Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
175 - 176
(۴) اجماع لغت وعرف وشرع ہے کہ دو۲ چیزوں سے مرکب میں حکم غالب کیلئے ہے
وقد قدمناہ عن المحقق علی الاطلاق فی التعریف الخامس للماء المطلق
 (اور ہم نے محقق علی الاطلاق سے مطلق پانی کی پانچویں تعریف میں اس کو پہلے ذکر کردیا ہے۔ ت) تو پانی میں جب اُس کا غیر اُس سے زائد مقدار میں مل جائے بحکمِ اجماع اوّل قابلِ وضو نہ رہے گا۔
 (۵) اجماع عقل ونقل ہے کہ تعارض موجب تساقط ہے اور اجتماع حاضر ومبیح میں حاضر غالب تو اگر دوسری چیز مساوی القدر بھی ملے گی قابلِ وضو نہ رکھے گی وقد(عـہ۱) تقدم فی ۲۶۲ (جیسا کہ ۲۶۲ میں گزرچکا۔ ت)
 (عـہ۱) تقدم ھناک قول الغنیۃ یضم الیہ التمیم عند المساواۃ اھ وماتعقبتھا بہ والاٰن رأیت فی البنایۃ حین ارسل الی نقل ھذا الباب منھا بعض اصحابی مانصہ حکی عن ابی طاھر الدباس انہ قال انما اختلف اجوبۃ(۲) ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ لاختلاف الاسئلۃ فانہ سئل عن التوضوئ(۳) اذا کانت الغلبۃ للحلاوۃ قال یتمیم ولا یتوضو وسئل عنہ ایضا کان الماء والحلاوۃ سواء ولم یغلب احدھما علی الاٰخر قال یجمع بینھما وقال السغناقی وعلی ھذہ الطریقۃ لایختلف الحکم بین نبیذ التمر وسائرالانبذۃ وسئل عنہ ایضا اذا کانت الغلبۃ للماء فقال یتوضو بہ ولا یتیمم اھ۔

یہاں غنیہ کا قول گزر چکا ہے کہ اس کے ساتھ مساوات کے وقت تیمم کو بھی شامل کرلینا چاہئے اھ اور اس پر جو اعتراضات میں نے کئے ہیں وہ بنایہ میں بھی ہیں، میرے ایک دوست نے بنایہ کا یہ حصہ مجھے نقل کرکے بھیجا ہے اس میں ہے ابو طاہر الدباس سے منقول ہے کہ اس سلسلہ میں ابو حنیفہ کے جوابات کے مختلف ہونے کی وجہ سوالات کا اختلاف ہے اُن سے دریافت کیا گیا کہ مٹھاس کا غلبہ ہوتو کیا کریں تو فرمایا تمیم کرے وضو نہ کرے ان سے دریافت کیا گیا کہ جب پانی مٹھاس برابر ہو تو کیا کریں؟ فرمایا وضو اور تمیم دونوں کریں، سغناقی نے فرمایا اس انداز میں نبیذتمر اور دوسرے نبیذوں کا حکم مختلف نہ ہوگا، یہسوال کیا گیا کہ جب پانی کا غلبہ ہو تو کیا حکم ہے؟ فرمایا وضو کرلے اور تمیم نہ کرے۔
اقول: الحلاوۃ ان لم تبلغ مبلغا تجعلہ نبیذا کانت مغلوبۃ وان بلغت فقد غلبت ولا واسطۃ بینھما وایضا لامعنی التساوی الماء والحلاوۃ فان التساوی والتفاضل فی کمین متجانسین فوجب ان المراد المساواۃ فی الاحتمال ای لایغلب علی الظن احدطرفی صیر ورتہ نبیذا اوبقائہ ماء بل یحتملان علی السواء فالحاصل حصول الشک والتردد وبہ عبر غیرہ ففی التبیین والفتح عن خزانۃ الاکمل وفی الحلیۃ عنھا وعن غیرھا قال مشایخنا انما اختلفت اجوبتہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ لاختلاف المسائل سئل مرۃ ان کان الماء غالبا قال یتوضو وسئل مرۃ ان کانت الحلاوۃ غالبۃ قال یتیمم ولا یتوضو وسئل مرۃ اذالم یدر ایھما الغالب قال یجمع بینھما اھ ھذا لفظ الفتح وقال بعدہ وعلی ھذایجب التفضیل فی الغسل ان کان النبیذ غالب الحلاوۃ قریبا من سلب الاسم لایغتسل بہ اوضدہ فیغتسل الحاقا بطریق الدلالۃ اومترددا فیہ یجمع بین الغسل والتیمم اھ۔
میں کہتا ہوں کہ مٹھاس اگر اس درجہ نہ ہو کہ پانی کو نبیذ بنادے تو مٹھاس مغلوب سمجھی جائے گی، اور اگر اس درجہ ہو تو غالب ہوگی اور ان دونوں میں کوئی واسطہ نہیں، نیز پانی اور مٹھاس کی مساوات کے کوئی معنٰی نہیں، کیونکہ تساوی اور تفاضل دو ہم جنس کمیتوں میں ہوتے ہیں، تو ضروری ہوا کہ یہ مساواۃ احتمال ہے یعنی اس کا نبیذ ہونا یا پانی رہنا، غالب گمان میں نہیں ہے بلکہ دونوں چیزوں میں برابر کا احتمال ہے، تو حاصل شک وتردد کا حصول ہے، اور ان کے غیر نے اس کی یہی تعبیر کی ہے۔ تبیین اور فتح میں خزانۃ الاکمل سے اور حلیہ میں خزانہ وغیرہا سے ہے کہ ہمارے مشایخ نے فرمایا ہے کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے جوابات کے مختلف ہونے کی وجہ سوالات کا اختلاف ہے۔ جب آپ سے پوچھا گیا کہ اگر پانی غالب ہو، تو آپ نے فرمایا وضو کرے اور جب یہ پوچھا کہ اگر مٹھاس غالب ہو، تو جواب میں فرمایا کہ وضو اور تیمم دونوں کو جمع کرے اھ، یہ فتح کے الفاظ ہیں اور اس پر پھر یہ کہا اس بنا پر غُسل میں بھی ضرور تفصیل ہوگی کہ اگر نبیذ میں مٹھاس اتنی غالب ہوجائے کہ پانی کا نام اس پر نہ بولا جائے تو اس سے غسل نہ کیا جائے اور اگر اس کے خلاف ہو کہ مٹھاس مغلوب ہو اور اس کو پانی کہا جائے تو غسل کرے کیونکہ دلالت کے طور پر غسل کا حکم وضو سے ملحق قرار پائے گا اور اگر نبیذ میں غلبہ کے بارے میں تردّد ہو تو غسل اور تیمم کو جمع کرے اھ (ت)
اقول لاحاجۃ(۱)الی الالحاق مع بقاء الاطلاق اما الذین اختلفوا فی جواز الغسل بہ فصحح فی المبسوط الجواز وصحح فی المفید عدمہ لان الجنابۃ اغلظ کما ذکرہ فی الفتح بعدہ۔
میں کہتا ہوں کہ اطلاق کی موجودگی میں الحاق کی ضرورت نہیں، نبیذ سے غسل کے جواز کے بارے میں اختلاف کرنے والوں نے جیسا کہ مبسوط میں جواز کی صحت کی ہے اور مفید میں عدمِ جواز کو صحیح کہا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جنابت زیادہ غلیظ ہے جیسا کہ بعد میں اسے فتح میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
فاقول: کلامھم فی ماصار نبیذا وھو غیر ھذا التوفیق الانیق وعلیہ یضطر القائل بجواز الاغتسال بہ الی الحاقہ بالوضوء دلالۃ لاقیاسالان الجواز فی نبیذ التمر معدول بہ عن سنن القیاس وماکان کذا یجوز الالحاق بہ دلالۃ لاقیاسا اما علی ھذا التوفیق فلاشک ان الوضوء والغسل سیان فی جوازھما بالماء المطلق فلایجعل احدھما اصلا والاٰخر ملحقا بہ ھذا ومثلہ لفظ التبیین والحلیۃ اذالم یدرایھما الغالب فھذا فی المشکوک دون المخالط المساویقدرا فلیس فیہ مایمیل الی مافی الغنیۃ فتثبت وللہ الحمد۔
پس میں کہتا ہوں کہ ان کا کلام اس صورت میں ہے جب نبیذ بن جائے تو اس میں مذکورہ توفیق جاری نہ ہوگی لہٰذا غسل کے جواز کے قائل وضو کے ساتھ الحاق کرنے میں دلالت کے قول پر مجبور ہیں اور وہ قیاس کویہاں استعمال نہیں کرسکتے کیونکہ نبیذتمر سے وضو کا جواز قیاس کے قاعدہ پر نہیں ہے، جو قیاس کے خلاف ہو تو اس سے الحاق بطور دلالت ہوسکتا ہے اس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا پس اس طرح وضو اور غسل دونوں مطلق پانی سے جواز میں مساوی ہیں ایک کو اصل اور دوسرے کو ملحق نہیں قرار دیا جاسکتا، ہذا، تبیین اور حلیہ کے الفاظ بھی اسی طرح ہیں، تو جب دونوں میں سے کسی کا غلبہ معلوم نہ ہو، تو یہ مشکوک کی بات ہوئی مقدار کے اعتبار سے مساوی مخلوط کی بات نہیں ہے، یہاں غنیہ والی بات کی طرف میلان ثابت نہیں ہے۔
اقول: ونظیر(۱)ھذاالاختلاف عن الامام مافی الحدیث انہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم سئل عن تقبیل الصائم عرسہ فاجاز فسئل اخری فنھی فاذا الذی اباہ لہ شیخ والذی نھاہ عنہ شاب ۱۲ منہ غفرلہْ (م)
میں کہتا ہوں کہ اس کی نظیر وہ ہے جو حدیث میں ہے کہ حضور علیہ الصّلوٰۃ والسلام سے ایک بار یہ سوال ہوا کہ اگر روزے والا اپنی بیوی کا بوسہ لے تو کیا حکم ہے، تو جواب میں اجازت فرمائی۔ اور دوسری بار یہی سوال کیا گیا تو آپ نے منع فرمایا۔ تو اسی ایک سوال کے مختلف جوابات کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ روزے والا بوڑھا ہو تو جائز فرمایا اور اگر وہ جوان ہے تو منع فرمایا، اس طرح امام ابو حنیفہ نے نبیذ کے بارے میں مختلف قول فرمائے کیونکہ ہر جواب علیحدہ نقطہ سے متعلق ہے۔ (ت)
(۶) اجماع ائمہ حنیفہ ہے کہ قلیل مستہلک کا خلط مزیل اطلاق نہیں اگرچہ وہ قلیل جنس ارض سے نہ ہو، ہدایہ میں ہے:
 الخلط القلیل لامعتبر بہ لعدم امکانالاحتراز عنہ کما فی اجزاء الارض ۱؎۔
پانی میں معمولی ملاوٹ کا اعتبار نہیں کیونکہ مٹّی کے اجزاء کی طرح ایسی ملاوٹ سے پانی کا محفوظ ہونا مشکل ہے۔ (ت)
 (۱؎ الہدایۃ    باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء    مطبع عربیہ کراچی    ۱/۱۸)
فتح القدیر میں ہے: قدرأیناہ یقال فی ماء المد والنیل حال غلبۃ لون الطین علیہ وتقع الاوراق فی الحیاض زمن الخریف فیمر الرفیقان ویقول احدھما للاٰخر ھنا ماء تعال نشرب نتوضأ فیطلقہ مع تغیر اوصافہ بانتقاعھا فظھرلنا من اللسان ان المخلوط المغلوب لایسلب الاطلاق فوجب ترتیب حکم المطلق علی الماء الذی ھو کذلک وقد اغتسل صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم یوم الفتح من قصعۃ فیھا اثر العجین رواہ النسائی والماء بذلکیتغیر ولم یعتبر المغلوبیۃ ۱؎۔
مد اور نیل کے پانی میں مٹی کا رنگ غالب ہوتا ہے اور حوضوں میں موسم خزاں کے پتّے گرتے ہیں اس کے باوجود ہم نے دیکھا کہ دو ساتھی وہاں سے گزرتے ہوئے ایک دوسرے کو کہتے ہیں یہ پانی ہے آؤ پئیں اور وضو کریں اسی کو مطلق پانی قرار دیتے ہیں حالانکہ ان چیزوں کے ملنے کی وجہ سے پانی کے اوصاف متغیر ہوچکے ہوتے ہیں تو معلوم ہوا کہ ملنے والی مغلوب چیز پانی کو اپنے اطلاق سے خارج نہیں کرتی لہٰذا ایسے پانی پر مطلق کا حکم مرتّب ہوگا نیز فتح مکّہ کے روز حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک ایسے پیالے سے وضو فرمایا جس میں آٹا لگا ہوا تھا، اس کو نسائی نے روایت کیا ہے اور پانی اس آٹے کی وجہ سے متغیر ہوتا ہے لیکن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کی کچھ پروا نہ کی۔ (ت)
 (۱؎ فتح القدیر،  باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ، مطبع عربیہ کراچی ۱/۶۴)
 (۷) اجماع عرف وشرع ہے کہ زوال اسم موجب زوال اطلاق ہے
وقد تقدم فی تعاریف المطلق لاسیما التاسع
(مطلق کی تعریفوں خصوصاً نویں تعریف میں گزر چکا ہے۔ ت) ولہٰذا نبیذ تمر سے وضو ناجائز ہونے پر اجماع ہوا اگرچہ پانی اپنی رقّت پر رہے وقد تقدم فی ۲۸۶ (۲۸۶ میں گزر چکا۔ ت)

(۸) اجماع ائمہ حنفیہ ہے کہ پانی کے اوصاف میں قلیل تغیر ما نع اطلاق نہیں وقد تقدم فی ۱۱۶ (۱۱۶ میں گزر چکا ہے۔ ت)
Flag Counter