Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
161 - 176
نوع اٰخر___ مقابلات نوع آخر قسم اول

صنفِ اول_ جامدات
(۲۶۷ تا ۲۷۵) نبیذ میں چھوہارے یا کشمش خواہ کوئی میوہ شربت میں شکر بتاسے مصری خواہ کوئی خشک شیرینی خیساندہ میں دوارنگ میں کسم کیسر پڑیا روشنائی میں کسیس مازو خواہ اور اجزاء جب اتنے ڈالیں کہ پانی اپنی رقّت پر نہ رہے اس سے بالاجماع وضو ناجائز ہے۔ قدوری وہدایہ ونقایہ وغیرہا عامہ کتب میں ہے:
 لابماء غلب علیہ غیرہ فاخرجہ عن طبع الماء ۱؎۔
نہ اس پانی سے جس پر غیر کا غلبہ ہو تو اس کو پانی کی طبیعت سے نکال دے۔ (ت)
 (۱؎ ہدایۃ         الماء الذی یجوزبہ الوضوء    العربیہ کراچی        ۱/۱۸)
صنفِ دوم _ مائعات
(۲۷۶ تا ۲۷۸) زعفران حل کیا ہوا پانی یا شہاب اگر پانی میں مل کر اُس کی رنگت کے ساتھ مزہ یا بُو بھی بدل دے تو اُس سے بالاتفاق وضو ناجائز ہے۔
 لتغیر اللون علی الحکم المنقول واکثر من وصف علی الضابطۃ
اس لئے کہ رنگ متغیر ہوگیا ،اس حکم پر جو منقول ہوا ،اورایک وصف سے زاید ہے ضابطہ پر ۔(ت)

یوں ہی پڑیا حل کیا ہوا پانی جب رنگ اور ایک  وصف  اور بدل دے۔
لانہ انکان ذا الثلاثۃ کفی تغیروصفین للوفاق فکیف اذاکان ذاوصفین۔
اس لئے کہ اگر وہ تین اوصاف والا ہو تو اس میں دو وصفوں کا تغیر کافی ہے اس پر اتفاق ہے تو پھر دو وصفوں کا کیاحال ہوگا؟(ت)

(۲۷۹) تربوز کا شیریں پانی جبکہ پانی میں پڑ کررنگ کے ساتھ اس کا ایک وصف اور بدل دے،ہاں رنگ نہ رکھتاہو تو مزے کا اعتبار ہے۔
وھومحمل قول الزیلعی والافھوذوالثلاثۃ کماھومعلوم مشاھد وقال فی المنحۃ قال الرملی لمشاھد فی البطیخ مخالفتہ للماء فی الرائحۃ وایضافی البطیخ مالونہ احمر وفیہ مالونہ اصفر ۲؎ اھ
اور یہی زیلعی کے قول کا مطلب ہے، قول یہ ہے ورنہ وہ تین وصفوں والا ہے، جیسا کہ مشاہد ومعلوم ہے، اور منحہ میں فرمایا رملی نے کہا تربوز میں مشاہدہ یہ ہے کہ وہ بُو میں پانی کے مخالف ہوتا ہے اور بطیخ میں کچھ سرخ رنگ کے اور کچھ پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ (ت)
 (۲؎ منحۃ الخالق مع البحرالرائق     کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۰)
اقول:  ای لون مائہ اذفیہ الکلام لالون عینہ۔
میں کہتا ہوں اس سے مراد اس کے پانی کا رنگ ہے کیونکہ کلام اسی میں ہے اس سے مراد خود بطیخ ذات کا رنگ نہیں۔ (ت)
 (۲۸۰) سپید انگور کاشیرہ جب پانی کے مزے پر اس کا مزہ غالب آجائے۔
لتغیر الطعم علی المنقول وھو ذووصفین فیکفی تغیر واحد علی الضابطۃ فھذا مما لایتأتی فیہ الخلاف فی شیئ من جانبی الجواز وعدمہ۔
کیونکہ مزہ کا تغیر ہے منقول کے مطابق،اور وہ دو۲ وصفوں والا ہے تو ایک میں تغیر کافی ہے ضابطہ کے مطابق، یہ وہ ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں جواز وعدمِ جواز کے جانبین میں۔ (ت)
فان قلت بلی فان الحکم لایقتصر عند اھل الضابطۃ علی الطعم بل کذٰلک لوغلب الریح۔
اگر یہ کہا جائے کہ حکم اہلِ ضابطہ کے نزدیک مزہ پر موقوف نہیں بلکہ بُو کے غلبہ کی صورت میں بھی یہی حکم ہے۔ (ت)
اقول: طعمہ اسرع عملا فلا یتغیر الریح مالم یتغیر۔تو میں کہتا ہوں اس کے مزے کا عمل تیز تر ہوتا ہے تو جب تک مزہ نہ بدلے بُو نہیں بدل سکتی ہے۔ (ت)
 (۲۸۱) سپید انگور کا سرکہ ملنے سے اگر پانی کا مزہ بدل گیا سرکہ کا مزہ اس پر غالب ہوگیا۔

لمامرو یتأتی فیہ الخلاف کما یاتی (اس کا حکم گزرا اور اس میں اختلاف آتا ہے۔ ت)

(۲۸۲) رنگت دار سرکہ جب پانی میں مل کر رنگ اور بُو (اس لئے کہ عام سرکوں کی بُو قوی تر ہوتی ہے ۱۲ منہ) دونوں بدل دے۔
لحصول اللون علی المنقول ووصفین علی الضابطۃ۔
منقول کے مطابق رنگ والا ہے اور ضابطہ کے مطابق دو وصفوں والا ہے۔ (ت)

(۲۸۳) ایسے سرکہ کا مزہ اقوی ہو تو جب اُس سے مزہ کے ساتھ رنگت بھی بدل جائے۔

(۲۸۴) جس سرکہ کا رنگ قوی ترہو جب رنگ کے ساتھ ایک وصف اور بدل دے والوجہ قد علم (اس کی وجہ معلوم ہے۔ ت)

(۲۸۵) دودھ جب اس کا رنگ اور مزہ دونوں پانی پر غالب آجائیں۔
لان العبرۃ فی المنقول باللون وعند الزیلعی وکثیر من اتباعہ باحد وصفین اللون والطعم وعند المحقق علی الاطلاق وصاحب الدرر بھما معا فاذا تغیراحصل الوفاق علی سلب الاطلاق۔
اس لئے کہ اعتبار منقول میں رنگ ہی کاہے اور زیلعی کے نزدیک (نیز ان کے اکثر متبعین کے نزدیک)

دو اوصاف میں سے ایک کا اعتبار ہے (یعنی رنگ یا مزہ)، اور محقق علی الاطلاق اور صاحبِ درر کے نزدیک دونوں کا ایک ساتھ اعتبار ہے، اب جبکہ دونوں وصف ہی بدل جائیں تو پانی کا اطلاق نہ ہونے پر اتفاق ہوجائے گا۔ (ت)

یہ ایک(۱) سوبائیس وہ ہیں جن سے وضو بالاتفاق(۲) ناجائز ہے یعنی نہ ہوسکتا ہے نہ اُس سے نماز جائز ہو واللہ تعالٰی اعلم وصلی اللہ تعالٰی علی سیدنا ومولانا محمد وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم۔

قسم سوم جن سے صحتِ وضو میں حکم منقول ومقتضائے ضابطہ امام زیلعی کاخلاف ہے صنف اول خشک اشیا 

(۲۸۶ و ۲۸۷) چھوہارے کے سوا کشمش انجیر وغیرہ کوئی میوہ بالاجماع الاماعن الامام الاوزاعی ان ثبت عنہ (مگر وہ جو امام اوزاعی سے مروی ہے اگر ان سے ثابت ہو۔ ت)اور مذہب صحیح معتمد مفتی بہ مرجوع الیہ میں چھوہارے بھی جبکہ تادیر تر کرنے سے پانی میں اُس میوہ کی کیفیت اس قدر آجائے کہ اب اُسے پانی نہ کہیں نبیذ کہیں اس سے وضو نہیں ہوسکتااگرچہ رقیق ہو،بدائع امام ملک العلماء میں ہے:
(۱)  ۱۶۰ کے بعد ۱۲۵ ہوئے مگر ان میں تین نمبر ۲۲۱ و ۲۵۲، ۲۵۷ جائزات کے تھے لہٰذا ایک سو بائیس۱۲۲ رہے ۱۲ (م)

(۲) یعنی ضابطہ زیلعی اور اُن احکام کے اتفاق سے جو قول امام محمد پر مبنی ہیں جیسا کہ تنبیہ ضروری میں گزرا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
Flag Counter