Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
166 - 176
 (۲۸۸)یوں ہی شربت سے وضو ناجائز ہے شکّر، بتاشے، مصری، شہد کسی چیز کا ہو نمبر ۱۸۵ میں ہدایہ وغیرہا کتابوں سے گزرا:
لایجوز بالاشربۃ ۱؎
 (شربتوں سے وضو جائز نہیں۔ ت)
 (۱؎ الہدایۃ    باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالایجوزبہ    مطبع عربیہ کراچی    ۱/۱۸)
اس پر عنایہ وبنایہ وکفایہ وغایہ میں فرمایا:
ان ارادبالا شربۃ الحلوالمخلوط بالماء کالدبس والشھد المخلوط بہ کانت نظیر الماء الذی غلب علیہ غیرہ ۲؎۔
اگر ان کی مراد ''اشربہ'' سے میٹھے شربت ہیں جیسے شیرہ اور شہد جو پانی میں ملے ہوں تو اس پانی کی نظیر ہے جس پر کوئی دوسری چیز غالب ہوگئی ہو۔ (ت)
 (۲؎ الکفایۃ مع فتح القدیر      باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالایجوزبہ مطبع نوریہ رضویہ )
مجمع الانہر میں ہے: قال صاحب الفرائد المراد من الاشربۃ الحلوا لمخلوط بالماء کالدبس والشہد ۳؎۔
صاحب الفرائد نے فرمایا اشربہ سے مراد میٹھا شربت ہے جو پانی میں شامل ہوگیا ہو جیسے شیرہ اور شہد۔ (ت)
 (۳؎  الکفایۃ مع فتح القدیر      باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالا یجوزبہ مطبع نوریہ رضویہ)
مگر اصحاب ضابطہ غیر بحر ودُر پر لازم کہ اُس سے وضو جائز مانیں جب تک پانی کی رقت نہ زائل ہو اور یہ شربت میں عادۃً نہیں ہوتا شکّر، بتاشے، مصری تو ظاہر ہیں اور یوں ہی شہد جبکہ جما ہوا ہو مگر یہ اُسی وجہ سے صحیح نہیں کہ شربت کو پانی نہیں کہتے نام بدل گیا تو آب مطلق نہ رہا۔

(۲۸۹) یوں ہی دوا کاخیساندہ قابلِ وضو نہیں اگر گاڑھا نہ ہوگیاہو کہ وہ دوا کہلائیگی نہ پانی مگر اہل ضابطہ پر جواز لازم۔

(۲۹۰ تا ۲۹۵)یونہی کسم، کیسر، رنگت کی پڑیاں جب پانی میں اس قدر ملیں کہ رنگنے کے قابل ہوجائے کسیس، مازو،روشنائی مل کر حرف کا نقش بننے کے لائق ہوجائے بحکم تجنیس وفتح القدیر وحلیہ ومعراج الدرایہ وبحرالرائق ودُرمختار وقنیہ وہندیہ وفتح اللہ المعین وامام جرجانی جس کی عبارت نمبر ۱۲۴ میں گزریں اُس سے وضو جائز نہیں کہ وہ رنگ یا سیاہی یا روشنائی کہلائے گا نہ پانی مگر بحکم ضابطہ جواز ہے خصوصاً پڑیا کا پانی کہ بہت کم مقدار میں ملائی جاتی ہے جس کا پانی کی رقت پر اثر نہیں ہوسکتا۔
اقول: وھو وان کان ظاھر عامۃ الکتب کمامر ثمہ لکن ھذاھو قضیۃ الاصل المجمع علیہ الغیر المنخرم ان زوال الاسم یسلب الاطلاق واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں اگرچہ ظاہر عام کتب کا وہی ہی جو گزرا لیکن اس اصل کایہی تقاضاہے جس پر قطعی اجماع ہے کہ نام کے زائل ہونے سے اطلاق کی کیفیت ختم ہوجاتی ہے۔ (ت)

ہاں روشنائی وغیرہ کا گاڑھا پانی بروئے ضابطہ بھی قابلِ وضو نہیں۔
صنف دوم سیال اشیاء
 (۲۹۶ تا ۲۹۸)اقول گلاب کیوڑابید مشک بلاشبہ مزہ آب کے خلاف مزہ رکھتے ہیں اور ان کی بُو قوی تر ہے گھڑے بھر پانی میں تولہ بھر اُسے خوشبُودار کردیتاہے اور مزہ نہیں بدلتا توبحسب حکم منقول اُس سے وضو جائز رہے گا جب تک اس قدر کثرت سے نہ ملے کہ پانی پر اُس کا مزہ غالب آجائے مگر اہلِ ضابطہ کے نزدیک اُس سے وضو ناجائز ہونا لازم لانہ ذووصفین وقد تغیر واحد (کیونکہ دو وصفوں والا ہے اور ایک وصف بدل چکا ہے۔ ت) مگر یہ سخت بعید بلکہ بداہۃً باطل ہے عرفاً لغۃً شرعاً اُس گھڑے بھر پانی کو جس میں چند قطرے گلاب کے پڑے ہیں پانی ہی کہاجائے گا تو وہ یقینا آب مطلق ہے اور اس سے بلاشبہ وضو جائز۔

(۲۹۹ و ۳۰۰) زعفران حل کیا ہوا پانی یاشہاب اگر اتناملے کہ پانی کا صرف رنگ بدلے تو حکم مذکور نمبر ۱۲۶ سے وہ پانی قابلِ وضو نہ رہے گا اور اہلِ ضابطہ جائز کہیں گے۔
لانھما من ذوات الثلثۃ فلایکفی تغیروصف واحد ولونھمااقوی اوصافھمافیعمل قبل ان یعمل الباقیان۔
کیونکہ یہ تین اوصاف والا ہے تو اس میں ایک کا تغیر کافی نہ ہوگا اور اس کے اوصاف میں سے رنگ قوی تر ہے تو باقی دو کے مؤثر ہونے سے قبل ہی یہ مؤثر ہوجائیگا۔ (ت)
 (۳۰۱) یوں ہی پڑیا حل کیا ہوا پانی پانی میں پڑ کر صرف رنگت بدل دے تو کتب مذکورہ کے حکم سے قابلِ وضو نہیں اور اہلِ ضابطہ کے نزدیک بھی ناجائز ہے اگر پڑیا کسی قسم کی بُو نہ رکھتی ہو ورنہ جائز کہیں گے۔ 

(۳۰۲)آب تربوزسے جب پانی کاصرف مزہ بدلے خود اہل ضابطہ نے عدمِ جواز وضو کی تصریح کی کمامر فی ۱۲۸ مگر اُن کا ضابطہ جواز چاہتا ہے۔
لانہ ذوالثلثۃ فلایکتفی بوصف وطعمہ اغلب اوصافہ فلایستلزم غلبتہ غلبۃ احد الباقیین۔
کیونکہ یہ تین وصفوں والا ہے، تو ایک وصف پر اکتفأ نہ کیا جائے گا، اور اس کا مزہ اس کے اوصاف میں قوی تر ہے تو اس کے غلبہ سے دو۲باقیماندہ وصفوں میں سے کسی ایک کا غلبہ لازم نہیں آئے گا۔ (ت)

(۳۰۳)سپید انگور کے سرکہ کی جب صرف بُو پانی میں آجائے غالب نہ ہو بحکم بدائع منقول نمبر ۱۳۰ قابل وضو ہے مگر بروئے ضابطہ جوازنہ چاہئے
لانہ ذووصفین وقد تغیراحدھما
 (کیونکہ یہ دو وصفوں والا ہے اور ایک وصف بدل چکا ہے۔ ت)

(۳۰۴) سرکہ کہ رنگت بھی رکھتا ہے اور اُس کی بُو سب اوصاف سے اقوٰی ہے اگر پانی میں اُس کا مزہ اور بُو آجائے اور رنگ نہ بدلے بحکم منقول مصرح امام ملک العلماء وامام اسبیجابی وامام فخرالدین زیلعی ونجم الدین زاہدی وزادالفقہاء وامام ابن امیر الحاج حلبی مذکور نمبر ۱۲۶ قابلِ وضو ہے مگر اتباعِ ضابطہ نے عدمِ جواز کی تصریح کی، غنیہ میں ہے:
ان کان یخالفہ فی الاوصاف کلھاکالخل فالمعتبر غلبۃ اکثرھا ۱؎۔
اگر وہ پانی کے تمام اوصاف میں اس کے مخالف ہے جیسے سرکہ تو معتبران میں سے اکثر کا غالب ہونا ہوگا۔(ت)
 (۱؎ غنیۃ المستملی        فصل فی بیان احکام المیاہ    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۹۱)
نورالایضاح ومراقی الفلاح میں ہے:الغلبۃ توجد بظھور وصفین من خل لہ لون وطعم وریح ای وصفین منھاظھرامنعاصحۃ الوضوء ولوواحد لایضر لقلتہ ۲؎۔
سرکہ کے وصفوں میں سے دو کے ظہور سے غلبہ پایا جائیگا کیونکہ اس کے تین اوصاف ہیں مزہ، رنگ اور بُو، کوئی سے دو وصف ان میں سے غالب ہوجائیں تو اس سے وضو نہیں ہوسکتا ہے اور اگر ایک وصف متغیر ہوتا ہے تو کم ہونے کی وجہ سے مضر نہیں۔ (ت)
 (۲؎ مراقی الفلاح    کتاب الطہارت    الامیریۃ ببولاق مصر    ص۱۶)
ردالمحتار میں ہے: فالغلبۃ بتغیر اکثرھا وھو الوصفان فلا یضر ظھوروصف واحد فی الماء من اوصاف الخل ۳؎ اج
تو اعتبار اکثریت کے تغیر کا ہے اور یہ دو وصف ہیں تو سرکہ کے صرف ایک وصف کا پانی میں ظاہر ہونا کچھ مضر نہ ہوگا۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار        باب المیاہ        مصطفی البابی مصر    ۱/ ۱۳۴)
اقول: وقدکان ملک العلماء قدس سرہ احال الامراولا علی زوال الاسم وھی الجادۃ الواضحۃ حیث قال الماء المطلق اذا خالطہ شیئ من المائعات الطاھرۃ کاللبن والخل ونقیع الزبیب ونحو ذلک علی وجہ زال عنہ اسم الماء بان صار مغلوبا بہ فھو بمعنی الماء المقید ۱؎ اھ لکن ثم عاد(عـہ۱) الی اعتبار اللون فی مثلہ فقال متصلا بہ ثم ینظر ان کان یخالف لونہ لون الماء یعتبر الغلبۃ فی اللون ۲؎۔
میں کہتاہوں ملک العلماء نے پہلے تو مدار نام کے زائل ہونے پر رکھا تھا،اور یہی صحیح بھی تھا، وہ فرماتے ہیں مطلق پانی میں جب کوئی سیال شَے مل جائے جیسے دودھ، سرکہ، منقی کاپانی وغیرہ، اور اس سے پانی کا نام زائل ہوجائے کہ پانی مغلوب ہو تو اب یہ پانی مقید ہے اھ لیکن پھر وہ اس جیسی صورت میں رنگ کے اعتبار کا ذکر کرتے ہیں چنانچہ اسی کے متصل فرماتے ہیں،پھر دیکھا جائیگا کہ اگر اس کا رنگ پانی کے رنگ کے مخالف ہے تو رنگ میں غلبہ معتبر ہوگا۔
 (عـہ۱) سیاتی بحمداللّٰہ تعالٰی تحقیق السر فی ذلک فی سادس ضوابط الفصل الثالث ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)

اس کی حکمت تیسری فصل کے چھٹے ضابطہ میں آئے گی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    الماء المقید    سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۱۵)

(۲؎بدائع الصنائع    الماء المقید    سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۱۵)
(۳۰۵) جس سرکہ کا مزہ رنگ وبُو سے اقوی ہو جب اس کے مزہ وبُوپانی پر غالب آئیں اور رنگ نہ بدلے بحکم مذکور ائمہ قابلِ وضو ہے اور ضابطہ مخالف۔

(۳۰۶) جس سرکہ کا رنگ غالب تر ہو جب اُس سے صرف رنگ بدلے تو اس کا عکس ہے یعنی بحکم ائمہ اُس سے وضو ناجائز اور ضابطہ مقتضی جواز۔

(۳۰۷) دُودھ سے جب پانی کا صرف رنگ بدلے بحکم ائمہ مذکورین قابلِ وضو نہیں اور عجب کہ امام زیلعی نے بھی اُن کی موافقت کی حالانکہ اُن کا ضابطہ مقتضی جواز ہے
 لانہ ذوالثلٰثۃ ولونہ اقوی فلایکفی وصف واحد
(کیونکہ یہ تین وصفوں والا ہے اور اس کے اوصاف میں رنگ قوی تر ہے تو ایک وصف پر اکتفاء نہ کیا جائیگا۔ت) ہاں امام ابن الہام ودُر وقدوری وہدایہ وعنایہ وعمدۃ القاری جانب جواز ہیں
 کما تقدم کل ذلک ۱۳۴ واللّٰہ تعالٰی اعلم
 (اس کی پُوری بحث ۱۳۴ میں گزر چکی ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ ت)
تکمیل جزئیات نامحصور ہیں بہتی ہوئی چیز کہ پانی سے کسی وصف میں مخالف ہے اس کے بارے میں اس اختلاف واتفاق کا ضابطہ ملاحظہ چند امور سے واضح:

(۱) اگر کوئی وصف نہ بدلے پانی بالاجماع قابلِ وضو ہے۔

(۲) مخالفت اگر صرف رنگ یا مزہ میں ہے اور وہ بدل جائے بالاتفاق قابلِ وضو نہیں۔

تنبیہ: بدلنے سے کیا مراد ہے اس کی تحقیق اِن شاء اللہ العزیز فصل سوم میں آئے گی۔

(۳) اگر دو وصف میں مخالفت ہے اور دونوں بدل جائیں بالاتفاق عدمِ جواز ہے۔

(۴) اگر صرف رنگ ومزہ یا رنگ وبُو میں تخالف ہے اور رنگ بدلے توبالاتفاق ناقابل ہے اور دوسرا بدلے تو بحکم منقول جوازاور بروئے ضابطہ ناجائز۔

(۵) اگر صرف مزہ وبُو میں اختلاف ہے اور مزہ بدلے تو بالاتفاق اور بُو بدلے تو صرف بروئے ضابطہ عدم جواز ہے منقول جواز۔

(۶) اگر تینوں وصف مختلف ہیں اور سب بدل جائیں بالاتفاق ناجائز۔

(۷) اگر اس صورت میں صرف مزہ یا بُو بدلے بالاتفاق جواز ہے اور فقط رنگ بدلے تو بحکم منقول ناجائز اور حکم ضابطہ جواز۔

(۸) اسی صورت میں اگر رنگ ومزہ یا رنگ وبُو بدلیں بالاتفاق ناجائز اور مزہ وبُو بدلیں تو ضابطہ پر ناجائز اور منقول جواز۔

(۹) تخالف وتبدل دونوں کی جمیع صور کااحاطہ توان آٹھ میں ہوگیا،رہا یہ کہ تبدل کی کون سی صورت کہاں ممکن ہے اُس کا بیان یہ کہ جو ایک ہی وصف میں مخالف ہے ظاہر ہے کہ وہ تو اُسی کو بدل سکتا ہے اور اگر دو میں تخالف ہے تو تین صورتیں ہیں اوّل اقوی ہوگا یادوم یا دونوں مساوی، یعنی بدلیں تو دونوں ایک ہی ساتھ بدلیں اُن میں آگا پیچھا نہیں اگر ایک قوی ہے تو ایک کے تغیر میں اُسی کا تغیر ہوگا صرف دوسرے کو متغیر فرض نہیں کرسکتے ہاں دونوں کا بدلنا تینوں صورتوں میں ہوسکتا ہے۔

(۱۰) اگر تینوں وصف مختلف ہیں تو اس میں سات احتمال ہیں:اوّل اقوی ہو یادوم یاسوم یااول ودوم یا اول وسوم یادوم وسوم یاسب مساوی جن میں ایک اقوی ہو تنہا ایک کے تبدل میں وہی مفروض ہوسکتا ہے اور دو کے تبدل میں ایک وہ ہونا ضرور۔ اُس کے بغیر باقی دونوں کا تنہا یا معاً تغیر فرض نہیں کرسکتے اور دو اقوی ہیں تو اُسی میں نہ ایک کا تبدل ہوسکتا ہے نہ ایسے دو کا جن میں ایک وہ تیسرا ہو،ہاں تینوں بدل سکتے ہیں اورجہاں تینوں مساوی ہیں وہاں یہی صورت فرض ہوسکتی ہے کہ سب بدل جائیں یا کوئی نہ بدلے
واللّٰہ تعالٰی اعلم وصلی اللّٰہ تعالٰی علی سیدنا ومولٰنا محمد الکریم الاکرم وعلٰی اٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ وبارک وسلم آمین والحمدللّٰہ رب العٰلمین۔
Flag Counter