Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
169 - 176
اقول: انما یظن ماھو اکثر والاکثریۃ فی استلزام وجود ا لوجودب لاتستلزم اکثریۃ استلزام انتفاء ب لانتفاء ا ففی مثلہ انما یظن بوجوداللازم عند تحقق الملزوم لابانتفاء الملزوم عند انتفاء اللازم۔
میں کہتا ہوں جو اکثر ہو اسی کا ظن ہوتا ہے ا کے وجود کی اکثریت کا ب کے وجود کی اکثریت کو مستلزم ہونا ا کے انتفاء کی وجہ سے ب کے انتفاء کے استلزام کی اکثریت کو مستلزم نہیں ہے تو اس جیسی صورت میں ملزوم کے وجود کے تحقق کے وقت لازم کے وجود کا ظن ہوتا ہے نہ کہ انتفاء ملزوم بوقت انتفاء لازم کے۔(ت)
وثالثا ماالفارق(۱)بین ماء الباقلاء وماء الزعفران حتی کان ھذامشتبھا فالحق بالغالب وذاک متعینافلم یلحق واما السؤال(عـہ) فلان ماء الباقلاء اسم جدیدغیر اسم الماء وکون اسم الماء جزء منہ لاینافی الجدۃ الاتری انہ لایصلح ان یقال لہ ماء لکونہ ثخیناوالماء رقیق بخلاف ماء الزعفران فان المرادبہ مالم یثخن وھذابالوفاق بل مالم یصلح للصبغ وھذاعندالتحقیق کما تقدم فی ۱۲۰ھذا ماظھرلی ثم رأیت المحقق ابن امیر الحاج اشارالیہ فی الحلیۃ اذ قال ذات ماء الورد مثلا لاتعرف من مجرد قول القائل ماء حتی یضیفہ الی الورد ولھذا کانت الاضافۃ لازمۃ لکونھااضافۃ الی مالا بدمنہ وبواسطۃ ھذا اللزوم حدث لہ اسم آخرعلٰحدۃ فلا تسوغ تسمیتہ ماء علی الاطلاق الا علی سبیل المجاز اھ واللّٰہ الموفق لارب سواہ۔
ثالثا، یا فرق ہے باقلٰی کے پانی اور زعفران کے پانی میں، کہ اس کو مشتبہ قرار دیا جائے،اور غالب سے لاحق کیا جائے اور وہ متعین ہے تو لاحق نہ کیا جائے گا باقی رہا سوال تو باقلاء کا پانی نیا نام ہے، پانی کے نام کا غیر ہے اور پانی کا اس کے نام کا جُزئ ہونا جِدّت کے منافی نہیں،اس لئے اس کو پانی نہیں کہا جاسکتا ہے کیونکہ وہ گاڑھا ہے اور پانی پتلا ہوتا ہے بخلاف زعفران کے پانی کے، کیونکہ اس سے مراد وہ ہے جو گاڑھا نہ ہوا ہو،اور یہ اتفاقاً ہے، بلکہ جب تک رنگنے کے لائق نہ ہو، اور یہ تحقیق کی بنا پر ہے جیسا کہ پانی کی تقسیم ۱۲۰ میں گزرا یہ مجھ پر ظاہر ہوا پھر میں نے محقق ابن امیر الحاج کو دیکھا کہ انہوں نے اس کی طرف حلیہ میں اشارہ فرمایا، وہ فرماتے ہیں گلاب کے پانی کی ذات مثلاً کسی قائل کے صرف اس قول سے معلوم نہیں ہوتی ہے کہ ''پانی'' جب تک کہ وہ اسے گلاب کی طرف مضاف نہ کرے، اس لئے اضافت لازم ہوئی کیونکہ یہ ایسی چیز کی طرف اضافت ہے جس کی طرف اضافت ضروری ہے اور اس لزوم کے واسطہ سے اس کا الگ نام پڑگیا، تو اس کو مطلقاً پانی کہنا درست نہ ہوگا، ہاں مجازاً کہا جاسکتا ہے ا ھ واللہ الموفق (ت)
 (عـہ)ثم رأیت اجاب عنہ فی البنایۃ بان المضاف ھھناخارج من المضاف الیہ بالعلاج فلایجوز وان لم یتجدد لہ اسم اھ 

پھر میں نے دیکھا کہ انہوں نے بنایہ میں اس کا جواب دیا کہ یہاں مضاف، مضاف الیہ سے خارج ہے علاج کی وجہ سے تو جائز نہیں اگرچہ اس کا نیا نام نہ ہو اھ
اقول: تسلیمہ(۲)عدم تجدد الاسم قدعرفت مافیہ وماقالہ مبنی علی ماذکرہ فی تعریف اضافۃ التقیید وسیاتی(۳) مافیہ، بعونہ تعالی وعلٰی کل فقد سلم ان التعریف بتجدد الاسم غیر جامع ثم قال وقال تاج الشریعۃ الدلیل یقتضی الجواز ولکن الطبخ والخلط یثبتان نقصانا فی کونہ مائعا اھ۔
میں کہتا ہوں نام کے نیا نہ ہونے کا تسلیم کرنا، اس پر جو اعتراض ہے وہ آپ نے جان لیا، اور جو انہوں نے کہا ہے وہ اس چیز پر مبنی ہے جس کو انہوں نے اضافت تقیید کی تعریف میں ذکر کیا ہے،اور یہ عنقریب آئے گا اور بہرحال یہ تعریف کہ نام نیا ہوجائے جامع نہیں اس کو انہوں نے تسلیم کیا ہے پھر کہا کہ تاج الشریعۃ نے فرمایا دلیل جواز کا تقاضا کرتی ہیلیکن پکانا اور مل جانا پانی کے مائع ہونے میں خلل پیدا کرتے ہیں اھ
اقول: ھذا یوافق ماذکر الحقیر حیث اشار الی ان المنع لاجل الثخن ۱۲ منہ غفرلہ (م)
میں کہتا ہوں یہ اس کے مطابق ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے کہ منع گاڑھے ہونے کی وجہ سے ہے ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
ثم اقول: ان تحقق(عـہ۱)ان من(۱)المیاہ المقیدۃ مالا یتجددلہ اسم فی العرف لعدم تعلق الغرض بہ مثلا انمایزول عنہ اسم الماء المطلق کان ذلک نقضا علی المنع کما کان الحمیم نقضاعلی الجمع ویکون(۱) ھذااظھر(عـہ)وروداعلی الفتح اذقال فیہ فی بیان التقیید ھوبان یحدث لہ اسم علیحدۃ ولزوم التقیید یندرج فیہ وانما یکون ذلک اذا کان الماء مغلوبااذفی اطلاقہ علی المجموع حینئذ اعتبارالغالب عدماوھوعکس الثابت لغۃ وعرفا وشرعا اھ۔
پھر میں کہتا ہوں اگر یہ ثابت ہوجائے کہ بعض مقیدپانی ایسے ہیں جن کیلئے کوئی نیا نام عرف میں مقرر نہیں ہوا ہے،کیونکہ اس سے کوئی غرض متعلق نہیں، مثال کے طور پر،اس سے مطلق پانی کا نام زائل ہوگا تو یہ نقض ہوگا منع پر،جیسا کہ حمیم نقض ہوگا جمع پر اور یہ فتح پر ورود زیادہ ظاہر ہوگا کیونکہ انہوں نے بیانِ تقیید میں فرمایا، تقیید یہ ہے کہ اس کا نیانام پڑ جائے،اور لزوم تقیید اسی میں شامل ہے،اور یہ اس وقت ہوگاجبکہ پانی مغلوب ہو کیونکہ اس کے مجموعہ پر اطلاق ہونے میں اس وقت غالب کا اعتبار ہوگا عدمی طور پر اور یہ لغت سے ثابت شدہ کا اور عرف وشرع سے ثابت شدہ کا برعکس ہے اھ۔ (ت)
 (عـہ۱) قالہ لانہ یتصور علی قول محمد اما علی قول ابی یوسف الصحیح علی مایاتی من العبد الضعیف تحقیقہ ان شاء اللّٰہ تعالٰی بعد تمام سردالتعریفات فلا یتقید الا اذا صلح المقصود اٰخر فح یسمی باسم مایقصد بہ ذلک المقصود تأمل ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)

یہ بات انہوں نے اس لئے کہی ہے کہ یہ محمد کے قول پر متصور ہے لیکن ابو یوسف کے قول پر، جیسا کہ ہم تحقیق سے پیش کرینگے، تو یہ مقید نہ ہوگا مگر جبکہ مقصود آخر کیلئے صالح ہو، تو اس وقت اس کا نام وہی ہوگا جو اُس کا مقصود ہے، غور کرو ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

(عـہ)فان حصر التقیید فی حدوث الاسم فی الفتح منطوق وعن الھدایۃ مفھوم ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)

فتح میں تقیید کا نام کے نئے ہونے میں منحصر ہونا منطوق ہے، اور ہدایہ سے مفہوم ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول انما(۲)الثابت بہ انہ کلما تجدد الاسم کان الماء مغلوبا اما فی جھت العکس فانما ثبت انہ کلما کان الماء مغلوبا لم یصح اطلاق الماء المطلق علیہ لا انہ یحدث لہ اسم برأسہ ولابد فحصر التقیید فی حدوث الاسم محل نظر واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں اس سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی اس کا نیا نام ہوگا تو پانی مغلوب ہوگا، اور اس کے عکس میں یہ چیز ثابت شدہ ہے کہ جب بھی پانی مغلوب ہوگا تو اس پر مطلق پانی کا اطلاق صحیح نہ ہوگا یہ نہیں کہ اُس کے لئے کوئی نیا نام وضع کرلیا جائے گا، اور یہ ضروری ہے، تو تقیید کو نئے نام پڑ جانے میں منحصر کردینا محلِ نظر ہے واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
Flag Counter