Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
19 - 176
فھذا ظاھر فی رجوع الضمیر الی المحدث ومن معہ جمیعا فھذا النقل وللّٰہ الحمد وبالجملۃ المقصود انہ اذا منع مسہ بما علی عنقہ وصدرہ فکیف بھما فدل علی حلول الحدث جمیع البدن ثم رأیت المسألۃ منصوصا علیھا فی الھندیۃ عن الزاھدی حیث قال اختلفوا فی مس المصحف بما عدا اعضاء الطھارۃ وبما غسل من الاعضاء قبل اکمال الوضوء  والمنع اصح ۲؎ اھ
تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضمیر مُحدِث کی طرف لوٹتی ہے اور اس کی طرف بھی جو مُحدِث کے ساتھ ہو، یہ صریح نقل ہے والحمدللہ، اور خلاصہ یہ کہ جب قرآن کو اس کپڑے کے ساتھ چُھونا جائز نہیں جو اس کی گردن اور سینے پر ہے تو خود گردن اور سینے سے مس کرنا کیسے جائز ہوگا! پس معلوم ہوا کہ حدث تمام بدن میں سرایت کرتا ہے، پھر میں نے اس مسئلہ کو ہندیہ میں زاہدی سے منصوص دیکھا وہ فرماتے ہیں اعضاءطہارۃ اور وہ اعضاء جو وضو کی تکمیل سے قبل دھوئے گئے ہوں اُن سے مسِ مصحف میں اختلاف ہے، اور منع اصح ہے اھ( ت)
 (۲؎ فتاوی ہندیۃ    باب فی احکام الحیض والنفاس والاستحاضہ    نورانی کتب خانہ پشاور     ۱/۳۹)
وثالثا تقرر عند(۱) العرفاء ان لا حدث صغیر اولا کبیرا الا ماتولد من اکل حتی القھقھۃ فی الصّلاۃ فان تلک الغفلۃ الشدیدۃ فی عین الحضرۃ لاتکون الا من شبع ای شبع اذ الجائع ربما لایکشر لہ سن فضلا عن القھقھۃ خلفۃ عن کونہا فی الصلاۃ ولا شک ان نفع الاکل یعم البدن وکذا نفع الخارج والراحۃ الحاصلۃ بہ فدخول الطعام یولد الغفلۃ وخروج المؤذی یحققہا وبالغفلۃ موت القلب والقلب رئیس فانہ المضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ والماء ینعش ویذھب الغفلۃ کما ھو مشاھد فی المغشی علیہ۔
ثالثا عرفاء کے نزدیک یہ امر مسلم ہے کہ حدث چھوٹا ہو خواہ بڑا مطلقاً کھانا کھانے ہی سے پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ نماز میں قہقہہ بھی کہ عین دربار میں ایسی سخت غفلت اُسی سے ہوسکے گی جس کا پیٹ بھرا اور نہایت بھرا ہو کہ بھُوک میں تو ہنسی سے دانت کھلنا ہی نادر ہے نہ کہ ٹھٹھا اور وہ بھی نماز میں، اور شک نہیں کہ کھانے کا نفع تمام بدن کو پہنچتا ہے یونہی فضلہ نکل جانے کی منفعت وراحت بھی سارے بدن کو ہوتی ہے تو کھانا معدہ میں جانا غفلت پیدا کرتا ہے اور موذی یعنی فضلہ کا نکلنا غفلت کو ثابت ومؤکد کرتا ہے اور غفلت سے دل کی موت ہے اور دل بدن کا بادشاہ ہے کہ یہی بوٹی درست ہو تو سارا بدن درست رہے اور بگڑے تو سارا بدن خراب ہوجائے اور پانی تازگی لاتا اور غفلت دُور کرتا ہے جیسا کہ غشی والے کے مُنہ پر چھڑکنے میں مشاہدہ ہے۔
قلت فکما ان سبب الموت عم البدن کان ینبغی ان یعمہ ایضا سبب الحیاۃ وبہ اتی الشرع فی الحدث الاکبر لکن الاصغر یتکرر کثیرا فلوامروا کلما احد ثوا ان یغتسلوا لوقعوا فی الحرج والحرج مدفوع فاقامت الشریعۃ السمحۃ السہلۃ مقام الغسل غسل الاطراف اذ من سنۃ کرمہ تعالی ان اذ اصلح الاول والاخر تجاوز عن الوسط وجعلہ معمورا فیھما ثم کان من الاطراف الراس وغسلہ کل یوم مرارا ایضا کان یورث البؤس والباس فابدل فیہ الغسل بالمسح رحمۃ من الذی یقول عز من قائل یرید اللّٰہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر فقضیۃ ھذا ان الحدث ولو اصغر یحل البدن کلہ۔
تو میں کہتا ہوں جس طرح موت کا سبب سارے بدن کو عام ہوا تھا چاہئے تھا کہ حیات کا سبب یعنی پانی بھی سب جسم پر پہنچے حدث اکبر میں تو شرع نے یہی حکم دیا مگر حدث اصغر بکثرت مکرر ہوتا ہے تو ہر حدث اصغر پر اگر نہانے کا حکم ہوتا تو لوگ حرج میں پڑتے اور اس دین میں حرج نہیں لہٰذا اس نرم وآسان شریعت نے اطراف بدن کا دھونا قائم مقام نہانے کے فرمایا دیا کہ اللہ عزوجل کی سنتِ کریم ہے کہ جب اول وآخر ٹھیک ہوتے ہیں تو بیچ میں جو نقصان ہو اُس سے درگزر فرماتا ہے اب اطراف بدن میں سر بھی تھا اور اُسے ہر روز چند بار دھونا بھی بیمار کردیتا مشقّت میں ڈالتا لہٰذا اس کو دھونے کے عوض مسح مقرر فرمادیا، رحمت اس کی جو فرماتا ہے کہ اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور دشواری نہیں چاہتا۔ 

(اس تمام گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ حدث خواہ اصغر ہی ہو تمام بدن میں حلول کرتا ہے۔ت)
اقول وبہ(۱) تبین ان ماصرح بہ غیر واحد من مشائخنا وغیرھم ان غسل غیر المصاب فی الحدث امرتعبدی کما فی الھدایۃ وغیرھا وقدمناہ عن الکافی وکذلک(۲) الاقتصار علی الاربعۃ فی الوضوء  کما فیھا وفی الحلیۃ وغیرھما وبہ قال الامام الحرمین واختارہ الامام عزّ الدین بن عبدالسلام کلاھما من الشافعیۃ فان کل ذلک فی علم الحقائق احکام معقولۃ المعنی واللّٰہ تعالی اعلم ھذا تقریر اسئلۃ ظھرت لی واتیت بھا کیلا تعن لقاصر مثلی ولا یتفرع للتدبر فیحتاج لکشفھا۔
میں کہتا ہوں اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہمارے مشائخ کا یہ فرمانا کہ اُن اعضاء کودھونا جن کو حدث نہیں پہنچا ہے محض امر تعبدی ہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے اور ہم نے کافی سے بھی نقل کیا ہے، اور اسی طرح وضو میں چار پر اقتصار جیسا کہ ہدایہ اور حلیہ وغیرہ میں ہے اور یہی امام الحرمین کا قول ہے اور امام عزّ الدین بن عبدالسلام نے اس کو اختیار کیا ہے یہ دونوں شافعی علماء ہیں کیونکہ یہ تمام حقائق کے معقول احکام ہیں واللہ تعالٰی اعلم، یہ اُن سوالوں کی تقریر ہے جو مجھے منکشف ہوئے، میں نے ان پر اس لئے گفتگو کی ہے کہ کہیں مجھ جیسے قاصر کو یہ درپیش نہ آجائیں اور وہ مشکل میں مبتلا نہ ہوجائے۔(ت)
اقول فی الجواب عن الاول المراد نجاسۃ الاٰثام اذلوارید نجاسۃ الحدث لزم ان من لم یسم لم یتم طھرہ وھو مذھب الظاھریۃ وروایۃ عن الامام احمد رضی اللہ تعالی عنہ ولم یقل بہ احد من علمائنا وبقاء نجاسۃ الاٰثام فیما عدا اعضاء الطھر بل وفیھا ایضا کما قدمنا لاینافی صحۃ الطھارۃ والصلاۃ وبہ ظھر(۱) الجواب عن استدلال ابی الفرج بالحدیث
اب میں پہلے کے جواب میں کہتا ہوں کہ اس سے مراد گناہوں کی نجاست ہے کیونکہ اگر حدث کی نجاست کا ارادہ کیا جائے تو یہ لازم آئے گا جو بسم اللہ نہ کرے اُس کی طہارت مکمل نہ ہوگی، اور یہ ظاہر یہ کا مذہب ہے، اور امام احمد کی ایک روایت ہے اور ہمارے علماء میں سے کسی کا قول نہیں، اور اعضاء طہارت کے علاوہ باقی اعضاء میں گناہوں کی نجاست کا باقی رہنا، بلکہ اعضاء طہارت میں بھی، جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا صحت طہارت کے منافی ہے اور نہ ادائیگی نماز کے، اور اسی سے ظاہر ہوگیا جو اب اس استدلال سے جو ابو الفرج نے حدیث سے کیا ہے۔
وعن الثانی ان المنع للحدث بالمعنی الثانی الغیر المتجزی لقولہ تعالی لایمسہ الا المطھرون وقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم لایمس القران الا طاھر وھو لایکون طاھر ام بقیت لمعۃ وان خفت فمنع المس انما یقتضی تلبس المکلف بنجاسۃ حکمیۃ لاتلبس خصوص العضو الممسوس بہ الا تری انہ لایجوز مسہ بید قدغسلہا مالم یستکمل الوضوء  الا تری انھم منعوا المس بما علیہ من الثیاب ولا نجاسۃ فیھا حقیقۃ ولا حکمیۃ انما المنع لانھا تبع لبدن شخص محدث فلان یمنع بنفس بدنہ اولی وان کان بدنا لم یحلہ الحدث ھذا علی الاصح اما علی قول من یقول ان المنع للمعنی الاول ای لقیام النجاسۃ الحکمیۃ بالمسوس بہ فالمسألۃ ممنوعۃ من رأسھا بل ھو قائل بجواز مسہ بغیر اعضاء الطھارۃ کمامر عن الھندیۃ وان منع المس بالثیاب فبثوث تابع لما فیہ الحدث کالکم لید لم یغسل لامطلقا کما لایخفی ،
اور دوسرے کا جواب یہ ہے کہ حَدَث کا منع کرنا دوسرے معنی کے اعتبار سے جو غیر متجزی ہے اللہ تعالٰی کے اس فرمان کی وجہ سے ''اس کو پاک لوگ ہی چُھوئیں'' اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ''قرآن کو پاک ہی چھُوئے'' اور مُحدِث اس وقت تک پاک نہ ہوگا جب تک ایک ''لُمعہ'' بھی باقی رہے خواہ کتنا ہی خفیف کیوں نہ ہو، تو چھُونے کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ مکلف نجاست حکمیہ کے ساتھ ملوث ہے،یہ نہیں کہ اس کا کوئی خاص عضو اس میں ملوّث ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن کو محض دُھلے ہوئے ہاتھ سے چھُونا جائز نہیں تاوقتیکہ وضو مکمل نہ ہو، یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے اس ہاتھ سے قرآن چھُونے کو منع کیا ہے جو کپڑے میں لپٹا ہوا ہو خواہ اس پر نہ حقیقی نجاست ہو اور نہ حکمی، ممانعت اس لئے ہے کہ وہ مُحدِث کی ذات کے تابع ہے تو نفسِ بدن سے چھُونے کی ممانعت بدرجہ اولی ہوگی، خواہ اس میں حدث نے حلول نہ کیا ہو، یہ اصح کے مطابق ہے، اور جو حضرات منع معنی اول میں قرار دیتے ہیں، یعنی ممسوس بہ کے ساتھ نجاست حکمیہ کا قائم ہونا، تو مسئلہ اصلا ممنوع ہے، بلکہ اُس کے مَس کے جواز کے قائل ہیں بلا اعضاء طہارت کے، جیسا کہ ہندیہ سے گزرا، اور اگر کپڑوں کے ساتھ چُھونا جائز نہیں تو اس کپڑے کے ساتھ جو تابع ہو کیونکہ اس میں حَدَث ہے، جیسے آستین ہاتھ کیلئے جو دُھلا نہ ہو، نہ کہ مطلقا کمالا یخفی۔
وعن الثالث نعم ذلک تخفیف من ربکم ورحمۃ لکنہ یحتمل وجہین الاول ان یعتبر الشرع حلول الحدث بکل البدن ثم یجعل تطھیر الاعضاء الاربعۃ تطھیرا للکل والثانی ان الشارع لما رأی فیہ الحرج اسقط اعتبارہ الا فی الاعضاء الاربعۃ ولکل منھما نظیر فی الشرع فنظیر الاول التیمم جعل فیہ مسح عضوین مطھراللاربع بالاتفاق ونظیر الثانی العین کان فی غسلھا حرج فلم یجعلھا الشرع محل حلول حدث اصلا لاانہ حل وسقط الغسل للحرج فلوغسل(۱) عینیہ لایصیر الماء مستعملا بالوفاق وعندالاحتمال ینقطع الاستدلال،
اور تیسرے کا جواب یہ ہے، ہاں یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف ہے اور رحمۃ ہے لیکن اس میں دو وجہیں ہیں پہلی تو یہ کہ شرع تمام بدن میں حدث کے حلول کا اعتبار کرتی ہے اور پھر چار اعضاء کی تطہیر کے بعد کل بدن کی طہارت کا حکم کرتی ہے اور دوسرے یہ کہ شارع نے جب اس میں حرج دیکھا تو اس کے اعتبار کو ساقط کردیا صرف اعضاء اربعہ میں رہنے دیا، اور ان میں سے ہر ایک کی نظیر شرع میں موجود ہے، پہلے کی نظیر تمیم ہے اس میں دو اعضاء کے مسح کرنے کو چاروں اعضاء کی پاکی قرار دیا ہے، اور دوسرے کی نظیر آنکھ ہے کہ اس کے دھونے میں حرج تھا، تو شریعت نے اس میں حدث کا حلول نہیں مانا،یہ نہیں کہ حدث حلول کرگیا ہو، اب اگر کسی نے اپنی دونوں آنکھیں دھوئیں تو پانی بالاتفاق مستعمل نہ ہوگا، اور جب احتمال پیدا ہوجائے تو استدلال ختم ہوجاتا ہے،
بل اقول لوتأملت لرجحت الثانی اذعدم الاعتبار اولی من الاعتبار ثم الا ھدار والقیاس علی العین بجامع الحرج واضح صحیح بخلاف التیمم فان اصل الواجب ثم الوضوء  والتیمم خلف ولم یزعم ھھنا احد ان اصل الواجب بکل حدث ھو الغسل والوضوء  خلف بل لم یقل احد ان الغسل عزیمۃ والوضوء  رخصۃ وھٰؤلاء ساداتنا العرفاء الکرام اعاد اللّٰہ تعالی علینا برکاتھم فی الدارین رأینا ھم یأخذون انفسھم فی کل نقیر وقطمیر بالغرائم ولا یرضون لھم التنزل الی الرخص ثم لم ینقل عن احد منھم انہ الزم نفسہ الغسل عند کل حدث مکان الوضوء  ولو التزمہ الاٰن احد لکان متعمقا مشددامتنطعا فظھرانہ من الباب الثانی دون الاول علی ان ذلک طور اخر وراء الطور الذی نتکلم فیہ والاحکام(۳) لاتخلو عن الحکم لکن لاتدار علیھا الا تری ان من اشتغل فی لھو ولعب ومزاح وقھقھۃ خارج الصلاۃ فلا شک انہ غافل فی تلک الساعات عن ربہ عزوجل لاسیما(۱) الذی قھقہ فی صلاۃ الجنازۃ مع ان فی ذکری الموت شغلا شاغلا ولم یجعل الشرع شیئا من ذلک حدثا وکذا لم یجعل الاکل وھوالاصل ولا النوم الذی ھو اخ الموت مالم یظن خروج شیئ بان لم یکن متمکنا فعلینا اتباع مارجحوہ وصححوہ کما لو افتونا فی حیاتھم واللّٰہ تعالی اعلم باحکامہ۔
بلکہ میں کہتا ہوں اگر آپ تأمل کریں تو دوسرے کو ترجیح ہے کیونکہ اعتبار نہ کرنا اعتبار کرنے سے اَولیٰ ہے کہ پہلے اعتبار کیا جائے پھر اس کو باطل کیا جائے، اور آنکھ پر قیاس کرنا حرج کی علّت سے واضح اور صحیح ہے بخلاف تیمم کے کیونکہ وہاں اصالۃ جو چیز واجب ہے وہ وضو ہے اور تیمم خلیفہ ہے، اور یہاں کسی نے گمان نہیں کیا کہ ہر حدث میں اصالۃ واجب غسل ہے اور وضو خلیفہ ہے، بلکہ کسی نے یہ بھی نہ کہا کہ غسل عزیمۃ ہے اور وضو رخصۃ ہے، حالانکہ ہمارے یہ بزرگ، اللہ ان کی برکتیں ہم پر نازل کرے، باریک سے باریک تر چیز کا اعتبار کرتے ہیں اور کسی قسم کی رخصت پر تیار نہیں ہوتے، پھر ان میں سے کسی سے منقول نہیں کہ بجائے وضو کے غسل کرتا ہو اور اگر اب کوئی ایسا کرے تو وہ انتہا درجہ کا متشدد ہوگا تو معلوم ہوا کہ وہ دوسرے باب سے ہے نہ کہ پہلے باب سے۔علاوہ ازیں یہ ہماری گفتگو کا ایک نیا انداز ہے، اور احکام حکمتوں سے خالی نہیں ہوتے، لیکن اُن پر دارومدار نہیں ہوتا، مثلاً کوئی شخص لہو ولعب، مزاح اور قہقہوں میں بیرونِ نماز مصروف ہے تو بلا شبہ اِن لمحات میں وہ اپنے رب سے غافل ہے، خاص طور پر قہقہہ لگانے والا نماز جنازہ میں، حالانکہ موت انسان کو ہر چیز سے موڑ کر اللہ کی طرف متوجہ کردیتی ہے، مگر شارع نے ان اشیاء میں سے کسی چیز کو بھی حَدَث قرار نہیں دیا ہے، اور اس طرح کھانے کو، جو اصل ہے، اور نیند کو جو موت کی نظیر ہے تاوقتیکہ اُس شخص کو یہ ظن نہ ہوجائے کہ کوئی چیز خارج ہوئی ہے، مثلاً یہ کہ جم کر نہیں بیٹھا یا لیٹا تھا، تو ہم پر لازم ہے کہ جس چیز کو فقہاء نے راجح قرار دیا اور صحیح قرار دیا ہے ہم اس کی بالکل اسی طرح پیروی کریں جیسے اگر 

وہ حضرات اپنی زندگی میں ہمیں فتوی دیتے۔ ت
Flag Counter