| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
اقول: اخر کلامہ یشھد ان مرادہ بقولہ یحتمل الامتداد الی قدر الفرض ھو قدرہ علی القول باجزاء ثلاث فکان الاولی التعبیر بہ دفعا للوھم ثم ان المحقق ردہ بقولہ الا ان ھذا یعکر علیہ عدم جواز التیمم باصبعین ۱؎ اھ۔
میں کہتا ہوں کہ ان کے کلام کا آخر اس امر کی شہادت دیتا ہے کہ ان کی مراد یحتمل الامتداد الی قدر الفرض سے تین انگلیوں کا پھیرنا ہے، تو بہتر یہ ہے کہ اسی سے تعبیر کی جائے تاکہ وہم رفع ہوجائے پھر محقق نے اس کو یہ کہہ کر دفع کیا ہے مگر اس پر یہ اعتراض ہے کہ اس سے لازم آتا ہے کہ دو انگلیوں سے تیمم جائز نہ ہو اھ ت
(۱؎ فتح القدیر کتاب الطہارت نوریہ رضویہ سکھر ۱/۱۷(
اقول: ای فلیس ثمہ شیئ یفرغ ویتلاشی اذلا حاجۃ الی اثر غبار علی الید فان کان فضل غیر ملتفت الیہ شرعا فکان معدوما حکما وان لم یکن فاظھر للعدم حقیقۃ وحکما وھذا معنی قول شمس الائمۃ خصوصا اذا تیمم علی الحجر الصلد فھذا کل مااوردہ المحقق ولم یفصل القول فیہ فصلا۔
میں کہتا ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں کوئی چیز ایسی نہیں جو فنا ہوجاتی ہو، کیونکہ ہاتھ پر گرد کے لگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اگر ہو تو یہ اضافی امر ہے شرعاً اس کی حاجت نہیں، تو یہ حُکما نہ ہوا، اور اگر غبار نہ ہو تو بات زیادہ ظاہر ہوگی کیونکہ درحقیقت اور حکماً دونوں طرح ہی معدوم ہے اور شمس الائمہ کے قول ''خصوصا عی الحجر الصلد'' کا یہی مفہوم ہے، یہ وہ بحث ہے جو محقق نے کی ہے اور اس میں کسی قولِ فیصل کو ذکر نہ کیا۔(ت)
اقول: ویرد(۱) ایضا علی ماابداہ ان فناء البلل غیر مطرد اما سمعت تصحیح الخلاصۃ الجواز فی مد الاطراف وان لم یکن الماء متقاطرا ۲؎مع ان حکم المسألۃ مطلق ویظھر(۲) لی واللّٰہ تعالی اعلم ان لامخلص الا ان یقال ان المراد بعدم الاجزاء مااذا کانت البلۃ خفیفۃ تفنی باول وضع اوقلیل مدحتی لاتبقی الانداوۃ لاتنفصل عن الید فبتل الرأس ولعلہ ھو الاکثر وقوعا وبتصحیح الخلاصۃ مااذا کانت کثیرۃ تبقی الی بلوغ القدر المفروض بحیث تنفصل فی کل محل وتصیب وھذا ھو مراد المحیط بالتقاطر فتتفق الکلمات وانت اذ انظرت الی الوجہ اذعنت بھذا التفصیل کیف ولا معنی لاجزاء النداوۃ فی الصورۃ الاولیٰ ولا ھدار البلۃ فی الصورۃ الثانیۃ فلیکن التوفیق وباللّٰہ التوفیق۔
میں کہتا ہوں اور جوانہوں نے فرمایا اس کی تردید ا س امر سے بھی ہوتی ہے کہ تری کا ختم ہوجانا کوئی عمومی امر نہیں، جیسا کہ خلاصہ کی تصحیح میں گزرا کہ مسح انگلیوں کے پوروں کے پھیرنے سے بھی ہوجائیگا خواہ ان سے پانی نہ بہتا ہو، حالانکہ مسئلہ کا حکم مطلق ہے، میرے لئے ظاہر ہوتا ہے(واللہ تعالیٰ اعلم) کہ اس اعتراض سے چھٹکارے کی ایک ہی شکل ہے کہ اس سے یہ مراد لی جائے کہ جب تری اتنی کم ہو کہ رکھتے ہی ختم ہوجائے یا تھوڑا سا پھیرنے پر ختم ہوجائے اور محض اتنی باقی رہے کہ ہاتھ ترمحسوس ہو اور وہ سر کو تر نہ کرسکے اور غالباً عام طور پر ایسا ہی واقع ہوتا ہے، اور خلاصہ کی تصحیح سے مراد یہ ہو کہ جب تری اتنی زیادہ ہوکر فرض مقدار تک پہنچنے کے بعد بھی باقی رہے یعنی اس طور پر کہ ہر جگہ جدا ہو اور لگ جائے، اور محیط کی مراد تقاطر سے یہی ہے اس طرح تمام عبارات میں اتفاق ہوجائے گا، اور جو تم علت کو دیکھو گے تو یقین آجائے گا کیونکہ پہلی صورت میں تری کے پھیرنے کے اور کوئی معنی نہیں اور نہ ہی دوسری صورت میں تری کو ضائع کرنے کے، تو اس طرح تطبیق دینی چاہئے وباللہ التوفیق۔
(۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الرابع فی المسح نولکشور لکھنؤ ۱/۲۶)
اما حدیث(۱) التیمم فاقول: لابدفیہ من قصد المکلف وفعلہ الاختیاری فیکون لتقریر الامام شمس الائمۃ فیہ مساغ الاتری انھم صرحوا ان لوتیمم باصبع(۲) اواصبعین وکرر مرارا لم یجز کما فی البحر عن السراج عن الایضاح ولو مسح راسہ باصبع واحدۃ وکرراربعا فی مواضع صح اجماعا فلا یطلب موافقۃ ماھنا لما فی التیمم حتی یعکر علیہ بہ اذ لاتعین للالۃ ھھنا اصلا بخلاف التیمم وذلک ایضا فی الطریق المعتاد اعنی التیمم بالید والا فقد نص فی الحلیۃ ان لو تمعک(۳) فی التراب یجزئہ ان اصاب وجہہ وذراعیہ وکفیہ لانہ اتی بالمفروض وزیادۃ والا فلا ۱؎ اھ۔ای یجزئہ ان نوی کما لایخفی واللّٰہ تعالی اعلم۔
رہی حدیثِ تیمم، تو اس میں مکلّف کا ارادہ اور اس کا اختیاری فعل ضروری ہے، تب شمس الائمہ کی تقریر اس میں چل سکے گی، یہی وجہ ہے کہ فقہا ء نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ اگر کسی نے ایک یا دو انگلیوں سے تیمم کیا اور ان کو بار بار پھرا تو جائز نہیں جیسا کہ بحر میں سراج سے ایضاح سے منقول ہے، اور اگر ایک انگلی سے اپنے سر کا مسح کیا اور چار مختلف جگہوں پر اس کا تکرار کیا تو اجماعاً صحیح ہے، تو اس کی موافقت تیمم کے معاملہ سے نہ کی جائے تاکہ اُس سے اعتراض لازم آئے کیونکہ یہاں آلہ کا تعین بالکل نہیں بخلاف تیمم کے، اور یہ بھی معتاد طریق میں ہے، یعنی ہاتھ سے تیمم میں ورنہ حلیہ میں تصریح کی ہے کہ اگر کوئی شخص خاک میں لوٹ پوٹ ہوگیا اور خاک اس کے چہرے، ہاتھوں اور بانہوں کو لگ گئی تو کافی ہے کیونکہ اُس نے نہ صرف فرض ادا کرلیا بلکہ اس سے بھی زیادہ کرلیا، ورنہ نہیں اھ یعنی اگر اس نے نیت کی ہے تو کافی ہوگا، جیسا کہ ظاہر ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
(۱؎ حلیہ)
فتوٰی مسمّٰی بہ ۲۷النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر(ت) مسئلہ ۲۹: رجب ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر بے وضو یا جُنب کا ہاتھ یا انگلی یا ناخن وغیرہ لوٹے یا گھڑے میں پڑ جائے تو پانی وضو کے قابل رہتا ہے یا نہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں اس سے پانی مکروہ ہوجاتا ہے اور اگر قابل وضو نہ رہے تو کس طرح قابل کیا جاسکتا ہے بینّوا توجروا۔
الجواب
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ط، الحمدللّٰہ الذی انزل الذکر الملقی علی السید الطیب الطھور الانقی الملاقی ربہ لیلۃ الاسراء علیہ من ربہ الصلاۃ الزھراء وعلی اٰلہ وصحبہ وامتہ وحزبہ الی یوم اللقاء اٰمین راجح
ومعتمد یہ ہے کہ مکلّف پر جس عضو کا دھونا کسی نجاست حکمیہ مثل حدث وجنابت وانقطاع حیض ونفاس کے سبب بالفعل واجب ہے وہ عضو یا اُس کا کوئی حصّہ اگرچہ ناخن یا ناخن کا کنارہ آبِ غیر کثیر میں کہ نہ جاری ہے نہ دہ دردہ بے ضرورت پڑ جانا پانی کو قابلِ وضو وغسل نہیں رکھتا یعنی پانی مستعمل ہوجاتا ہے کہ خود پاک ہے اور نجاست حکمیہ سے تطہیر نہیں کرسکتا اگرچہ نجاست حقیقیہ اس سے دھو سکتے ہیں، یہی قول نجیح ورجیح ہے عامہ کتب میں اس کی تصریح ہے اور یہ خود ہمارے ائمہ ثلٰثہ امامِ اعظم وامام ابو یوسف وامام محمد رضی اللہ تعالی عنہم سے منصوص ومروی آیا اکابر مشائخ مثل امام ابو عبداللہ جرجانی وامام ابو الحسین قدوری وامام ملک العلماء ابو بکر کاشانی وامام فقیہ النفس فخرالدین قاضی وغیرہم رحمہم اللہ تعالیٰ نے اُسے ہمارے ائمہ کا مذہب متفق علیہ بتایا۔ فقیر غفرلہ المولی القدیر نے اپنی ایک تحریر میں اُس پر ائمہ ثلٰثہ رضی اللہ تعالی عنہم کے سوا چالیس ائمہ وکتب کے نصوص نقل کئے اور بعض علمائے متاخرین رحمہم اللہ تعالٰی کو جو اس میں شبہات واقع ہوئے ان کے جواب دیے۔ یہاں اوّلاً فوائد اور ان کے متعلق مسائل ذکر کریں۔ ثانیاً اتمام جواب۔ ثالثاً تحقیق مقام وابانت صواب اور اس کیلئے اپنی تحریر مذکور سے رفع حجاب۔ ۤوباللّٰہ التوفیق فی کل باب والحمدللّٰہ الکریم الوھاب۔
فوائد قیود ومسائل مورود فائدہ۱:(۱) نابالغ اگرچہ ایک دن کم پندرہ برس کا ہو جبکہ آثار بلوغ مثل احتلام وحیض ہنوز شروع نہ ہوئے ہوں اُس کا پاک بدن جس پر کوئی نجاست حقیقیہ نہ ہو اگرچہ تمام وکمال آب قلیل میں ڈوب جائے اُسے قابلیت وضو وغسل سے خارج نہ کرے گا لعدم الحدث(ناپاک نہ ہونے کی وجہ سے۔ ت) اگرچہ بحال احتمال نجاست جیسے ناسمجھ بچّوں میں ہے بچنا افضل ہے ہاں بہ نیت قربت سمجھ وال بچّہ سے واقع ہو تو مستعمل کر دے گا۔
لانہ من اھلھا وقد بینا المسئلۃ فی الطرس المعدل۔
کیونکہ وہ اس کے اہل سے ہے اور ہم نے یہ مسئلہ 'الطرس المعدل' میں بیان کردیا۔ ت