فان قلت علی ماقررت یلزم خروج الماء المتنجس والمستعمل من الماء المطلق فان من اعظم مقاصد الماء حصول التطھیر بہ قال اللّٰہ تعالٰی وینزل علیکم من السماء ماء لیطھر کم بہ وقد سقط ھذا منھما فیزاد فی جانب النقص علی زوال السیلان والرقۃ زوال صفۃ الطھوریۃ اقول الحقائق(۱)الشرعیۃ للمقاصد الشرعیۃ فبفوا تھا تفوت کالصوم والصلاۃ اما الماء فحقیقۃ عینیۃ والمعتبر فی بقائھا المقاصد العرفیۃ الاتری ان اعظم المقصود من الانسان العبادۃ قال تعالٰی وماخلقت الجن والانس الا لیعبدون وقد فاتت الکافر اذلیس اھلالھا ومع ذلک لم یخرج من المتفاھم باطلاق الانسان قال تعالٰی ان الانسان لفی خسر الاالذین اٰمنو اوقال تعالٰی قتل الانسان مااکفرہ۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس بنا پر ناپاک اور مستعمل پانی کا ماء مطلق سے خارج ہونا لازم آتا ہے، کیونکہ پانی کا سب سے بڑا مقصد پاکی کا حصول ہے فرمانِ الٰہی ہے ''وہ تم پر آسمان سے پانی نازل فرماتا ہے تاکہ اس سے تم کو پاک کرے'' اور یہ وصف اُن دونوں پانیوں سے ختم ہوگیا، تو جانب نقص میں زوالِ سیلان ورقت پر صفتِ طہوریۃ کے زوال کا اضافہ کیا جائیگا۔ میں کہتا ہوں حقائقِ شرعیہ مقاصد شرعیہ کیلئے ہوتے ہیں، تو جب مقاصد شرعیہ فوت ہوجائیں تو حقائق بھی فوت ہوجاتے ہیں، جیسا کہ روزہ اور نماز اور پانی حقیقۃ عینیہ ہے اور اسی کی بقاء میں مقاصد عرفیہ ہیں، کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ انسان کا بڑا مقصود عبادت ہے فرمانِ الٰہی ہے ''اور میں نے انس وجن کو عبادت ہی کیلئے پیدا کیا ہے'' اور یہ چیزیں کافر میں نہیں پائی جاتی ہیں کیونکہ وہ عبادت کا اہل نہیں، اس کے باوجود جب لفظ انسان کا اطلاق کیا جاتا ہے تو مفہوم انسان سے خارج نہیں ہوتا ہے فرمانِ الٰہی ہے ''بلاشبہ انسان خسارے میں ہے سوائے ایمان والوں کے''۔ فرمانِ الٰہی ہے ''لعنت ہو انسان پر کتنا ناشکرا ہے۔(ت)
بالجملہ تحقیق(۱) فقیر غفرلہ، میں مائے مطلق کی تعریف (عـہ) یہ ہے کہ وہ پانی کہ اپنی رقتِ طبعی پر باقی ہے اور اس کے ساتھ کوئی ایسی شے مخلوط وممتزج نہیں جو اُس سے مقدار میں زائد یا مساوی ہے نہ ایسی جو اُس کے ساتھ مل کر مجموع ایک دوسری شے کسی جُدامقصد کے لئے کہلائے ان تمام مباحث بلکہ فہیم کیلئے جملہ فروع مذکورہ وغیر مذکورہ کو ان دو بیت میں منضبط کریں
مطلق آبے ست کہ بروقتِ طبعی خودست نہ درومزج دگر چیز مساوی یا بیش
نہ بخلطے کہ بترکیب کُند چیز دگر کہ بودز آب جُدا در لقب ومقصد خویش
وباللّٰہ التوفیق٭ولہ الحمدعلی اراء ۃ الطریق٭وافضل الصلاۃ واکمل السلام علی الحبیب الرفیق٭ واٰلہ وصحبہ اولی التحقیق وسائر من دانہ بالایمان والتصدیق٭ اٰمین٭ والحمدللّٰہ رب العٰلمین۔
عہ:منح وسید کی تعریفیں کہ حاشیہ پر گزریں ۱۳ و ۱۴ تھیں اور یہ تعریف رضوی بحمدہ تعالٰی پانزدھم
ثم وجدت عن المجتبی تعریفااٰخر ذکرہ عنہ فی انجاس البحران الماء المقید مااستخرج بعلاج کماء الصابون والحرض والزعفران والاشجار والاثمار والباقلاء اھ فالمطلق خلافہ اقول لیس(۲)بشیئ ویوافقہ اول الاقوال الاٰتیۃ فی الاضافات وسیاتی ردہ ثمہ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
پھر میں نے مجتبٰی سے ایک اور تعریف بحر کے انجاس میں دیکھی کہ مقید پانی وہ ہے جو کسی عمل کے ذریعہ نکالا جائے، جیسے صابون کا پانی اور حرض، زعفران، درختوں، پھلوں اور باقلی کا پانی اھ اور مطلق اس کے خلاف ہے، میں کہتا ہوں یہ کچھ بھی نہیں، اس کی موافقت اضافات میں وارد شدہ پہلے قول سے ہوتی ہے، اس کی تردید وہاں ہوگی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اضافات(۱)بہت چیزوں پر پانی کا نام کسی شَے کی طرف مضاف کرکے بولا جاتا ہے اُن میں بعض تو جنسِ آب سے خارج ہیں اور اطلاق آب محض بطور تشبیہ جیسے آبِ زر آبِ کا فور اور جو حقیقۃ پانی ہیں ان میں کچھ مائے مطلق ہیں جیسے آبِ باراں آب دریا اور کچھ مائے مقید جیسے ماء العسل ماء الشعیر اول کو اضافت تعریف کہتے ہیں اور دوم کو اضافتِ تقیید۔ علماء نے ان میں چند طرح فرق فرمایا:
اوّل جو پانی کسی شے سے بذریعہ تدبیر نکالا جائے اُس کی طرف پانی کی اضافتِ تقیید ہوگی ورنہ اضافتِ تعریف، عنایہ وبنایہ میں ہے:
اضافتہ الی الزعفران للتعریف لاللتقیید الفرق بینھماان المضاف ان لم یکن خارجا عن المضاف الیہ بالعلاج فالاضافۃ للتعریف وانکان خارجامنہ فللتقید کماء الورد ۱؎ اھ اقول ان کان(۲)المراد حدوثہ بالتدبیر کما ھو فی ماء الوردو سائر المستقطرات ورد ماء النارجیل وماء الجبحب وماء النخل الھندی المسمی تارفانھاموجودۃ وانما التدبیر لاخراجھاکالفصد لاخراج الدم وان ارید ظھورہ بہ فان لم یرد ماء البئر لان ظھورہ من الارض بالتدبیر بحفر البئر لامن المضاف الیہ ورد ماء العسل فان الماء فان الماء ظاھر بنفسہ انماالتدبیر فی امتزاجہ طبخابالعسل فانارید(عـہ)ماء العسل من حیث ھو ماء العسل فحدوثہ بالتدبیر لامجرد ظھورہ۔
پانی کی اضافت زعفران کی طرف تعریف کیلئے ہے نہ کہ تقیید کیلئے، اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ اگر مضاف، مضاف الیہ سے عمل کے ذریعہ نہ نکالا گیا ہو تو اضافت تعریف کیلئے ہے اور اگر تدبیر سے خارج ہو تو تقید کیلئے ہے جیسے گلاب کا پانی اھ میں کہتا ہوں اگر ان کی مراد اس کا حدوث ہے تدبیر سے جیسے گلاب کے پانی میں یا دوسرے اُن پانیوں میں ہے جو نچوڑ کر نکالے جاتے ہیں تو ناریل کا پانی، تربوز کا پانی، تاڑی کا پانی، اس کے علاوہ ہیں کہ یہ پانی سے ہی موجود ہوتے ہیں تدبیر صرف ان کے نکالنے کیلئے کی جاتی ہے جیسے خون نکالنے کیلئے فصد کھلوائی جاتی ہے، اور اگر یہ مراد ہو کہ اس کا اس کے ذریعہ ظہور ہو، پس اگر کنویں کے پانی سے اعتراض نہ ہو کہ اس کا ظہور بھی زمین کے کھودے سے ہوتا ہے مضاف الیہ سے نہیں ہوتا تو شہد کے پانی کے ذریعہ اعتراض وارد ہوگا، کیونکہ پانی بنفسہ ظاہر ہے تدبیر تو اس کو شہد میں ملا کر پکانے سے ہوتی ہے اور اگر شہد کاپانی من حیث ھو مراد ہو تو اس کا حدوث تدبیر سے ہوگا نہ کہ محض ظہور سے۔ (ت)
(۱؎ العنایۃ مع الفتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضو نوریہ رضویہ سکھر ۱/۶۳)
(عـہ )ھذا ھو مفاد کلام الامام العینی اذجعل ماء الباقلی خارجا بالتدبیر والا فالماء لاحدث بہ ولاظھر بل کان موجودا ظاھرا من قبل انما حدث الممزوج من حیث ھو ممزوج فتعین فی کلامہ الشق الاول ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
یہ عینی کے کلام سے مستفاد ہوتا ہے، انہوں نے باقلی کے پانی کو تدبیر سے خارج ہونے والا پانی قرار دیا ہے ورنہ تو پانی میں نہ کوئی حدوث ہے اور ظہور،بلکہ وہ موجود وظاہر پہلے تھا البتہ ممزوج من حیث الممزوج بعد میں پیدا ہوا، تو ان کے کلام میں شق اول متعین ہوگئی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
وم جہاں ماہیت مضاف کامل ہو اضافت تعریف کیلئے ہے جیسے نماز فجر اور قاصر ہو تو تقیید کیلئے جیسے نمازِ جنازہ کہ رکوع وسجود وقرأت وقعود نہیں رکھتی، کفایہ ومجمع الانہر میں ہے:
تقیید کی اضافت کی علامت مضاف میں ماہیۃ کا ناقص ہونا ہے، گویا اس کا ناقص ہونا اس کی قید ہے تاکہ مطلق کے تحت داخل نہ ہو، اس کی مثال یہ ہے کہ کسی نے حلف اٹھایا کہ وہ نماز نہ پڑھے گا پھر اس نے ظہر کی نماز پڑھی تو حانث ہوجائیگا کہ وہ مطلق نماز ہے اور اس کی اضافت ظہر کی طرف تعریف کیلئے ہے اور نماز جنازہ پڑھنے سے حانث نہ ہوگا کیونکہ وہ مطلق نماز نہیں ہے اور اس کی اضافت جنازہ کی طرف تقیید کیلئے ہے۔ (ت)
(۱؎ شلبیہ علی التبیین الحقائق کتاب الطہارۃ الامیریہ ببولاق مصر ۱/۲۱)
اسی طرح شلبیہ علی الزیلعی میں معراج الدرایہ شرح ہدایہ سے ہے نیز اُسی میں مشکلات امام خواہر زادہ
سے ہے:
کل ماکانت الماھیۃ فیہ کاملۃ فالاضافۃ فیہ للتعریف وماکانت ناقصۃ فالاضافۃ للتقیید نظیر الاول ماء السماء وماء البحر وصلاۃ الکسوف ونظیر الثانی ماء الباقلاء وصلاۃ الجنازۃ ۱؎ اھ اقول قصور(۱)الماھیۃ انما ھو فی ماء الباقلا ونحوہ عماثخن وزالت رقتہ اما فی المتغیر بالزیادۃ کالانبذۃ والمذق فتبدلت لانقصت الا ان یراد بالقصور والنقص مایعم الانتفاء مجازا تقول(۲)العرب قل ای عدم کما فی نسیم الریاض۔
ہر وہ چیز جس میں ماہیت کامل ہو تو اس میں اضافت تعریف کیلئے ہے اور جس میں ماہیت ناقص ہو تو اس میں اضافت تقیید کیلئے ہے پہلے کی نظیر ماء السماء اور ماء البحر اور صلوٰۃ الکسوف ہے اور دوسری کی مثال ماء الباقلی اور صلاۃ الجنازہ ہے اھ میں کہتا ہوں ماہیت کا ناقص ہونا ماء الباقلٰی میں ہے یا اس قسم کے اور پانیوں میں جو گاڑھے پڑ گئے ہوں اور اُن میں سے رقت ختم ہوگئی ہو لیکن وہ پانی جو کسی زیادتی کے باعث متغیرہو گئے ہوں جیسے نبیذ ومذق تو یہ تبدیل ہوئے ہیں کم نہیں ہوئے۔ ہاں اگر قصور ونقص سے مراد وہ ہو جو انتفاء کو عام ہو مجازاً، عرب کے لوگ کہتے ہیں قَلَّ یعنی معدوم ہوگیا، نسیم الریاض میں ایسا ہی ہے۔ (ت)
(۱؎ شلبیۃ علی التبیین الحقائق کتاب الطہارۃ مطبعۃ الامیریہ ببولاق مصر ۱/۲۱)
سوم :جسے بے حاجت ذکر قید پانی کہہ سکیں وہاں اضافت تعریف کی ہے اور جہاں پانی کہنے میں ذکر قید ضروری ہو تقیید کی، مراقی الفلاح میں ہے:
الفرق بین الاضافتین صحۃ اطلاق الماء علی الاول دون الثانی اذلا یصح ان یقال لماء الورد ھذا ماء من غیر قید بالورد بخلاف ماء البئر لصحۃ اطلاقہ فیہ ۲؎۔
دونوں اضافتوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی پر پانی کااطلاق صحیح ہے دوسری پر نہیں ہے کیونکہ گلاب کے پانی کو ھٰذا ماءٌ کہنا صحیح نہیں،اس میں وردٌ کی قید لگانا ضروری ہے، ہاں کنویں کے پانی کو ھذا ماءٌ کہہ سکتے ہیں۔ (ت)
(۲؎ مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ مطبعۃ الامیریہ ببولاق مصر ص۱۳)
بحر میں ہے: ماء البحر الاضافۃ فیہ للتعریف بخلاف الماء المقید فان القید لازم لہ لایجوزاطلاق الماء علیہ بدون القید کماء الورد ۱؎ اھ
ماء البحر اس میں اضافت تعریف کے لئے ہے بخلاف مقید پانی کے، کیونکہ قید اس کو لازم ہے اس پر پانی کا اطلاق بلاذکر قید جائز نہیں جیسے گلاب کا پانی اھ۔ (ت)
(۱؎ بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۶۶)