دھم: مطلق وہ ہے کہ پانی کا نام لینے سے جس کی طرف ذہن سبقت کرے بشرطیکہ اُس کا کوئی اور نام نہ پیدا ہوا ہو اور جس کی طرف لفظ آب سے ذہن سبقت نہ کرے یا اس کا کوئی نیا نام ہو وہ مقید ہے حلیہ میں ہے:
الماء المطلق فیہ عبارات من احسنھا مایتسارع افھام الناس الیہ عند اطلاق الماء مالم یحدث لہ اسم علی حدۃ والماء المقید مالاتتسارع الیہ افھام الناس من اطلاق لفظ الماء اوما حدث لہ اسم علیحدۃ ۲؎ اھ
مطلق پانی کے متعلق کئی عبارتیں ہیں، سب سے عمدہ یہ ہے کہ مطلق پانی وہ ہے کہ جب صرف پانی کہا جائے تو ذہن اُس کی طرف منتقل ہوجائیں،جب تک کہ اس کیلئے کوئی نیا نام نہ پڑے اور مقید پانی وہ ہے کہ جب صرف پانی کا لفظ بولا جائے تو ذہن اس کی طرف نہ جائے یا وہ کہ جس کا کوئی نیا نام ہو اھ (ت)
(۲؎ حلیۃ)
اقول: اولا ھذا اصلح من سابقہ فی العکس فانہ لاینتقض منعاوان وجد مقید لم یحدث لہ اسم واقبل(۱)ایرادا منہ فی الطرد فانہ صرح بان تسارع الافھام الیہ لایجدی عنہ حدوث اسم اٰخر وثانیامع(۱)قطع النظر عنہ لاشک ان ھذا الشرط ضائع لامحل لہ اصلا فان حدوث الاسم الذی یکون فی المقید لاامکان لاجتماعہ مع تسارع الافھام الیہ عند الاطلاق۔
میں کہتا ہوں اوّلاً مانعیت کے اعتبار سے یہ تعریف پہلی سے بہتر ہے کیونکہ اس پر ایسے مقید پانی کا اعتراض نہ ہوگا جس کو ابھی نیا نام نہیں دیاگیااور جامعیت کے اعتبار سے یہ پہلی سے زیادہ قابل اعتراض ہے اگر اس کا نیا نام پڑ جائے تو ذہنوں کا اس کی طرف سبقت رکھنا کچھ مفید نہ ہوگا، اور ثانیا اس سے قطع نظر کرتے ہوئے یہ شرط فضول اور بے محل ہے کیونکہ اس نام کاپیدا ہونا جو مقید میں ہے اُس کا، اُس کے ساتھ مجتمع ہونے کا کوئی امکان نہیں، حالانکہ اذہان اُس کی طرف عندالاطلاق سبقت کرتے ہیں۔ (ت)
یازدھم مطلق وہ ہے جس کی طرف نامِ آب سے ذہن سبقت کرے اور اس میں نہ کوئی نجاست ہو اور نہ اور کوئی بات مانع جواز نماز یہ قیدیں بحر میں اضافہ کیں تاکہ آبِ نجس ومستعمل کو خارج کردیں۔
اقول ولواکتفی بالاٰخر لکفی ونصہ المطلق مایسبق الی الافھام بمطلق قولنا ماء ولم یقم بہ خبث ولامعنی یمنع جواز الصلاۃ قال فخرج الماء المقید والمتنجس والمستعمل ۱؎ اھ
میں کہتا ہو ں اگر وہ آخر پر اکتفا کرتے تو کافی ہوتا اور اُس کی عبارت یہ ہے کہ مطلق وہ ہے جس کی طرف اذہان مطلق ماء کے بولنے سے منتقل ہوجاتے ہیں، اور یہ وہ پانی ہے جس میں کوئی ناپاکی نہ ہو اور نہ ایسا کوئی وصف ہو جو جواز صلوٰۃ کے منافی ہو تو اس قید سے مقید، متنجس اور مستعمل پانی خارج ہوگیا اھ (ت)
(۱؎ بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۶۶)
اقول: ھل(۱) المستعمل واخوہ داخلان فیما یسبق الیہ الذھن باطلاق الماء ام لاعلی الثانی ضاع القیدان وسقط تفریع خروجھماعلی زیادۃ القیدین وعلی الاول لاشک(۲) انھما من الماء المطلق اذلا نعنی بالمطلق الا ھذاوعلیہ اقتصر الائمۃ قبلہ بل ھو(۳) نفسہ فیمابعد ذلک بورقۃ اذقال لانعنی بالمطلق الا مایتبادر عند اطلاق اسم الماء ۲؎
اھ
میں کہتا ہوں کیا مستعمل اور اس کا مثل پانی اُس پانی میں داخل ہیں جن کی طرف لفظِ ماء بولتے ہی ذہن فوری طور پر منتقل ہوجاتا ہے یا نہیں، دوسری صورت میں دونوں قیدیں ضائع ہوجائیں گی، اور دو قیدوں کی زیادتی پر ان دونوں کے خروج کی تفریع ساقط ہوجائے گی، اور برتقدیر اول اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دونوں مطلق پانی سے ہیں کیونکہ مطلق سے یہی مراد ہے اور اُن سے قبل ائمہ نے اسی پر اکتفا کیابلکہ انہوں نے خود ہی ایک ورق بعد فرمایا ہماری مراد مطلق سے وہ پانی ہے کہ جب پانی کا لفظ بولا جائے تو اسی کی طرف ذہن متبادر ہو اھ ۔
(۲؎ بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۶۸)
وھذہ مناقضۃ بل(۱) فی نفس الکلام ایضا شوب منھااذیقول فخرج المقید والمتنجس والمستعمل ولذا قال ش ظاھرہ ان المتنجس والمستعمل غیر مقید مع(عـہ۱)انہ منہ لکن عند العالم بالنجاسۃ اوالاستعمال ولذا قید بعض العلماء التبادر بقولہ بالنسبۃ للعالم بحالہ ۱؎ اھ
اور یہ مناقضہ ہے بلکہ نفس کلام میں اس کی ملاوٹ ہے،وہ فرماتے ہیں تو مقید، متنجس اور مستعمل اس سے نکل گئے اور اس لئے ''ش'' نے فرمایا کہ اس کا ظاہر یہ ہے کہ متنجس اور مستعمل غیر مقید ہے حالانکہ یہ مقید سے ہے، مگر اس کے نزدیک جس کو نجاست یا استعمال کا علم ہو،اس لئے بعض علماء نے متبادر میں بالنسبۃ للعالم بحالہ کی قید بڑھائی ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ /۱۳۴)
(عـہ۱) ای المذکور اوکل منھما ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)یعنی مذکور یا ان دونوں میں سے ہر ایک ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
اقول: رحمک(۲) اللّٰہ اذا کان ھذا عارضا خفیا لایظھر لمن لم یعلم بحالہ الا بالاخبار من خارج ظھران الماء فیھماباق علی صرافۃ مائیتہ لم یعرضہ مایخرجہ عنھاوالالظھر لمن نظر وسیرفان الانسان فی معرفۃ الماء من غیرہ لایحتاج الی تعلیم من خارج فکیف یکون مقیدا وبالجملۃ ھذا شیئ تفرد بہ البحر لم ارہ(عـہ۲) لغیرہ وتبعہ(عـہ۳) علیہ ش وکذا محشی الدرر عبدالحلیم والخادمی وذلک حین قول الدرر زوال اطلاقہ اما بکمال الامتزاج اوبغلبۃ الممتزج قالا علیہ اورد علی الحصر الماء المستعمل واجاب الاول بان کلام المصنف فی زوالہ باختلاط المحسوس ۱؎ اھ۔
میں کہتا ہوں جب یہ چیز ایسی مخفی ہے کہ صرف واقف حال ہی جان سکتا ہے یا خارج سے اطلاع پر معمول ہوسکتی ہے تو یہ ظاہر ہوا کہ پانی اُن دونوں میں اپنے اطلاق پر باقی ہے اس کو کوئی ایسی چیز عارض نہ ہوئی جو اُس کو پانی ہونے سے خارج کردے ورنہ ہر صاحبِ نظر کو ظاہر ہوجاتا، کیونکہ پانی کے بارے میں جاننے کیلئے انسان کو باہر سے جاننے کی ضرورت نہیں، تو یہ کیسے مقید ہوگا؟ خلاصہ یہ کہ یہ ایسی چیز ہے جس میں بحر متفرد ہیں میں نے اور کسی کے کلام میں اس کو نہیں دیکھا اور انکی متابعت ش نے کی اسی طرح درر کے محشی عبدالحلیم اور خادمی نے کی، صاحبِ درر فرماتے ہیں اس کے اطلاق کا زوال یا تو کمالِ امتزاج سے ہوگا یا ممتزج کے غلبہ سے ہوگا، اس پر ان دونوں نے اعتراض کیا ہے کہ حصر اعتراض مستعمل پانی سے کیا گیا ہے، اور پہلے نے جواب دیا کہ مصنف کا کلام اُس کے زوال میں ہے کسی محسوس چیز کے اختلاط کی وجہ سے اھ (ت)
(عـہ۲) ثم رأیت السید الشریف العلامۃ رحمہ اللّٰہ تعالی سبقہ الیہ فی التعریفات کما سیاتی ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
پھر میں نے دیکھا کہ سید شریف نے التعریفات میں بھی یہی لکھا ہے، جیسا کہ آئے گا، ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(عـہ۳) وکذا تلمیذہ شیخ الاسلام الغزی فی المنح واقرہ علیہ ط فصار واسبعۃالسید والبحر والغزی وعبدالحلیم والخادمی و ط و ش رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیھم وعلینااجمعین قال علامۃ ط علی قول الدرھومایتبادرعندالاطلاق ای یبدر للذھن فھمہ بمجرد سماعہ مطلقاوھو بمعنی قول المنح ھو الباقی علی اوصاف خلقتہ ولم یخالطہ نجاسۃ ولم یغلب علیہ شیئ اھ ولفظ السید فی التعریفات ھو الماء الذی بقی علی اصل خلقتہ ولم تخالطہ نجاسۃ ولم یغلب علیہ شیئ طاھر اھ۔
اور اسی طرح اُن کے شاگرد شیخ الاسلام غَزّی نے منح میں ذکر کیا اور اس کو ط نے برقرار رکھا تو یہ سات ہوگئے، سید، بحر، غزی، عبدالحلیم، خادمی، ط اور ش رحمہم اللہ تعالٰی علیہم وعلینا اجمعین، علّامہ 'ط' نے در کے قول پر فرمایا،وہ عندالاطلاق متبادر ہوتا ہے،یعنی ذہن کی طرف فہم سبقت کرتا ہے محض سننے سے مطلقا،اور یہ منح کے قول ''وہی باقی ہے اپنے خلقی اوصاف پر اور اس میں کوئی نجاست نہیں ملی ہے اور اس پر کوئی شے غالب نہیں ہوئی ہے اھ کے مطابق ہے،اور سید کے لفظ التعریفات میں یہ ہیں یہ وہی پانی ہے جو اپنی اصلی خلقت پر باقی ہے اور اس کو کوئی نجاست نہیں ملی ہے اور اس پر کوئی پاک شے غالب نہیں ہوئی ہے اھ
اقول وھواحسن ممافی المنح بوجھین احدھما(۱)انہ قیدالشیئ بالطاھرفلم یصرقولہ لم تخالطہ نجاسۃ مستدرکابخلاف عبارۃ المنح فان ماخالطہ نجاسۃ فقدغلبہ شیئ والاٰخرانہ اتی(۲)بالاصل مکان الاوصاف فلا یردعلیہ الجمد(۳)بخلاف المنح فان الماء بانجمادہ لایتغیر اللون ولا طعم ولا رائحۃ وھی المتبادرۃ من ذکرالاوصاف والمعتبر فی التعریف ھو المتبادروظاھرانہ لم یخالطہ نجس ولا غلبہ شیئ الا ان یعمم الاوصاف الرقۃ والسیلان ولوان السیداسقط قولہ لم تخالطہ نجاسۃ لم یخالطہ نکارۃ وکان من احسن التعریفات الا مافی معنی الغلبۃ من الخفاء کما لایخفی ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
میں کہتا ہوں یہ منح کی عبارت سے دو طرح اچھاہے ایک تو یہ کہ انہوں نے شیئ کو طاہر سے مقید کیا تو ان کا قول ''نہیں ملی اس سے نجاست'' زائد نہ ہوگابخلاف عبارت منح کے،کیونکہ جس میں نجاست ملی توبلاشبہ اس پر کوئی چیز غالب ہوگئی، اور دوسرے یہ کہ وہ اصل کو لائے بجائے اوصاف کے تو ان پر جمد کے ذریعہ اعتراض وارد نہ ہوگا بخلاف منح کے کہ پانی منجمد ہونے کے باعث نہ تو رنگ کو بدلتا ہے اور نہ مزے اور بو کو اور اوصاف کے ذکر سے متبادر یہی ہے اور تعریف میں متبادر ہی معتبر ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ کوئی نجس اس سے ملا نہیں اور کوئی شیئ اس پر غالب نہ ہُوئی، ہاں اگر اوصاف کو عام کر لیا جائے اور رقۃ وسیلان کو اس میں شامل کرلیا جائے،اور اگر سید اپنا قول لم تخالطہ نجاسۃ ساقط کردیتے توان پر کوئی اعتراض نہ ہوتا،اور یہ بہترین تعریف ہوتی،ہاں صرف غلبہ کے معنی میں کچھ پوشیدگی ہے، کما لایخفی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(۱؎ حاشیۃ الدرر علی الغرر لعبد الحلیم بحث الماء مکتبہ عثمانیہ بیروت ۱/۱۸)