Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
168 - 176
اقول: ظاھرہ(۱)منتقض بالحمیم فقدحدث لہ اسم لم یکن فان قلت اسم الماء باق علیہ فالمراد ماتجدد لہ اسم مع انتفاء اسم الماء الاتری الٰی قولہ ان اسم الماء باق علی الاطلاق اقول اولا قولہ قدس سرہ لم یتجدد لہ مفصول عماقبلہ الا تری الی قولہ الا تری فقدجعلہ دلیلا علی بقاء الاسم لاان بقاء الاسم ماخوذ فیہ وثانیا بقاء الاسم علی الاطلاق کاف علی الاطلاق لایحتاج بعدہ الٰی عدم حدوث ولا یضرمعہ الف حدوث فضمہ الیہ یجعلہ لغوا۔ ھذااوردہ الفاضل عصام فی حاشیۃ بانہ منقوض بماء الباقلاء حیث لم یتجددلہ اسم ولم یبق ماء مطلقاثم قال والجواب ان المراد ھو الاستلزام الاکثری فان الغالب فی المقید تجدد الاسم کالخبز(عـہ۱)والمرقۃ والصبغ ونحو ذلک بخلاف المطلق وھذاالقدرکاف فی غرضنااذالاولی فی الفرد(عـہ۲)الذی یشتبہ حالہ ان یلحق بالاکثر الاغلب ۱؎ اھ وتعقبہ العلامۃ سعدی افندی بقولہ لک ان تمنع الاکثریۃ الاتری الٰی ماء الورد وماء الھندباء وماء الخلاف واشباھھا ۲؎ اھ
میں کہتا ہوں بظاہر اس پر گرم پانی کااعتراض وارد ہوتاہے کیونکہ اس پر ایک ایسانام بولاجارہاہے جو پہلے نہ تھا۔اگریہ کہا جائے کہ اس میں بھی پانی کا نام باقی ہے، تو مراد یہ ہے کہ جس کا نیا نام پڑ گیا ہو اور پانی کا نام ختم ہوگیا ہو، چنانچہ انہوں نے فرمایا ''پانی کا نام علی الاطلاق باقی ہے۔ میں کہتا ہوں اوّل تو ان کا قول ''لم یتجددلہ'' ماقبل سے منفصل اور الگ ہے چنانچہ انہوں نے فرمایا ہے ''الاتری'' تو اس کو انہوں نے نام کے باقی رہنے پر دلیل بنایا ہے یہ نہیں کہ نام کا باقی رہنا اس میں ماخوذ ہے، ثانیا نام کا علی الاطلاق باقی رہنا اطلاق کے لئے کافی ہے اس کے بعد وہ عدم حدوث کا محتاج نہیں اور اس کے ہوتے ہوئے ہزار حدوث بھی مضر نہیں، تو اِس کا اُس کے ساتھ ملادینا اس کو لغو قرار دیگا۔ یہ عصام نے اپنے حاشیہ میں لکھا کہ اس پر باقلاء کے پانی سے اعتراض وارد ہوگا اس لئے کہ اس کا کوئی نام نیا نہیں پیدا ہوا اور مطلق پانی بھی نہ رہا پھر فرمایا اس کا جواب یہ ہے کہ مراد استلزام اکثری ہے، کیونکہ مقید میں عام طور پر نام نیا ہوجاتاہے،جیسے روٹی، شوربہ اور رنگ وغیرہ بخلاف مطلق کے،اتنی مقدار ہماری غرض میں کافی ہے،کیونکہ اولٰی اُس فردمیں جس کاحال مشتبہ ہویہ ہے کہ اس کواکثرواغلب سے لاحق کیا جائے اھ اس پر علامہ سعدی آفندی نے تعاقب کیا،اور فرمایا اس میں اکثریت کے وجود کاانکار کیا جاسکتا ہے،جیسے گلاب کا پانی، کاسنی کا پانی، اور بید کا پانی اور اسی طرح دوسری اشیا کا پانی اھ (ت)
 (عـہ۱) اقول من العجب عدالخبر من المیاہ المقیدۃ۔ (م)

میں کہتا ہوں بڑے تعجب کی بات ہے کہ روٹی کو مقید پانیوں میں شمار کیا ہے۔ (ت)

(عـہ۲) ای فیلحق ماء الزعفران بالماء المطلق وماء الباقلاء لتبین حالہ بالمقید وان لم یتجددلہ ایضا اسم اذلا تدع ان کل لامتجدد مطلق ۱۲ منہ غفرلہ۔

یعنی زعفران کے پانی کو مطلق پانی اور باقلٰی کے پانی سے ملحق کیاجائیگاتاکہ اس کاحال مقید سے جدا ہوجائے،اگرچہ اس کا بھی کوئی نیا نام نہیں پڑاہے کیونکہ ہمارایہ دعوٰی نہیں ہے کہ ہر وہ پانی جس کانیا نام نہ ہو وہ مطلق ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)؂
 (۱؎ حاشیۃ سعدی چلپی مع الفتح القدیر        نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۶۳)

(۲؎  اشیۃ سعدی چلپی مع الفتح القدیر        نوریہ رضویہ سکھر ۱/۶۴)
اقول: السؤال والجواب والتعقب کل ذلک نداء من وراء حجاب اما(۱)التعقب فلان کثرۃ مایقال لہ ماء کذا لاتنفی اکثریۃ ماتجددت لہ الاسماء وھی معلومۃ قطعابلا امتراء واما الجواب فاولاحاصل(۲)الجدل ان الامام الشافعی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ استدل علی کونہ ماء مقیدابانہ یقال لہ ماء الزعفران فاحتاج الی التقیید وکل مااحتاج الی التقیید مقید واجاب عنہ الشیخ قدس سرہ بمنع ومعارضۃ اماالمنع فقول واضافتہ الی الزعفران الخ ای لانسلم ان کل اضافۃ للاحتیاج بل ربما یکون لتعریف شیئ وراء الذات کماء البئر والعین واما المعارضۃ فقولہ ان اسم الماء باق الخ فاستدل علی الاطلاق ببقاء اسم الماء المطلق وعلی ببقائہ بانہ لم یتجدد لہ اسم فلا بدمن ضم الکلیۃ القائلۃ ان کل مالم یتجدد لہ اسم فاسم المطلق باق علیہ فنقض المعترض الکلیۃ بماء الباقلاء ونحوہ ولایمسہ الجواب بالاکثریۃ لانتفاء التعدیدوثانیا (۱)اللازم من قولہ الغالب فی المقید تجدد الاسم اکثریۃ الاستلزام للتجدد من جھۃ التقیدای اکثرالمقیدات متجددات والنافع لہ(عـہ)اکثریۃ الاستلزام للاطلاق من جھۃ عدم التجددای اکثر مالم یتجددلہ اسم فھو مطلق لیلحق ھذا الذی لم یتجددلہ اسم بالاکثرالاغلب لکن لایلزم ھذامن ذلک بل یمکن ان یکون اکثر ماتقید تجددولایکون اکثر مالم یتجدد لم یتقید فان القضیۃ الاکثریۃ لایجب ان تنعکس بعکس النقیض کنفسھالجوازان تکون افراد مالم یتجددلہ اسم اقل بکثیر من افراد المقید ویکون اکثرھاداخلا فی المقید فیکون اکثرافرادالمقید متجدداواکثر افراد اللامتجددمقیدامثلا یکون المقید من المیاہ الفاًقدتجددالاسم لثمانمائۃ منھادون مائتین ومالم یتجدد لہ الاسم من المیاہ سواء کان مطلقااومقیداثلثمائۃ مائۃ منھامن الماء المطلق والباقی من المقید فیصدق ان اکثر المقید متجدد ولایصدق ان اکثر اللامتجدد لامقید بل اکثرہ مقید کماعلمت۔
میں کہتا ہوں سوال وجواب اور تعقب یہ سب پردے کو پیچھے پکارنا ہے، تعقب تو اس لئے کہ جن اشیاء کو کہا جاتا ہے کہ ''فلاں چیز کا پانی'' ان کی کثرت، اُن اشیاء کے اکثر ہونے کے منافی نہیں جن کے نام نئے پڑ گئے ہوں اور یہ بلاشبہ معلوم ہیں، اور جواب کی بابت اول تو یہ ہے کہ جھگڑے کا حاصل یہ ہے کہ امام شافعی نے اس کے مقید پانی ہونے پر اس طرح استدلال کیا ہے کہ اس کو زعفران کا پانی کہاجاتا ہے تو اس میں قید کی ضرورت ہوئی اور ہر وہ چیز جس میں قید کی ضرورت ہو مقید ہوتی ہے تو اس کا جواب شیخ قد س سرہ، نے منع اور معارضہ کے ساتھ دیا ہے۔ منع تو اس اعتبار سے، پس ان کا قول واضافتہ الی الزعفران الخ یعنی ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ ہر اضافت احتیاج کیلئے ہے، بلکہ اضافت کبھی کسی شے کی تعریف کیلئے ہوتی ہے، ذات کے علاوہ جیسے کنویں کا پانی چشمے کا پانی، باقی رہا معارضہ تو ان کا قول ان اسم الماء باق الخ تو انہوں نے اطلاق پر مطلع پانی کے نام کے باقی ہونے سے استدلال کیا ہے اور اس کے باقی رہنے پر اس طرح استدلال کیا ہے کہ اس کا کوئی نیا نام نہیں پڑا ہے، تو اس میں یہ قاعدہ کلیہ ملانے کی ضرورت ہے کہ مُردہ پانی جس کا نیا نام نہ پڑا ہو تو مطلق کا نام اس پر باقی ہے تو معترضٍ نے اس کلیہ پر نقض وارد کیا ہے باقلی وغیرہ کے پانی سے، اور اکثریت والے جواب کا اس سے تعلق نہیں ہے کیونکہ اس میں ''تعدیہ'' نہیں پایا جاتا ہے، اور ثانیا، لازم ان کے قول ''مقید میں غالب نام کا تجدد ہے'' سے تجدد من جھۃ التقیید کے استلزام کی اکثریت ہے، یعنی اکثر مقیدات، متجدد ہیں حالانکہ ان کے حق میں نفع بخش اطلاق من جہۃ عدم التجدد کے استلزام کی اکثریت ہے، یعنی اکثر وہ کہ جن کا کوئی نیا نام نہیں پڑا ہے تو وہ مطلق ہے تاکہ یہ جس کا نام نیا نہیں ہے اس کو اکثر واغلب سے لاحق کیا جاسکے، لیکن یہ اُس سے لازم نہیں آتا ہے، بلکہ ممکن ہے کہ جو چیزیں مقید ہیں ان میں سے اکثر کا نیا نام ہوگیا ہو اور اکثر وہ چیزیں جن کا نیا نام نہ ہو متقید نہ ہوئی ہوں، کیونکہ جو قضیہ اکثر یہ ہوتا ہے ضروری نہیں کہ اس کا عکس نقیض اس کے مساوی ہو، اس لئے کہ یہ جائز ہے کہ جن کا نام نیا نہیں ہے ان کے افراد مقید کے افراد سے بہت ہی کم ہوں اور ان کے اکثر مقید میں داخل ہوں تو مقید کے اکثر افراد نئے نام والے ہوجائیں گے اور لامتجدد کے اکثر افراد مقید ہوجائیں گے، مثلاً وہ مقید پانی جس کے لئے ہزار نام ہو، ان میں سے آٹھ سو افراد کا نام بدل گیا ہو، دو سو کا نہ بدلا ہو، اور جن پانیوں کا نام نہ بدلا ہو خواہ وہ مطلق ہوں یا مقید تین سو ہوں، سو ان میں سے مطلق پانی کے اور باقی دو سو مقید پانی کے ہوں تو اب یہ قضیہ تو صادق ہے کہ اکثر مقید متجدد ہے اور یہ صادق نہیں کہ اکثر لامتجدد لامقید ہے،بلکہ اس کا اکثر مقید ہے، جیسا کہ آپ نے جانا۔ (ت)
(عـہ)ای فی توجیہ کلام الامام المصنف قدس سرہ لجعل ماء الزعفران من المیاہ المطلقۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)

یعنی مصنف کے کلام کی توجیہ میں، زعفران کے پانی کو مطلق پانیوں میں شمار کرنے کیلئے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
فان قلت بل نقررھکذا لوکان ھذا مقید التجددلہ اسم بالنظر الی الغالب لکن لم یتجدد لہ اسم فلیس بمقید ظناوالظن یکفی لانہ مشتبہ الحال فیحال علی الغالب والغالب فی المقید التجدد فانتفاء اللازم الاکثری یدل علی انتفاء الملزوم ظناکماان انتفاء اللازم الکلی یدل علی انتفاء الملزوم قطعا وحاصلہ التمسک بغلبۃ التجدد فی المقید من دون حاجۃ الٰی غلبۃ الاطلاق فی اللامتجدد۔
اگر کہا جائے کہ ہم اس کی تقریر اس طرح کرتے ہیں کہ اگر یہ مقید ہوتا تو اس کا کوئی نیا نام ہوتا، غالباً ایسا ہی ہوتا ہے، لیکن چونکہ اس کا نیا نام نہیں ہوا اس لئے وہ ظنی اعتبار سے مقید نہیں اور اس میں ظن کافی ہے کیونکہ اس کا حال مشتبہ ہے تو اس کا دارومدار غالب پر رکھا جائے گا اور غالب مقید میں تجدد ہے، تو لازم اکثری کا انتفاء ملزوم کے انتفاء پر ظنی طور پر دلالت کرتا ہے، جیسا کہ لازم کلی کا انتفاء ملزوم کے انتفاء پر قطعاً دلالت کرتا ہے، اور اس کا حاصل مقید میں غلبہ تجدد سے استدلال ہے، اور لامتجدد میں غلبہ اطلاق کی حاجت نہیں ہے۔ (ت)
Flag Counter