اما لفظا اومعنی ایضا فمنھا صحیح وخلافہ والصحیح منھا حسن واحسن فنذکرھا ومالھا وعلیھا لیتبین المنتجب من المجتنب، فیراعی معیارا فی کل مطلب، واللّٰہ الموفق ماغیرہ رب۔
یا تو لفظاً یا معنیً بھی، ان میں سے کچھ صحیح ہیں اور کچھ اس کے برخلاف صحیح میں سے کچھ حسن اور کچھ احسن ہیں، تو اب ہم انہیں اور ان پر جو ابحاث ہیں انہیں ذکر کرتے ہیں تاکہ صحیح اور غلط ظاہر ہوتا کہ ہر بحث میں معیار کی رعایت کی جاسکے (ت)
اوّل مطلق وہ کہ شے کی نفس ذات پر دلالت کرے کسی صفت سے غرض نہ رکھ نہ نفیا نہ اثباتاً قالہ فی الکفایۃ (یہ تعریف کفایہ میں ہے۔ت) اور مقید وہ کہ ذات کے ساتھ کسی صفت پر بھی دال ہو، عنایہ میں ہے:
ان اللّٰہ تعالی ذکر الماء فی الاٰیۃ مطلقا والمطلق مایتعرض للذات دون الصفات ومطلق الاسم ینطلق علی ھذہ المیاہ ۱؎ اھ ای ماء السماء والاودیۃ والعیون والاٰبار ذکرہ مستدلا علی جواز التوضی بھابقولہ تعالٰی وانزلنا من السماء ماء طھورا۔
اللہ تعالٰی نے آیہ مبارکہ میں پانی کو مطلق ذکر کیا ہے،اور مطلق وہ ہے جس میں صرف ذات کا ذکر ہو صفات کا نہ ہو،اور پانی کا مطلق نام انہی پانیوں پر بولاجاتاہے اھ یعنی آسمان، وادیوں، چشموں اور کنوؤں کے پانیوں پر،اس کاذکروضو کے جواز کے سلسلہ میں کیا ہے فرمانِ الٰہی ہے وانزلنا من السماء ماءً طھوراً۔ (ت)
اقول: ھذا(۱)ھو المطلق الاصولی ولیس مراداھٰنا قطعا فانہ مقسم المقیدات وھذا قسیمھا وھوینطلق علی جمیع المقیدات فیلزم جوازالتوضی بھابل المطلق ھھنا مقید بقید الاطلاق فی مرتبۃ بشرط لاشیئ ای مالم یعرض لہ مایسلب عنہ اسم الماأالمرسل ولاشک ان ھذا متعرض لوصف زائد علی نفس الذات فالمطلق ھھنا قسم من المقید وقسیم لسائرالمقیدات وقد تنبہ لھذاالسیدالعلامۃ الشامی فنبہ علیہ بقولہ واعلم ان الماء المطلق اخص من مطلق ماء لاخذ الاطلاق فیہ قیداولذا صح اخراج المقید بہ واما مطق ماء فمعناہ ای ماء کان فیدخل فیہ المقید المذکور ولایصح ارادتہ ھھنا ۱؎ اھ ووقع فی البحربعدماعرف المطلق بما یاتی والمطلق فی الاصول ھوالمتعرض للذات دون الصفات لابالنفی ولا بالاثبات کماء السماء والعین والبحر ۲؎ اھ فقدکان یفھم بالمقابلۃ انہ لیس مراداھھنا لکن جعل(۱)المیاہ المطلقۃ مثالا صرف الکلام الی الایہام فالاحسن مافی الکافی (عـہ) والبنایۃومجمع الانھر اذاذکروا المطلق الاصولی ثم قالوا وارید ھھنا مایسبق الی الافہام ۱؎ الخ
میں کہتا ہوں یہ اصولی مطلق ہے اور وہ یہاں قطعاً مراد نہیں کیونکہ وہ مقیدات کا مقسم ہے اور یہ اُن کا قسیم ہے اور یہ تمام مقیدات پر جاری ہے تو ان تمام سے وضو کاجوازلازم آتا ہے بلکہ مطلق یہاں بقید اطلاق مقید ہے اور بشرط لاشیئ کے مرتبہ میں ہے، یعنی اس کو جب تک ایسی چیز لاحق نہ ہو جو اس سے مطلق پانی کا نام سلب کرلے، اور اس میں شک نہیں کہ یہ نفس ذات پر ایک زائد وصف کی طرف اشارہ ہے، تو مطلق یہاں مقید کی قسم ہے اور باقی مقیدات کا قسیم ہے علامہ شامی نے اس کو محسوس کرتے ہوئے فرمایا ''جاننا چاہئے کہ ماءِ مطلق مطلق ماء سے اخص ہے کیونکہ اس میں اطلاق کی قید ہے،اس لئے مقید کا اس سے خارج کرنا درست ہے، اور مطلقِ ماء کے معنی ہیں کوئی بھی پانی ہو تو اس میں مذکور مقید بھی داخل ہوگا،اور یہاں اس کا ارادہ صحیح نہیں ہے اھ بحر میں مطلق کی تعریف کے بعد ہے ''مطلق اصول میں معترض ذات کو بیان کرتا ہے نہ کہ صفات کو، نہ نفی سے نہ اثبات سے، جیسے آسمان، چشمہ اور دریان کا پانی اھ مقابلہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہاں مراد نہیں ہے لیکن مطلق پانیوں کی اس کی مثال بنانا کلام میں ایہام پیدا کرنا ہے تو احسن وہی ہے جو کافی، بنایہ اور مجمع الانہر میں ہے، اِنسب نے اصولی مطلق کا ذکر کیا ہے، پھر فرمایا ہے، یہاں وہی مراد جو ذہنوں کی طرف سبقت کرتا ہے الخ (ت)
(۱؎ العنایۃ مع فتح القدیر باب الما الذی یجوزبہ الوضو مالایجوز نوریہ رضویہ سکھر ۱/۶۰)
(عـہ)وفی غایۃ البیان المراد ھنامایفھم بمجرداطلاق اسم الماء والافالمیاہ المذکورۃ لیست بمطلقۃ لتقییدھابصفۃ وفی اصطلاح اھل الاصول ھوالمتعرض للذات دون الصفۃ اھ اقول لاوجود للمطلق فی الاعیان الا فی ضمن للمقید فلاتخصیص للمیاہ والمذکورۃ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
اور غایۃ البیان میں ہے کہ مراد یہاں پر وہ ہے جو محض ماء کے نام کے اطلاق سے سمجھا جاتاہے ورنہ مذکورہ پانی مطلق پانی نہیں کیونکہ یہ پانی کسی صفت سے مقید ہیں،اور اصولیین کے نزدیک مطلق وہ ہے جو صرف ذات کو بتائے نہ کہ صفت کو اھ میں کہتا ہوں مطلق کا وجود اعیان میں نہیں مقید کے ضمن ہی میں ہوتاہے، تو مذکورہ پانیوں میں تخصیص نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۳۲)
(۲؎ بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۶۶)
(۱؎ مجمع الانہر تجوز الطہارۃ بالماء المطلق مطبعہ عامرہ مصر ۱/ ۲۷)
دوم مطلق وہ کہ اپنی تعریف ذات میں دوسری شَے کا محتاج نہ ہو اور مقید وہ کہ جس کی ذات بے ذکر قید نہ پہچانی جائے۔
اس کو مجمع الانہر میں ناپسندیدہ قول کے طور پر بیان کیا ہے فرمایااور کہاجاتاہے کہ مطلق وہ ہے جو اپنی ذات کی تعریف میں کسی دوسری چیز کا محتاج نہیں ہوتا ہے اور مقید وہ ہے جس کی ذات قید کے بغیر نہیں جانی جاتی ہے اھ (ت)
(۲؎ مجمع الانہر تجوز الطہارۃ بالماء المطلق مطبعہ عامرہ مصر ۱/ ۲۷)
اقول: وھوبظاھرہ افسدمن الاول فان شیااماقط لایحتاج فی تعریف ذاتہ الٰی شیئ اٰخرو لکن المقصودانہ الباقی علی طبیعۃ الماء وصرافۃ المائیۃ لم یداخلہ مایخرجہ عن طبعہ اویجعلہ فی العرف مرکبامع غیرہ فیصیرذاتااخری غیر ذات الماء لایطلق علیہ محض اسم الماء ولاتعرف ذاتہ باطلاقہ واوضح منہ قول الغنیۃ ھومایسمی فی العرف ماء من غیر احتیاج الٰی تقیید فی تعریف ذاتہ ۳؎ اھ وھوماخوذ عن الامام حافظ الدین فی المستصفی کما سیاتی ان شاء اللّٰہ تعالٰی۔
میں کہتا ہوں،یہ بظاہر پہلے سے بھی زیادہ غلط ہے کیونکہ کوئی چیز بھی اپنی ذات کی تعریف میں کسی دوسری چیز کی محتاج نہیں ہوتی ہے، لیکن مقصود یہ ہے کہ وہی پانی کی طبیعت پرباقی ہے،اور پانی کی طبیعت میں کوئی ایسی چیز داخل نہیں ہوئی جو اس کو اس کی طبیعت سے خارج کردے یا عرف میں اس کے غیر کے ساتھ مرکب کردے تو وہ پانی کے علاوہ دوسری چیز بن جائے جس پر محض پانی کے نام کا اطلاق نہ ہو،اور اس کے اطلاق سے اس کی ذات نہ پہچانی جائے اور اس سے زیادہ واضح غنیہ کی عبارت ہے کہ وہ،وہ ہے جو عرف میں پانی کہلاتا ہے،اس کی ذات کی تعریف میں کسی تقیید کی حاجت نہ ہو اھ یہ تعریف امام حافظ الدین نے مستصفیٰ میں کی ہے، جیسا آئیگا اِن شاء اللہ تعالٰی۔ (ت)
یہ وہ ہے جو اپنے پیدائشی اوصاف پر باقی ہے، میں کہتا ہوں اگر اوصاف سے محض اوصاف ثلثۃ مراد ہیں، یامع رقت وسیلان کے، تو اس پر چنوں اور باقلٰی کے پانی سے اعتراض ہے، اور اس پانی سے اعتراض ہے جس میں صابون اور اُشنان ملایا گیا ہو، اگرچہ ان دونوں کے ساتھ پکایا گیا ہو، یا جھربیری کے ساتھ پکایا گیا ہو جب تک اس میں رقّت باقی ہو،اور اسی طرح وہ پانی جس میں کھجوریں ڈالی گئی ہوں اور میٹھا ہوگیاہواور نبیذ نہ بناہو کیونکہ اس کے اوصاف میں کُلی یا جزوی تغیر پیدا ہوگیا ہے حالانکہ اس کے ساتھ وضو اتفاقاً جائز ہے اور اسی طرح وہ پانی جو کسی مائع (سیال) سے مل گیاہو جو پانی کے اکثر اوصاف میں اس کے مشابہ ہو یا مساوی ہو حالانکہ اس سے وضو اتفاقاً ناجائز ہے یہ طرداوعکساً منتقض ہوگیا، اور اگر عام کا ارادہ کیا ہو تو نقض وسیع ہوجائیگا تو گرم پانی کی مثل سے بھی نقض وارد ہوگا۔(ت)
(۱؎ طحطاوی علی الدر المختار باب المیاہ بیروت ۱ /۱۰۲)
چہارم مطلق وہ کہ اپنی رقت وسیلان پر باقی ہو شلبیہ علٰی الزیلعی میں ہے: الماء المطلق مابقی علی اصل خلقتہ من الرقۃ والسیلان فلو اختلط بہ طاھرا وجب غلظہ صار مقیدا ۲؎ اھ یحیی اھ
مطلق پانی جب تک ہے کہ اپنی اصل خلقت پر ہو، یعنی اس میں رقّت اور سیلان باقی ہو اور جب اس میں کوئی پاک چیز مل کر اس میں گاڑھا پن پیدا کردے تو وہ مقید ہوجائیگا اھ یحی اھ (ت)
(۲؎ شلبی علی التبیین کتاب الطہارت الامیریہ ببولاق مصر ۱/ ۱۹)
اقول: ھذا(۳) افسدوقد تضمن سابقہ الردعلیہ ویزیدھذاانتقاضابماخلط بکل مائع لایسلبہ رقتہ وان غیر اوصافہ کاللبن والخل والعصیر ونحو ذلک۔
میں کہتا ہوں یہ اور بھی زائد فاسد ہے،اور گزشتہ بحث میں اس پر رد ہوچکا ہے اور اس پر یوں بھی اعتراض وارد ہوتاہے اُس کے ساتھ کہ اس میں کوئی ایسی مائع شے شامل ہوجائے جو اس کی رقت کو ختم نہ کرے خواہ اُس کے دوسرے اوصاف میں تغیر پیدا کردے،جیسے دودھ، سرکہ، عرق وغیرہ۔(ت)
پنجم مطلق وہ جس کے لئے کوئی نیا نام نہ پیدا ہوا، ہدایہ میں فرمایا:
قال الشافعی رحمہ اللّٰہ تعالٰی لایجوز التوضی بماء الزعفران واشباھہ مما لیس من جنس الارض لانہ ماء مقید الاتری انہ یقال ماء الزعفران بخلاف اجزاء الارض لان الماء لایخلو عنھا عادۃ ولناان اسم الماء باق علی الاطلاق الا تری انہ لم یتجدد لہ اسم علی حدۃ واضافتہ الی الزعفران کاضافتہ الی البئر والعین ۱؎ اھ
امام شافعی نے فرمایاوہ اشیاء جو زمین کی جنس سے نہیں ہیں جیسے زعفران کا پانی وغیرہ اُن سے وضو جائز نہیں، کیونکہ وہ مقید پانی ہے، اس لئے اس کو زعفران کا پانی کہتے ہیں، بخلاف زمینی اجزاء کے، کیونکہ عام طور پر کوئی پانی زمینی اجزاء سے خالی نہیں ہوتا ہے، اور ہماری دلیل یہ ہے کہ پانی کا نام علی الاطلاق باقی ہے اور اس کا کوئی نیا نام وضع نہیں ہوا ہے اور اس کی اضافت زعفران کی طرف ایسی ہی ہے جیسے پانی کی اضافت کنویں یا چشمے کی طرف ہوتی ہے اھ (ت)
(۱؎ الہدایۃ باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالایجوز بہ مطبع عربیہ کراچی ۱/۱۸)