Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
163 - 176
فجمعوا بینھما فابتنی الحکم علی انتفائھما معا وعاد المحذور الا ان یقال ان الواو بمعنی اووحینئذ یکون ذکر الجریان والسیلان بعد الرقۃ مستدرکا غیر انہ قد شاع وذاع والخطب سھل فالاحسن عبارۃ الغنیۃ المعتبر فی صیرورۃ الماء مقیدا بمخالطۃ الجامد زوال رقتۃ ۳؎ اھ والبحر من بعد اذقال فان کان المخالط جامدا فغلبۃ الاجزاء فیہ بثخونتہ ۴؎ اھ
تو فقہاءء نے دونوں باتوں کو جمع کردیا اور حکم دونوں کے معاً انتفاء پر ہوا، اور جو محذور تھا وہ لوٹ آیا، ہاں ایک صورت یہ ہے کہ واؤ بمعنی اَو ہو اور اس صورت میں جریان اور سیلان کا ذکر رقۃ کے بعد اضافی ہوگا، لیکن عام طور پر یہ ہوتا ہے تو غنیہ کی عبارت بہتر ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی جامد چیز کے ملنے سے پانی کے مقید ہونے میں معتبر اس کی رقت کا زائل ہونا ہے اھ اور بحر نے اس کے بعد فرمایا کہ اگر ملنے والی چیز جامد ہو تو اس میں اجزاء کے غلبے کا پتا اس کے گاڑھا پڑ جانے سے ہوگا اھ (ت)
 (۳؂ غنیۃ المستملی فصل فی احکام المیاہ         سہیل اکیڈمی  لاہور      ص۹۱)

(۴؂ بحر الرئق کتاب الطھارۃ  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۶۹  )
وانت تعلم ان المدار الباب علی زوال الاسم کما اعترف بہ الامام الضابط بقولہ زوال اسم الماء عنہ ھو المعتبر فی الباب اھ وبخلط الجامد ربما یزول الاسم قبل زوال الرقۃ کماء الزعفران الصالح للصبغ والنبیذ وقد صرحوا ان الاختلاف انما کان فی نبیذ التمر الرقیق قال فی الھدایۃ النبیذ المختلف فیہ ان یکون حلوا رقیقا یسیل علی الاعضاء کالماء ۱؎ اھ زاد فی الکافی فان کان غلیظا کالدبس لم یجز الوضوء بہ ۲؎ اھ ۔
آپ کو معلوم ہے کہ اس سلسلہ میں مدار نام کے زائل ہونے پر ہے جیسا کہ امام نے اعتراف کیا ہے انہوں نے ضابطہ یہ بیان کیا کہ اس بات میں نام کا زائل ہونا ہی بہتر ہے اھ اور جب کوئی جامد شیئ پانی میں ملتی ہے تو رقۃ کے زائل ہونے سے قبل ہی نام زائل ہوجاتاہے ،جیسے زعفران کا پانی جس سے کوئی چیز رنگی جاسکتی ہو،اور نبیذ،اورفقہاءء نے تصریح کی ہے کہ اختلاف رقیق نبیذ میں ہے۔ہدایہ میں ہے اختلاف اس میں ہے کہ نبیذ میٹھااورپتلاہو اور اعضاء پر پانی کی طرح بہتا ہو اھ کافی میں یہ اضافہ کیا کہ اگر وہ شیرہ کی طرح گاڑھا ہو تو اس سے وضو جائز نہیں اھ
 (۱؎ ہدایۃ         الماء الذی یجوزبہ الوضوء    مکتبہ عربیہ کراچی    ۱/۳۲)
وفی البدائع وان کان غلیظا کالرب لایجوزالتوضوء بہ بلاخلاف وکذاان کان رقیقا لکنہ غلا و اشتدوقذف بالزبد لانہ صارمسکراوالمسکرحرام فلایجوزالتوضوء بہ ولان النبیذ الذی توضأبہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کان رقیقاحلوافلا یلحق بہ الغلیظ المر۳؎وھکذا فی الحلیۃ والغنیۃ والبحر والدروعامۃ الکتب(عـہ) بل فی العنایۃ النبیذالمختلف فیہ ذکرمحمد فی النوادرھوان تلقی تمیرات فی ماء حتی صارالماء حلوارقیقا  اھ ۱؎ ۔

اور بدائع میں ہے کہ اگر نبیذ شیرہ کی طرح گاڑھاہو تو بلااختلاف اس سے وضو جائز نہیں ہے اوراسی طرح اگر رقیق ہے مگر اس میں اتنا جوش آگیا ہو کہ جھاگ دے گیاہوکیونکہ اب یہ مُسکرہوگیا اور مسکر حرام ہے لہٰذا اس سےوضوجائز نہیں، نیز یہ کہ جس نبیذسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایاتھاوہ رقیق اور میٹھا تھا لہٰذا کڑوا اور گاڑھا نبیذ اس کے حکم میں نہیں ہوسکتا ہے،یہی حلیہ، غنیہ، بحر، در اور عام کتب میں ہے،بلکہ عنایہ میں ہے کہ مختلف فیہ نبیذ کے بارے میں محمد نے نوادر میں لکھا ہے کہ اس کی صورت یہ ہے کہ کچھ کھجوریں پانی میں ڈال دی جائیں حتی کہ وہ میٹھا پتلا ہوجائے اھ
(۲؎ کافی)

(۳؎ بدائع الصنائع    مطلب الماء المقید    سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۷)

(۱؎ عنایۃ مع الفتح    مطلب الماء المقید    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۱۰۵)
 (عـہ) فی مسکین علی الکنزالنبیذالمختلف فیہ ان یکون حلوارقیقا یسیل علی الاعضاء کالماء اھ قال السید ابو السعود ای والغلبۃ للماء لیوافق ماتقدم عن خزانۃ الاکمل فان لم یحل فلا خلاف فی جواز الوضوء بہ نھر اھ اقول(۱) سبحٰن اللّٰہ اذا کان الغلبۃ للماء جاز الوضوء بہ بالاجماع کمامر فی ۱۱۶ وای حاجۃ الی النقل مع اجماع الشرع والعرف والعقل علی ان العبرۃ للغالب فکیف یکون مختلفا فیہ وانما حقہ ان یقول ای والغلبۃ للتمر فانہ الذی کان الامام یعدل بہ عن سنن القیاس لو ورد الحدیث ثم نصب(۱) خلاف لایوافق قط مافی خزانۃ الاکمل لانہ ارجع الاجوبۃ کلھا الی الاحکام الاجماعیۃ وقولہ ان لم یحل اقول وکذا ان حلا والماء غالب بعد ماتقدم فی ۱۱۶ واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)

مسکین علی الکنزمیں ہے کہ وہ نبیذ جس میں اختلاف ہے رقیق اور میٹھاہے جو پانی کی طرح اعضاء پر بہتا ہو اھ ابو السعودنے فرمایا یعنی غلبہ پانی کاہو تاکہ خزانہ اکمل سے جو منقول ہوااس کے موافق ہوجائے،کیونکہ اگر میٹھا نہ ہو تو اس سےوضوکے جواز میں کوئی خلاف نہیں،نہر اھ میں کہتا ہوں سبحان اللہ جب پانی کاغلبہ ہوگاتوبالاجماعوضوجائز ہوگاکما مر فی ۱۱۶ پھر اجماع کے ہوتے ہوئے کسی اور نقل کی کیا ضرورت ہے کیونکہ اجماع شرعی اور عرفی اور عقلی تینوں سے ثابت ہے کہ اعتبار غالب کاہے، تو پھر یہ مختلف فیہ کیسے ہوگا؟اسے یوں کہنا چاہئے کہ ''یعنی غلبہ کھجوروں کاہوکیونکہ اس میں امام نے قیاس سے عدول کیاہے کیونکہ اس میں حدیث وارد ہے،پھر خلاف کا ذکر مَا فِیْ خِزَانَۃِ الْاَکْمل سے بالکل موافقت نہیں رکھتا ہے،کیونکہ انہوں نے تمام جواب احکامِ اجماعیہ کی طرف راجع کردئے ہیں اور ان کا قول ''ان لم یحل''میں کہتا ہوں اگر میٹھا بھی ہو تو اس کا حکم یہی ہے بشرطیکہ پانی غالب ہو جیسا کہ پانی کی قسم ۱۱۶ میں گزرا، واللہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
وزوال اسم الماء عنہ مقطوع بہ مجمع علیہ ولاجلہ صارالمذھب المختارالمعتمدعدم جوازالوضوء بہ الا تری ان فی قول الامام الاول المرجوع عنہ انمایجوزالوضوء بہ اذالم یجد الماء ولا یجوز الا منویاواذاوجد ماء مطلقاینتقض فھو فی کل ذلک کالتمیم ذکرہ فی العنایۃ والفتح والحلیۃ عن شرح الامام القدوری لمختصرالامام الکرخی عن اصحابنارضی اللّٰہ تعالٰی عنھم وقال فی الحلیۃ وجہ قول ابی یوسف ان اللّٰہ تعالٰی اوجب التیمم عند عدم الماء المطلق ونبیذ التمرلیس بماء مطلق والا لجازالوضوء بہ مع وجود غیرہ من المیاہ المطلقۃ ۱؎ اھ وتقدم مثلہ عن البدائع اقول وبہ ظھر(۱)الجواب عماتجشمہ الامام الزیلعی اذقال اماقولھم لیس بماء مطلق قلناھوماء شرعاالاتری الی قولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ماء طھورای شرعا فیکون معنی قولہ تعالٰی فلم تجدواماء ای حقیقۃ اوشرعا ۲؎ اھ فیاسبحٰن اللّٰہ انکان ھذا معنی الاٰیۃ فلم لم یجزالوضوء بہ مع وجود ماء اٰخر ومن اوجب الترتیب بین المائین بتقدیم اللغوی علی الشرعی امااحتجاجہ (عـہ) بقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ماء طھورفاقول الحدیث(۱)من اولہ تمرۃ طیبۃ وماء طھورفانماھولبیان اجزائہ التی ترکب منھالاالاخبار عنہ بانہ ماء والالکان اخبارایضابانھا تمرۃ وھو باطل لغۃ وعرفاوشرعاوفی صدرالحدیث قولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم لعبداللّٰہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ھل معک ماء اتوضوء بہ قال لاالانبیذتمرلایقال انہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ انمانفی الماء اللغوی لان السؤال کان عن الماء الشرعی لقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اتوضوء بہ الا ان یقال لم یکن عبداللّٰہ اذذاک یعلم انہ ماء شرعاوقد اعترف(۲)الامام الزیلعی نفسہ انہ نفی عنہ ابن مسعود اسم الماء ۱؎ اھ اذاثبت ھذاعلم ان قصرالحکم فی الجامد علی زوال الرقۃ غیرصحیح وقد تنبہ لھذا البحر فی البحر فقال بعد ایراد الضابطۃ وھھنا تنبیھات مھمۃ۔
اور پانی کا نام اس سے قطعی طور پر ختم ہوجاتاہے اس پر اجماع ہے، لہٰذا مذہب مختار معتمدیہ ہے کہ اس سےوضوجائز نہیں ہے،یہی وجہ ہے کہ امام کا پہلا قول جس سے انہوں نے رجوع کرلیااس سےوضواُسی صورت میں جائز ہے جبکہ پانی نہ پائے،اور صرف نیت کے ساتھ ہی جائز ہوگا،اور جب مطلق پانی مل جائے تو یہ وضوٹوٹ جائیگا تو یہ تمام احکام میں مثل تیمم ہے،یہ عنایۃ، فتح اورحلیہ میں شرح قدوری سے منقول ہے جو امام کرخی نے ہمارے اصحاب سے نقل کیاہے اورحلیہ میں فرمایاابو یوسف کے قول کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے تیمم اس وقت واجب کیاہے جب مطلق پانی نہ ہواور نبیذ تمر مطلق پانی نہیں ہے ورنہ دوسرے مطلق پانیوں کے ہوتے ہوئے بھی اس سے وضوجائزہوجاتا ہے اھ یہی بدائع سے گزرچکا ہے۔ میں کہتا ہوں اس سے امام زیلعی کی اس گفتگو کاجواب بھی نکل آتا ہے کہ ان کا قول ''یہ مطلق پانی نہیں ہے'' ہم کہتے ہیں یہ شرعاًپانی ہے،چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ''پاک پانی'' یعنی شرعاً تو اللہ کے قول''تو تم پانی نہ پاؤ''کا معنی ہوگا یعنی حقیقۃً اور شرعاً پانی نہ پاؤ، تو اگر آیت کے یہی معنی ہیں تو دوسرے پانی کے ہوتے ہوئے اس سے وضو کیوں جائز نہیں؟اور جن حضرات نے دونوں پانیوں میں ترتیب کو لازم قرار دیا ہے کہ لغوی کو شرعی پر مقدم کیاہے اور ان کا استدلال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول ''ماءٌ طھور''سے تو اس کی بابت میں کہتا ہوں دراصل حدیث کی ابتداء اس طرح ہے ''تمرۃ طیبۃ وماء طھور'' تو یہ اس کے اجزأ ترکیبیہ کے بیان کے لئے ہے صرف اتنا بتانا مقصود نہیں کہ یہ پانی ہے ورنہ یہ بھی خبر ہوتی کہ یہ کھجور ہے اور یہ عرفالغۃ اور شرعاً ہر طرح باطل ہے اور حدیث کی ابتداء میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا ''کیا تمہارے پاس پانی ہے تاکہ میں اُس سے وضو کروں؟ انہوں نے کہا نہیں سوائے نبیذتمر کے''۔یہ خیال نہ کیاجائے کہ حضرت عبداللہ نے صرف لغوی پانی کی نفی کی تھی اس لئے کہ سوال شرعی پانی کی بابت تھاکیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا تھا،تاکہ میں اس سے وضو کروں۔ہاں یہ کہاجاسکتا ہے کہ عبداللہ کو اس وقت یہ معلوم نہ تھاکہ یہ شرعاً پانی ہے، اور خود امام زیلعی نے اعتراف کیاہے کہ ابن مسعود نے اس سے پانی کی نفی کی ہے اھ جب یہ ثابت ہوگیا تو معلوم ہوا کہ جامد میں حکم کا زوالِ رقتہ پر منحصر کردینا صحیح نہیں ہے،صاحب بحر کو بحر میں اس پر تنبہ ہوا ہے،چنانچہ انہوں نے ضابطہ کے بعد فرمایا،یہاں چند اہم تنبیہات ہیں: (عـہ)
 (۱؎ حلیہ)

(۲؎ تبیین الحقائق    کتاب الطہارۃ    الامیریۃ ببولاق مصر    ۱/۳۵)

﴿۱؎ تبیین الحقائق    کتاب الطہارت    الامیریۃ ببولاق مصر    ۱/۳۵)
تبعہ فیہ المولی بحرالعلوم فی الارکان الاربعۃ فقال قولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم تمرۃ طیبۃ وماء طھور یفیدان النبیذ لم یخرج عن کونہ ماء بوقوع التمر فواجدالنبیز لایصدق علیہ انہ لم یجد ماء فلا تعارضہ اٰیۃ التیمم حتی یکون ناسخا ھذاماعندی اھ وکأنہ لم یطلع علی کلام الامام الزیلعی رحمھما اللّٰہ تعالٰی قدس سرہ۔
بحرالعلوم نے ارکان اربعہ میں ان کی پیروی کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ''تمرۃ طیبۃ وماء طھور''سے معلوم ہوتا ہے کہ نبیذ پانی ہونے سے خارج نہیں ہواہے کھجور کے وقوع سے، تو جس شخص کے پاس نبیذ ہو تو اس پر یہ صادق نہیں آتاکہ وہ پانی کا پانے والا نہیں ہے تو آیہ تیمم اِس کے معارض نہیں،تاکہ اس کو ناسخ قرار دیا جائے ''ھذا ماعندی'' اھ اور غالباً وہ امام زیلعی کے کلام پر مطلع نہ ہوئے۔(ت)
Flag Counter