اس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ قول صحیح پر برتن بھی محض پانی کے بہنے سے پاک ہوجائیں گے، اور اس کی وجہ بدائع میں یہ بیان کی ہے کہ یہ جاری پانی ہوگیا، تو جاری پانی کا حکم اس پر لاگو ہوگا، تو حکم ظاہر ہوگیا وللہ الحمد اھ اور اس کی مکمل بحث اُسی میں ہے۔ ت
(۵؎ ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۴۴)
بعض لوگوں کا کہنا کہ اس سے پانی مکروہ ہوجاتا ہے اگر پینے کے حق میں مراد تو مذہب صحیح پر مبنی ہے کہ ماء مستعمل(۱) طاہر ہے مطہر نہیں اُس سے وضو نہ ہوگا اور پینا مکروہ۔ حلیہ پھر شامی میں ہے: بلعہ ایاہ مکروہ ۱؎(اس کا اس کو نگلنا مکروہ ہے۔ ت)
(۱؎ درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱/۳۷)
درمختار میں ہے:
ھو طاہر ولو من جنب وھو الظاھر لکن یکرہ شربہ والعجن بہ تنزیھا للاستقذار وعلی روایۃ نجاستہ تحریما ۲؎۔
وہ پاک ہے خواہ جنب سے ہی ہو اور یہی ظاہر ہے لیکن اس کا پینا اور اس سے آٹا گوندھنا مکروہ تنزیہی ہے کیونکہ اس سے گِھن آتی ہے، اور نجس ہونے کی روایت پر مکروہ تحریمی ہے۔(ت)
(۲؎ درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱/۳۷)
اور اگر وضو کے حق میں مقصود یعنی اس سے وضو ہوجائے گا مگر مکروہ ہے تو مذہب غیر صحیح پر مبنی ہے صحیح یہی ہے کہ اس سے پانی مستعمل ہوجائے گا اور اُس سے وضو صحیح نہ ہوگا نہ یہ کہ صرف کراہت ہو کما سنحققہ بتوفیقس اللّٰہ تعالٰی قد اٰن اوانہ بتوفیقہ عزشانہ۔
تحقیق المقام: بفضل الملک العلام اقول وباللّٰہ التوفیق اتت الفروع(۲) متوافرۃ والنقول عن ائمتنا الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالی عنھم وعمن بعدھم متظافرۃ ونصوص معتمدات الشروح والفتاوی متواترۃ شاھداتٍ علی ان المحدث اذا ادخل عضوہ قبل غسلہ فی ماء قلیل فانہ یجعل الماء مستعملا الا ماکان عن ضرورۃ فعفی قال فی الفتح بعد اقامۃ البینۃ علی ان رفع الحدث ایضا مغیر للماء وان لم تکن معہ نیۃ قربۃ مانصّہ وبھذا یبعد قول محمد انہ التقرب فقط الا ان یمنع کون ھذا مذھبہ کما قال شمس الائمۃ قال لانہ لیس بمروی عنہ والصحیح عندہ ان ازالۃ الحدث بالماء مفسد لہ ومثلہ عن الجرجانی وما استدلوا بہ علیہ من مسألۃ المنغمس لطلب الدلو حیث قال محمد الرجل طاھر والماء طاھر جوابہ ان الازالۃ عندہ مفسدۃ الا عند الضرورۃ والحاجۃ کقولنا جمیعا لو ادخل المحدث اوالجنب اوالحائض التی طھرت الید فی الماء للاغتراف لایصیر مستعملا للحاجۃ بخلاف مالو ادخل رجلہ اورأسہ حیث یفسد الماء لعدم الضرورۃ وفی کتاب(۱) الحسن عن ابی حنیفۃ ان غمس جنب او غیر متوضیئ یدیہ الی المرفقین اواحدی رجلیہ فی اجانۃ لم یجز الوضؤ منہ لانہ سقط فرضہ عنہ وذلک لان الضرورۃ لم تتحقق فی الادخال الی المرفقین حتی لوتحققت بان وقع(۲) الکوز فی الجب فادخل یدہ الی المرفق لاخراجہ لایصیر مستعملا نص علیہ فی الخلاصۃ قال بخلاف(۳) مالو ادخل یدہ للتبرد یصیر مستعملا لعدم الضرورۃ ۱؎ اھ۔
میں بفضلہ تعالیٰ کہتا ہوں کہ متوافر فروع اور ہمارے تینوں ائمہ اور بعد کے علماء کی نقول اور متون وشروح معتمدہ کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ بے وضو شخص جب اپنا کوئی عضو دھوئے بغیر تھوڑے پانی میں ڈالے گا تو وہ پانی مستعمل ہوجائے گا، ہاں ضرورتاً ایسا کرنا معاف ہے، فتح میں اس امر پر دلیل قائم کی ہے کہ رفع حَدَث بھی پانی میں تغیر پیدا کرتا ہے خواہ اس میں تقرب کی نیت نہ ہو، اس کے بعد انہوں نے کہا کہ اس سے امام محمد کا قول کہ صرف تقرب سے متغیر ہوتا ہے، بعید ہوجاتا ہے ان کا مذہب نہ مانا جائے، جیسا کہ شمس الائمہ نے فرمایا ہے کیونکہ یہ اُن سے مروی نہیں ہے، اور اُن سے صحیح یہ ہے کہ حدث کا پانی سے زائل کرنا پانی کو فاسد کردیتا ہے،جواب یہ ہے کہ ازالہ حدث اُن کے نزدیک پانی کو فاسد کر دیتا ہے مگر ضرورتاً نہیں کرتا ہے جیسا کہ ہم سب کہتے ہیں کہ اگر بے وضوء ناپاک یاحائض جو پاک ہوگئی ہو اگر پانی میں ہاتھ ڈال کر چُلّو بھریں تو ضرورت کی وجہ سے یہ پانی مستعمل نہ ہوگا، ہاں اگر سر یا پیر ڈالا تو پانی فاسد ہوجائے گا کہ یہاں ضرورت نہیں ہے، اور حسن کی کتاب میں ابو حنیفہ سے ہے کہ اگر جنب یا بے وضو شخص نے اپنے دونوں ہاتھ کُہنیوں تک یا ایک پیر مرتبان میں ڈالا تو اس سے وضو جائز نہیں، کیونکہ اس کا فرض ساقط ہوا ہے، کیونکہ دونوں کہنیوں تک ڈبونے کی کوئی ضرورت نہ تھی، ہاں اگر ضرورت پائی گئی مثلاً لوٹا تالاب میں تھا تو اس کو نکالنے کیلئے کہنیوں تک ہاتھ ڈالے تو پانی مستعمل نہ ہوگا، خلاصہ نے اس کی تصریح کی ہے فرمایا بخلاف اس کے کہ اگر ہاتھ ٹھنڈک حاصل کرنے کو ڈبوئے تو پانی ضرورت نہ پائے جانے کی وجہ سے مستعمل ہوجائیگا اھ
اور اسی کی مثل جرجانی سے منقول ہے، انہوں نے اُس شخص سے استدلال کیا ہے جو ڈول نکالنے کیلئے پانی میں غوطہ لگائے۔ امام محمد نے اس شخص کی بابت فرمایا مرد بھی پاک ہے اور پانی بھی پاک،
(۱؎ فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوءمالا یجوز نوریہ رضویہ سکھر ۱/۷۶)