Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
21 - 176
اقول وان(۱) کان فی قصرھم اللقاء علی مالصق بالرأس تأمل ظاھر وکان ھذا ھو مراد المحقق اذقال بعد ذکرہ وفیہ نظر ۱؎ اھ۔
میں کہتا ہوں فقہا ء نے ملنے کو جو سر کے ساتھ مختص کر دیا ہے اس میں بظاہر تامّل ہے، اور غالبا محقق کی مراد یہی ہے کیونکہ انہوں نے اس کے ذکر کے بعد فرمایا: وفیہ نظر۔(ت)
 (۱؎ فتح القدیر    کتاب الطہارۃ    ۱/۱۷)
اقول: ویظھر لی ان سبیل المسألۃ سبیل الخلف فی الملقی والملاقی وتصحیح ھذہ بل تصحیح الوفاق فیھا ربما یعطی ترجیح عدم الفرق الا ان یفرق بین الغسل والمسح فلا یصیر بہ کل الماء مستعملا حکما بالاتفاق بخلاف الغسل ویحتاج لوجہ فلیتدبر واللّٰہ تعالی اعلم۔
میں کہتا ہوں ا ور مجھے معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ کا حل ملنے والی شے اور جس سے ملی ہے اس میں اختلاف پر مبنی ہے، اور اس کی تصحیح بلکہ اس میں اتفاقی کی تصحیح سے عدم فرق کو ترجیح حاصل ہوتی ہے، ہاں اگر غسل اور مسح می ں ہی فرق کرلیا جائے تو بات اور ہے، تو اُس سے تمام پانی حکما مستعمل نہ ہوگا بالاتفاق بخلاف غسل کے، اور یہ دلیل کا محتاج ہے فلیتد برواللہ تعالٰی اعلم۔ ت
تنبیہ  اعلم ان مسألۃ الاصبع المارۃ ترکہا المحقق فی الفتح غیر مبینۃ ذکرلہ ثلٰث تعلیلات وردالجمیع فالاول التعلیل بالاستعمال وقد علمت ردہ وما عدل الیہ بعض المتاخرین لاصلاحہ فردہ والاول معابان ھذا کلہ یستلزم ان(۱) مد اصبعین لایجوز وقد صرحوا بہ وکذا الثلاث علی القول بالربع وھو قول ابی حنیفۃ وابی یوسف رحمھما اللّٰہ تعالی ولکن لم ار فی مد الثلاث الا الجواز ۱؎ اھ۔
تنبیہ  انگلی کا مسئلہ جو گزرا اس کو محقق نے فتح میں واضح نہیں کیا تین تعلیلات بیان کیں اور تینوں کو رَد کردیا، پہلی تعلیل استعمال سے متعلق ہے اور اس کا رَد تم معلوم کرچکے ہو، اور اس کی اصلاح میں بعض متاخرین نے جو فرمایا ہے اس کو اور پہلے کو ساتھ ہی انہوں نے رَد کیا ہے، اور فرمایا ہے کہ اس سے لازم آتا ہے کہ دو انگلیوں کا کھینچنا جائز نہ ہو، اور اس کی فقہاء نے تصریح کی ہے اور چوتھائی کے قول پر تین کا کھینچنا جائز نہ ہو، اور یہ ابو حنیفہ اور ابو یوسف کا قول ہے، لیکن تین کے کھینچنے میں مجھے جواز ہی ملا ہے اھ
 (۱؎ فتح القدیر        کتاب الطہارت    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۶)
واعترضہ فی النھر بقول البدائع لووضع ثلثۃ اصابع ولم یمدھا جاز علی روایۃ الثلاث لاالربع ولو مسح بھا منصوبۃ غیر موضوعۃ ولا ممدودۃ فلا فلو(۲) مدھا حتی بلغ القدر المفروض لم یجز عند علمائنا الثلثۃ خلافا لزفر ۲؎ اھ۔
اور نہر میں اس پر اعتراض کیا اور بدائع کایہ قول ذکر کیا ہے کہ اگر تین انگلیاں رکھیں اور ان کو کھینچا نہیں تو تین کی روایت پر جائز ہے نہ کہ چوتھائی کی روایت پر، اور اگر کھڑی انگلیوں سے مسح کیا، ان کو نہ تو رکھا نہ کھینچا تو جائز نہیں، اور اگر اتنا کھینچاکہ فرض مقدار پوری ہوگئی تو ہمارے تینوں علماء کے نزدیک جائز نہ ہوگا امام زفر کا اس میں اختلاف ہے اھ۔
 (۲؎ بدائع الصنائع    مطلب مسح الرأس    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۵)
قال وقد وقفت علی المنقول ای ان عدم الجواز قول ائمتنا الثلثۃ فکیف یقول المحقق لم ارفیہ الا الجواز وھو عجیب من مثلہ کما نبہ علیہ فی المنحۃ فان الضمیر فی مدھا للمنصوبۃ وکلام الفتح فی الموضوعۃ۔
انہوں نے فرمایا کہ میں منقول پر مطلّع ہوا ہوں، یعنی عدم جواز ہمارے تینوں ائمہ کا قول ہے، تو محقق کا یہ قول کیونکر درست ہوگا کہ میں نے صرف جواز ہی دیکھا ہے، اور اُن جیسے شخص سے یہ بڑے تعجب کی بات ہے، منحہ میں اسی پر تنبیہ کی ہے کیونکہ ''مدھا'' میں ھا کی ضمیر ''منصوبۃ'' کیلئے ہے اور فتح کا کلام ''موضوعۃ'' کیلئے ہے۔ ت
اقول کان النھر نظر ای ان الصوراربع ثلاث اصابع موضوعۃ اومنصوبۃ والکل ممدودۃ اولا وقد ذکر فی البدائع اولا صورتی عدم المدثم قال فلو مدھا فلیکن الضمیر الی ثلث اصابع مطلقۃ موضوعۃاومنصوبۃ لیستوعب کلامہ الصور لکن الشان انہ مدع ظفر النقل فیضرہ احتمال العود الی المنصوبۃ لاسیما وھی الاقرب وقد کشف(۱) المراد فی الحلیۃ حیث قال، فروع، مسح بثلثۃ اصابع منصوبۃ لم یجز ولو مدھا حتی بلغ المفروض لم یجز عند علمائنا الثلثۃ ولو وضعھا ولم یمد لم یجز علی روایۃ الربع ذکرہ فی التحفۃ والمحیط والبدائع ۱؎ اھ۔
میں کہتا ہوں غالباً نہر نے دیکھا کہ صورتیں چار ہیں، تین انگلیاں رکھی ہوئیں یا کھڑی اور سب کھینچی ہوئی یا نہیں، اور بدائع میں پہلے نہ کھینچنے کی دو صورتیں ذکر کی ہیں، پھر کہا کہ ''فلو مدھا'' تو اس میں ضمیر ''ثلث اصابع'' کی طرف ہونی چاہئے خواہ وہ رکھی ہوں یا کھڑی، تا کہ اُن کا کلام تمام صورتوں کا استیعاب کرے، لیکن وہ اس امر کے مدعی ہیں کہ وہ نقل حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں تو ضمیر کے منصوبہ کی طرف لوٹنے کا احتمال اُن کیلئے مضر ہوگا اور پھر وہ اقرب بھی ہے، اور حلیہ میں مراد واضح کی ہے فرمایا۔ فروع اگر کسی نے تین کھڑی انگلیوں سے مسح کیا تو جائز نہیں اور اگر ان کو اتنا کھینچا کہ فرض مقدار کو پہنچا دیا تو ہمارے تینوں علماء کے نزدیک جائز نہیں اور اگر انگلیوں کو رکھا اور نہ کھینچا تو چوتھائی کی روایت پر جائز نہیں، اس کو تحفہ، محیط اور بدائع میں ذکر کیا ہے اھ ت
 (۱؎ بدائع الصنائع    مطلب مسح الرأس    سعید کمپنی کراچی    ۱/۵)
Flag Counter