اس کا اور تبیین میں بھی ایسا ہی ہے اور امام محمد کے کنویں کے مسئلہ میں باضافہ دلیل اس طرح بیان کیا ہے کہ کنویں میں ڈول کا گرنا بکثر ت ہوتا ہے اور جنابت بھی بکثرت ہوتی ہے تو اگر ہر مرتبہ ڈول نکالنے کیلئے غسل ضروری ہوتو لوگ تنگی میں پڑ جائیں گے اھ
(۲؎ تبیین الحقائق کتاب الطہارت مطبع الامیر یہ ببولاق مصر ۱/۲۵)
وفی الخانیۃ(۴) اتفق اصحابنا رحمہم اللّٰہ تعالٰی فی الروایات الظاھرۃ علی ان الماء المستعمل فی البدن لایبقی طھورا واختلفوا ھل یصیر مستعملا لسقوط الفرض اذا قصد التبردا واخراج الدلو من البئر قال ابو حنیفۃ وابو یوسف رحمہما اللّٰہ تعالٰی یصیر مستعملا وقال محمد رحمہ اللّٰہ تعالیٰ فی المشہور عنہ لا ۱؎ اھ۔
اور خانیہ میں ہے کہ ہمارے اصحاب روایات ظاہرہ میں اس امر پر متفق ہیں کہ جو پانی بدن پر مستعمل ہو وہ طہور نہ رہے گا اور اس میں اختلاف ہے کہ اگر ہاتھ ٹھنڈا کرنے کیلئے یا ڈول نکالنے کیلئے ہاتھ ڈالا تو آیا سقوط فرض کی وجہ سے مستعمل ہوگا یا نہیں؟ ابو حنیفہ اور ابو یوسف کا قول ہے کہ مستعمل ہوجائے گا اور محمد سے مشہور روایت یہ ہے کہ نہ ہوگا اھ
(۱؎ فتاوٰی خانیہ علی العالمگیری الماء المستعمل نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۱۴)
ای للضرورۃ کما مراما الامام فلم یعتبر الضرورۃ ھنا لندرۃ الاحتیاج الی الانغماس بخلاف الاحتیاج الی الاغتراف بالید ۲؎ اھ ش والتعلیل بالضرورۃ مقصور علی نحو طلب الدلو اما التبرد فلما اشتھر عن محمد من القصر علی القربۃ ومشی علیہ فی الخانیۃ فلذا ذکرہ وتبعہ البحر والنھر والدر۔
یعنی ضرورت کی وجہ سے جیسا کہ گزرا، مگر امام نے یہاں ضرورت کا اعتبار نہ کیا، کیونکہ غوطہ لگانے کی حاجت شاذہی ہوتی ہے ہاں ہاتھ سے چلّو بھرنا عموما ہوتا ہے اھ ش اور ضرورت کی علت ڈول طلب کرنے پر منحصر ہے ٹھنڈک کا ذکر اس وجہ سے کیا کہ محمد سے یہ روایت مشہور ہوئی کہ وہ صرف ادائے قربۃ کو وجہ استعمال قرار دیتے ہیں اور خانیہ میں بھی یہی ہے تو اس لئے اس کو ذکر کیا اور بحر، نہر اور دُر نے اس کی پیروی کی۔ ت
(۲؎ ردالمحتار باب المیاہ ۱/۹۴۹ )
اقول وھذا(۱) عجب بعد مشیھم علی ان الصحیح ان محمدالایقصر التغیر علی التقرب قال ش قدمنا ان ذلک خلاف الصحیح عندہ فلذا اقتصر فی الھدایۃ علی قولہ لطلب الدلو ۳ اھ ۔
میں کہتا ہوںیہ امر باعث تعجب ہے کیونکہ وہ اس امر کو مانتے ہیں کہ صحیح یہی ہے کہ محمد پانی کے تغیر کو قربۃ تک ہی محدود نہیں رکھتے۔ 'ش' نے فرمایا ہم پہلے لکھ آئے ہیں کہ یہ اُن کے نزدیک صحیح کے خلاف ہے اس لئے ہدایہ میں صرف ڈول کی تلاش کے مسئلہ پر اکتفاء کیا ہے اھ ت
(۳؎ ردالمحتار باب المیاہ ۱/۹۴۹ ۱/۱۴۸)
اقول الھدایۃ(۲) ایضا من الماشین کالخانیۃ وکثیرین علی ان محمد الایجعل السبب الا التقرب وقد ذکرناہ فی الطرس المعدل فلیس اقتصارہ علی ذکر الطلب لما ذکر وفیھا من فصل مایقع فی البئر المحدث اذا غسل ای فی الخانیہ ۱۲ اطراف اصابعہ ولم یغسل عضو اتاما اشارالحاکم(۵) رحمہ اللّٰہ تعالی فی المختصر الی انہ یصیر مستعملا ۱؎
میں کہتا ہوں ہدایہ بھی پیروی کرنے والا ہے، جیسے صاحبِ خانیہ ہیں اور بہت سے دوسرے فقہاء کہ امام محمد سبب، صرف تقرب کو قرار دیتے ہیں اور ہم اس کو ''الطرس المعدل'' میں بیان کرچکے ہیں تو ان کا طلب پر اکتفاء اس سبب سے نہیں جو ذکر کیا اور خانیہ کی فصل مایقع فی البئر میں ہے، بے وضو نے اگر اپنی انگلیوں کے کناروں کو دھویا اور پورا عضو نہ دھویا، حاکم نے مختصر میں کہا کہ اس طرح پانی مستعمل ہوجائے گا،
اور وجیز امام کُردری میں ہے، جُنب یا حائض نے اس میں(پانی میں) چلّو بھرنے کیلئے اپنا ہاتھ ڈالا یا اس میں سے لوٹا نکالنے کیلئے، تو پانی ضرورت کی وجہ سے خراب نہیں ہوگا، ہاں اگر ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے ڈالا تو فاسد ہوجائے گا،
وفی الکافی(۷) انما لم یحکم محمد باستعمال الماء فی مسألۃ البئر للضرورۃ فانھم لوجاءوا بمن یطلب دلوھم لایمکنھم ان یکلفوہ بالاغتسال اولا ۳؎ اھ
اور کافی میں ہے کہ امام محمد نے کنویں کے مسئلہ میں پانی کے مستعمل ہونے کا حکم اس لئے نہیں لگایا کہ وہاں ضرورت ہے، کیونکہ اگر ڈول نکالنے والا مل جائے تو لوگوں کیلئے ممکن نہیں کہ پہلے اس کو غسل کا پابند کریں اھ،
اور خلاصہ میں یہ چیز اصل کی طرف منسوب ہے اور اسی قسم ک عبارت خانیہ میں ہے اور خانیہ سے غنیہ میں منقول ہے اور الفاظ فقیہ النفس کے ہیں مختصراً کسی شخص نے پانی میں اپنا ہاتھ چلّو بھرنے کیلئے ڈالا تو وہ پانی کو فاسد نہ کرے گا اور اسی طرح لوٹا نکالنے کیلئے اپنا ہاتھ گڑھے میں کہنیوں تک ڈالا، اور اسی طرح ہاتھ پیر اگر کنویں میں ڈول کی تلاش میں ڈالے تو ضرورت کی وجہ سے پانی فاسد نہ ہوگا اور ٹھنڈک کے حصول کی خاطر ڈالے تو پانی مستعمل ہوجائے گا کہ ضرورت نہیں ہے۔
(۴؎ غنیۃ المستملی باب الانجاس سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۵۲)
وفی الحلیۃ(۱۱) قال القدوری(۱۲) کان شیخناابو عبداللہ یقول الصحیح عندی من مذہب اصحابنا ان ازالۃ الحدث توجب استعمال الماء ولا معنی لھذا الخلاف اذلا نص فیہ(۱) وانما لم یأخذ الماء حکم الاستعمال فی مسألۃ طلب الدلو لمکان الضرورۃ اذ الحاجۃ الی الانغماس فی البئر لطلب الدلومما یکثرولواحتیج الی نزح کل الماء کل مرۃ لحرجوا حرجا عظیما فصارکا لمحدث اذا غرف الماء بکفہ لایصیر مستعملا بلا خلاف وان وجد اسقاط الفرض لمکان الضرورۃ ۱؎ اھ
اور حلیہ میں ہے کہ قدوری نے کہا ہمارے شیخ ابو عبداللہ فرماتے تھے میرے نزدیک ہمارے اصحاب کا صحیح مذہب یہ ہے کہ ازالہ حَدَث پانی کے استعمال کا موجب ہے اور اس اختلاف کا کوئی مفہوم نہیں کیونکہ اس میں نص موجود نہیں، اور ڈول کی تلاش کے مسئلہ میں پانی کا مستعمل نہ ہونا ضرورت ہونے کی وجہ سے ہے کیونکہ کنویں میں ڈول کی تلاش میں غوطہ خوری عام ہے، اور اگر ہر مرتبہ کنویں کا پورا پانی نکالنا پڑ جائے تو لوگ سخت تنگی میں مبتلا ہوجائیں گے، تو یہ بے وضو کی طرح ہے کہ وہ چلّو سے پانی لے تو بالاتفاق پانی مستعمل نہ ہوگا اگرچہ اس میں اسقاط فرض بھی پایا جارہا ہے، کیونکہ ضرورت ہے،
وفی البرھان(۱) شرح مواھب الرحمٰن ثم غنیۃ(۱۵) ذوی الاحکام للشرنبلالی معناہ وفی شرح الوھبانیۃ للعلامۃ ابن الشحنۃ اعتبار الضرورۃ فی مثل ذلک مذکور فی(۱۶) الصغری وغیرھا اھ وفی النھایۃ(۱۷) ثم الھندیۃ(۱۸)لوانغمس(۲)للاغتسال للصلاۃ یفسدالماء بالاتفاق ۲؎ ا ونحوہ فی العنایۃ(۱۹) وغیرھا
اور برہان شرح مواہب الرحمن، نیز غنیہ ذوی الاحکام شرنبلالی میں اس کا ہم معنی ہے، اور علّامہ ابن الشحنہ کی شرح وہبانیہ میں ہے کہ اس قسم کے مسائل میں ضرورت کا اعتبار صغریٰ وغیرہ میں مذکور ہے اھ اور نہایہ وہندیہ میں ہے کہ نماز کیلئے غسل کرنے کو غوطہ لگایا تو پانی بالاتفاق مستعمل ہوجائے گا اھ اور عنایہ وغیرہ میں اسی کی مثل ہے