Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
170 - 176
ششم مطلق(عـہ۱)وہ ہے جسے دیکھنے والا دیکھ کر پانی کہے خزانۃ المفتین میں شرح طحاوی سے ہے:

المطلق مااذانظرالناظر الیہ سماہ ماء علی الاطلاق ۱؎ اھ اقول رب(۱)ماء لایدرک البصر تقییدہ ولااطلاقہ کالمخلوط بمائع موافق فی اللون یتوقف الامر فیہ علی غلبۃ الطعم اوالاجزاء وماالقی(۲)فیہ تمراوزبیب یتوقف علی صیرورتہ نبیذ اولا یضر مجرد اللون وما خلط بعصفراوزعفران یتوقف علی صلوحہ للصبغ وشیئ من ذلک لایدرک بالبصر فلایصح جمعاولامنعا۔
مطلق وہ ہے کہ جب دیکھنے والا اس کو دیکھے تو اس کو مطلق پانی کا نام دے اھ میں کہتا ہوں بہت سے پانی ایسے ہیں کہ نگاہ سے نہ تو ان کا مقید ہونا معلوم ہوتا ہے اور نہ مطلق ہونا جیسے وہ پانی جو کسی سیال میں مخلوط ہو اور دونوں ہم رنگ ہوں، اس میں دارومدار مزے اور اجزاء کے غلبہ پر ہوگا، اور جس میں کھجور اور منقٰی ڈالا جائے اس میں دارومدار اسی کے نبیذ ہونے پر ہوگا، محض رنگ مضر نہیں، اور جو عُصفر اور زعفران میں ملایا جائے تو اس میں یہ دیکھا جائیگا کہ آیا اس سے کوئی دوسری چیز رنگی جاسکتی ہے یا نہیں، اور ان میں سے کوئی چیز آنکھ سے معلوم نہیں ہوسکتی، تو یہ جمع ومنع کے اعتبار سے صحیح نہیں۔ (ت)
(عـہ۱)ویشیر الیہ قول البنایۃ فی ماتغیربالطبخ لان الناظر لونطر الیہ لایسمیہ ماء مطلقا اھ ۱۲ منہ غفرلہ (م)

بنایہ کا قول اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے اس کے بارہ میں جو پکانے سے متغیر ہوجائے کیونکہ اگر دیکھنے والا اس کی طرف دیکھے تو اسے مطلق پانی نہیں کہے گا اھ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
 (۱؎ خزانۃ المفتین)
ہفتم مطلق وہ ہے جسے بے کسی قید کے بڑھائے پانی کہہ سکیں فتح القدیر میں ہے: الخلاف فی ماء خالطہ زعفران ونحوہ مبنی علی انہ تقیید بذلک اولا فقال الشافعی وغیرہ تقید لانہ یقال ماء الزعفران ونحن لاننکرانہ یقال ذلک ولکن لایمتنع مع ذلک مادام المخالط مغلوبا ان یقول القائل فیہ ھذا ماء من غیر زیادۃ ۲؎ اھ۔
جس پانی میں زعفران یا اسی کے مثل کوئی چیز مل جائے اس میں اختلاف اس امر پر مبنی ہے کہ وہ اس کے ساتھ مقید ہوا یا نہیں، امام شافعی وغیرہ فرماتے ہیں مقید ہوگیا، کیونکہ اس کو زعفران کا پانی کہا جاتا ہے اور ہم اس کے منکر نہیں کہ اس کو ماء زعفران کہا جاتا ہے، لیکن جب تک مخلوط پانی ہونے والی چیز پانی سے مغلوب ہو یہی کہا جائیگا کہ یہ پانی ہے، اس میں کچھ اضافہ نہیں اھ (ت)
 (۲؎ فتح القدیر     باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالایجوز بہ    مطبع نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۶۳)
اقول لاشک ان الماء المقید قسم من الماء وحمل المقسم علی القسم لایمتنع ابدا واین عدم التقیید من التقیید بعدم التقیید والکلام فی ھذالا ذاک والجواب انہ ماء لغۃ لاعرفالصحۃ النفی تقول لیس ماء بل صبغ والکلام فی العرف۔
میں کہتا ہوں مقید پانی، پانی ہی کی ایک قسم ہے اور مقسم کو قسم پر حمل کرنا ہرگز ممنوع نہیں اور عدم تقیید کو تقیید بعدم التقیید سے کیا نسبت؟ اور گفتگو اس میں ہے نہ کہ اُس میں۔ اور جواب یہ ہے کہ وہ لغہً پانی ہے نہ کہ عرفاً، کیونکہ نفی صحیح ہے، آپ کہہ سکتے ہیں یہ پانی نہیں ہے بلکہ رنگ ہے اور کلام کا دارومدار عرف پر ہوتا ہے۔ (ت)
ہشتم مطلق وہ ہے جس سے پانی کی نفی نہ ہوسکے یعنی نہ کہہ سکیں کہ یہ پانی نہیں۔
اقول وھذا معنی سابقہ غیران صحۃ الاطلاق وامتناع النفی قدیتفارقان فیما کان ذاجہتین یصح فیہ الحمل من وجہ والسلب من وجہ اٰخر۔
میں کہتا ہوں یہ گزشتہ معنی ہیں،البتہ صحتِ اطلاق اور امتناع نفی، جب دو جہت والے ہوں تو کبھی ایک دوسرے سے جُدا ہوتے ہیں من وجہ حمل اور من وجہ سلب صحیح ہوتا ہے۔ (ت)
تبیین الحقائق میں ہے: اضافۃ الی الزعفران للتعریف بخلاف ماء البطیخ ولھذاینفی اسم الماء عنہ ولایجوزنفیہ عن الاول ۱؎ اھ
 (۱؎ تبیین الحقائق    کتاب الطہارۃ    مطبع الامیریہ ببولاق مصر    ۱/۲۱)
پانی کی اضافت زعفران کی طرف تعریف کیلئے ہے بخلاف ''ماء البطیخ''کے اس لئے اس سے پانی کے نام کی نفی کی جاتی ہے اور پہلے سے اس کی نفی جائز نہیں ہے اھ۔(ت)
اقول: ان ارید نفی الماء المطلق داراومطلق الماء فلایجوز نفی المقسم عن القسم قط والماء الذی یخرج من البطیخ لیس من جنس الماء فالحق انہ لیس ماء مقیدابل خارج من مطلقہ کالادھان والجواب الجواب۔
میں کہتا ہوں اگر ماءِ مطلق کی نفی کا ارادہ کیا جائے تو دور لازم آئے گا یا مطلقِ ماء کی نفی کی جائے تو مقسم کی نفی قسم سے قطعاً جائز نہیں اور وہ پانی جو بطیخ سے نکلتا ہے جنس ماء سے نہیں ہے تو حق یہ ہے کہ وہ مقید پانی نہیں ہے بلکہ مطلقِ ماء سے خارج ہے جیسے تیل والجواب الجواب۔ (ت)

نہم: مطلق وہ جس سے پانی کا نام زائل نہ ہو،
وھو معنی سابقہ واشیرالیہ فی کثیر من الکتب ففی التبیین زوال اسم الماء عنہ ھو المعتبر فی الباب ۱؎ اھ وفی الھدایۃ والکافی الا ان یغلب ذلک علی الماء فیصیر کالسویق لزوال اسم الماء عنہ ۲؎ اھ افی المنیۃ عن شرح القدوری للاقطع اذا اختلط الطاھر بالماء ولم یزل اسم الماء عنہ فھو طاھر وطھور ۳؎ اھ۔
یہ اس کے سابقہ معنے ہیں، اس کی طرف بہت سی کتب میں اشارہ کیا گیا ہے،تبیین میں ہے اس سے پانی کے نام کا زائل ہونا ہی معتبر ہے اھ اور ہدایہ اور کافی میں ہے مگر یہ کہ وہ پانی پر غالب ہو تو ستّو کی طرح ہوجائے،کیونکہ اس سے پانی کا نام زائل ہوگیا اھ اور منیہ میں ابو نصرا قطع کی شرح قدوری سے ہے کہ جب پاک چیز پانی میں مل جائے اور اس سے پانی کا نام زائل نہ ہو تو وہ طاہر بھی ہے طہور بھی ہے اھ (ت)
 (۱؎ تبیین الحقائق    کتاب الطہارت    مطبعۃ الامیریہ مصر   ۱/۱۹)

(۲؎ ہدایۃ        الماء الذی یجوزبہ الوضو الخ    مطبعہ عربیہ کراچی    ۱/۱۸)

(۳؎ منیۃ المصلی    فی المیاہ        مطبعہ یوسفی لکھنؤ    ص۶۴)
اقول ھذا حق فی نفسہ لکن لایصلح تعریفا اذلو ارید بالماء الماء المطلق دارو الافلا زوال عن المقید ایضا اصلا کما علمت مع جوابہ وفسرہ فی الغنیۃ مرۃ بالسادس اذقال تحت قول الماتن اذالم یزل عنہ اسم الماء مانصہ بحیث لوراٰہ الرائی یطلق علیہ اسم الماء ۴؎ اھ
میں کہتا ہوں یہ فی نفسہ حق ہے لیکن یہ تعریف نہیں بن سکتا ہے کیونکہ اگر پانی سے مطلق پانی کا ارادہ کیا جائے تو دور لازم آئے گا ورنہ مقید سے بھی زوال نہ ہوگا جیسا کہ آپ نے مع جواب کے جانا،اور اس کی تفسیر غنیہ میں ایک جگہ ''چھٹے'' سے کی کیونکہ انہوں نے ماتن کے قول کہ جب اس سے پانی کا نام زائل نہ ہوا،کے تحت فرمایا کہ اگر دیکھنے والا اس کو دیکھے تو اس پر پانی کا نام بولے اھ (ت)
 (۴؎ غنیۃ المستملی             فی المیاہ  سہیل اکیڈمی لاہور    ص۹۰)
اقول: وقد(۱)علمت فسادہ ومرۃ زاد فیہ الخامس اذقال تحت قول الاقطع ولم یتجددلہ اسم اٰخربان سمی شرابااونبیذا اونحو ذلک ۱؎ اھ اقول ان عطفہ(۱) تفسیرافموقوف علی ثبوت ان کل مازال عنہ اسم الماء وجب ان یوضع بازائہ اسم اٰخر اوان اراد الزیادۃ کان المعنی ان الاطلاق یتوقف علی اجتماع العدمین فان وجد احدھماکأن زال عنہ اسم الماء ولم یتجدد اسم اٰخر اوتجدد اسم اٰخر ولم یزل اسم الماء کان مقیدا وھذا الثانی باطل کما فی الحمیم۔
میں کہتا ہوں اس   کا فساد آپ کو معلوم ہوچکا ہے اور کبھی اس میں پانچویں کو زیادہ کیا کیونکہ انہوں نے اقطع کے قول کے تحت فرمایا اس کا کوئی نیا نام نہیں پڑا مثلاً یہ کہ شربت یا نبیذ وغیرہ کہا جائے اھ میں کہتا ہوں اس کا عطف تفسیری ہے اور اس امر پر موقوف ہے کہ ہر وہ چیز جس سے پانی کا نام زائل ہوا ہو لازم ہے کہ اُس کے بالمقابل کوئی اور نام وضع کیا جائے اور اگر زیادتی کا ارادہ کیا تو معنٰی یہ ہوں گے کہ اطلاق موقوف ہے دو عدموں کے اجتماع پر تو اگر ان میں سے کوئی ایک پا یا جائے مثلاً یہ کہ اس سے پانی کا نام زائل ہوجائے اور اس کا کوئی نیا نام نہ پڑے یا نیا نام پڑ جائے مگر پانی کا نام زائل نہ ہو تو مقید ہوجائیگا اور یہ دوسری شق باطل ہے جیسا کہ گرم پانی میں۔(ت)
 (۱؎ غنیۃ المستملی        فی المیاہ    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۹۰    )
Flag Counter