Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
25 - 176
فائدہ ۳: عورت(۲) ابھی حیض یا نفاس میں ہے خون منقطع نہ ہوا اس حالت میں اگر اس کا ہاتھ یا کوئی عضو پانی میں پڑ جائے مستعمل نہ ہوگا کہ ہنوز اس پر غسل کا حکم نہیں والمسألۃ فی الخانیۃ والخلاصۃ والبحر وغیرھا اس لئے ہم نے بالفعل کی قید ذکر کی۔

فائدہ ۴: جس عضو کا جہاں(۳) تک پانی میں ڈالنا بضرورت ہو اُتنا معاف ہے پانی کو مستعمل نہ کرے گا مثلاً:

(۱) پانی لگن یا چھوٹے حوض میں ہے کہ دہ در دہ نہیں اور کوئی برتن نہیں جس سے نکال کر وضو کرے تو چُلّو لینے کیلئےاُسی میں ہاتھ ڈالنے سے مستعمل نہ ہوگا۔

(۲) اسی صورت میں اگر ہاتھ مثلاً کہنی یا نصف کلائی تک ڈال کر چلّو لیا یعنی جس قدر کے ادخال کی چلو میں حاجت نہ تھی مستعمل ہوجائے گا کہ زیادت بے ضرورت واقع ہوئی۔

(۳) کَولی یا مٹکے میں کٹورا ڈوب گیا اُس کے نکالنے کو جتنا ہاتھ ڈالنا ہو مستعمل نہ کرے گا، اگرچہ بازو تک ہو کہ ضرورت ہے۔

(۴) برتن میں پاؤں پڑ گیا پانی مستعمل ہوگیا کہ اس کی ضرورت نہ تھی۔

(۵) کنوئیں یا حوض میں ٹھنڈ لینے کو غوطہ مارا یا صرف ہاتھ پاؤں ڈالا مستعمل ہوگیا کہ ضرورت نہیں۔

(۶) برتن یا حوض(۱) میں ہاتھ ڈالا تو تھا چُلُّو لینے کو پھر اُس میں ہاتھ دھونے کی نیت کرلی مستعمل ہوگیا کہ حوض میں دھونا بضرورت نہ تھا صرف چُلُّو لینے کی حاجت تھی۔

(۷) کُنوئیں سے ڈول نکالنے گھُسا اور وہاں غسل یا وضو کی نیت کرلی بالاتفاق مستعمل ہوگیا اگرچہ امام محمد نے ڈول نکالنے کیلئے اجازت دی تھی کہ قصد طہارت کی ضرورت نہ تھی وقس علیہ۔
فتح القدیر میں ہے:

لوادخل المحدث اوالجنب اوالحائض التی طھرت الید فی الماء للاغتراف لایصیر مستعملا للحاجۃ بخلاف مالو ادخل المحدث رجلہ او رأسہ حیث یفسد الماء لعدم الضرورۃ وفی کتاب الحسن عن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ ان غمس جنب او غیر متوضیئ یدیہ الی المرفقین او احدی رجلیہ فی اجانۃ لم یجز الوضوء منہ لانہ سقط فرضہ عنہ وذلک لان الضرورۃ لم تتحقق فی الادخال الی المرفقین حتی لوتحققت بان وقع الکوز فی الجب فادخل یدہ الی المرفق لاخراجہ لایصیر مستعملا نص علیہ فی الخلاصۃ قال بخلاف مالوادخل یدہ للتبرد لعدم الضرورۃ ثم ادخال مجرد الکف انما لایصیر مستعملا اذا لم یرد الغسل فیہ بل اراد رفع الماء وفی المبتغی وغیرہ بتبردہ یصیر مستعملا ان کان محدثا والا فلا ۱؎ اھ باختصار۔
اگر بے وضو، جنب یا پاک ہوجانے والی حائض عورت نے اپنا ہاتھ چُلّو بھر پانی لینے کیلئے پانی میں ڈالا تو پانی مستعمل نہ ہوگا کیونکہ یہ ضرورۃً کیا گیا ہے، لیکن اگر بے وضو نے اپنا سریا پیر اس پانی میں ڈال دیا تو مستعمل ہوجائے گا کیونکہ بغیر ضرورت ہوا، اور حسن کی کتاب جو ابو حنیفہ سے ہے میں ہے کہ اگر جنب یا بے وضو نے اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک یا ایک پیر کسی مرتبان میں ڈالے تو اُس سے وضو جائز نہیں، کیونکہ اس طرح اس کا فرض اس سے ساقط ہوگیا کیونکہ کہنیوں تک ہاتھوں کو ڈبونے کی کوئی ضرورت نہ تھی ہاں اگر یہ ضرورت ہو، مثلاً لوٹا کنویں میں گر پڑا اس کو نکالنے کیلئے ہاتھ کہنیوں تک اس میں ڈالنا پڑا اس کو نکالنے کیلئے ہاتھ کہنیوں تک اس میں پانی ڈالنا پڑا تو پانی مستعمل نہ ہوگا، یہ خلاصہ میں منصوص ہے، فرمایا اگر ہاتھ  محض ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے بلا ضرورت ڈالا تو اس کا یہ حکم نہیں، کیونکہ وہاں ضرورت نہیں، پھر محض ہاتھ کا ڈالنا پانی کو مستعمل نہیں کردیتا ہے جبکہ غسل کا ارادہ نہ ہو، مثلاً یہ کہ پانی اٹھانے کا ارادہ ہو، اور مبتغٰی وغیرہ میں ہے ٹھنڈک حاصل ہونے سے مستعمل ہوجائے گا اگر بے وضو ہو ورنہ نہیں اھ۔ ت
 (۱؎ فتح القدیر    باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء ومالایجوز    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۷۶)
ردالمحتار میں زیر قول شارح محدث انغمس فی بئرلدلو ولم ینو ۲؎
 (بے وضو جس نے ڈول نکالنے کیلئے کنویں میں غوطہ لگایا اور نیت نہ کی۔ ت)
 (۲؎ درمختار    باب المیاہ            مجتبائی دہلی        ۱/۳۷)
فرمایا:

لم ینو ای الاغتسال فلو نواہ صار مستعملا بالاتفاق الافی قول زفر سراج والمراد لم ینو بعد انغماسہ فلا ینافی قولہ لدلو افادہ ۳؎
ط۔

نیت نہ کی یعنی غسل کی، اگر غسل کی نیت کی تو پانی بالاتفاق مستعمل ہوجائے گا مگر زفر کے قول میں، سراج۔ اور مراد یہ ہے کہ غوطہ کھانے کے بعد نیت نہ کی تو ان کے قول لدلو کے منافی نہیں، اس کا افادہ 'ط' نے کیا۔ ت
 (۳؎ ردالمحتار        باب المیاہ     مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۸)
ولہٰذا ہم نے بے ضرورت کی قید لگائی۔

فائدہ ۵: امام(۱) ابو یوسف سے روایت معروفہ یہ ہے کہ عضو کا ٹکڑا ڈوب جانے سے مستعمل نہیں ہوتا جب تک پورا عضو نہ ڈوبے، مثلاً انگلیاں پانی میں ڈالیں تو مستعمل نہ ہوگا کفِ دست کے ڈوبنے سے حکمِ استعمال دیا جائے گا اور صحیح یہ ہے کہ بے ضرورت کتنا ہی ٹکڑا ہو مستعمل کر دے گا۔ فتح القدیر میں ہے:
لو ادخل الجنب فی البئر غیر الید والرجل من الجسد افسدہ لان الحاجۃ فیھما وقولنا من الجسد یفید الاستعمال بادخال بعض عضو وھو یوافق المروی عن ابی یوسف فی الطاھر اذا ادخل رأسہ فی الاناء وابتل بعض رأسہ انہ یصیر مستعملا اما الروایۃ المعروفۃ عن ابی یوسف انہ لایصیر مستعملا ببعض العضو ۴؎۔
اگر جنب نے کنویں میں ہاتھ پیر کے علاوہ کوئی عضو ڈالا تو پانی فاسد ہوجائے گا، کیونکہ ضرورت صرف انہی دو میں ہے اور ہمارا قول من الجسد بعض عضو کے داخل کرنے سے مستعمل ہونے کا فائدہ دیتا ہے، اور وہ ابو یوسف سے مروی شدہ قول کے موافق ہے، وہ فرماتے ہیں کہ پاک شخص نے کسی برتن میں اپنا سر ڈالا اور اس کا کچھ حصہ تر ہوگیا تو مستعمل ہوگا، اور ابویوسف سے جو روایت معروف ہے وہ یہ ہے کہ عضو کے بعض حصہ سے مستعمل نہ ہو گا۔ ت
 (۴؎ فتح القدیر     باب الماء الذی یجوز بہ الوضؤ وما لایجوز     نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۸)
اُسی میں اس سے کچھ پہلے ہے:

ان کان اصبعا اواکثر دون الکف لایضر ومع الکف بخلافہ ذکرہ فی الخلاصۃ ولا یخلو من حاجۃ الی تأمل وجہہ ۱؎۔
اگر انگلی یا اس سے زیادہ ہو اور ہتھیلی سے کم ہو تو مضر نہیں اور ہتھیلی کے ساتھ اس کے برعکس ہے، اس کو خلاصہ میں ذکر کیا، اس میں ضرورت ہے کہ اس کی وجہ پر غور کیا جائے۔ ت
 (۱؎ فتح القدیر        باب الماء الذی یجوزبہ الوضؤ وما لایجوز    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۶)
وجیز امام کُردری میں ہے:

المعروف عن الامام الثانی عدم الفساد مالم یصر عضوا تاما والفساد ھو الظاھر ۲؎ اھ۔
امام ثانی سے مشہور یہ ہے کہ جب تک پورا عضو داخل نہ ہو فساد نہیں، حالانکہ فساد ظاہر ہے۔ ت
 (۲؎ بزازیۃ مع الہندیۃ    نوع فی المستعمل والمقید والمطلق    نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/۹)
اقول الحق ان المناط الحاجۃ فحیث کانت تندفع ببعض العضو فادخل کلہ یصیر مستعملا ولعل ھذا ھو محمل تلک الروایۃ ان ادخال الاصابع للاغتراف لایفسد بخلاف الکف ولھذا قال فی الخانیۃ من باب الوضؤ ان لم تکن معہ اٰنیۃ صغیرۃ فانہ یغترف من التوربا صابع یدہ الیسری مضمومۃ لابالکف ۳؎۔
میں کہتا ہوں حق یہ ہے کہ حکم کی علت حاجت ہے تو جہاں ضرورت عضو کے بعض حصّے سے پوری ہوجاتی ہو وہاں اگر کل عضو ڈال دیا تو پانی مستعمل ہوجائے گا اور شاید یہ اُس روایت کا محمِل ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ چُلّو بھر کر پانی لینے کیلئے انگلیوں کا ڈالنا پانی کو فاسد نہیں کرتا بخلاف ہتھیلی کے، اس لئے خانیہ کے باب وضو میں ہے اگر اس کے پاس چھوٹا برتن نہ ہو تو طشت سے اپنے بائیں ہاتھ کی انگلیاں ملا کر پانی نکال لے ہتھیلی نہ ڈالے۔ ت
 (۳؎ خانیہ مع الہندیۃ    صفۃ الوضوء               نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۳۳)
ولہٰذا ہم نے حکم عام رکھا باقی فوائدہمارے رسالہ الطرس المعدل سے ظاہر ہیں اُسے قابل(۱) وضو کرنے کے دو۲ طریقے ہیں، ایک یہ کہ اپنی مقدار سے زائد آب طاہر مطہر میں ملا دیا جائے سب قابلِ وضو ہوجائے گا۔ درمختار میں ہے:
غلبۃ المخالط لو مماثلا کمستعمل فبا لاجزاء فان المطلق اکثر من النصف جاز التطھیر

بالکل والالا ۱؎۔
ملنے والے پانی کا غلبہ اگر اسی کی مثل ہو جیسے مستعمل پانی تو اعتبار اجزاء(مقدار) کا ہوگا، اگر مطلق نصف سے زیادہ تو سب سے پاکی حاصل کرنا جائز ہے ورنہ نہیں۔ ت
 (۱؎ درمختار    باب المیاہ    مجتبائی دہلی        ۱/۳۴)
دوسرے یہ کہ اُس میں طاہر مطہر پانی ڈالتے رہیں یہاں تک کہ اُس کا برتن بھر کر اُبلے اور بہنا شروع ہو سب طاہر مطہر ہوجائے گا کہ اس طرح پاک پانی کے ساتھ بہانے سے ناپاک پانی پاک ہوجاتا ہے تو غیر مطہر ہوجانا بدرجہ اولیٰ 

درمختار میں ہے:
المختار طہارۃ المتنجس بمجرد جریانہ ۲؎۔
مختار قول یہ ہے کہ نجس پانی محض جاری ہونے سے پاک ہوجائے گا۔ ت
 (۲؎ درمختار    باب المیاہ    مجتبائی دہلی        ۱/۳۶)
ردالمحتار میں ہے:

بمجرد جریانہ بان یدخل من جانب ویخرج من اٰخر حال دخولہ وان قل الخارج بحود لایلزم ان یکون ممتلأ اول وقت الدخول لانہ اذا کان ناقصا فدخل الماء حتی امتلأ وخرج بعضہ طھر ایضا کما حققہ فی الحلیۃ ۳؎۔
محض اس کے جاری ہونے سے، کہ ایک طرف سے داخل کیا جائے اور دوسری طرف سے نکالا جائے اس کے داخل ہونے کی حالت میں، اگرچہ خارج کم ہو، بحر، یہ ضروری نہیں کہ داخل ہوتے وقت بھرا ہوا ہو، کیونکہ جب ناقص ہوگا اور پانی داخل ہوکر برتن بھر جائے پھر پانی نکل جائے تو بھی یہ پانی پاک ہوجائے گا، جیسا کہ حلیہ میں تحقیق کی۔ ت
 (۳؎ ردالمحتار     باب المیاہ مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۳)
Flag Counter