یہ آٹھ اجماع واجب بالاتباع ناقابل نزاع غیر صالح الاندفاع ہیں اور یہی بحمداللہ تعالٰی وہ معیار کامل ہے جو مائے مطلق کی تعریف رضوی میں گزرا وللہ الحمدیہ احکام منقحہ ہاتھ میں رکھ کر ضوابط کی طرف چلئے۔
ضابطہ ۱: کسی پھل یا پیڑ یا بیل یا پتّوں یا گھاس کے عرق یا عصارے سے وضو جائز نہیں۔ قدوری ہدایہ وقایہ نقایہ کنز اصلاح غرر نور الایضاح متون وغیرہا عامہ کتب میں ہے
لایجوز بمااعتصر من شجر اوثمر ۲؎
(درخت اور پھل کے نچوڑے ہوئے پانی سے وضو جائز نہیں۔ ت) اور صحیح یہ کہ یہ حکم قاطر ومستقطر ومعتصر سب کو عام ہے کماتقدم فی ۲۰۵ (جیسا کہ بحث ۲۰۵ میں گزر چکا ہے۔ ت)
(۲؎ نورالایضاح، کتاب الطہارۃ ، مطبع علمیہ لاہور ص۳)
اقول: ھو عندی من فروع الاجماع الاول حتی فی قاطر الکرم وقد تقدم فی حاشیۃ ۲۰۷۔
میں کہتا ہوں کہ یہ میرے نزدیک پہلے اجماع کے فروعات میں سے ہے حتی کہ انگور کے درخت سے نکلنے والے قطروں کو شامل ہے اور یہ بات بحث ۲۰۷ کے حاشیہ میں گزر چکی ہے۔ (ت)
ضابطہ ۲ تا ۴: مطہر پانی کے ناقابل وضو ہوجانے کیلئے متون معتمدہ میں تین سبب ارشاد ہوئے:
(۱) زوال طبع آب
(۲) غلبہ غیر
(۳) طبخ باغیر
اگرچہ بعض نے ایک سبب بیان کیا بعض نے دو بعض نے اجمالاً سب، اور ان سے تعبیر میں بھی عبارات
مختلف آئیں مگر عند التحقیق بتوفیق اللہ تعالٰی سب اُسی معیار کے دائرے میں ہیں عبارات میں یہ ہیں:
(۱) قدوری لایجوز بما غلب علیہ غیرہ فاخرجہ عن طبع الماء کماء الباقلی والمرق وماء الزردج ۱؎
(وضو جائز نہیں ہے اُس پانی سے جس پر کسی دوسری شے کا غلبہ ہوگیا ہو اور اس کو پانی کی طبیعت سے نکال دیا ہو، جیسے باقلی کا پانی اور زدج کا پانی۔ ت)
(۱؎ قدوری کتاب الطہارت مطبع مجتبائی کان پور ص۶ )
(۲) بدایہ مثلہ وانما اخذ عنہ وان زاد بعض الامثلۃ ۲؎
(بدایہ میں اسی کی مثل ہے انہوں نے قدوری سے لیا ہے اگرچہ بعض مثالوں کا اضافہ کیا ہے۔ ت)
(وقایہ میں ہے اور نہ اس پانی سے جس پر غیر کا بصورت اجزاء یا پکانے کی وجہ سے غلبہ ہوگیا ہو جیسے باقلٰی کا پانی اور شوربہ۔ ت)
(۳؎ شرح الوقایۃ کتاب الطہارت مطبع رشیدیہ دہلی ۱/ ۸۵)
(۴) نقایہ یتوضو بماء السماء والارض وان اختلط بہ طاھر الا اذا اخرجہ عن طبع الماء اوغیرہ طبخا وھو ممالایقصد بہ النظافۃ ۴؎
(نقایہ میں ہے آسمان اور زمین کے پانی سے وضو کرے اگرچہ اس میں کوئی پاک چیز مل گئی ہو، اِلّا یہ کہ اس کو پانی کی طبیعت سے خارج کردیا ہویا پکنے کی وجہ سے اس کو پانی کی طبیعت سے خارج کردیا ہو اور وہ غیر چیز ایسی نہ ہو جس سے نظافت مطلوب ہوتی ہے۔ ت)
(۴؎ جامع الرموز کتاب الطہارت مطبع الاسلامیہ گنبد ایران ۱/۴۵)
(۵ و ۶) کنزو وافی لابما تغیر بکثرۃ الاوراق اوبالطبخ اوغلب علیہ غیرہ اجزاء ۵؎
(کنزو وافی میں ہے اس پانی سے وضو جائز نہیں جو پتّوں کی کثرت یا پکنے یا غلبہ اجزأ کی وجہ سے بدل گیا ہو۔ ت)
(۷) اصلاح لابماء زال طبعہ بغلبۃ غیرہ اجزاء اوتغیر بالطبخ معہ وھو مما لایقصد بہ النظافۃ ۶؎
(اصلاح میں ہے اس پانی سے وضو جائز نہیں جو اپنی طبیعت کھو بیٹھا ہو دوسرے کے اجزاء کے غلبہ سے یا پکنے کی وجہ سے اور وہ چیز ایسی ہو جس سے نظافت کا ارادہ نہ کیا جاتا ہو۔ ت)
(۶؎ اصلاح)
(۸) ملتقٰی لابماء خرج عن طبعہ بکثرۃ الاوراق اوبغلبۃ غیرہ اوبالطبخ کماء الباقلاء والمرق ۱؎
(ملتقےٰ میں ہے اس پانی سے وضو جائز نہیں جو پتّوں کی کثرت یا غیر کے غلبہ یا پکانے کے سبب اپنی طبیعت کھو بیٹھا ہو جیسے باقلأ کا پانی اور شوربہ۔ ت)
(تنویر میں ہے جو پانی کسی پاک چیز کے ملنے سے مغلوب ہوچکا ہو یا پکنے سے طبیعت کھو چکا ہو اس سے وضو جائز نہیں ہے۔ ت)
(۳؎ تنویر الابصار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱/۳۴)
(۱۱) نورالایضاح لابما زال طبعہ بالطبخ اوبغلبۃ غیرہ علیہ ۴؎ اھ
(نورالایضاح میں ہے جس پانی کی طبیعت پکنے یا غیر کے غلبہ کی بنا پر زائل ہوچکی ہو اس سے وضو جائز نہیں۔ ت)
اقول: وترکنا ماذکر بعدہ من تلخیص الضابطۃ الزیلعیۃ فان وضع(۱)المتون لنقل المذھب دون الابحاث الحادثۃ۔
میں کہتا ہوں انہوں نے اس کے بعد جو ضابطہ زیلعیہ کی تلخیص ذکر کی ہے ہم نے اسے ترک کردیا ہے کیونکہ متون کو مذہب نقل کرنے کے لئے وضع کیا ہے نئی ابحاث کیلئے نہیں۔ (ت)