Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
162 - 176
قیاس ماذکرنا انہ لایجوز الوضوء بنبیذالتمرلتغیرطعم الماء وصیرورتہ مغلوبابطعم التمرو بالقیاس اخذابویوسف وقال لایجوز التوضوء بہ الا ان ابا حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ترک القیاس بالنص فجوزالتوضوء بہ وروی نوح فی الجامع المروزی عن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ انہ رجع عن ذلک وقال لایتوضوء بہ وھو الذی استقر علیہ قولہ کذا قال نوح وبہ اخذ ابو یوسف ۱؎۔
جن چیزوں سے ہم نےوضوکے جائز نہ ہونے کاقول کیاہے وہ نبیذ تمر پر قیاس کی گئی ہیں، کیونکہ پانی کا مزہ بدل گیا ہے اور وہ کھجور کے مزہ سے مغلوب ہوگیا ہے قیاس پر ابویوسف نے عمل کیا ہے،اور فرمایا ہے کہ اُس سےوضو جائز نہیں، اور امام ابو حنیفہ نے نص کی وجہ سے قیاس کو چھوڑ دیااور اُس سےوضوکو جائز قرار دیا، اور نوح نے جامع مروزی میں ابو حنیفہ سے روایت کی کہ آپ نے اس سے رجوع کرلیا اور فرمایا کہ اس سے وضو نہ کیا جائے اور ان کے اس قول پر اتفاق ہوا، یہی نوح کا قول ہے اور یہی ابو یوسف نے لیا ہے۔ (ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل الماء المقید        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۵)
فتح القدیر میں ہے: وجب تصحیح الروایۃ الموافقۃ لقول ابی یوسف لان اٰیۃ التیمم ناسخۃ لہ لتاخرھااذھی مدنیۃ وعلی ھذامشی جماعۃ من المتأخرین ۲؎۔
 (۲؎ فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالایجوزبہ    نوریہ رضویہ سکھر)
اس روایت کی تصحیح جو ابو یوسف کے قول سے مطابقت رکھتی ہے لازم ہے، کیونکہ آیۃ تیمم اس کو منسوخ کرنے والی ہے وہ مدنی ہونے کی وجہ سے متاخر ہے، اور متاخرین کی ایک جماعت اسی طرف گئی ہے۔ (ت)
حلیہ میں ہے: ذکر نوح الجامع والحسن بن زیاد ان اباحنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ رجع الی انہ یتیمم ولا یتوضوء کما ھو مختار ابی یوسف وقول اکثر العلماء منھم مالک والشافعی واحمدقال قاضی خان وھو الصحیح ۳؎ اھ
نوح اور حسن بن زیاد نے ذکر کیا کہ ابو حنیفہ نے اس سے رجوع کرلیااور فرمایا بجائےوضوکے تیمم کرنا چاہئے،یہی ابویوسف کا مختارہے اور اکثر علماء مثلاً شافعی، مالک اور احمد کا قول ہے اور قاضی خان نے کہا یہی صحیح ہے اھ۔ (ت)
 (۳؎ حلیہ)
غنیہ میں شرح جامع صغیر قاضی خان سے ہے:روی اسد بن عمر ونوح بن ابی مریم والحسن عن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ انہ رجع الی قول ابی یوسف والصحیح قول ابی حنیفۃ الاٰخر ۴؎ اھ اقول فھذان متابعان قویان لنوح الجامع فزال ماکان یخشی من تبری ملک العلماء اذقال کذا قال نوح۔
روایت کیا اسد بن عمرو اور نوح بن ابی مریم اور حسن نے ابو حنیفہ سے کہ انہوں نے ابویوسف کے قول کی طرف رجوع کرلیااور صحیح ابوحنیفہ کا دوسرا قول ہے اھ میں کہتا ہوں یہ دومضبوط تائیدیں نوح کے حق میں ہیں،اس سے ملک العلماء کی برآت کا خطرہ زائل ہوگیا، ملک العلماء نے فرمایا کذا قال نوح۔ (ت)
 (۴؎ شرح جامعہ الصغیر لقاضی خان)
غنیہ میں ہے:لایتوضوء بہ ھی الروایۃ المرجوع الیھاعن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ وعلیھاالفتوی لان الحدیث وان صح لکن اٰیۃ التیمم ناسخۃ لہ اذمفھومھانقل الحکم عند عدم الماء المطلق الی التیمم ونبیذ التمر لیس ماء مطلقا ۱؎۔
 (۱؎ غنیۃ المستملی ،باب التمیم سہیل اکیڈمی لاہور    ص۷۲)
اس سے وضو نہ کیا جائے، یہ ابو حنیفہ کی وہ روایت ہے جس کی طرف رجوع کیا ہے، اور اسی پر فتوٰی ہے کیونکہ حدیث اگرچہ صحیح ہے لیکن تیمم کی آیت اس کی ناسخ ہے کیونکہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جب مطلق پانی نہ ہو تو حکم کو تیمم کی طرف منتقل کردیا جائے اور نبیذتمر مطلق پانی نہیں ہے۔ (ت)
بحر میں ہے:لایتوضوء بہ وھو قولہ الاٰخر قدرجع الیہ وھو الصحیح واختارہ الطحاوی وبالجملۃ فالمذھب المصحح المختارالمعتمد عندنا عدم الجواز ۲؎۔
نبیذ سے وضو نہ کیا جائے، یہی امام ابو حنیفہ کا آخری قول ہے، انہوں نے اس کی طرف رجوع کرلیا تھا، یہی صحیح ہے اور اسی کو طحاوی نے اختیار کیا، خلاصہ یہ کہ ہمارے نزدیک تصحیح شدہ، مختار، معتمد مذہب وضو کے عدم جواز کا ہے۔ (ت)
 (۲؎ بحرالرائق        کتاب الطہارۃ    سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۳۷)
خانیہ میں ہے:ھو قول ابی حنیفۃ الاٰخر ۳؎۔
یہی ابو حنیفہ کا آخری قول ہے۔ (ت)
 (۳؎ قاضی خان    فیما لایجوزبہ التوضی،نولکشور لکھنؤ        ۱/۹)
ہندیہ میں عینی شرح کنز سے ہے:الفتوی علی قول ابی یوسف ۴؎۔
فتوٰی ابو یوسف کے قول پر ہے۔ (ت)
 (۴؎ ہندیہ   فیما لایجوزبہ التوضی        نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۲۳)
درمختار میں ہے:یقدم التیمم علی نبیذ التمرعلی المذھب المصحح المفتی بہ لان المجتھد اذارجع عن قول لایجوز الاخذ بہ ۱؎ اھ وقولہ یقدم ای یرجح ویختار و یوثر فیفعلہ لاالوضوء بہ۔
تصحیح شدہ قول کے مطابق نبیذتمر پر تیمم کو مقدم کیا جائیگا، یہی صحیح مذہب ہے اور اسی پر فتوٰی ہے، کیونکہ جب کوئی مجتہد کسی قول سے رجوع کرے تو اس پر عمل جائز نہیں، اور ان کا قول ''مقدم کیا جائیگا'' سے مراد یہ ہے کہ اس کو ترجیح دی جائیگی اور اختیار کیا جائیگا اور نبیذ سے وضو نہ کیا جائیگا۔ (ت)
 (۱؎ درمختار باب التمیم،  مجتبائی دہلی       ۱/۴۱)
بدائع میں ہے:اما نبیذ الزبیب وسائر الانبذۃ فلایجوز التوضوء بھا لان القیاس یابی الجوازالابالماء المطلق وھذالیس بماء مطلق بدلیل انہ لایجوزالتوضوء بہ مع القدرۃ علی الماء المطلق الا انا عرفنا الجوازبالنص والنص ورد فی نبیذ التمرخاصۃ فیبقی ماعداہ علی اصل القیاس ۲؎۔
نبیذ منقیٰ اور دوسرے نبیذوں سے وضو جائز نہیں کیونکہ قیاس کی رُو سےوضوصرف مطلق پانی سے ہوسکتا ہے اور یہ مطلق پانی نہیں ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ مطلق پانی کے موجود ہونے کی صورت میں اس سےوضوجائز نہیں، مگر ہمیں اس کا جواز نص سے معلوم ہوا ہے اور نص خاص نبیذتمر کی بابت وارد ہوا ہے تو باقی نبیذوں پر قیاس کے مطابق ہی عمل ہوگا۔ (ت)
 (۲؎ بدائع الصنائع، مطلب الماء المقید ،سعید کمپنی کراچی  ۱/۱۷)
ہدایہ میں ہے:لایجوز التوضی بما سواہ من الانبذۃ جریا علی قضیۃ القیاس ۳؎۔
دوسرے نبیذوں سےوضوقیاس کے مطابق جائز نہ ہوگا۔ (ت)
 (۳؎ ہدایہ        الماء الذی یجوزبہ الوضوء    عربیہ کراچی    ۱/۳۲)
عنایہ میں ہے:لایجوز نبیذ الزبیب والتین وغیر ذلک ۴؎۔
منقٰی، انجیر وغیرہ کے نبیذ سےوضوجائز نہیں۔ (ت)
 (۴؎ عنایہ مع فتح القدیر     الماء الذی یجوزبہ الوضوء    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۱۰۵)
غنیہ میں ہے:سائر الاشربۃ سوی نبیذ التمر لیس فی عدم جواز التوضی بہ خلاف ۱؎۔
نبیذ تمر کے علاوہ باقی نبیذوں سے وضو کے عدمِ جوازمیں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا ہے۔ (ت)
 (۱؎ غنیۃ المستملی        باب التیمم        سہیل اکیڈمی لاہور    ص۷۲)
اسی طرح عامہ کتب میں ہے۔ فان قلت من این قولک انکان رقیقا قلت لاطلاقھم ویقطع الوھم انھم صرحوا ان نبیذ التمر المختلف فی جواز الوضوء بہ ماکان رقیقا اما الغلیظ فلا ثم قالوا ولایجوز بما سواہ من الانبذۃ لان نبیذ التمرخص بالاثر فوضح قطعا ان المراد نفی التوضی بالرقیق منھا اما الغلیظ فمعلوم الانتفاء ولا تخالف فیہ بین نبیذ التمر وسائر الانبذۃ۔
اگر یہ سوال ہو کہ وان کان رقیقا تم نے کہاں سے لیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ فقہاءء کے اطلاقات سے مفہوم ہے، اور وہم اس طرح دُور ہوجاتا ہے کہ فقہاءء نے تصریح کی ہے کہ وہ نبیذ جس سے وضو کے ہونے میں اختلاف پایا جاتا ہے رقیق ہے اور گاڑھے میں کوئی اختلاف نہیں، پھر فرمایا اس نبیذ کے علاوہ باقی نبیذوں سے جائز نہیں کیونکہ نبیذ تمر نص سے مخصوص ہے، اس سے قطعی طور پر واضح ہوا کہ رقیق نبیذ سے وضو کی نفی مراد ہے کیونکہ گاڑھے میں تو اختلاف پہلے ہی نہیں تھا تو گاڑھے نبیذ میں نبیذ تمر اور باقی نبیذیں برابر ہیں۔ (ت)

بالجملہ نبیذتمر سے مطلقا وضو صحیح نہ ہونا مذہب صحیح معتمد مفتٰی بہ ہے اور باقی نبیذوں سے نہ ہونے پر تو اجماع ہے مگر ضابطہ زیلعیہ کا اقتضا یہ ہے کہ جب تک رقت باقی ہے صحیح ہو لیکن یہ ہرگز صحیح نہیں کہ اسے نبیذ کہیں گے نہ کہ پانی تو نام آب باقی نہ رہنے کے سبب آب مطلق نہ رہا اور وضو آبِ مطلق ہی سے جائز ہے وبس۔
وبیان ذلک انھا من الجامدات اوضابطۃ التقیید عندہ فی الجامد زوال الرقۃ فحسب قال رحمہ اللّٰہ تعالی المخالط انکان جامدا فمادام یجری علی الاعضاء فالماء ھو الغالب ۲؎ اھ وتبعہ فی الحلیۃ والدرر فاقتصرا علی ذکر الجریان۔
اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ وہ جامدات سے ہے اور ان کے نزدیک جامد میں تقیید کا ضابطہ یہ ہے کہ رقّت زائل ہوجائے، انہوں نے فرمایا اگر ملنے والی چیز جامد ہو تو جب تک وہ اعضاء پر بہہ سکے تو پانی ہی غالب ہوگا اھ اور حلیہ اور درر میں اس کی متابعت کی اور دونوں نے جاری ہونے کے ذکر پر اکتفاء کیا۔ (ت)
 (۲؎ تبیین الحقائق    کتاب الطہارت    مطبعۃ الامیریہ بولاق مصر    ۱/۲۰)
اقول: وکان(۱) البعد فیہ اکثر لان الجریان علی الاعضاء ھو السیلان والرقۃ اخص منہ کما سیاتی فکان یقتضی جواز الوضوء وان زالت الرقۃ مع بقاء السیلان لکن الامام الزیلعی وبالنقل عنہ الحلبی تدارکاہ بقولھما بعدہ فیحمل قول من قال ان کان رقیقا یجوز الوضوء بہ والا فلا علی مااذا کان المخالط لہ جامدا ۱؎ اھ ویقرب منہ قول المحقق فی الفتح والبحر فی البحر وغیرھما فان کان جامدا فبانتفاء رقۃ الماء وجریانہ علی الاعضاء ۲؎ اھ
میں کہتا ہوں اس میں بعُد زائد تھا کہ جاری ہونا اعضاء پر سیلان ہے اور رقّت سیلان سے اخص ہے کما سیاتی تو اس کا مفہوم یہ نکلا کہ اگرچہ رقّت زائل ہوجائے اور سیلان باقی رہے تووضوجائز ہے، مگر امام زیلعی اور ان کی متابعت میں حلبی نے اس شبہ کا تدارک کرتے ہوئے فرمایا، تو جن حضرات نے فرمایا کہ اس سےوضوجائز ہے اگر رقیق ہو ورنہ نہیں اس کو اس صورت پر محمول کیا جائیگا کہ جب اس میں ملنے والی چیز جامد ہو اھ اور اسی کے قریب قریب محقق کا قول فتح میں اور صاحب بحر کا بحر وغیرہما میں ہے کہ اگر وہ شیئ جامد ہے تو وضو اس وقت جائز نہ ہوگا جب پانی کی رقّت ختم ہوجائے اور وہ اعضاء پر جاری نہ ہوسکے اھ
 (۱؂تبین الحقائق      کتاب الطھارۃ      مطبعۃالامیریہ مصر  ۱ / ۲۰ )

( ۲؂بحر الرئق کتاب الطھارۃ  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۶۹  )
Flag Counter