Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
160 - 176
لایجوز التوضوء بماء الفواکہ وتفسیرہ ان یدق التفاح اوالسفرجل دقانا عما ثم یعصرہ فیستخرج منہ الماء وقال بعضھم تفسیرہ ان یدق التفاح اوالسفرجل ویطبخ بالماء ثم یعصر فیستخرج منہ الماء وفی الوجھین لایجوز بہ التوضوء لانہ لیس بماء مطلق ۱؎۔
پھلوں کے پانی سے وضو جائز نہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ سیب یا امرود کو باریک باریک کُوٹ لیا جائے اور پھر ان کو نچوڑ کر اُن سے پانی نکالا جائے، بعض نے اس کا مفہوم یہ بتایا ہے کہ سیب یا امرود کو باریک کرکے پانی کے ساتھ پکایا جائے پھر نچوڑا جائے اور پانی نکالا جائے اور دونوں صورتوں میں اس سے وضو جائز نہیں کیونکہ یہ مطلق پانی نہیں ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان        فصل فیما لایجوزبہ التوضی    نولکشور لکھنؤ        ۱/۹)
(۲۱۹) یہ پانی جس میں میوے جوش دے اس کا حکم ذکر نہ فرمایا۔

واقول: وبہ استعین اگر میوے خفیف جوش دے جس میں قدرے نرم ہو کر نچوڑنے میں اچھی طرح آئیں اور نکال لئے کہ پانی میں اُن کے اجزائے لطیفہ قدر تغیر نہ ملنے پائے تو اُس پانی سے وضو جائز ہونا چاہئے اور اب یہ پانی نمبر ۱۰۸ و ۱۰۹ میں داخل ہوگا اور اگر میوے اس میں پک گئے کہ اُسے متغیر کردیا تو اُن کے نکال لینے کے بعد بھی اس پانی سے وضو ناجائز ہے یہ ۲۱۹ نمبر ہوگا۔

(۲۲۰) سر پر مہندی یا کوئی خضاب یا ضماد لگا ہوا ہے اور مسح کرتے میں ہاتھ اس پر گزرتا ہوا پہنچا یوں کہ یا تو وہ ضماد(۱) وخضاب رقیق بے جرم مثل روغن ہے تو اُسی کی جگہ مسح کیا وہ جرم دار ہے تو اس کے باہر چہارم سر کی قدر مسح کیا مگر ہاتھ اس پر ہوتا گزرا اگر اس گزرنے میں ہاتھ کی تری میں اُس خضاب وضماد کے اجزاء ایسے مل گئے کہ اب وہ تری پانی نہ کہلائے گی تو مسح جائز نہ ہوگا ورنہ جائز۔

یہ نمبر (۲۲۱) ہوا جس کا جائزات میں اضافہ ہونا چاہئے، وجیز امام کردری فصل مسح میں ہے:
مسحت علی الخضاب ان اختلطت البلۃ بالخضاب حتی خرجت عن کونھا ماء مطلقا لم یجز ۲؎ اھ اقول ولا بدمن تقیید مفھومہ بما ذکرت فاعرف۔
خضاب پر مسح کیا اگر تری خضاب سے مل گئی یہاں تک کہ ماءِ مطلق ہونے سے خارج ہوگئی تو اُس سے مسح جائز نہیں اھ میں کہتا ہوں اس کے مفہوم کو مقید کرنا ضروری ہے اس قید کے ساتھ جو میں نے ذکر کی ہے اس کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی بزازیۃ مع العالمگیری     الرابع فی المسح ، نورانی کتب خانہ پشاور  ۴  / ۱۵)
 (۲۲۲) پانی میں سَتُّو گھُلے ہوں کہ وہ رقیق نہ رہے اُس سے وضو ناجائز ہے، ہدایہ وکافی میں ہے:
الا ان یغلب علی الماء فیصیر کالسویق لزوال اسم الماء عنہ ۱؎۔
مگر یہ کہ وہ پانی پر غالب ہو کہ پانی مثل ستوؤں کے ہوجائے،کیونکہ اب اس سے پانی کا نام ختم ہوگیا ہے۔ (ت)
 (۱؎ ہدایۃ  باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالایجوزبہ  مطبع عربیہ کرا چی      ۱/۱۸)
خانیہ میں ہے:وان صارثخینا مثل السویق لا ۲؎۔
اور اگر ستوؤں کی طرح گاڑھا ہوجائے تو جائز نہیں۔ (ت)
 (۲؎ قاضی خان    فیما لایجوز بہ التوضی نولکشور لکھنؤ  ۱/   ۹)
المقابلات
 (عـہ یعنی وہ پانی جن کی صورت جواز جائزات میں گزری یہ صورتیں ان کے مقابل ہیں ۱۲ (م)
 (۲۲۳) اہلے میں اگر اس قدر مٹی کُوڑے وغیرہ کا خلط ہے کہ پانی کیچڑ کی طرح گاڑھا ہوگیا تو اُس سے وضو جائز نہیں، خانیہ میں ہے:
توضأ بماء السیل یجوز وانکان ثخینا کالطین لا ۳؎۔
اگر کسی نے سیلاب کے پانی سےوضوکیا تو جائز ہے اور اگر کیچڑ کی طرح گاڑھا ہو تو جائز نہیں۔ (ت)
 (۳؎ قاضی خا ن فیما لایجوز بہ التوضی  نولکشور لکھنؤ  ۱/   ۹)
اجناس امام ناطفی پھر منیہ میں ہے:التوضی بماء السیل ان لم تکن رقۃ الماء غالبۃ لایجوز ۴؎۔
اگر پانی کی رقت غالب نہ ہو تو سیلاب کے پانی سےوضوجائز نہیں ہے۔ (ت)
 (۴؎ متن غنیۃ المستملی  احکام المیاہ  سہیل اکیڈمی لاہور    ص۹۰)
اقول: علمائے کرام پراللہ عزوجل کی رحمتیں احتیاط کے لئے ایسی نادر صورتیں بھی ذکرفرماتے ہیں ورنہ سیلاب کا ایسا ہونا بہت بعیدہے وہ اس سے تنبیہ فرماتے ہیں کہ جب اس قدر آبِ کثیر وغزیر اتنے اختلاط تراب سے ناقابلِ وضو ہوگیا تو برساتی ندیوں یا گھڑے لوٹے کے پانی کیا ذکر؟

(۲۲۴ تا ۲۵۱)کاہی آٹاپتّے پھل بیلیں شنجرف یاکسم کی زردیاں کَچ چونا ریشم کے کیڑے مینڈک وغیرہ غیر دموی جانور کے اجزا چنے باقلا وغیرہ ناج کے ریزے کو لتارروٹی کے ذرّے صابون اُشنان ریحان بابونہ خطمی برگ کنار کچے خواہ یہ چھ نظافت کیلئے پانی میں پکائے ہوئے غرض کوئی چیز حتی کہ برف جو اصل پانی ہے اگر پانی ہے اگر پانی میں مل کر اُس رقت زائل کردے اُس سے وضو ناجائز ہوگا۔
اقول: وھذا ھو محمل مافی خزانۃ المفتین عن شرح مجمع البحرین لایجوز الوضوء بماء الباقلی وماء الصابون وماء الاشنان ۱؎ اھ کما ان الاول محمل اطلاق القدوری وغیرہ الجواز فی الصابون والاشنان غیرانہ حمل قریب لان المعھودھو خلطھما قلیلا بحیث لایذھب الرقۃ وانما(۱) البعد فی ما(۱)فی شرح المجمع۔
میں کہتا ہوں خزانۃ المفتین میں جو شرح مجمع البحرین سے ہے اس کا محمل یہی ہے،اس کی عبارت یہ ہے کہ باقلی اور صابون اور اُشنان کے پانی سےوضوجائز نہیں ہے اھ جیسا کہ اوّل قدوری وغیرہ کے اطلاق کا محمل ہے ان کے اطلاق سے اشنان اور صابون کے پانی سے جواز معلوم ہوتا ہے، یہ حمل قریبی ہے کیونکہ عام طور پر یہ دونوں چیزیں کم مقدار میں ملائی جاتی ہیں کہ اس سے پانی کی رقت ختم نہیں ہوتی ہے، اور شرح مجمع میں جو ہے وہ بعید ہے۔ (ت)
 (۱؎ خزانۃ المفتین)
ان پر اکثر نصوص ان کے مقابلات میں اپنے اپنے محل پر مذکور ہُوئے اور خانیہ میں فرمایا:
لووقع الثلج فی الماء وصار ثخینا غلیظا لایجوز بہ التوضوء لانہ بمنزلۃ الجمد وان لم یصر ثخیناجاز ۲؎۔
اگر برف پانی میں گر گئی اور پانی گاڑھا ہوگیا تو اس سےوضوجائز نہیں کیونکہ یہ بمنزلہ جمد کے ہے اور اگر گاڑھا نہ ہو تو جائز ہے۔ (ت)
 (۲؎ قاضی خان    فیما لایجوزبہ التوضی    نولکشور لکھنؤ    ۱/۹)
۹یہ برف کا نص ہے کہ اگر پانی کو گاڑھا کردے اس سے وضو ناجائز ہوگا جب تک پگھل کر پانی کی رقت عود نہ کرے اور گاڑھا نہ کرے تو جائز یہ نمبر (۲۵۲) ہوا کہ جائزات میں اضافہ ہوگا۔

(۲۵۳ و ۲۵۴) جس پانی میں کوئی دوا یا غذا پکا کر تیار کی متون میں ہے
لابما تغیر بالطبخ
 (نہ اس پانی سے جو پکانے سے متغیر ہوجائے۔ ت)
(۲۵۵ و ۲۵۶) یوں ہی چائے یا کافی جن کے پکانے سے پانی کی رقت میں فرق آئے اگرچہ ان سے سیلان نہیں جاتا رقّت وسیلان کا فرق ضوابط میں مذکور ہوگا اِن شاء اللہ قہوہ میں گاڑھا پن ضرور مشہود ہوا ہے اور اگر اُسے بھی پانی میں اثر کرنے سے پہلے نکال لیا تو جواز رہے گا
لعدم الطبخ وبقاء الطبع کما فی ۱۱۰ یہ (۲۵۷)
 بھی جائزات میں زائد کیا جائے۔
 (۲۵۸ تا ۲۶۲) عرق گاؤ زبان گلاب کیوڑا بید مشک خوشبو ہوں یا اترے ہوئے یوں ہی ہر عرق اوصاف میں پانی کے خلاف ہو یا موافق غرض جو بہتی چیز پانی کی نوع سے نہیں جب پانی کی مقدار سے زیادہ اُس میں مل جائے بالاجماع اُس سے وضو نہ ہوسکے گا۔

اور اگر پانی کے برابر ملے جب بھی احتیاطاً عدمِ جواز ہی کا حکم ہے۔ بدائع میں فرمایا:
فان استویا فی الاجزاء لم یذکر ھذا فی ظاھر الروایۃ وقالوا حکمہ حکم الماء المغلوب احتیاطا ۱؎ وقال فی الغنیۃ وکذا ان کانت مساویۃ احتیاطا حتی یضم الیہ التیمم عند المساواۃ ۲؎۔
اگر دونوں اجزاء میں برابر ہوں تو یہ چیز ظاہر روایت میں نہیں ہے، فقہاء نے فرمایا اس کا حکم احتیاطاً مغلوب پانی کا سا ہے۔ غنیہ میں کہا اور اسی طرح ہے جب وہ مساوی ہوں احتیاطاً حتی کہ جب دونوں برابر ہوں تو وضو کے ساتھ تیمم بھی کرلیا جائے اھ (ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل فی الماء المقید    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۵)

(۲؎ غنیۃ المستملی    فصل فی احکام المیاہ    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۹۰)
اقول: لم یسندہ لاحد ولم ارہ لغیرہ وفیہ نبوء عن القواعد فما اجتمع(۱) حاظر ومبیح الاغلب الحاظر ولا حکم للمغلوب وایضا اذا استویا(۲) فقد تعارضا واذا تعارضا تساقطا وایضا لیس تسمیتہ(۳) ماء باولی من تسمیۃ غیرہ فکیف ینطلق علیہ اسم الماء المطلق وما لیس بماء مطلق لایصح الوضوء بہ اصلا والاشتغال بما لایصح یکرہ تحریما کما فی الدر عن القنیۃ بل ھو اضاعۃ المال فیحرم تأمل وراجع وکانہ فھم من قولھم احتیاطا ان لھم شکا فی کونہ ماء فاحترزوا عنہ للاحتیاط فان لم یکن ماء لم یجز الوضوء بہ وانکان ماء لم یجز التیمم مع وجودہ فیجمع بینھما خروجا عن العھدۃ بیقین فانہ انکان ماء فقد توضأ وان لم یکن فقد تیمم کما فی سؤر(۱) الحمار للشک فی طھوریتہ ولیس(۲) کذلک بل الاحتیاط ھھنا بمعنی العمل باقوی الدلیلین لایستقیم لاحد ان یسمیہ ماء مطلقا فھو خارج عنہ بالیقین من دون شک ولا تخمین واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں اس کو انہوں نے کسی کی طرف منسوب نہیں کیا اور ان کے علاوہ کسی نے اس کو ذکر نہیں کیا، اور یہ قواعد سے دُوری ہے، جس چیز میں بھی حرام کرنیوالی اور مباح کرنیوالی دلیل جمع ہوجائے تو حرام کرنے والی غالب رہے گی اور مغلوب کا کوئی حکم نہ ہوگا اور جب دونوں برابر ہوں تو تعارض ہوگا اور تساقط ہوجائیگا، پھر اس کا پانی کہا جانا کسی دوسرے نام سے اولٰی نہیں ہے تو اس پر مطلق پانی کا نام کیسے بولا جائیگا اور جو مطلق پانی نہ ہو اس سےوضوبالکل جائز نہیں اور جو چیز صحیح نہ ہو اس میں مشغولیت مکروہ تحریمی ہے جیسا کہ در میں قنیہ سے ہے، بلکہ یہ تو مال کا ضائع کرنا ہے لہٰذا حرام ہوگا، اس پر غور کیجئے اور مراجعت کیجئے، اور شاید انہوں نے ان کے قول احتیاطاً سے یہ سمجھا کہ ان کو اس کے پانی ہونے میں شک ہے تو احتیاطا ً اس سے انہوں نے پرہیز کیا ہے اب اگر وہ پانی نہیں تو اس سے وضو جائز نہیں اور اگر پانی ہے تو اس سے تیمم جائز نہیں، تو تیمم اور وضو دونوں کو جمع کیا جائیگا تاکہ یقین سے فریضہ ادا ہوجائے،کیونکہ اگردرحقیقت پانی ہو تو وضو ہوگیااوراگر پانی نہیں تو تیمم ہوگیا، جیسا کہ گدھے کے جُوٹھے کا حکم ہے،کیونکہ اس کے طہور ہونے میں شک ہے اور یہا ں ایسا نہیں ہے بلکہ یہاں یہ احتیاط ہے کہ اقوی الدلیلین پر عمل ہوجائے، کوئی اس کو مطلق پانی نہیں کہتا یہ اس سے یقیناً خارج ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)

(۲۶۳ تا ۲۶۶) اقول ایسی بے لون چیزیں اگر مزہ پانی کے خلاف رکھتی ہوں کہ نصف سے کم مل کر بدل دیں تو باتفاق منقول وضابطہ اُس سے وضو کا عدمِ جواز چاہئے۔
اما المنقول فلان العبرۃ بالطعم حیث لالون واما الضابطۃ فلانھا ذوات وصف اووصفین وعلی کل یکفی تغیر وصف واحد فمامر عن البحر من العبرۃ(۳) بالاجزاء فی ماء لسان الثور وماء الورد المنقطع الرائحۃ ۱؎ ومثلہ فی الغنیۃ غیر مسلم فلیتنبہ۔
رہی نقل دلیل تو اعتبار مزے کا ہے جہاں رنگ نہ ہو اور ضابطہ یہ ہے کہ وہ دو وصفوں والی چیز ہے یا ایک وصف والی چیز ہے اور بہرصورت ایک وصف کا بدلنا کافی ہے اور بحر میں جو ہے کہ زبانِ ثور اور گلاب کے پانی میں جس کی خوشبو ختم ہوچکی ہو اجزأ کا اعتبار ہے، مسلم نہیں، فلیتنبہ۔ (ت)
 (۱؎ بحرالرائق    کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۶۹)
Flag Counter