Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
174 - 176
اقول: ھذا ھو السابع فی تعریفات المطلق والکلام الکلام فیقال ماء الورد لیس ماء حقیقۃ فعلی التحقیق لیس من المقیداماالمقید کماء الزعفران الصالح للصبغ فماء قطعاویصح ان یقال ھذاماء لان صحۃ حمل المقسم علی القسم من الضروریات نعم لایفھم من اطلاق قولناالماء وھذاشیئ غیرالحمل ولایصح ارادۃ حمل الماء المطلق فیرجع الی ان المقید یحمل علیہ الماء المطلق مع ذکرالقید وھذاجمع بین النقیضین والجواب مامر۔
میں کہتا ہوں یہ مطلق کی ساتویں تعریف ہے اور اس پر وہی گفتگو ہے جو گزری، کہا جاتا ہے گلاب کا پانی، حالانکہ درحقیقت یہ پانی نہیں ہے تو تحقیقی طور پر یہ مقید نہیں مقید جیسے ماء الزعفران جو رنگنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو یہ قطعاً پانی ہے اور اس کو ھذا ماءٌ کہہ سکتے ہیں کیونکہ مقسم کا قسم پر محمول ہونا بدیہیات میں سے ہے، ہاں جب ہم الماء اور ھذا کہتے ہیں تو اس سے سوائے حمل کے اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا اور ماء مطلق کے حمل کا ارادہ صحیح نہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ مقید پر الماء المطلق محمول ہوگا اور قید بھی ذکر کی جائے گی اور یہ جمع بین النقیضین ہے اور جواب وہ ہے جو گزرا۔ (ت)
چہارم جس سے پانی کی نفی کر سکیں یعنی کہہ سکیں کہ یہ پانی نہیں وہاں اضافت تقیید کی ہے ورنہ تعریف کی، تبیین میں ہے:
اضافتہ الی الزعفران ونحوہ للتعریف کاضافتہ الی البئر بخلاف ماء البطیخ ونحوہ حیث تکون اضافتہ للتقیید ولھذا ینفی اسم الماء عنہ ولایجوز نفیہ عن الاول ۲؎ اھ
اس کی اضافت زعفران وغیرہ کی طرف تعریف کیلئے ہے جیسے پانی کی اضافت کنویں کی طرف، بخلاف ماء البطیخ وغیرہ کے، وہاں اضافت تقیید کیلئے ہے، اس لئے پانی کا نام اُس سے منفی کیا جاتا ہے اور اس کی نفی اول سے جائز نہیں اھ (ت)
 (۲؎ تبیین الحقائق کتاب الطھارت        الامیریہ ببولاق مصر    ۱/۲۱)
اقول: ھذا ھو ثامن تعریفات المطلق والبحث البحث فیقال ان القسم لایصح نفی المقسم عنہ حقیقۃ ابداوان ارید نفی الماء المطلق مع بعدہ عن ظاھر العبارۃ یرجع الی ان اضافۃ التقیید فی الماء المقید وھذا لایجدی شبہ الحمل الاولی والجواب مامر۔
میں کہتا ہوں یہ مطلق کی آٹھویں تعریف ہے اور اس میں جو بحث ہے وہ بحث ہے اس میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ قسم سے مقسم کی نفی صحیح نہیں حقیقۃً، اور اگر ماءِ مطلق کی نفی کا ارادہ کیا جائے، حالانکہ بظاہر عبارۃ سے یہ بعید ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اضافتِ تقیید ماءِ مقید میں ہے، اور یہ پہلے حمل کی طرح غیر مفید ہے اور جواب وہ ہے جو گزرا۔ (ت)
پنجم: جہاں امور خارجہ عن الذات مثل محل یا صفت یا مجاور کی طرف اضافت ہو تعریف ذات اُس کی محتاج نہ ہو وہ اضافت تعریف ہے غنیہ میں ہے:
مایسمی فی العرف ماء من غیر احتیاج الی التقیید فی تعریف ذاتہ فاضافتہ الی محل کماء البئر اوصفتہ کماء المد ا ومجاورہ کماء الزعفران لیست بقید ۱؎۔
وہ جس کو عرف میں پانی کہا جاتا ہے جس کی ذات کی تعریف میں تقیید کی ضرورت نہیں، تو اس کی اضافت اس کے محل کی طرف ہے جیسے ماء البئر یا اس کی صفت کی طرف ہے جیسے ماء المد یا اس کے مجاور کی طرف ہے جیسے ماء الزعفران یہ قید نہیں ہے۔ (ت)
 (۱؎ غنیۃ المستملی، فصل فی بیان احکام المیاہ، سہیل اکیڈمی لاہور، ص۸۸)
ششم: جہاں ماہیت بے قید نہ پہچانی جائے اضافت تقیید ہے ولہٰذا اُس پر بلاقید لفظ آب کا اطلاق جائز نہ ہوگا اور جہاں بے ذکر قید اطلاق لفظ صحیح ہو اصافت تعریف ہے، حلیہ میں ہے:
المقید لاتعرف ذاتہ الابالقید ولھذا کانت الاضافۃ لازمۃ فلایسوغ تسمیتہ ماء علی الاطلاق بخلاف اضافۃ الماء المطلق الی نحو البئر والعین فانھا اضافۃ الی مامنہ بدفھی عارضۃ لافادۃ عارض من عوارضہ وھو بیان محلہ الکائن فیہ اوالخارج منہ الذی یمکن الاستغناء عن ذکرہ فی صحۃ اطلاق لفظ الماء علیہ ولھذا ساغ ان یطلق القائل علیہ ماء اطلاقا حیقیقیا من غیر تقیید بالبئر ونحوھا وقد ظھر من ھذا التقیید انہ لم یمنع اندراج المقید بہ تحت الماء المطلق بخلاف الاول ۱؎ اھ۔
مقید کی ذات کی معرفت بلاقید نہیں ہوتی ہے اس لئے اضافت لازم ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کو مطلق پانی کہنا جائز نہیں بخلاف ماء مطلق کی اضافت کے کنویں اور چشمے کی طرف، کیونکہ یہ ایسی چیز کی طرف اضافت ہے جو ضروری نہیں، تو یہ عارضی ہے، کیونکہ یہ اُس کے عوارض میں سے کسی ایک عرض کا فائدہ دے رہی ہے، اور یہ اس کے محل کا بیان ہے جس میں کہ وہ ہے یا جس سے وہ خارج ہو کہ اس کے ذکر سے استغنا ممکن ہو اور اس پر صرف ماء کا اطلاق صحیح ہو،اس لئے اس پر ماء کا اطلاق حقیقی بئر وغیرہ کی قید کے بغیر بھی جائز ہے، اس تقیید سے ظاہر ہوا کہ جو اس قید کے ساتھ مقید ہو اس کا ماءِ مطلق میں داخل ہونا ممنوع نہیں بخلاف اول کے اھ (ت)
اقول: اقتصر لغنیۃ علی الثانی من تعریفات المطلق وجمع الحلیۃ بینہ وبین السابع فمشی علی الثانی فی تحدید اضافۃ التقیید وعلی السابع فی تعریف اضافۃ التعریف ولاغزو فالامر قریب۔
میں کہتا ہوں غنیہ نے مطلق کی دوسری تعریف پر اکتفأ کیا ہے اور حلیہ نے اس کو اور ساتویں کو جمع کیا ہے، اوراضافۃِ تقیید کی تعریف میں انہوں نے دوسری کو ملحوظ رکھا ہے اور اضافتِ تعریف میں ساتویں کو، مگر یہ قریب قریب درست ہے۔ (ت)
ہفتم (عـہ) جس کی ماہیت بے اضافت پہچانی جائے اور مطلق نام آب لینے سے مفہوم ہو وہاں اضافت تعریف کی ہے ورنہ تقیید کی۔ شلبیہ علی الزیلعی میں امام حافظ الدین کی مستصفٰی سے ہے:
فان قیل مثل ھذہ الاضافۃ یعنی ماء الباقلاء واشباھہ موجود فیما ذکرت من المیاہ المطلقۃ لانہ یقال ماء الوادی وماء العین قلنا اضافتہ الی الوادی والعین اضافۃ تعریف لاتقیید لانہ تتعرف ماھیتہ بدون ھذہ الاضافۃ وتفھم بمطلق قولنا الماء بخلاف ماء الباقلاء واشباھہ فانہ لاتتعرف ماھیتہ بدون ذلک القید ولاینصرف الوھم الیہ عند الاطلاق ولھذا صح نفی اسم الماء عنہ فیقال فلان لم یشرب الماء وان کان شرب الباقلاء اوالمرق ولوکان ماء حقیقۃ لماصح نفیہ لان الحقیقۃ لاتسقط عن المسمی ابدا ویکذب نافیھاوھذاکمایقال صلاۃ الجمعۃ ولحم الابل وصلاۃ الجنازۃ ولحم(۱)السمک ۱؎ اھ وقد ذکر نحوہ فی کافیہ وجلال الدین فی کفایتہ والبدر محمود فی بنایتہ اقول جمع بین الثانی والثانی عشر بل والثامن ارشادا الی تقاربھا ولو اکتفی بالوسط(عـہ) لکفی وصفا عنمجال کل جدال۔
اگر کہا جائے کہ اس جیسی اضافت یعنی ماء الباقلی وغیرہ کی مذکورہ مطلق پانیوں میں بھی موجود ہے، اس لئے کہ ماء الوادی اور ماء العین کہا جاتا ہے، ہم کہتے ہیں پانی کی اضافۃ وادی اور عین کی طرف تعریف کیلئے ہے نہ کہ تقیید کیلئے، کیونکہ ان کی ماہیت کو اس قید کے بغیر بھی سمجھا جاسکتا ہے اور مطلق لفظ ماء سے سمجھ میں آجاتے ہیں بخلاف باقلٰی وغیرہ کے پانیوں کے، کیونکہ ان کی ماہیت اس قید کے بغیر سمجھ میں نہیں آتی ہے اور جب مطلق لفظ ماء بولا جاتا ہے تو ذہن اس طرف منتقل نہیں ہوتا ہے،اس لئے پانی کے لفظ کی نفی ان پانیوں سے درست ہے تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ فلاں نے پانی نہیں پیا،اگرچہ اس نے شوربہ یا باقلٰی کا پانی پیا ہو،اور اگر یہ حقیقۃ پانی ہوتے تو یہ نفی صحیح نہ ہوتی۔کیونکہ حقیقت کبھی اپنے مسمی سے ساقط نہیں ہوتی ہے اور جو شخص اس کی نفی کرے اس کی تکذیب کی جاتی ہے اور یہ ایسا ہے جیسا کہ صلٰوۃ الجمعۃ،لحم الابل، صلاۃ الجنازۃ اور لحم السمک کہا جاتا ہے اھ اسی قسم کی چیز انہوں نے اپنی کافی میں ذکر کی اور جلال الدین نے کفایہ میں اور بدر محمود نے بنایہ میں۔ میں کہتا ہوں انہوں نے دوسرے اور بارہ کو یکجا کردیا ہے بلکہ آٹھ کو بھی، تاکہ ان کے قریب ہونے کا پتا چل جائے، اور اگر درمیانی پر اکتفا کرلیتے تو کوئی جھگڑا باقی نہ رہتا۔ (ت)
(عـہ)اقول ھذہ سبع عبارات الثلاث الاُخری منھا متقاربۃ المعنی بل متحدۃ المال مختلفۃ المبی والثالثۃ والرابعۃ تعریفان بما یستلزم ھذا المعنی والنقص والقصور فی الاولیین واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)

میں کہتا ہوں یہ سات عبارتیں ہیں ان میں سے آخری تین معنوی اعتبار سے قریب ہیں بلکہ انجام کے اعتبار سے متحد ہیں، عبارت میں مختلف ہیں، تیسری اور چوتھی تعریفیں اُس چیز کے ساتھ ہیں جو اس معنی کو مستلزم ہیں، اور نقص وقصور پہلی دو تعریفوں میں ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
 (۱؎ حلیہ)
 (عـہ)ثم رأیت الامام العینی کذلک فعل فی البنایۃ اذقال الاضافۃ نوعان اضافۃ تعریف کغلام زید وانہ لایغیر المسمی واضافۃ تقیید کماء العنب وانہ یغیرہ وانہ لایفھم من مطلق اسم الماء اھ اقول استدلال انی والمراد بماء العنب مانقع فیہ العنب لانہ الماء المقید لامایخرج بعصرہ فانہ لیس من الماء اصلا کما قدمنا فی حاشیتہ ۲۰۷ خلافالما اوھم العلامۃ ابن کمال ثم رأیت فی نص الکفایۃ التصریح بما ذھبت الیہ اذقال لایجوز بما اعتصر لانہ لیس بماء حقیقۃ ثم اقول احال الامام العینی امر التعریف والتقیید علی التغیر وعدمہ وعللہ بالانفھام من المطلق وعدمہ وھذا اجلی من التغیر المبھم فکان الاولی الارادۃ علیہ کما فعل قبلہ فی غایۃ البیان اذقال واضافتہ الی البئر للتعریف لاللتقیید اذایفھم بمطلق قولنا الماء اھ والعجب ان العینی مشی ھھنا علی ھذا الصحیح ثم بعد ورقتین عاد الی الاول الجریح ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)

اقول: پھر امام عینی نے بنایہ میں ایسا ہی کیا ہے فرمایا اضافت کی دو قسمیں ہیں ایک اضافت تعریف کیلئے ہے جیسے غلام زید، یہ مسمّی میں کوئی تبدیلی نہیں پیدا کرتی ہے اور دوسری اضافت برائے تقیید، جیسے ماء العنب، یہ مسمّٰی کو متغیر کردیتی ہے اور مطلق ماء کے نام سے مفہوم نہیں ہوتا ہے اھ میں کہتا ہوں یہ استدلال''اِنّی'' ہے اور ماء العنب سے مراد وہ پانی ہے جس میں انگور پڑے ہوئے ہوں کیونکہ یہی ماءِ مقید ہے وہ نہیں جونچوڑنے سے نکلے، کیو نکہ وہ تو پانی ہے ہی نہیں، جیسا کہ ہم نے ۲۰۷ کے حاشیہ میں ذکر کیا،یہ علامہ ابن کمال کے وہم کے برخلاف ہے پھر مجھے کفایہ میں یہی تصریح مل گئی، وہ فرماتے ہیں اس پانی سے وضو جائز نہیں جو نچوڑا گیا ہو کیونکہ وہ درحقیقت پانی نہیں ہے۔ پھر میں کہتا ہوں امام عینی نے تعریف وتقیید کا دارومدار تغیر وعدمِ تغیر پر رکھا ہے اور اس کی علت یہ بیان کی کہ وہ مطلق سے مفہوم ہوتا ہے یا نہیں، اور یہ تغیر مبہم سے زیادہ واضح ہے تو اولٰی یہ ہے کہ اسی پر دارومدار کیا جائے جیسا کہ اس سے قبل غایۃ البیان میں کیا ہے فرمایا اس کی اضافت کنویں کی طرف تعریف کیلئے ہے نہ کہ تقیید کیلئے کیونکہ وہ مطلق المأ سے مفہوم ہوجاتا ہے اھ اور تعجب ہے کہ عینی نے اس صحیح قول کو اختیار کیا، پھر دو۲ ورق بعد وہ پہلے مجروح قول کی طرف آگئے ہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
 (۱؎ شلبیہ مع تبیین الحقائق    کتاب الطہارۃ    الامیریہ ببولاق مصر    ۱/۲۰)
بالجملہ اصح واحسن وہی تعریف اخیر مائے مطلق پر یہاں بھی حوالہ ہے کہ جس کی طرف مطلق آب کہنے سے افہام سبقت کریں اُس کی اضافت اضافتِ تعریف ہے ورنہ اضافتِ تقیید اقول یعنی جبکہ جنس آب حقیقی لغوی سے خارج نہ ہو ورنہ اضافتِ تقیید بھی نہیں مجاز ہے جیسے آبِ زر واللہ تعالٰی اعلم۔
فصل ثالث ضوابط جزئیہ متون وغیرہا۔
اقول وباللہ التوفیق اوّل چند مسائل اجماعیہ ذکر کریں کہ کوئی ضابطہ اُن کے خلاف نہیں ہوسکتا۔

(۱) اجماعِ اُمّت ہے کہ پانی کے سوا کسی مائع سے وضو وغسل یعنی ازالہ نجاست حکمیہ نہیں ہوسکتا۔

(۲) اجماع ہے کہ وہ پانی مائے مطلق ہونا چاہئے مائے مقید سے وضو نہیں ہوسکتا سوائے نبیذتمر کے کہ سیدنا 

امامِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ ابتدا نظر بحدیث اُس سے جواز کے قائل تھے پھر رجوع فرمائی اور اُس سے بھی عدم جواز پر اجماع منعقد ہوگیا الا مایذکرمن امام
(عـہ۱)الشام الاوزاعی رحمہ اللّٰہ تعالٰی من التجویز بکل نبیذ ان ثبت عنہ واللّٰہ تعالٰی اعلم
 (مگر وہ جو امام اوزاعی رحمہ اللہ تعالٰی سے منقول ہے کہ ہر نبیذ سے وضو جائز ہے بشرطیکہ یہ روایت ان کی طرف درست منسوب ہو واللہ تعالٰی اعلم۔ ت)
 (عـہ۱) وقال فی البنایۃ شذ الحسن بن صالح وجوز الوضوء بالخل وما جری مجراہ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)

بنایہ میں ہے کہ حسن بن صالح نے شذوذکرتے ہوئے سرکہ اور اس قسم کی دوسری اشیاء سے وضو کو جائز قرار دیا ۱۲ منہ غفرلہ،۔ (ت)
 (۳) اجماع ہے کہ غسل بالفتح یعنی کسی عضو کے دھونے میں اُس پر پانی کا بہنا ضرور ہے صرف تر ہوجانا کافی نہیں کہ وہ مسح ہے اور حضرت عزت عزجلالہ، نے غسل ومسح دو۲ وظیفے جُدا رکھے ہیں
الاما(عـہ۲) حکی عن الامام الثانی رحمہ اللّٰہ وھو مؤول کما تقدم
 (مگر وہ جو امام یوسف سے منقول ہے وہ مؤول ہے جیسا گزرچکا۔ ت) تو پانی کا اپنے سیلان پر باقی رہنا قطعاً لازم۔
 (عـہ۲) وقال فی البنایۃ التوضی بالثلج یجوز ان کان ذائبا یتقاطر والا فلاثم قال وفی مسألۃ الثلج اذاقطر قطرتان فصاعدا جاز اتفاقا والافعلی قولھما لایجوز وعلی قول ابی یوسف یجوز اھ
بنایہ میں ہے کہ برف سے وضو جائز ہے بشرطیکہ پگھل کر ٹپک رہا ہو ورنہ نہیں، پھر برف کے مسئلہ میں فرمایا جب اُس سے دو یا زائد قطرے ٹپکیں تو وضو جائز ہے اتفاقاً ورنہ طرفین کے قول پر جائز نہیں ہے اور ابو یوسف کے قول پر جائز ہے اھ
اقول: ماکان(۱)ینبغی ان یقال قولہ الموھم خلاف الواقع فانما ھی حکایۃ نادرۃ عنہ وقد قال قبلہ فی البنایۃ السیلان شرط فی ظاھر الروایۃ فلایجوز الوضوء مالم یتقاطر الماء وعن ابی یوسف انہ لیس بشرط اھ ثم الروایۃ مؤولۃ کما علمت ثمہ فلاینبغی(۱)ذکرھاالابتاویلھا کیلا یتجرأ جاھل علی مخالفۃ امر اللّٰہ تعالٰی متشبثابھا ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
میں کہتا ہوں یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ ان کا وہم پیدا کرنے والا قول خلاف واقع ہے کیونکہ یہ تو ان سے ایک نادر حکایت ہے اور اس سے قبل وہ بنایہ میں فرماچکے ہیں کہ سیلان ظاہر روایت میں شرط ہے تو جب تک پانی کے قطرے نہ ٹپکیں وضو جائز نہیں،اور ابو یوسف سے ہے کہ سیلان شرط نہیں اھ یہ روایت مؤول ہے جیسا آپ نے جانا تو اس کو بلاتاویل ذکر کرنا درست نہیں تاکہ کوئی اس کو دیکھ کر اللہ تعالٰی کے حکم کی مخالفت کی

 جُرات نہ کر بیٹھے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
Flag Counter