وانا اقول: وباللّٰہ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق فعل الناروالعیاذ باللّٰہ تعالٰی منھا تفریق الاتصالات فاذاطبخ شیئ تنزیل النارصلابتہ وتفتح منافذہ فیداخلہ الماء وتخرج اجزاؤہ اللطاف فی الماء فتورثہ ثخونۃ اذا کان الماء علی ماھو المعتاد فی طبخ الاشیاء وان لم تظھر اذاکثر الماء جدافان الکلام فی الطبخ المعھود ولا یجعل فیہ من الماء الاقدر معلوم موافق لحصول الامتزاج وھذاماافادالزیلعی واتباعہ ان بالطبخ یحصل کمال الامتزاج نعم الحرارۃ توجب اللطافۃ فمادام حارالایظھر ذلک التغیرعلی ماھوعلیہ وبہ ظھر سرماقالوااذاصاربحیث اذبرد ثخن وھذاھو الفارق بین النیئ والمطبوخ فان النیئ لیس فیہ مایمنع ظھورالثخانۃ فاحیل فیہ علی نفس ذھاب الرقۃ بخلاف المطبوخ مالم یبردفیحال فیہ علی النظر فان ظھرانہ یثخن اذابردلم یجزالوضوء بہ والاجاز والمرجع فی ھذاھوحصول النضج والادراک فان عند ذلک یحصل کمال الامتزاج وھو یوجب فی المعتاد ثخونۃ الماء فبھذاالتقریر وللّٰہ الحمد انحلت الاشکالات عن اٰخرھا۔
میں کہتا ہوں وباللہ التوفیق آگ کا کام متصل کو منفصل کرناہے جب کوئی چیز آگ پر پکائی جاتی ہے تو آگ اس کی سختی کو زائل کردیتی ہے اور اُس کے سوراخوں کو کھول دیتی ہے جس کی وجہ سے اس میں پانی داخل ہوجاتاہے اور اس کے لطیف اجزاء پانی میں آجاتے ہیں،اس طرح پانی گاڑھا ہوجاتا ہے جبکہ پانی عادت کے مطابق پکایا جائے اور جب پانی بہت زیادہ ہوتاہے تو یہ گاڑھا پن ظاہر نہیں ہوتا ہے،کیونکہ گفتگو متعارف پکانے میں ہے اوراس میں ایک معین مقدار کے پانی کی آمیزش کی جاتی ہے تاکہ امتزاج حاصل ہوجائے، زیلعی وغیرہ میں یہی ہے کہ پکانے سے کمال امتزاج حاصل ہوتا ہے،ہاں حرارت لطافت کا موجب ہوتی ہے تو جب تک وہ گرم رہتا ہے تو یہ تغیر ظاہر نہیں ہونے پاتا ہے،اسی سے یہ راز سربستہ بھی منکشف ہوگیاکہ فقہاء فرماتے ہیں جب پانی ٹھنڈا ہو کر گاڑھا ہوجائے،اور یہی چیز مابہ الامتیاز ہے کچّے اور پختہ میں،کیونکہ کچّے میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو گاڑھے پن کو ظاہر ہونے سے روکتی ہو تو اس میں دارومدار صرف رقّت کے ختم ہونے پر ہے برخلاف پکے ہوئے کے جو ٹھنڈا نہ ہواہو تو اس کا دارومدار اس پر ہے کہ دیکھا جائے اگر یہ ظاہر ہو کہ ٹھنڈا ہو کر گاڑھا ہوجائیگا تو اس سے وضو جائز نہیں ورنہ جائز ہوگا،اور دارومدار اس میں پکنا ہے کیونکہ اسی وقت کمال امتزاج پایا جاتا ہے اور یہی چیز عام طور پر پانی کے گاڑھا ہونے کا موجب ہوتی ہے، اس تقریر سے تمام اشکالات رفع ہوگئے۔
فالاول: قد ظھر الفرق بین النیئ والمطبوخ۔
اول: کچے اور پکے کا فرق ظاہر ہوا۔
والثانی: الطبخ فی کلام الینابیع الاغلاء فی الماء علی النار وان لم ینضج علی سبیل عموم المجاز لابل بیان لحکم یعم المعتاد وغیرہ کمن وضع کفامن حمص فی قدر قربۃ من الماء فانہ لایثخن حین یبرد وان نضج الحمص وادرک وھذا ھو منشؤ التقییدبغالبافی کلام الغنیۃ ونظر الشرنبلالی الی المعتاد المعھود فاطلق القول انہ اذبرد ثخن وباللّٰہ التوفیق۔
دوم: ینابیع کی عبارت میں طبخ سے مراد شیئ کو جوش دینا ہے پانی میں آگ پر خواہ پکا ہوانہ ہو، یہ بطور عموم مجاز کے ہے، نہیں بلکہ یہ ایسے حکم کا بیان ہے جو معتاد وغیر معتاد دونوں کو عام ہے، مثلاً کسی نے ایک مُٹھی چنے ایک ہانڈی بھر پانی میں ڈال دیئے تو یہ ٹھنڈاہونے پر گاڑھانہ ہوگا خواہ چنے کتنے ہی پک جائیں، اور غنیہ کی عبارت میں غالباً کی قید کا یہی مفاد ہے اور شرنبلالی کی نظر معہود پر گئی تو انہوں نے مطلق قول رکھاکہ جب ٹھنڈا ہوگا تو گاڑھا ہوجائے گا وباللہ التوفیق۔
والثالث فیہ اشیاء۔
سوم اس میں چند اور قابل ذکر باتیں ہیں:
فاقول: اولا(۱) تبین ان فرض عدم التغیر اصلا مع حصول الطبخ فرض مالاوقوع لہ۔
میں کہتا ہوں اول:پکنے کے باوجودیہ مفروضہ قائم کرناکہ تغیر نہیں ہوا ہے باوجود حصول طبخ کے ایک ایسی چیز کا فرض کرنا ہے جو واقع نہیں ہوئی ہے۔
وثانیا قد(۲) علمت ان مافی الخانیۃعن الناطفی لایخالف ماقدمہ لاجرم ان عزاالعلامۃ القوام الکاکی شارح الھدایۃ ثم ابن الشلبی محشی الزیلعی ماعن الناطفی الی قاضی خان ایضافقالا اذا طبخ ولم یثخن بعد ورقۃ الماء فیہ باقیۃ جازالوضوء بہ ذکرہ الناطفی وفی فتاوٰی قاضی خان ۱؎ اھ والیہ یشیرکلام الحلیۃ اذجعل کلام الناطفی مفاد مافی قاضی خان حیث قال تحت قول الماتن لاتجوزبماء الباقلاء مانصہ سیذکر عن الجامع الکبیر تقیید عدم الجواز بماء الباقلا بما اذا کان مطبوخاوھو بحال اذا برد ثخن وزالت عنہ رقۃ الماء فیحمل ھذاالاطلاق وان وقع مثلہ لغیرالمصنف علی ذلک دفعا للتناقض ومن ثمہ لما ذکر القدوری فی غدادمالایجوزالطھارۃ بہ ماء الباقلا قال فی الھدایۃ المراد ماتغیر بالطبخ و احسن منہ حملہ علی مااذا کان مسلوبا منہ اسم الماء مطبوخا اولا کما یفیدہ مافی الخانیۃ فذکر کلامہ المارفی النیئ والمطبوخ تماما۲؎ وفیہ حدیث الریح فلوحسبہ مخالفالقول الناطفی لکان قولہ مرجوحالانہ انما یقدم الاظھرالاشھر فلم یکن یحسن نسبۃ مازیفہ الیہ ومن الدلیل علیہ ان الامام قاضی خان نفسہ صرح بھذا الذی قالہ الامام الناطفی وجزم بہ فی عامۃ المعتمدات فی شرحہ للجامع الصغیر کما عزاہ لہ فی الغنیۃ۔
دوم: خانیہ میں جو ناطفی سے منقول ہے یہ گزشتہ قول کے منافی نہیں،اسی لئے علامہ کاکی شارح ہدایہ اور ابن شلبی محشی زیلعی نے ناطفی کے قول کو قاضی خان کی طرف بھی منسوب کیا ہے،ان دونوں حضرات نے فرمایا جب پکایا گیااور گاڑھا نہ ہوا اور پانی کی رقت اس میں باقی رہی تو اس سے وضو جائز ہے، اس کو ناطفی نے ذکر کیا ہے،اور یہ فتاوٰی قاضی خان میں ہے اھ اس طرف حلیہ میں اشارہ ہے کیونکہ انہوں نے ناطفی کے کلام کوقاضی خان کی گفتگو کا ماحصل قرار دیا ہے، وہ ماتن کے قول لاتجوز بماء الباقلی کے تحت فرماتے ہیں کہ عنقریب جامع کبیر سے باقلی کے پانی کے ساتھ عدم جواز کے مقید کرنے کی وجہ بیان کرینگے کہ وہ ایسا پکا ہوا ہو کہ جب ٹھنڈا ہو تو گاڑھا ہوجائے اور اس کی رقت زائل ہوجائے تو یہ اطلاق (اگرچہ مصنّف کے علاوہ دوسرے حضرات نے بھی ایسا ہی کیا ہے)اس پر محمول کیاجائے گاکہ تناقض مرتفع ہوجائے، اس لئے جب قدوری نے اُن اشیاء کا ذکر کیا جن سےوضوجائز نہیںہے تو باقلی کے پانی کو ذکر کیا،ہدایہ میں فرمایا اس سے مراد وہ پانی ہے جو پکائے جانے سے بدل گیاہو اور اس کا حمل اس پر زیادہ اچھا ہوگا جبکہ اس پر پانی کا اطلاق ختم ہوگیا ہو خواہ وہ پکا ہوا ہو یا نہ ہو، جیسا کہ خانیہ سے پتاچلتا ہے، پھر انہوں نے اپنا گزشتہ کلام ذکر کیا جو کچے اور پختہ سے متعلق ہے، اسی میں بُو کابھی تذکرہ ہے تواگر وہ اس کو ناطفی کے قول کے مخالف سمجھتے تو ان کا قول مرجوح ہوتا، کیونکہ وہ اظہرواشہر کو مقدم کرتے ہیں، تو جس قول کو انہوں نے ناپسندیدہ قرار دیا اسی کی نسبت ان کی طرف اچھی نہیں،اس کی دلیل یہ ہے کہ خود قاضی خان نے اس چیز کی تصریح کی ہے جو امام ناطفی نے ذکر کیاہے اور اسی پر انہوں نے اپنی عام معتمدات میں جامع صغیر کی شرح میں جزم کیا ہے اورغنیہ میں اس کو ان کی طرف منسوب کیا ہے۔
(۱؎ حاشیۃ الشلبی علی التبیین بحث الماء بولاق مصر ۱/۱۹)
(۲؎ حلیہ)
وثالثا العجب انہ(۱) رحمہ اللّٰہ تعالٰی یحتج بعبارۃ الخانیۃ وقد شرط وجود الرائحۃ ثم یقول سواء تغیر شیئ من اوصافہ اولا
سوم: تعجب اس پرہے کہ وہ خانیہ کی عبارت سے استدلال کر رہے ہیں اور انہوں نے بُو کی شرط لگائی ہے پھر فرمایا عام ازیں کہ اس کے اوصاف میں سے کچھ بدلا ہوا ہو یا نہ بدلا ہوا ہو۔
(۱؎ بحرالرائق بحث الماء سعید کمپنی کراچی ۱/۶۸)
ورابعاانکرالعطف(۲) علی بکثرۃ الاوراق ولیس ثمہ مایصلح لعطفہ الاھو فان عبارۃ المختصر یتوضوء بماء السماء العین والبحر وان غیرطاھراحداوصافہ اوانتن بالمکث لابما تغیر بکثرۃ الاوراق اوبالطبخ ۲؎ فان لم یعطف علی بکثرۃ یعطف علی بما تغیرای لایتوضوء بالطبخ وھو کلام مغسول
چہارم: بکثرۃ الاوراق پر عطف کاانکار کیا ے حالانکہ وہاں صرف اسی پر عطف ممکن ہے کیونکہ مختصر کی عبارت یہ ہے یتوضوء بماء السماء الخ تو اگر بکثرۃ پر عطف نہ کیا جائے تو بما تغیر پر کرنا ہوگا، اور یہ غلط ہے۔
(۲؎ کنز الدقائق بحث الماء ایجوکیشنل پریس کراچی ۱/۱۱)
وخامسا:تأویلہ(۳)بان المراد تغیر طبعہ اووصفہ بل اطلاقہ لایتمشی فی عبارۃ النقایۃ والاصلاح تغیر بالطبخ معہ وھو مما لایقصد بہ النظافۃ اذیفید علی ھذا جواز الوضوء بما تغیر من الاطلاق بالطبخ مع المنظف ولیس مرادقطعافانماالامرانہ لماتغیربالطبخ صار مقیداتغیر بالطبخ۔
پنجم: اس کی یہ تاویل کرنا کہ مراد اس کی طبیعت یا وصف کا بدلنا نہیں ہے، بلکہ ان کی عبارت کا اطلاق اصلاح ونقایہ کی عبارت میں نہیں چل سکتا ہے کہ تغیر بالطبخ معہ ہے، اور یہ وہ چیز ہے جس سے نظافت مقصود نہ ہو، اس لئے کہ اس بناء پر اُس چیز سے جس سے تغیر واقع ہو وضو جائز ہوگا، یعنی جب کہ نظافت والی چیز کے ساتھ پکانے کو مطلق رکھا جائے، حالانکہ یہ قطعاً مراد نہیں ہے، کیونکہ جب پکانے سے متغیر ہوگیا تو مقید ہوگیا یہ نہیں کہ جب مقید ہوگیا توپکانے سے متغیر ہوگیا۔ (ت)
اقول: ووقع(۱) فی تعبیر ش تغییر لمفاد البحر فان قولہ فی المختار کما فی البحر یوقع من لایراجع البحرفی توھم انہ تصحیح منقول فی البحر عن اھلہ فانہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی لم یکن من اصحابہ کما اعترف بہ ش فی عقود رسم المفتی وبیناہ فی رسالتنا ھبۃ الجیر فی عمق ماء کثیرولیس کذلک وانما قال لخلافہ من قبل نفسہ لیس ھو المختار۔
میں کہتا ہوں ''ش'' کی عبارت میں تبدیلی بحر کے مفاد کیلئے ہے کیونکہ ان کا قول فی المختار کما فی البحر ایک ایسے شخص کو جس نے بحر نہ دیکھی ہو اس وہم میں مبتلا کرسکتا ہے کہ یہ بحر کے منقول کی تصحیح ہے جو انہوں نے کسی سے نقل کیا ہے،کیونکہ وہ اس کے اصحاب سے نہیں جیسا کہ اس کا اعتراف ''ش'' نے عقود رسم المفتی میں کیا ہے اور ہم نے اس کو ''ھبۃ الجیر فی عمق ماء کثیر'' میں ذکر کیا ہے جبکہ امر واقعہ یہ نہیں ہے، یہ بات انہوں نے اس لئے کہی ہے کہ وہ اپنی طرف سے اس کے مخالف ہیں، وہ مختار نہیں سمجھتے (ت)
چہارم: پکنے کی وجہ سے طبیعت کا زائل ہونا کبھی ظاہر نہیں ہوتا ہے، ہاں جب ٹھنڈا ہوتا ہے تو تقسیم صحیح ہے، تو کچے کا دارومدار گاڑھے پن پر ہوگا اور پکے ہوئے میں اس کی دلیل پر ہوگا اور غالباً برجندی اسی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ وہ اس کے بعد ظہیریہ کے کلام کو لائے ہیں،یہ اس کی مکمل تحقیق ہے۔ (ت)(ولہ الحمد الخ کا ترجمہ نہیں لکھا)
(۲۱۸)پانی میں میوے جوش دے کر اُن کا عرق نچوڑا یہ عرق اگرچہ پانی سے مخلوط ہوگا کہ حرارت نار کے سبب میوے پانی کا تشرب کریں گے خصوصاً جبکہ کُوٹ کر ڈالے اس سےوضوجائز نہیں۔ فتاوٰی امام قاضی خان میں ہے: