Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
165 - 176
اقول فقد بان لک من کلامہ ثلٰثۃ امور الاول لاذکر(۱)فی کلامہ لتقییدحکم الجامد ببقاء الاسم حتی بالاشارۃ فضلا عن التصریح انماقال مادام یجری علی الاعضاء فالماء غالب ای مطلق غیرمقید فھذا کما تری مطلق غیر مقید ثم اذا اتی علی تطبیق الضابطۃ علی الروایات المختلفۃ حمل علی الجامد قول من قال ان کان رقیقایجوزوالا لا والقول فی الاصل مرسل وفی الحمل مرسل ارسالا فمتی جنح الی التقیید وکذلک تلونا علیک کلام الاٰخذین عنہ اصحاب الفتح والحلیۃ والغنیۃ والدرر ونورالایضاح حتی البحر الذی ابدی ھذا التقیید لم یلم احدمنھم فی تلخیص الضابطۃ الیہ لاجرم ان صرح الشامی بانہ من زیادات البحر الثانی ذکر رحمہ اللّٰہ تعالٰی اولا اصلا مجمعا علیہ ان الوضوء انمایجوز بالماء المطلق وھو الذی لم یزل عنہ طبعہ ولااسمہ دون المقید الزائل عنہ اسمہ۔
میں کہتا ہوں اُن کی گفتگو سے آپ کو تین باتیں معلوم ہوئیں: اول:ان کے کلام میں جامد کے حکم کو نام کی بقاء سے مقید کرنے کا کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے صراحت تو الگ رہی اشارہ تک نہیں،انہوں نے صرف یہ فرمایاہے کہ جب تک وہ اعضاء پر جاری رہے تو پانی غالب ہے یعنی مطلق ہے مقید نہیں، تو جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں یہ مطلق ہے مقید نہیں، پھر جب وہ ضابطہ کو مختلف روایات پر منطبق کرنے لگے، تو جن لوگوں نے کہا ہے کہ اگر رقیق ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں انکے اس قول کو جامد پر محمول کیا ہے حالانکہ یہ قول مطلق ہے اور حمل میں بھی مرسل ہے تو قید لگانے کی طرف کب مائل ہوئے؟اسی طرح ہم نے اُن حضرات کا کلام بھی نقل کردیا جنہوں نے اس سے لیا ہے یعنی فتح، حلیہ، غنیہ، درر اور نور الایضاح کے مصنفین ، یہاں تک کہ صاحبِ بحر جنہوں نے یہ قید لگائی،ان میں سے کسی نے ضابطہ کا خلاصہ یہ نہیں کیا، اس لئے شامی نے تصریح کردی کہ یہ زیادات بحر سے ہے۔؂

دوم: پہلے تو انہوں نے ایک متفق علیہ اصل ذکر کی اور وہ یہ کہ وضو مطلق پانی سے جائز ہوتا ہے،اور مطلق پانی وہ ہے جس کی طبیعت اور نام زائل نہ ہوا ہو نہ کہ مقید پانی سے جس کا نام زائل ہوگیا ہو۔(ت)
اقول: ولم یذکر الطبع لان زوال الطبع یوجب زوال الاسم فذکرہ اولا ایضاحاوحذفہ اٰخرا اجتزاء فھذاالقدرممالاخلاف فیہ لاحد انما الشان فی معرفۃ المطلق والمقید ای معرفۃ انہ متی یزول الاسم فیحصل التقیید فتشمر لاعطاء ضابطۃ ذلک تتمیز بھا مواضع زوال الاسم عن محال بقائہ فقال التقیید باحدامرین کمال الامتزاج اوغلبۃ الممتزج الخ فلاشک انہ کلام فیمالم یزل عنہ اسم الماء کماذکرہ السید کانہ مسوق لبیان مایحصل بہ التقیید والتقیید انما یکون للمطلق فان تقیید المقید تحصیل الحاصل وما المطلق الامالم یزل عنہ اسم الماء ففیہ الکلام وماکان انکرہ احد لکنہ(۱)لایدفع الایراد بل انما منہ منشؤہ فانہ افادان الماء المطلق لایتقید فی خلط الجامد الابالثخونۃ والحکم خلافہ فانہ ربما یتقید قبل ان یثخن کما فی الزعفران والنبیذ وثبوت الحصر اولابالقصر کماعلمت واقول ثانیا محال ان یزول اسم الماء عنہ مع بقاء رقتہ الا بتغیر وصف لانہ اذابقی طبعہ واوصافہ فزوال اسمہ عنہ یکون بغیرموجب وھو باطل اماماامتزج بہ غیرہ ممالایخالف (عـہ)وصفالہ مساویا لہ فی الاجزاء اواکثر فانما یزول فیہ اسم الماء عن الکل المرکب من الماء وغیرہ المساوی لہ اوالغالب علیہ لاعن الماء الذی فیہ حتی لوامکن افراز الماء عن ذلک المخالط لکان ماء جائزابہ الوضوء وھو رحمہ اللّٰہ تعالٰی لم یذکر فی الجامد غیرالثخونۃ ولم یعتبر فیہ الاوصاف انما اعتبرھا فی مقابلہ المائع والمقابلۃ تنا فی الخلط فقد افاد قطعا ان لاغلبۃ فی الجامد بالاوصاف وقد افصح بہ الشرنبلالی فی تلخیص ضابطتہ اذقال ولایضر تغیراوصاف کلھا ۱؎ اھ وما کان زوال الاسم الالاحدامرین زوال الرقۃاوتغیر الوصف وقد نفی ھذا فی خلط الجامد فلم یبق الا الاول وظھر انہ یقول لایزول الاسم فیہ بوجہ من الوجوہ مادامت الرقۃ باقیۃ وھذا ھومحل الایراد فاین المحیص نعم ذکر فی صدر الکلام لفظ زوال الاسم و ھو انما ھو تمھید ضابطتہ خارجاعنھابیانا للمحوج الیھاکماعلمت فضلا عن ان یکون قیدا فی حکم الجامد۔
میں کہتا ہوں انہوں نے طبیعت کا ذکر نہیں کیاکیونکہ طبیعت کے زائل ہونے سے نام بھی زائل ہوجاتا ہے تو پہلے بطور وضاحت ذکر کیا ہے،اور بعد میں اختصاراً حذف کیا ہے،اور اس میں کسی کا خلاف نہیں، مسئلہ دراصل مطلق ومقید کی پہچان کا ہے، یعنی یہ جاننے کا ہے کہ کب نام زائل ہوگا اور تقیید حاصل ہوگی، تو انہوں نے ایک ضابطہ بیان کیا جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ کب زائل ہوگا اور کب باقی رہے گا، یا توکمالِ امتزاج یا ملنے والی چیز کے غلبہ سے الخ تو اس میں کچھ شک نہیں کہ ان کا کلام اس پانی میں ہے جس سے پانی کا نام زائل نہیں ہوا ہے جیسا کہ سید نے ذکر کیا اس لئے کہ کلام اُس چیز کے بیان کیلئے ہے جس سے تقیید پیداہوتی ہے اور تقیید تو مطلق کی ہوتی ہے کیونکہ مقید کی تقیید تو تحصیل حاصل ہے، اور مطلق تو وہی ہے جس سے پانی کا نام زائل نہ ہوا ہو، تو گفتگو اسی میں ہے اور اس کا کسی نے انکار نہیں کیا، مگر اس سے اعتراض مرتفع نہیں ہوتا ہے،بلکہ اس سے تو پیدا ہوتا ہے،کیونکہ اس کا مفہوم تو یہ ہے کہ مطلق پانی جامد کے ملنے سے تب ہی مقید ہوگا جبکہ گاڑھا ہوجائے حالانکہ حکم اس کے برخلاف ہے کیونکہ بسااوقات وہ گاڑھاہونے سے پہلے ہی مقید ہوجاتا ہے جیسا کہ زعفران اور نبیذ۔اور حصر کا ثبوت اولاً تو یہ ہے کہ اس میں قصر ہے جیسا کہ آپ نے جانا، اور میں ثانیا کہتا ہوں،یہ امر محال ہے کہ رقت کے باقی رہتے ہوئے اس سے پانی کانام زائل ہو، اِلّا یہ کہ اس کا کوئی وصف متغیر ہوجائے اس لئے کہ جب اس کی طبیعت باقی ہواور اس کے اوصاف باقی ہوں تو اس سے اس کے نام کا زائل ہونا بغیر موجب کے ہوگا اوریہ باطل ہے،اور جو غیر اس کے ساتھ مل جائے اور یہ غیر اُن چیزوں میں سے ہو جو کسی وصف میں اس پانی کے مخالف نہ ہو،اور وہ غیر اس کے اجزاء میں مساوی ہو یا زیادہ ہو تو اس میں پانی کا نام کل مرکب سے زائل ہوجائیگاجوپانی اور اس کے غیر سے مرکب ہو اور اس کے مساوی ہو یا اس پر غالب ہو نہ کہ اُس پانی سے جو اس میں ہے،یہاں تک کہ اگر اس آمیزش سے پانی کا جدا کرنا ممکن ہو تا تو اس پانی سے وضو جائز ہوتا،اور انہوں نے (رحمہ اللہ) جامد میں صرف گاڑھے پن کا ذکر کیا ہے، اور اس میں اوصاف کا اعتبار نہیں کیا ہے،اِن اوصاف کا اعتبار اس کے مقابل مائع میں کیا ہے اور مقابلہ ملاوٹ کے خلاف ہے، تو انہوں نے قطعاً یہ بات بتائی ہے کہ جامد میں اوصاف سے غلبہ نہیں ہوتا ہے،اور یہی بات شرنبلالی نے اپنے ضابطہ کے خلاصہ میں کہی ہے، انہوں نے کہا کہ اس کو تمام اوصاف کا متغیر ہوجانا مضر نہیں اھ اور نام کا زائل ہونا دو چیزوں میں سے ایک کی وجہ سے ہے،یا تورقتہ کا ختم ہونایا وصف کا تبدیل ہونا اور یہ چیز جامد کے ملنے کی صورت میں نہیں، تو صرف پہلی صورت میں باقی رہے اوریہ ظاہر ہوگیاکہ وہ کہتے ہیں جب تک رقت باقی رہے گی نام کسی طرح زائل نہ ہوگا،یہ اعتراض کی صورت ہے، تو چھٹکارے کی کیا سبیل ہوگی؟ ہاں ابتداء کلام میں نام کے زائل ہونے کا ذکر کیا تھا،یہ ان کے ضابطہ کی تمہید ہے اس میں داخل نہیں،اس چیز کا بیان ہے کہ ضابطہ کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟جیسا کہ آپ نے جان لیا،یہ جامد کے حکم میں قید نہیں۔ (ت)
(عـہ)اقول ای ان وجدامامامثلوابہ من ماء لسان الثوروماء الورد المنقطع الرائحۃ فلیس منہ للاختلاف فی الطعم ومامثلوابہ من الماء المستعمل فھو بنفسہ علی تحقیقنامن الماء المطلق فکیف یجعل امتزاجہ بالمطلق المطلق مقیدا ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)

میں کہتا ہوں یعنی اگر پایا جائے، اور لسان ثور، اور گلاب کا پانی جس میں خوشبور نہ رہی ہو،کی مثالیں جو انہوں دی ہیں وہ اس سے نہیں ہے، کیونکہ مزہ کی تبدیلی میں اختلاف ہے، اور مستعمل پانی کی مثال جو دی ہے تو وہ خود ہماری تحقیق کے مطابق مطلق پانی ہے تو مطلق کو مطلق سے ملا کر مقید کیونکر کیا جاسکتا ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
 (۱؎ نورالایضاح     کتاب الطہارۃ    مطبوعہ مطبع علیمی لاہور    ص۳)
فان قلت الیس قدقال قبل ھذا تحت قول المختصر اوبالطبخ ان زوال الاسم ھو المعتبر فی الباب کماتقدم فکان صریح منطوقہ الادارۃ علیہ حیث کان اقول بلی وھو جملۃ القول فی الباب وماالضابطۃ الا لتفصیلہ وبیان انہ متی یحصل وقدصرح فیھاانہ لایحصل فی خلط الجامد الا بالثخونۃ فانی تنفع الادارۃ۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ انہوں نے اس سے قبل مختصر کے قول ''اوبالطبخ'' کے تحت فرمایا تھا کہ اس باب میں نام کا زائل ہونا ہی معتبر ہے جیسا کہ گزرا، تو انہوں نے اسی چیز کو صریحاً مدار بنایا جہاں بھی یہ پایا جائے۔ میں کہتا ہوں یہ درست ہے اور اس باب کا خلاصہ یہی ہے،اور ضابطہ تو اس کے بیان اور تفصیل کے لئے ہے اور یہ بتانے کیلئے ہے کہ یہ صورت کب پیدا ہوتی ہے،اور انہوں نے اس میں تصریح کی ہے کہ یہ جامد کے مل جانے میں صرف گاڑھا ہونے سے حاصل ہوتی ہے، تو اس پر مدار رکھنا مفید نہیں۔
الثالث ھو بصدد اعطاء ضابط یمیز بین المقید والمطلق وما الضابط الا مایحیط بالصور فیجب ان یستوعب کلامہ بیان کل مایحصل بہ التقیید ای کل مایزول بہ الاسم اذلاتقیید الابہ فتقیید(۱) شیئ من احکامہ بان لایزول الاسم افساد لمقصودہ واخراج للضابط عن ان یکون ضابطاوارجاع للتمیز الی التجہیل، وللتفصیل الی التعطیل، فانہ یؤل الی ان فی خلط الجامد بدون الثخونۃ لایزول الاسم بشرط ان لایزول الاسم وھوکلام مغسول، لایرجع الٰی طائل و محصول،ھذامعنی قول النھرانہ لایجدی نفعافتبین انہ لامذکو ر ولامطوی ولامنوی وان الحق فیہ بیدالنھر،وان ھذا شیئ سقط عن الفخر،فلقعہ البحر،وذکرہ فی تنبیہ علی حدۃ فجاء الدر فنظمہ فی سلک الضابطۃ اذقال فلوجامدا فبثخانۃ مالم یزل الاسم کنبیذتمر ۱؎ اھ ونعمافعل لانہ صح الحکم وان انحلت عری الضابطۃ،واحتاج مطّلعھا الی ضابط اٰخر یلقط لہ ساقطہ، ھکذا ینبغی التحقیق،واللّٰہ تعالی ولی التوفیق، وکان الحری بنا ان نؤخر ھذا البحث الی الفصل الرابع حیث نتکلم ان شاء اللّٰہ تعالی علی الضابطۃ ولکن الحاجۃ مست الیہ ھھناکیلا یعتری احداشک فیما نبدی من المخالفات بین الاحکام المنقولۃ وقضیۃ الضابطۃ وباللّٰہ تعالی التوفیق۔
سوم:وہ ایک ضابطہ بیان کرنا چاہتے ہیں جو مقید اور مطلق کے درمیان تمیز پیدا کردے اور ضابطہ وہی ہوتا ہے جو تمام صورتوں کا احاطہ کرے تو لازم ہے کہ ان کا کلام اُن تمام صورتوں کااحاطہ کرے جن سے تقیید پیدا ہوتی ہے یعنی وہ تمام صورتیں جن میں زائل ہوجاتا ہے کہ تقیید تواسی سے حاصل ہوگی، تو اس کے احکام میں سے کسی کو اس سے مقید کرناکہ نام زائل نہیں ہوا اس کے مقصود کو فاسد کرنااور ضابطہ کو ضابطہ ہونے سے خارج کرنا ہے،اور بجائے اس کے کہ امتیاز پیداہوابہام پیدا کرنا ہے،اور تفصیل کو ختم کرنا ہے،اور اس کا انجام یہ ہوگاکہ جامد کی آمیزش میں گاڑھا نہ ہونے کی صورت میں نام زائل نہ ہو بشرطیکہ نام زائل نہ ہو،اور یہ کلام لغو بے فائدہ ہے، نہر کے قول کہ ''یہ مفید نہیں'' کا یہی مطلب ہے،یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ نہ توکچھ مذکور ہے اور نہ منوی ہے اور اس بارے میں حق نہر کے ساتھ ہے اور یہ وہ چیز ہے جو فخر سے رہ گئی تھی اور بحر نے اس کو لیاتھااور اس پر الگ تنبیہ کی تھی اور صاحبِ در نے اس کو ضابطہ کی شکل میں پیش کردیا، وہ فرماتے ہیں ''اگر آمیزش جامد کی ہو تو دارومدار گاڑھا ہونے پر ہے جب تک نام زائل نہ ہو جیسے نبیذتمراھ اور انہوں نے یہ اچھا کام کیاہے کہ حکم صحیح ہوگیاہے اگرچہ اس سے ضابطہ ڈھیلا پڑ گیا اور اس صورت میں ایک مزید ضابطہ کی حاجت ہوگئی، تحقیق کایہ طریقہ ہوناچاہئے، ہمیں یہ بحث چوتھی فصل تک مؤخر کرنی چاہئے تھی جہاں ہم ضابطہ پر گفتگو کریں گے، مگر یہاں ضرورۃً بحث کرنا پڑی ہے تاکہ احکام منقولہ اور ضابطہ میں کسی کو شک وشبہ لاحق نہ ہوجائے وباللہ التوفیق۔ (ت)
 (۱؎ الدرالمختار   باب المیاہ         مجتبائی دہلی         ۱/۳۴)
Flag Counter