| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
اقول علی ان ماعدل الیہ(۲) بعض المتأخرین لااعرف لہ محصلا فان المراد ان کان الانفصال عن الاصبع فلا یفیدالاستعمال لانھا اٰلۃ وانما یفیدہ الانفصال عن المحل اوعن الرأس کلہ فظاھر الغلط اوعن موضعہ الذی اصابتہ الاصبع او لافنعم ولم یشف غلیلا بل کان نظیرا لما عدل عنہ للحکم بحصول الاستعمال مع کون الماء مترددا بعد علی نفس العضو غیر منفصل عنہ وھو باطل(۳) لاجرم ان نص فی الخلاصۃ ثم البحر فیما اذا مسح باطراف اصابعہ ومدھا حتی بلغ المفروض انہ یجوز سواء کان الماء متقاطرا اولا قالا وھو ۲؎ الصحیح،
میں کہتا ہوں بعض متأخرین نے جس کی طرف عدول کیا ہے میں اس کا کوئی فائدہ نہیں محسوس کرتا ہوں کیونکہ اگر ان کی مراد انگلی سے جدا ہونا ہے تو استعمال کا فائدہ نہ ہوگا کیونکہ وہ تو آلہ ہے اس کو تو محل سے جدا ہونا یا کل سر سے جدا ہونا مفید ہے، تو یہ ظاہراً غلط ہے یا اس کی جگہ سے جہاں انگلی لگی ہے یا نہیں، تو ہاں، مگر اس سے کچھ فائدہ نہیں بلکہ یہ نظیر ہوگا اس چیز کی جس سے عدول کیا ہے تاکہ استعمال کے حصول کا حکم ہو حالانکہ پانی متردد ہے عضو پر اس سے جدا نہیں، اور وہ باطل ہے، پھر خلاصہ وبحر میں صراحت ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنی انگلیوں کے کناروں سے مسح کیا اور ان کو کھینچا یہاں تک کہ فرض کے مقام کو پہنچا تو یہ جائز ہے خواہ پانی ٹپکے یا نہ ٹپکے اُن دونوں نے کہا کہ وہی صحیح ہے۔
(۲؎ بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱/۱۵)
قال ش قال الشیخ اسمٰعیل ونحوہ فی الواقعات والفیض ۱؎ اھ۔ای علی خلاف مافی المحیط انہ انما یجوز اذا کان متقاطر لان الماء ینزل من اصابعہ الی اطرافھا فمدہ کاخذ جدید ۲؎۔
ش نے فرمایا شیخ اسمٰعیل نے فرمایا نیز واقعات اور فیض میں ہے اھ یعنی محیط کے برعکس یہ اس وقت جائز ہے جبکہ پانی ٹپک رہا ہو کیونکہ پانی اس کی انگلیوں کے کناروں تک ٹپک آئے گا تو اس کا کھینچنا گویا نیا پانی لینے کے مترادف ہے۔ ت
(۱؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ البابی مصر ۱/۴۵) (۲؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ البابی مصر ۱/۴۷)
والثانی مااختار شمس الائمۃ ان المنع فی مد الاصبع والا ثنتین غیر معلل باستعمال البلۃ بدلیل انہ لومسح(۱) باصبعین فی التیمم لایجوز مع عدم شیئ یصیر مستعملا خصوصا اذا تیمم علی الحجر الصلد بل الوجہ انامامورون بالمسح بالید والاصبعان لاتسمی یدا بخلاف الثلاث لانھا اکثر ماھو الاصل فیھا ۳؎ اھ
اور دوسرا وہ ہے جو شمس الائمہ نے اختیار کیا ہے کہ ایک یا دو انگلیوں کے کھینچنے کی ممانعت تری کے استعمال کی وجہ سے نہیں ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اس نے دو انگلیوں سے تیمم میں مسح کیا تو جائز نہیں، حالانکہ کوئی چیز ایسی نہیں جو مستعمل ہو خصوصاً جب چکنے پتھر پر تیمم کیا، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں ہاتھ سے مسح کا حکم دیا گیا ہے اور دوانگلیوں کو ہاتھ نہیں کہا جاتا ہے بخلاف تین انگلیوں کے کیونکہ یہ مسح کے اصل میں جو اصل ہے اس کا اکثر حصہ ہیں اھ۔
(۳؎ فتح القدیر کتاب الطہارۃ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۱۶)
ای فی الید وھی الاصابع ولذا(۲) یجب بقطعھا ارش الید کاملا وردہ المحقق بعد استحسانہ بانہ یقتضی تعیین الاصابۃ بالید وھو(۳) منتف بمسألۃ المطر وقد یدفع بان المراد تعیینہا اوما یقوم مقامھا من الالات عند قصد الاسقاط بالفعل اختیارا غیران لازمہ کون تلک الاٰلۃ قدر ثلاث اصابع حتی لوکان عودا(۴) لایبلغ ذلک القدر قلنا بعدم جوازمدہ ۴؎
یعنی ہاتھ اور وُہ انگلیاں ہیں اور اسی لئے تین انگلیوں کے کاٹنے پر پورے ہاتھ کی دیت لازم ہوتی ہے اور محقق نے اس کو پسند کرنے کے بعد رد کردیا، کیونکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہاتھ کا لگانا ہی ضروری ہے حالانکہ بارش کے مسئلہ کی وجہ سے ایسا نہیں ہے، اس کا ایک جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ دراصل مراد ہاتھ کی تعیین ہے یا جو اس کے قائم مقام ہو، کوئی بھی آلہ ہو، جبکہ اختیاری فعلی سے اسقاط مطلوب ہو، البتہ یہ ضروری ہے کہ جو بھی آلہ ہو تین انگلیوں کی مقدار میں ہو یہاں تک کہ اگر کسی نے ایسی لکڑی پھیری جو اس مقدار کی نہ تھی تو جائز نہ ہوگا اھ۔
(۴؎ فتح القدیر کتاب الطہارۃ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۱۶)
اقول وحاصلہ ان الید غیر لازمۃ ولکن اذا وقع بھا لم یجز الا بما ینطلق علیہ اسمہا ولکن لقائل ان یقول اولا(۱) مسألۃ القدر المفروض کیفما کان ولا نظر الی الاٰلۃ ولا الفعل القصدی اصلا وقد قرر مشائخنا ان ذکر الید المقدرۃ فی قولہ تعالی وامسحوا برؤوسکم ای ایدیکم برؤوسکم لتقدیر المحل دون الاٰلۃ کما حققہ الامام صدر الشریعۃ وابن الساعاتی والمحقق نفسہ فی الفتح فلیتأمل ۔
میں کہتا ہوں کہ اس کا حاصل یہ نکلا کہ ہاتھ لازم نہیں ہے لیکن جب ہاتھ سے مسح کرنا ہو تو ضروری ہے کہ اتنی مقدار ہو کہ اس پر ہاتھ کا اطلاق ہوتا ہو۔ مگر اس پر متعدد طریقوں سے اعتراض ہوسکتا ہے، اوّل بارش کا مسئلہ ہمارے حق میں مفید ہے کیونکہ مقصود شرع یہ ہے کہ تری کی ایک معین مقدار لگ جائے خواہ کسی طرح ہو اس میں نہ تو آلہ زیر بحث ہے اور نہ اختیاری فعل، اور ہمارے مشائخ فرماتے ہیں کہ فرمان الٰہی ''اور مسح کرو تم سروں کا'' اس کا مفہوم یہ ہے کہ "اپنے ہاتھوں کا اپنے سروں سے'' میں محل مقدر ہے نہ کہ آلہ صدرالشریعۃ، ابن الساعاتی اور خود محقق نے فتح میں یہی تقریر فرمائی ہے، غور کر۔
وثانیا(۲) اجمعوا ان لومسح باطراف اصابعہ والماء متقاطر جاز فظھر ان تعیین الاٰلۃ ملغاۃ ھھنا رأسا وان القیاس(۳) علی التیمم مع الفارق،
دوم فقہاءء کا اس امر پر اتفاق ہے کہ اگر کسی نے انگلیوں کے پوروں سے مسح کیا اور اُن سے پانی ٹپک رہا تھا تو جائز ہے، تو معلوم ہوا کہ یہاں آلہ کی تعیین اہم نہیں ہے اور اس کوتیمم پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔
والثالث ماابداہ بقولہ قد یقال عدم الجواز بالاصبع بناء علی ان البلۃ تتلاشی وتفرغ قبل بلوغ قدر الفرض بخلاف الاصبعین فان الماء ینحمل بین اصبعین مضمومتین فضل زیادۃ یحتمل الامتداد الی قدر الفرض وھذا مشاھد او(۴) مظنون فوجب اثبات الحکم باعتبارہ فعلی الاکتفاء بثلاث اصابع یجوز مدالا صبعین لان مابینھما من الماء یمتد قدر اصبع وعلی اعتبار الربع لایجوز لان مابینھما مما لایغلب علی الظن ایعابہ الربع ۱؎ اھ۔
سوم انہوں نے ''عدم الجواز بالاصبع'' کہہ کر جو اعتراض کیا ہے سو وہ اس بنا پر ہے کہ تری فرض مقدار تک پہنچنے سے قبل ختم ہوجاتی ہے لیکن دو انگلیاں اگر ملی ہوں تو ان میں فرض مقدار تک پانی پہنچ سکتا ہے، اس کا مشاہدہ ہے یا ظن غالب ہے، تو اس پر اعتبار کرتے ہوئے حکم کا لگا دینا لازم ہوا تو تین انگلیوں پر اکتفاء کرنا دو کے پھیر لینے کو جائز قرار دیتا ہے کیونکہ ان دو کے درمیان اتنا پانی موجود ہوتا ہے جو مزید ایک انگلی کی مقدار پھیل سکتا ہے اور چوتھائی سر کے اعتبار پر جائز نہیں، کیونکہ جو پانی ان دو کے درمیان ہے ظن غالب نہیں کہ وہ چوتھائی کی مقدار کو پورا ہوسکے اھ۔ ت
(۱؎ فتح القدیر کتاب الطہارت نوریہ رضویہ سکھر ۱/۱۷)