہۤمیں ہے کہ اگر کسی شخص نے کنویں میں بلانیت استعمال اپنا پیر ڈالا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیخ الاسلام المعروف خواہر زادہ نے فرمایا کہ پانی امام محمد کے نزدیک مستعمل ہوجائے گا، اور شمس الائمہ الحُلوانی نے ذکر کیا کہ پانی مستعمل نہ ہوگا کیونکہ کنویں میں پیر کا ڈالنا ایسا ہے جیسا ہاتھ برتن میں، اسی استدلال کی بنیاد پر اگر کوئی شخص برتن میں پیر داخل کرے تو پانی ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے مستعمل ہوجائے گا اھ۔
 (۱؎ کفایۃ مع الفتح    الماء الذی یجوزبہ الوضؤ ومالایجوز    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۸۰)
قلت وحاصل قول الامام الحُلوانی ان الید ربما لاتبلغ قعرالبئر فمست الحاجۃ الی الرجل ھذا ھو الذی یعطیہ نص قولہ لااحتمال فیہ لغیرہ واسشناء موضع الضرورۃ معلوم من اقوالھم بالضرورۃ فقول(۱( العلامۃ ابن الشحنۃ فی زھر الروض بعد نقلہ یمکن دفع التعارض بحمل ماقالہ خواھر زادہ علی مااذا لم یکن موضع ضرورۃ وما قالہ الحُلوانی علی موضع الضرورۃ ۲؎ اھ
میں کہتا ہوں اور امام حُلوانی کے قول کا ماحصل یہ ہے کہ ہاتھ کبھی کنویں کی تَہ تک نہیں پہنچ پاتا ہے تو پَیر کی ضرورت ہوتی ہے، یہ مفہوم ان کی اس تصریح سے حاصل ہوتا ہے کہ اس میں اس کے غیر کا احتمال نہیں ہے اور مقام ضرورت کا استنشاء اُن کے اقوال سے بداہۃً معلوم ہوتا ہے تو علامہ ابن الشحنہ کا قول زہر الروض میں نقل کے بعد اس کا تعارض اس طرح رفع ہوسکتا ہے کہ خواہر زادہ نے جو فرمایا ہے اس کو ضرورت کے نہ ہونے پر محمول کیا جائے اور حُلوانی کے قول کو ضرورت پر محمول کیا جائے اھ۔
 (۲؎ زہر الروض)
تردد فی موضع الجزم وشک فی محل الیقین وفی متن الملتقی لوانغمس جنب فی البئر بلانیۃ فقیل الماء والرجل نجسان عندالامام والاصح ان الرجل طاھر والماء مستعمل عندہ ۳؎ اھ
تردد ہے مقام یقین میں اور شک ہے مقام یقین میں۔ اور متن ملتقی میں ہے کہ اگر کسی جُنب نے بلانیت کنویں میں غوطہ گایا تو کہا گیا کہ آدمی اور پانی دونوں نجس ہیں امام کے نزدیک۔ اور اصح یہ ہے کہ ان کے نزدیک آدمی پاک ہے اور پانی مستعمل ہے اھ ت
 (۳؎ ملتقی الابہر    فصل فی المیاہ            العامرہ مصر        ۱/۳۱)
وفی شرحہ مجمع الانھر لوقال انغمس محدث لکان اولی وانما قال بلانیۃ لانہ لوانغمس للاغتسال فسد الماء عند الکل ۱؎ اھ
اور اس کی شرح مجمع الانہر میں ہے کہ اگر انغمس محدث کہا ہوتا تو بہتر تھا۔ اور اس لئے ''بلا نیت'' کہا کیونکہ اگر غسل کیلئے غوطہ لگایا تو سب ہی کے نزدیک پانی مستعمل ہوجائیگا اھ
 ( ۱؎ مجمع الانہر        فصل فی المیاہ    العامرہ مصر        ۱/۳۱)
وفی النھر الفائق فی تعلیل قول محمد فی مسألۃ جحط اماطھارۃ الرجل فلان محمدالایشترط الصب واماالماء فللضرورۃ ۲؎ اھ
اور نہرالفائق میں مسئلہ بئز حجط میں امام محمد کے قول کی وجہ بتاتے ہوئے فرمایا آدمی کا پاک ہونا اس وجہ سے ہے کہ محمد بہانے کو شرط قرار نہیں دیتے اور پانی کا پاک ہونا ضرورت کی وجہ سے ہے اھ
 (۲؎ فتح المعین        بئر حجط        سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۰)
نقلہ السید الازھری علی الکنز وفی الدر اسقاط فرض ھو الاصل بان یدخل یدہ اور رجلہ فی الجب لغیر اغتراف ونحوہ فانہ یصیر مستعملا لسقوط الفرض اتفاقا ۳؎ اھ
اس کو سید ازہری نے کنز میں نقل کیا ہے، اور دُر میں ہے کہ اسقاط فرض ہی اصل ہے، مثلاً یہ کہ گڑھے میں ہاتھ یاپیر چلّو بھرنے وغیرہ کی نیت کے علاوہ کسی اور ارادہ سے ڈالے تو وہ مستعمل ہوجائے گا، کیونکہ اس طرح فرض بالاتفاق ساقط ہوجاتا ہے اھ
 (۳؎ درمختار        باب المیاہ        مجتبائی دہلی        ۱/۳۷)
ولو استرسلنا فی سرد الفروع لاعیانا ولکن نرد البحر ونکثر الاغتراف منہ لان الکلام سیدور معہ فنقول فی البحر من الماء المستعمل ذکر ابو بکر الرازی انہ یصیر مستعملا عند محمد باقامۃ القربۃ لاغیراستدلالابمسألۃالجنب اذا انغمس فی البئر لطلب الدلو قال شمس الائمۃ السرخسی جوابہ انما لم یصر مستعملا للضرورۃ واقرہ علیہ العلامۃ ابن الھمام والامام الزیلعی ۴؎ اھ
اور اگر ہم فروع گنانا شروع کردیں تو مشکل ہوگا، لیکن ہم سمندر پر آکر اُس سے بکثرت چلّو بھرتے ہیں، کیونکہ گفتگو انہی کے ساتھ رہے گی، تو ہم کہتے ہیں، بحر میں ہے کہ ابو بکر رازی کہتے ہیں کہ صرف قربۃ کی ادائیگی سے پانی مستعمل ہوگا، عند محمد۔ وہ اس کو جنب کے مسئلہ پر قیاس کرتے ہیں جو کُنویں میں ڈول نکالنے کی خاطر غوطہ لگائے۔ اور شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا اس کا جواب یہ ہے کہ مستعمل ضرورت کی وجہ سے نہ ہوا، اور اس کو علّامہ ابن ہمام اور زیلعی نے برقرار رکھااھ
 (۴؎ بحرالرائق        کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۹۰)
وفیہ واعلم ان ھذا وامثالہ کقولھم فیمن ادخل یدیہ الی المرفقین واحدی رجلیہ فی اجانۃ یصیر الماء مستعملا یفید ان الماء یصیر مستعملا بواحد من ثلثۃ ازالۃ حدث اقامۃ قربۃ اسقاط فرض فکان الاولی ذکر ھذا السبب الثالث ۱؎ اھ
اس میں ہے جانناچاہئے کہ یہ اور ا س کے امثال جیسے ان کا قول ،اس شخص کی بابت جو اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک یا ایک پیر کسی مرتبان میں ڈالے تو پانی مستعمل ہوجائیگا، سے معلوم ہوتا کہ پانی کا مستعمل ہونا تین اشیاء میں سے کسی ایک کے ساتھ ہوگا، حَدَث کا زائل کرنا، قربۃ کا ادا کرنا، فرض کا ساقط کرنا، تو بہتر یہ تھا کہ اِس تیسرے سبب کو ذکر کرتے۔
 (۱؎ بحرالرائق    کتاب الطہارت    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۹۲)
وفیہ(۱) ذکرشمس الائمۃ السرخسی فی المبسوط(ای شرحہ) ان فی الاصل(ای فی مبسوط الا مام محمد رحمہ اللہ تعالٰی) اذااغتسل الطاھر فی البئرافسدہ ۲؎ اھ
اور اسی میں ہے کہ شمس الائمہ سرخسی نے مبسوط میں(یعنی اس کی شرح میں) ذکر کیا کہ اصل میں(یعنی امام محمد کی مبسوط) میں ہے کہ اگر پاک شخص نے کنویں میں غسل کیا تو پانی مستعمل ہوجائیگا اھ
 (۲؎ بحرالرائق    کتاب الطہارت    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۱/۹۷)
ای اذا نوی القربۃ کما لایخفی وفیہ مسألۃ البئر جحط وصورتھا جنب انغمس فی البئر للدلواوللتبرد ولا نجاسۃ علی بدنہ فعند محمد الرجل طاھر والماء طھور وجہ قول محمد علی ماھو الصحیح عنہ ان الماء لایصیر مستعملا وان ازیل بہ حدث للضرورۃ ۳؎ اھ
یعنی اگر قربۃ کی نیت کی کمالایخفی۔ اور اسی میں ہے کہ کنویں کا مسئلہ جحط ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ ایک جُنب نے کنویں میں غوطہ لگایا ڈول نکالنے کیلئے یا ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے، اور اس کے بدن پر نجاست نہ ہو تو محمد کے نزدیک آدمی پاک ہے اور پانی پاک کرنے والا ہے، اور محمد کے قول کی وجہ صحیح قول کے مطابق یہ ہے کہ پانی مستعمل نہیں ہوتا ہے خواہ اُس سے حدث ہی کیوں زائل نہ کیا جائے ضرورت کی وجہ سے۔
 (۳؎ بحرالرائق    کتاب الطہارت    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۹۷)
Flag Counter