Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
172 - 176
اقول: کیف(۱)وقد ذکرالمستقطرمن النبات والثانی بان المقسم الماء الطاھروالمستعمل کالنجس فلاغبار ۲؎ اھ۔
میں کہتا ہوں یہ کیسے،حالانکہ انہوں نے گھاس سے ٹپکائے جانے والے کا ذکر کیا ہے اور دوسرے کا جواب یہ ہے کہ مقسم پاک پانی ہے اور مستعمل نجس کی طرح ہے تو اس پر کوئی غبار نہیں اھ (ت)
 (۲؎ الحاشیۃ علی الدرر شرح الغرر لابی سعید الخادمی    بحث الما    مکتبہ عثمانیہ بیروت    ص۲۱)
اقول: قدعلمت(۲)ان کلام الائمۃ یؤذن بدخول المتنجس فی المطلق فضلا عن المستعمل وکذلک کلام اھل الضابطۃ قبل البحرحیث لم یزیلو الاطلاق الا بالامرین ثم رأیت فی کلام ملک العلماء مایدل علیہ صریحا اذقال قدس سرہ اما شرائط ارکان الوضوء فمنھا ان یکون الوضوء بالماء ومنھا انیکون بالماء المطلق ومنھا ان یکون الماء طاھرافلایجوز بالماء النجس ومنھا ان یکون طھورا فلایجوز بالماء المستعمل ۱؎ اھ ملتقطا فھو صریح فی ان اشتراط اطلاق الماء لم یخرجھما حتی احتیج الی شرطین اٰخرین وکذلک کلام المنیۃ اذیقول تجوزالطھارۃ بماء مطلق طاھر۲؎ اھ فافادعموم المطلق للطاھر وغیرہ واستدرک علیہ فی الحلیۃ بقولہ کان الاولی ان یقول طھورمکان طاھرلان الطھارۃ لاتجوز بماء طاھر فقط ۳؎ اھ فافاد عمومہ المستعمل وقد صرح بہ فی الغنیۃ فقال یسمی المتنجس ماء مطلقافاحتاج الی الاحترازعنہ بقولہ طاھرولوکانت المجاورۃ تکسبہ تقییدالماء احتیج بعد ذکر الاطلاق الٰی ذکر الطاھرا ۴؎ اھ والیہ اشار فی البنایۃ اذقال التوضی بہ جائز مادامت صفۃ الاطلاق باقیۃ ولم تخالطہ نجاسۃ ۵؎ اھ
میں کہتا ہوں کہ ائمہ کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناپاک مطلق میں داخل ہے چہ جائیکہ مستعمل، اور اسی طرح اہلِ ضابطہ کا کلام بحر سے پہلے، کیونکہ ان کے نزدیک اطلاق زوال صرف دو امروں سے ہے پھر میں نے ملک العلماء کے کلام میں اس کی صراحت پائی، وہ فرماتے ہیں بہرحال ارکانِ شرائطِ وضو، ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ وضو پانی سے ہو اور یہ کہ ماء مطلق سے ہو اور پانی پاک ہو تو نجس پانی سے جائز نہیں، ایک یہ کہ طہور ہو تو مستعمل پانی سے جائز نہیں اھ ملتقطا، تو یہ اس میں صراحت ہے کہ مطلق پانی کی شرط نے ان دونوں کو خارج نہیں کیا، تاکہ دو دوسری شرطوں کی حاجت پڑے، اوریہی گفتگو منیہ میں ہے وہ فرماتے ہیں ماءِ مطلق طاہر کے ساتھ طہارت جائز ہے اھ تو عموم مطلق نے طاہر اور غیر طاہر کا افادہ کیا اور حلیہ میں اس پر یہ استدراک کیا ہے، فرمایا بہتر یہ تھا کہ طہور کہتے بجائے طاہر کے، کیونکہ طہارت صرف طاہر پانی سے نہیں ہوتی ہے اھ تو انہوں نے اس کے مستعمل کو عام ہونے کا افادہ کیا اور غنیہ میں اس کی تصریح کی فرمایا ناپاک پانی کو مطلق پانی کہا جاتا ہے پھر ان کو اس سے احتراز کی حاجت ہوئی تو فرمایا طاہر ہو اور اگر مجاورۃ سے اس میں تقیید ہوجاتی تو اطلاق کے بعد طاہر کے ذکر کی ضرورت نہ ہوتی اھ اور بنایہ میں اسی طرف اشارہ کیا، فرمایا اس سے وضو جائز ہے جب تک اس میں صفت اطلاق باقی ہو اور اس میں نجاست نہ ملی ہو اھ۔ (ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    ارکان الوضوء        سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۵)

(۲؎ منیۃ المصلی    فصل فی المیاہ    مطبع یوسفی لکھنؤ    ص۶۱    )

(۳؎ حلیہ)

(۴؎ غنیۃ المستملی    فصل فی بیان احکام المیاہ    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۸۸)

(۵؎ بنایہ شرح ہدایۃ    الماء الذی یجوزبہ الوضوء الخ    ملک سنز فیصل آباد    ۱/۱۸۷)
اقول: ولعل الحامل للبحرعلیہ قول بعضھم تجوزالطھ ارۃ بالماء المطلق ارسلہ ارسالا فلوشملھمااوھم جوازالطھارۃ بھماولیس بشیئ فان امثال القیود تطوی عادۃ للعلم بھا فی محلہ الاتری ان الاکثرین لم یقیدوابالاطلاق ایضاانماقالوا تجوز بماء السماء والاودیۃ الخ
میں کہتا ہوں غالباً بحر کو یہ کہنے کی ضرورت اس لئے پڑی کہ بعض فقہأ نے فرمایا مطلق پانی سے طہارۃ جائز ہے،اس کو انہوں نے مطلق رکھا، تو اگر یہ ان دونوں کو شامل ہوتاتو ان دونوں سے طہارت کے جواز کا وہم ہوتا،اور یہ کچھ نہیں،کیونکہ قیود کی مثالیں عام طورپر ذکر نہیں کی جاتی ہیں کہ ان کا علم ہوتا ہے،یہی وجہ ہے کہ اکثر فقہاء نے اس کواطلاق کی قید سے بھی مقید نہیں کیا ہے پس فرمایا ہے طہارت جائز ہے آسمان کے پانی سے وادیوں کے پانی سے الخ۔(ت)
دوازدھم: حلیہ وبحر کی قیدوں سے آزاد مطلق صرف وہ ہے کہ پانی کا نام لینے سے جس کی طرف ذہن جاتا ہے ملک العلماء بدائع میں فرماتے ہیں:
الماء المطلق ھو الذی تتسارع افہام الناس الیہ عند اطلاق اسم الماء کماء الانھار والعیون والاٰبار والسماء والغدران والحیاض والبحار۔
مطلق پانی وہ ہے کہ جب پانی کا نام لیا جائے تو ذہن اس کی طرف منتقل ہوجائیں، جیسے نہروں، چشموں، کنوؤں، بادلوں، تالابوں، حوضوں اور دریاؤں کا پانی۔ (ت)

پھر فرمایا:
واما المقید فھو مالا تتسارع الیہ الافہام عند اطلاق اسم الماء وھو الماء الذی یستخرج من الاشیاء بالعلاج کماء الاشجار والثمار وماء الورد ونحو ذلک ۱؎ اھ۔
بہرحال مقید پانی وہ ہے کہ جب پانی کا نام لیا جائے تو ذہن اس کی طرف سبقت نہ کرے، اور یہ وہ پانی ہے جو کسی عمل کے ذریعہ چیزوں سے نکالا جائے جیسے درختوں، پھلوں اور گلاب وغیرہ کا پانی اھ۔ (ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    مطلب الماء المقید    سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۵)
اقول: والحصرالمستفادمن قولہ ھو الماء الذی یستخرج غیر مراد قطعاوانماالمعنی کالماء الذی فلیتنبہ۔
میں کہتا ہوں وہ حصر جو ان کے کلام ''یہ وہ پانی ہے جو نکالا جائے'' میں ہے، مراد نہیں ہے قطعاً، اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ مثل اُس پانی کے، تو متنبہ رہناچاہئے۔(ت)
درمختار میں ہے:(یرفع الحدث بماء مطلق) ھومایتبادرعند الاطلاق ۲؎
(حدث کو رفع کیا جائے مطلق پانی سے، یہ وہ ہے جو اطلاق کے وقت متبادر ہو۔ ت)
 (۲؎ درمختار        باب المیاہ        مجتبائی دہلی        ۱/۳۴)
بحر سے گزرا:لانعنی بالمطلق الا مایتبادرعنداطلاق اسم الماء ۱؎
(ہم مطلق سے وہی مراد لیتے ہیں جو ماء کااطلاق کرتے وقت متبادر ہوتا ہے۔ت)
 (۱؎ بحرالرائق        کتاب الطہارت    سعید کمپنی کراچی    ۱/۶۸)
کافی وبنایہ ومجمع الانہر میں ہے:المرادبہ ھھنامایسبق الی الافھام بمطلق قولناالماء ۲؎
(اس سے مراد یہاں وہ ہے جو ہمارے قول پانی کے اطلاق سے فوری سمجھا جائے۔ت)
 (۲؎ مجمع الانہر  تجوز الطہارۃ بالماء المطلق مکتبہ عامرہ مصر ۱/۲۷)
عنایہ وبنایہ میں ہے:لایجوز بما اعتصر لانہ لیس بماء مطلق لانہ عند اطلاق الماء لاینطلق علیہ وتحقیق ذلک انالوفرضنا فی بیت انسان ماء بئراوبحراوعین وماء اعتصر من شجر اوثمر فقیل لہ ھات ماء لایسبق الی ذھن المخاطب الا الاول ولا نعنی بالمطلق والمقید الاھذا ۳؎۔
جو پانی نچوڑا جائے اس سے وضو جائز نہیں کیونکہ وہ مطلق پانی نہیں کیونکہ جب ماء کا اطلاق کیا جاتا ہے تو اس کا اس پر اطلاق نہیں ہوتا ہے اور اس کی تحقیق یہ ہے کہ اگر ہم فرض کریں کہ کسی شخص کے گھر میں پانی کا کنواں ہے یا دریا چشمہ ہے اور وہ پانی بھی ہے جو درخت یا پھل سے نچوڑا گیا ہے، پھر ہم اس سے پانی مانگیں تو مخاطب کا ذہن پہلے پانی ہی کی طرف منتقل ہوگا،اور مطلق ومقید سے یہی مراد ہے۔ (ت)
 (۳؎ العنایۃ مع الفتح    الماء الذی یجوزبہ الوضو الخ    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۶۱)
اقول: یہی اصح واحسن تعریفات ہے کماقال فی الحلیۃ لولا مازاد
 (جیسا کہ حلیہ میں کہا ہے اگروہ نہ ہوتا تو زیادتی نہ ہوتی۔ت) مگر محتاج توضیح وتنقیح ہے
واقول:(۱)وباللّٰہ التوفیق العوارض لاھی تفھم عندالاطلاق٭ولاھی مطلقاتسلب الاطلاق٭فان الذات ھی المفھومۃ من الاطلاق کمااذاقلت انسان لایتسارع الفھم منہ الی الرومی والزنجی اوالعالم والجاھل اوالطویل والقصیر اوالحسین والدمیم وامثال ذلک من العوارض ولا یلزم منہ خروج ھؤلاء عن الانسان المطلق فان ذاتھم لیست الامافھم من لفظ الانسان ولم یعرضھم مایقعدھم عن الدخول فیماتتسارع الیہ الافھام بسماع لفظ الانسان ولوان العوارض مطلقا تمنع الدخول لعدم انفھامھامن المطلق لما دخل تحتہ شیئ من افرادہ لان لکل فرد تشخصالایسبق الیہ الذھن عند ذکر اسم المطلق فکان ھذا یقتضی التسویۃ بین مطلق الماء والماء المطلق لکن ثمہ عوارض تمنع ذویھاعن الدخول تحت الشیئ المطلق ویقال فیھاان اسم المطلق لم یتناولھالکونھاممالاتتسارع الیہ الافھام کمقطوع الیدین والرجلین فی الرقبۃ فان المفھوم الذات الکاملۃ ونبیذ التمر وماء العصفر الصالح الصبغ فان اسم الماء المطلق لایطلق علیھماولایسبق الافھام عند اطلاقہ الیھمامع ان اصحاب تلک العوارض ایضا لیست ذاتھاالامافھم من الاطلاق وعدم انفہام العوارض مشترک فی کل عارض فلابد من الفرق ولم ارمن حام حول ھذا۔
اقول: وباللہ التوفیق عوارض نہ تو عندالاطلاق مفہوم ہوتے ہیں اور نہ مطلقاً سلب ہوتے ہیں،کیونکہ عندالاطلاق ذات ہی مفہوم ہوتی ہے، جیسے آپ انسان کا لفظ بولتے ہیں تو ذہن رومی، حبشی، عالم، جاہل، لمبے، چھوٹے، حسین، بدشکل وغیرہ کی طرف منتقل نہیں ہوتا ہے، مگر اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ یہ لوگ مطلق انسان کے زمرے سے خارج ہیں، کیونکہ ان کی ذات وہی ہے جو لفظ انسان سے مفہوم ہے اور ان کو کوئی ایسا مانع درپیش نہیں کہ یہ لوگ اس مفہوم میں داخل نہ ہوں جو لفظ انسان سنتے ہیں ذہن میں آجاتا ہے، اور اگر عوارض مطلقا دخول سے مانع ہوتے، کیونکہ یہ مطلق سے سمجھے نہیں جاتے ہیں تو مطلق کے تحت اس کے افراد میں سے کوئی شیئ داخل نہ ہوتی کیونکہ ہر ایک فرد کیلئے تشخص ہے جس کی طرف مطلق نام کے ذکر کرنے سے ذہن منتقل نہیں ہوتا ہے تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ مطلقِ ماء اور ماء مطلق کے درمیان مساواۃ ہے لیکن وہاں ایسے عوارض موجود ہیں جو ان کے ذدات کو مطلق شی کے تحت داخل ہونے سے مانع ہیں ، اور ان میں کہا جاتا ہے کہ مطلق اسم اُن کو شامل نہیں ہے کیونکہ ذہن ان کی طرف تیزی سے منتقل نہیں ہوتا ہے جیسے کہ رقبۃ میں مقطوع الیدین والرجلین، کیونکہ مفہوم ذات کاملہ ہے اور نبیذ تمر اور عُصفر کا پانی جو رنگائی کے لائق ہو کیونکہ ماءِ مطلق ان دونوں پر نہیں بولا جاتا ہے اور اطلاق کے وقت ذہن ان دونوں کی طرف منتقل نہیں ہوتا ہے باوجود اس کے کہ ان عوارض والے ان کی ذات نہیں ہیں، مگر وہ جو اطلاق کے وقت مفہوم ہو اور عوارض کا مفہوم نہ ہونا ہر عارض میں مشترک ہے، تو فرق ہونا ضروری ہے، مگر میں نے نہیں دیکھا کہ کسی نے یہ فرق بتایا ہو۔ (ت)
فاقول: علی مابی من قلۃ البضاعۃ٭وقصورالصناعۃ٭مستعینا بربی ثم بصاحب الشفاعۃ٭ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم توضع الاسماء بازاء الحقائق وتمایزالحقائق بتفاوت المقاصدولذاکان بعض الاوصاف تجری مجری الاجزاء کالاطراف فی الحیوان والاغصان فی الاشجار لان بفواتھافوات منافع الذات والشیئ اذا خلاعن مقصودہ بطل فیتطرق بہ التغیر الی الذوات المدلول علیھاعرفابالاسماء ومعلوم ان المرکب من الشیئ وغیرہ غیرہ غیران العرف بل والشرع واللغۃ جمیعا تلاحظ الغلبۃ فاذا کان الممازج اکثر قدرامن الشیئ کان المرکب احق باسم الممازج من اسم الشیئ وان تساویا تساقطا فلم یکن المرکب مفھومامن اطلاق اسم شیئ منھمالان وضع الاسمین بازاء کل بحیالہ لابازاء الکل مجموعانعم ان کان اقل لم یعتبرالا ان تحدث بامتزاجہ حقیقۃ عرفیۃ مرکبۃ ممتازۃ مقصودۃ لمقاصدمنحازۃ فیصیرالمرکب ذاتااخری عرفا لاختلاف المقاصد فلایبقی داخلا تحت المفھوم عرفا من الاطلاق فثبت ان (عـہ) المتفاھم من اطلاق اللفظ ھی الذات الموضوع لھامن دون نقص ولازیادۃ یغیرانھافکل عارض لایعتری بھاالمعروض تغیر فی ذاتہ وان کان ھناک نقص اوزیادۃ فی امرخارج فھو لایمنع المعروض من الدخول تحت الشیئ المطلق والامنع وبہ علم ان بطلانالحقیقۃ فی المرکب مع المساوی والغالب لغۃ وعرفاوشرعامطلقاومع القلیل المذکورعرفامع بقاء الحقیقۃ اللغویۃ ولذا کان المقید قسما من مطلق الماء وفی جھۃ النقص قدتبطل مطلقااذاکان ذلک الوصف جاریامجری الرکن فی الوضع اللغوی ایضاکالسیلان للماء وقد تبقی لغۃ وتبطل عرفااعنی عن المتفاھم العرفی عند اطلاق الاسم وذلک اذا تبدلت المقاصد العرفیۃ کالرقبۃ علی الاقطع فانھا حقیقۃ فیہ لغۃ ولایفھم منھاعرفااذاعلمت ھذا فالنقص فی الماء بزوال سیلانہ اورقتہ فالثخین لایسمی ماء فضلا عن الجمد والزیادۃ باختلاطہ باکثر منہ قدرااومساواوبمایصیر بہ مرکباممتازا منحازابالغرض کالمنقوع فیہ التمراذاصارنبیذاوالمطبوخ فیہ اللحم اذاصارمرقا والمحلول فیہ الزعفران اذاصار صبغاوالمخلوط فیہ اللبن اذاصارضیاحافعن ھذا تتشعب الفروع(۱)جمیعاعلی مذھب قاضی الشرق والغرب الصحیح المصحح کما تقدم عن الھدایۃ والخانیۃ ولاشک ان فی ھذہ الوجوہ الاربعۃ تبدل الذات حقیقۃ اوعرفاومحمد زادخامساوھومااشبہ المائع الممازج لہ بحیث یکاد یحسبہ الذی لایعلم حالہ ذلک المائع ویظن انہ لیس بماء فمثل ھذالایدخل عندہ فی المتفاھم من مطلق الماء فمناط المنع عند ابی یوسف صیر ورتہ غیر الماء ولوظناوبالجملۃ یرتاب فی کونہ ماء وعلیہ بناء ضابطۃ الامامین الاسبیجابی وملک العلماء رحمھما اللّٰہ تعالٰی وھی التی قابلناھا بالضابطۃ الزیلعیۃ وبینا فی القسمین الاولین مااتفقتا فیہ علی الجواز اوالمنع وفی الثالث مااختلفتا فیہ وسیاتی بیان کل ذلک ان شاء 

اللّٰہ الکریم الوھاب۔
پھر میں علمی بے بضاعتی کے باوجود کہتا ہوں اسماء کی وضع حقائق کے مقابلہ میں ہوتی ہے اور حقائق میں امتیاز مقاصد کے اعتبار سے ہوتاہے اور اس لئے بعض اوصاف اجزاء کے قائم مقام ہوتے ہیں جیسے حیوانات کے اعضاء اور درختوں کی ٹہنیاں کیونکہ ان چیزوں کے خاتمہ سے ذات کی منفعتیں بھی ختم ہوجاتی ہیں،اور جب کسی چیز کا مقصود ہی فوت ہوجائے تو وہ چیز باطل ہوجاتی ہے اور اس طرح ذات بھی متغیر ہوجاتی ہے جس پر اسماء کے ذریعہ عرفاً دلالت کی جاتی ہے اور یہ معلوم ہے کہ جو چیز کسی چیز اور اُس کے غیر سے مرکب ہوتی ہے وہ اس کا غیر ہوتی ہے، لیکن عرف، شریعت اور لغۃ سب ہی میں غلبہ کا اعتبار ہوتا ہے تو جب ملنے والی چیز اصلی شَے سے مقدار میں زیادہ ہو تو مرکب پر وہ نام پڑنا چاہئے جو اس ملنے والی اکثر شَے کا ہے نہ کہ اصل شے کا اور اگر دونوں میں برابری ہو تو تساقط ہوگا تو ان میں سے جب کسی شَے کا اطلاق ہوگا تو مرکب مفہوم نہ ہوگا کیونکہ نام تو ہر ایک کے مقابل مستقلاً ہے، مجموعہ کے مقابل نہیں،ہاں اگر وہ کم ہو تو معتبر نہ ہوگا ہاں اگر اس کے ملنے سے ایک نئی حقیقت عرفیہ وجود میں آجائے جو مرکب اور ممتاز ہو،اور خاص مقاصد کیلئے ہو تو مرکب عرفاً ایک نئی ذات ہوگا،اس لئے کہ مقاصد مختلف ہوگئے، تو وہ اطلاق سے عرفاً مفہوم کے تحت داخل نہ ہوگا،پس ثابت ہوا کہ لفظ کے اطلاق سے وہی ذات مراد ہوتی ہے جس کے لئے لفظ وضع کیا گیا ہو، اس میں نہ تو کوئی کمی نہ زیادتی، جس کی وجہ سے ذات میں کوئی تغیر آتا ہو، تو ہر وہ عارض جس کی وجہ سے ذات میں کوئی تغیر نہ ہو خواہ کسی خارجی امر میں کمی بیشی ہو تو یہ چیز معروض کے مطلق شیئ کے تحت آنے میں منحل نہ ہوگی ورنہ مانع ہوگی۔اسی سے یہ بھی معلوم ہواکہ حقیقت کا مرکب میں باطل ہونا مساوی اور غالب کے ساتھ ہے لغۃً، عرفاً اور شرعاً، مطلقاً، اور قلیل مذکور کے ساتھ عرفا مع حقیقت لغویہ کے باقی رہنے کے اس لئے مقید، مطلق ماء کی قسم ہوتا ہے، اور نقص کی جہت میں کبھی حقیقۃ مطلقاً باطل ہوجاتی ہے جبکہ وصف وضع لغوی اعتبار سے بھی رکن کے قائم مقام ہو جیسے پانی کیلئے سیلان، اور کبھی حقیقۃ لغۃً تو باقی رہتی ہے اور عرفاً باطل ہوجاتی ہے، یعنی نام کو بولے جانے کے وقت عرف کے فہم میں نہیں آتی، اور یہ اُسی وقت ہوتا ہے جب مقاصد عرفیہ بدل جائیں جیسے ''رقبۃ'' اقطع پر کیونکہ یہ اس میں حقیقۃ ہے لغۃً لیکن عرفا اس سے نہیں سمجھا جاتا ہے۔ جب آپ نے یہ جان لیا تو پانی میں نقص کی صورت یہ ہوگی کہ اس کا سیلان یا اس کی رقت ختم ہوجائے تو گاڑھے کو پانی نہیں کہیں گے چہ جائیکہ جمد کو، اور اس میں زیادتی کی صورت یہ ہوگی کہ وہ کسی ایسی چیز میں مخلوط ہوجائے جو مقدار میں اُس سے زیادہ یا اس کے برابر ہو یا اُس چیز سے جس سے مرکب ہو کر وہ ممتاز ہوجائے اور مقصد کے اعتبار سے بالکل مختلف ہوجائے، جیسے وہ پانی جس میں کھجوریں بھگوئی جائیں تو وہ نبیذ بن جائے، اور جس میں گوشت پکایا جائے اور وہ شوربہ ہوجائے، اور جس میں زعفران ملایا جائے اور وہ رنگ بن جائے اور جس کو دودھ میں ملایاجائے یہاں تک کہ وہ لسّی ہوجائے،اسی اصل پر قاضی شرق وغرب کے مذہب پر تمام فروع متفرع ہوتی ہیں، جیسا کہ ہدایہ اور خانیہ سے گزرا، اور اس میں شک نہیں کہ ان چاروں صورتوں میں ذات حقیقۃ یاعرفاً تبدیل ہوجاتی ہے،اور امام محمد نے ایک پانچویں صورت کا اضافہ فرمایا ہے اور وہ،وہ پانی ہے جو اس سیال شَے سے مشابہ ہو جو اس میں ملائی گئی ہے،اور وہ ایسا ہوجائے کہ ناواقف حال اس کو وہی شیئ سمجھے پانی نہ سمجھے، اس قسم کی چیز ان کے نزدیک مطلق ماء کے مفہوم میں داخل نہیں، تو ابو یوسف کے نزدیک منع کا دارومدار اس پر ہے کہ وہ پانی کا غیر ہوجائے خواہ عرفاً ہی۔ اور امام محمد کے نزدیک اس پر ہے کہ اس کو استعمال کرنے والا پانی کے علاوہ کوئی اور مائع سمجھنے لگے خواہ صرف گمان ہی ہو۔ خلاصہ یہ کہ وہ اس کے پانی ہونے میں شک کرے، اور اسی پر ضابطہ مبنی ہے، یہ ضابطہ امام اسبیجابی اور ملک العلماء نے بیان کیا ہے،یہی وہی ضابطہ ہے جس کا مقابلہ ہم نے ضابطہ زیلعیہ سے کیا ہے اور پہلی دو قسموں میں بیان کیا ہے کہ ان کا اتفاق جواز اور منع میں ہے اور تیسرے میں وہ جس میں ان کا اختلاف ہے اس کا بیان اِن شاء اللہ تعالٰی آئے گا۔
 (عـہ)اقول وبھذاوللّٰہ(۱)الحمد ظھرمعنی قولھم المطلق ینصرف الی الفرد الکامل وقولھم المطلق ینصرف الی الادنی وتبین انہ لاخلاف بینھما فالمطلق ینصرف فی الطلب الی ادنی مایطلق علیہ سواء کان مطلوب الفعل اذیکفی لبراء ۃ الذمۃ اوالترک اذ الممنوع جنسہ فلایجوز شیئ منہ لکن ینصرف الی فرد کامل فی الذات لم یعرضہ مایجعلہ ناقصافی ذاتہ بالمعنی المذکور لعدم انفھامہ ح من المطلق فالمنصرف الیہ ادنی ماکمل فیہ الذات ھذا ھو التحقیق الانیق اماما قال الشامی ان انصراف المطلق الی الفرد الکامل یذکر فی مقام الاعتذار فمحلہ اذاحمل المطلق علی کامل فی وصف اٰخر وراء الکمال فی الذات اتقنہ فانہ علم نفیس وباللّٰہ التوفیق ۱۲ منہ غفرلہ حفظہ ربہ تعالٰی۔ (م)

میں کہتا ہوں اس سے فقہأ کے اس قول کے معنی واضح ہوگئے کہ مطلق سے مراد فرد کامل ہوتا ہے، نیز یہ کہ مطلق کو ادنٰی کی طرف پھیرا جاتا ہے اور یہ کہ دونوں باتوں میں کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ طلب میں مطلق سے ادنٰی مراد ہوتا ہے، عام ازیں کہ مطلوب فعل ہو کہ وہ برأت ذمہ کیلئے کافی ہوتا ہے یا ترک ہوکر ممنوع اس کی جنس ہوتی ہے تو اس میں سے کچھ بھی جائز نہیں ہوتا ہے لیکن فرد کامل فی الذات مراد ہوتا ہے، اس میں کوئی چیز ایسی نہ ہونی چاہئے جو اس کی ذات میں مذکور معنی کے اعتبار سے موجب نقص ہو کیونکہ اس صورت میں وہ مطلق سے مفہوم نہ ہوگا، تو جس کی طرف پھیرا جاتا ہے وہ ادنٰی ہے اس چیز کا جس میں ذات مکمل ہوئی ہو یہ تحقیق انیق ہے، اور شامی نے جو کہا ہے کہ مطلق کا فرد کامل کی طرف پھرنا مقامِ اعتذار میں ذکر کیا جائیگا تو اس کا محل یہ ہے کہ مطلق جب کسی ایسے امر پر محمول ہو جو کسی دوسرے وصف میں کامل ہو ذات کے علاوہ۔ اس کو خوب اچھی طرح سمجھ لیں کہ یہ نفیس علم ہے ۱۲ منہ غفرلہ حفظہ رب تعالٰی۔ (ت)
Flag Counter