تنبیہ (۲) معلوم ان اقامۃ قربۃ اورفع حدث اواسقاط فرض اوازالۃ نجاسۃ حکمیۃ بایھا عبرت کل ذلک یشمل المسح المفروض مطلقا والمسنون بشرط النیۃ فیجب ان تصیر البلۃ مستعملۃ اذا انفصلت من رأس اوخف اوجبیرۃ اواذن مثلا ولذا عولنا علیہ وصرحنا بعمومہ المسح لکن قال الامام فقیہ النفس فی الخانیۃ لوادخل(۳) المحدث رأسہ فی الاناء یرید بہ المسح لایصیر الماء مستعملا فی قول ابی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالٰی قال انما یتنجس الماء فی کل شیئ یغسل اماما یمسح فلا یصیر الماء مستعملا وان اراد بہ المسح وقال محمد رحمہ اللّٰہ تعالی اذا کان علی ذرا عیہ جبائر فغمسھا فی الماء اوغمس رأسہ فی الاناء لایجوز ویصیر الماء مستعملا ۱؎ اھ
تنبیہ یہ امر معلوم ہے کہ قُربۃ کی ادائیگی، رفعِ حدث، اسقاطِ فرض، نجاستِ حکمیہ کا ازالہ وغیرہ، جو تعبیر بھی آپ کریں یہ مفروض مسح کو مطلقا شامل ہے اور مسنون کو بشرط نیت، لہٰذا لازم ہے کہ تری سر سے، موزے سے، پٹّی سے یا کان سے جُدا ہوتے ہی مستعمل ہوجائے، اور اسی لئے ہم نے اس پر اعتماد کیا،اور مسح کے عام ہونے کی تصریح کی، لیکن امام فقیہ النفس نے خانیہ میں فرمایا اگر بے وضو نے اپنا سر مسح کیلئے برتن میں ڈبو دیا تو ابو یوسف کے قول کے مطابق پانی مستعمل نہ ہوگا، کیونکہ وہ فرماتے ہیں پانی اس چیز سے نجس ہوگا جو دھوئی جاتی ہے، اور جو ممسوح ہے اُس سے نہیں خواہ اُس سے مسح کا ارادہ ہی کیا ہو، اور امام محمد نے فرمایا کہ اگر کسی کے ہاتھوں پر پٹیاں ہوں اور اس نے وہ پانی میں ڈبو دیے یا اپنا سر پانی میں ڈبو دیا تو جائز نہیں اور پانی مستعمل ہوگا اھ
(۱؎ فتاوٰی خانیۃ علی الھندیۃ باب الماء المستعمل نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۱۵)
وقد(۱) قدم قول ابی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالٰی فکان ھو الاظھر الاشھر کما افادنی فی خطبتہ فکان ھوالمعتمد کما فی ط وش بل صححوا ان محمدا فیہ مع ابی یوسف رحمہما اللّٰہ تعالی فلا خلاف قال فی البحر لوادخل(۲) رأسہ الاناء اوخفہ اوجبیرتہ وھو محدث قال ابو یوسف رحمہ اللّٰہ تعالی یجزئہ المسح ولا یصیر الماء مستعملا سواء نوی اولم ینووقال محمد رحمہ اللہ تعالٰی ان لم ینویجزئہ ولا یصیر مستعملا وان نوی المسح اختلف المشائخ علی قولہ قال بعضھم لایجزئہ ویصیرالماء مستعملا والصحیح انہ یجوز ولا یصیرالماء مستعملا کذا فی البدائع فعلم بھذا ان مافی الجمع ۲؎۔
اور ابو یوسف کے قول کو مقدم کیا گیا ہے وہی ظاہر ومشہور ہے جیسا کہ انہوں نے اپنے خطبہ میں فرمایا تو وہی قابلِ اعتماد ہوگا، جیسا کہ ''ط'' و ''ش'' میں ہے بلکہ فقہاءء نے اس امر کو صحیح قرار دیا ہے کہ اس میں امام ابو یوسف کے ساتھ ہیں، تو کوئی اختلاف باقی نہ رہا۔ بحر میں فرمایا کہ اگر کسی شخص نے اپنا سر، موزہ یا پٹّی بے وضو ہونے کی حالت میں برتن میں ڈبودی تو امام ابو یوسف نے فرمایا مسح ہوجائے گا اور پانی مستعمل نہ ہوگا خواہ مسح کی نیت کی ہو یا نہ، امام محمد نے فرمایا اگر نیت نہیں کی تو ان کے قول پر اس میں مشائخ کا اختلاف ہے، بعضے کہتے ہیں اس کو کافی نہ ہوگا اور پانی مستعمل ہوجائے گا، اور صحیح یہ ہے کہ جائز ہے اور پانی مستعمل نہ ہوگا کذا فی البدائع تو اس سے معلوم ہوا کہ جمع میں جو اختلاف ہے۔(ت)
(۲؎ بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۵)
(قلت ای والخانیۃ والفتح وغیرھا) من الخلاف فی ھذہ المسألۃ علی غیر الصحیح بل الصحیح ان لاخلاف وعلم ایضا انہ لافرق بین الرأس والخف والجبیرۃ خلافا لما ذکرہ ابن الملک ۱؎ اھ۔
(میں کہتا ہوں خانیہ اور فتح وغیرہ میں بھی) جو اختلاف بیان کیا گیا ہے وہ صحیح نہیں،صحیح یہ ہے کہ اختلاف نہیں، اور یہ بھی معلوم ہو کہ سر، موزے اور پٹّی میں کوئی اختلاف نہیں جیسا کہ ابن الملک نے ذکر کیا اھ
(۱؎ بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱/۱۵)
واختصرہ فی الدر فقال لم یصر الماء مستعملا وان نوی اتفاقا علی الصحیح ۲؎ اھ۔
اور اسی کو دُر میں مختصر کیا، فرمایا پا نی مستعمل نہ ہوگا خواہ نیت کی ہو، یہ متفق علیہ ہے صحیح قول پر اھ ت
(۲؎ الدرالمختار ارکان الوضوء ۱/۱۹)
اقول: ولا یھولنک ھذا فلیس معناہ ان المسح لایفید الاستعمال کیف وکلامھم طرافی اسبابہ مطلق یعم الغسل والمسح ثم المسألۃ عینھا منصوصۃ علی لسان الکبراء منھم فقیہ النفس اذیقول(۱) توضأثم مسح الخف ببلۃ بقیت علی کفہ بعد الغسل جاز ولو مسح برأسہ ثم مسح الخف ببلۃ بقیت علی الکف بعد المسح لایجوز لانہ مسح الخف ببلۃ مستعملۃ بخلاف الاول ۳؎ اھ۔
اقول یہ چیز کوئی قابلِ تعجب نہیں، اس کا یہ معنی نہیں کہ مسح سے استعمال نہیں ہوتا، حالانکہ تمام فقہاء کا کلام اسباب استعمال کے سلسلہ میں عام ہے اس میں غسل اور مسح دونوں شامل ہیں، اور پھر اکابر علماء نے مسئلہ کی صراحت بھی کی ہے، مثلاً فقیہ النفس فرماتے ہیں کسی شخص نے وضو کیا پھر ہاتھ دھونے کے بعد جو تری باقی رہ گئی تھی اس سے موزے پر مسح کرلیا تو جائز ہے اور اگر سر پر مسح کیا اور مسح کے بعد ہاتھ پر جو تری رہ گئی تھی اُس سے موزے پر مسح کیا تو جائز نہیں کیونکہ اس نے مستعمل تری سے موزے پر مسح کیا ہے بخلاف اول کے اھ ۔
(۳؎ فتاوی خانیۃ مسح علی الخفین ۱/۲۳)
واقرہ فی الفتح وغیرہ وفی الخانیۃ ایضا الاستیعاب(۲) فی مسح الرأس سنۃ وصورۃ ذلک ان یضع اصابع یدیہ علی مقدم راسہ وکفیہ علی فودیہ ویمدھما الی قفاہ فیجوز واشار بعضھم الی طریق اخراحترازاعن استعمال الماء المستعمل الا ان ذلک لایمکن الا بکلفۃ ومشقۃ فیجوز الاول ولا یصیر الماء مستعملا ضرورۃ اقامۃ السنۃ۴؎ اھ۔
فتح وخانیہ میں اسی کو برقرار رکھا، پھر استیعاب مسح میں سنت ہے، اور استیعاب کا طریقہ یہ ہے کہ اپنی انگلیاں ماتھے پر رکھے اور ہتھیلیاں کنپٹیوں پر اور گُدی کی طرف کھینچ کر لے جائے تو جائز ہے، اور بعض دوسرے فقہاء نے اور طریقہ بتایا کہ مستعمل پانی کے استعمال سے بچا جاسکے، مگر اس میں بہت تکلف اور مشقت ہے، تو پہلی صورت جائز ہے اور پانی مستعمل نہ ہوگا تاکہ سنّت ادا ہوسکے اھ۔
(۴؎ خانیۃ علی الہندیۃ فصل صفۃ الوضوء نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۳۵)
ای لما علم ان الماء مادام علی العضو لایصیر مستعملا وفی الفتح من(۳) مسح الرأس لومسح باصبع واحدۃ مدھا قدر الفرض جاز عند زفر وعندنا لایجوز وعللوہ بان البلۃ صارت مستعملۃ وھو مشکل بان الماء لایصیر مستعملا قبل الانفصال وما قیل الاصل ثبوت الاستعمال بنفس الملاقاۃ لکنہ سقط فی المغسول للحرج اللازم بالزام اصابۃ کل جزء باسالۃ غیر المسال علی الجزء الاٰخر ولا حرج فی المسح لانہ یحصل بمجرد الاصابۃ فبقی فیہ علی الاصل دفع بانہ مناقض لما علل بہ لابی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالی فی مسألۃ ادخال الراس الاناء فان الماء طھور عندہ فقالوا المسح حصل بالاصابۃ والماء انما یاخذ حکم الاستعمال بعد الانفصال والمصاب بہ لم یزایل العضو حتی عدل بعض المتاخرین الی التعلیل بلزوم انفصال بلۃ الاصبع بواسطۃ المد فیصیر مستعملا لذلک ۱؎ اھ۔
یعنی جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ پانی جب تک عضو پر باقی رہتا ہے مستعمل نہیں ہوتا ہے۔اور فتح میں ہے جس نے سرکا مسح کیا یا اگرچہ ایک انگلی سے مسح کیا کہ اس کو بقدرِفرض کھینچا، تو زفر کے نزدیک جائز ہے اور ہمارے نزدیک جائز نہیں اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ تری مستعمل ہوگئی، مگر اس پر اعتراض یہ ہے کہ پانی عضو سے جُدا ہوئے بغیر مستعمل نہیں ہوتا ہے، ایک قول یہ ہے کہ اصل تو یہی ہے کہ پانی عضو سے لگتے ہی مستعمل ہوجائے مگر اعضاء مغسولہ میں اس کو حرج کی وجہ سے معتبر نہیں مانا گیا ہے ورنہ تو عضو کے ایک حصہ کا پانی دوسرے حصہ کو ناپاک کردیتا، اور مسح میں یہ صورت حال نہیں ہے کیونکہ اس میں بہانا نہیں ہے محض لگانا ہے تو اس میں اصل پر اعتبار کیا گیا۔ اس اعتراض کے جواب میں کہا گیا ہے کہ امام ابو یوسف نے سر کو برتن میں داخل کرنے کی بابت جو ارشاد فرمایا ہے یہ قول اس کے برخلاف ہے کیونکہ پانی اُن کے نزدیک پاک کرنے والا ہے، وہ فرماتے ہیں پانی لگانے سے مسح تو ہوگیا اور چونکہ پانی عضو سے جدا ہونے کے بعد مستعمل ہوتا ہے اور مسح میں جدا نہیں ہوتا اس لئے مستعمل بھی نہ ہوگا حتی کہ بعض متاخرین نے بجائے اس دلیل کے یہ دلیل اختیار کی ہے کہ انگلی کی تری اس طرح جُدا ہوئی کہ اس کو کھینچا گیا تو اب یہ پانی مستعمل ہوجائے گا اھ۔
(۱؎ فتح القدیر کتاب الطہارت نوریہ رضویہ سکھر ۱/۱۶)
وبالجملۃ فالنقول فی الباب کثیرۃ بثیرۃ وفی الکتب شھیرۃ وان کان للعبد فی مسألۃ الاصبع ابحاث غزیرۃ فلیس وجہ مسألۃ الاناء مایتوھم بل مانقلناہ انفا عن الفتح وقد ذکرہ فی موضع اخر بقولہ ان الماء لایعطی لہ حکم الاستعمال الا بعد الانفصال والذی لاقی الراس من اجزائہ لصق بہ فطھرہ وغیرہ لم یلاقہ فلم یستعمل ۲؎ اھ۔
خلاصہ یہ کہ اس باب میں نقول بہت موجود ہیں جو مشہور کتب میں پائی جاتی ہیں، اور ناچیز انگلی کے مسئلہ پر بڑی گہری ابحاث رکھتا ہے، برتن کے مسئلہ کی وجہ وہ نہیں جو بعض حضرات کے وہم میں آئی ہے بلکہ وہ ہے جو ہم نے ابھی فتح سے نقل کی ہے اور اسی کو انہوں نے دوسرے مقام پر اس طرح بیان کیا ہے کہ پانی کو مستعمل ہونے کا حکم اُسی وقت ملے گا جب وہ عضو سے جدا ہواور پانی کے جواجزاء سر سے متصل ہوئے وہ اسی میں چپک جاتے ہیں اور اس کو پاک کر دیتے ہیں اور سر کے علاوہ کسی اور حصے پر نہیں لگتے ہیں تو مستعمل نہ ہوا اھ۔
(۲؎ فتح القدیر کتاب الطہارت نوریہ رضویہ سکھر ۱/۱۷)
فمعنی قولھم فیھا لایصیر الماء مستعملا ای مابقی فی الاناء وھو المراد بقول الخانیۃ عن الامام ابی یوسف انما یتنجس الماء فیما یغسل لامایمسح ای ماء الاناء بادخال ماوظیفۃ الغسل دون المسح فزال الوھم وفیہ المدعی۔
تو فقہاءء نے جو فرمایا ہے کہ پانی مستعمل نہ ہوگا اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک برتن میں رہے، اور خانیہ نے امام ابو یوسف سے جو نقل کیا ہے کہ پانی اُن اعضاء میں مستعمل ہوتا ہے جو دھوئے جاتے ہیں نہ کہ اُن میں جو مسح کیے جاتے ہیں، تو اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ برتن کا پانی اُن اعضاء کے داخل کرنے کی وجہ سے مستعمل ہوگا جو مغسولہ ہیں نہ کہ ممسوحہ تو وہم رفع ہوا اور یہی مقصود تھا۔(ت)