Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
158 - 176
ثم اقول:  وباللّٰہ التوفیق بل لاخلاف اما القولان الاولان فالتوفیق بینھما واضح فانہ اذ انضج الباقلی فی الماء وادرک وجدریحہ من الماء لامحالۃ وھذا ھومعنی الطبخ کما تقدم فی ۱۰۸ نعم(۱)علی ھذا یضیع الشرط ولا امکان لحمل الطبخ علی الالقاء بقصدہ لیکون احترازاعما اذا اُخرج قبل ان یؤثر فی الماء فانہ ح یشمل مااذا اُخرج بعدما غیرریح الماء بل ان ینطبخ فان تغیر الریح لایتوقف علی النضج فعلی ھذا یکون مجرد تغیر الریح بدون الطبخ موجباللتقییدوھوخلاف النصوص المذکورۃ فی ۸۹ فان عندعدم الطبخ لاوجہ للفرق بینہ وبین النقیع تأمل واماالقول الثالث فافاد فی الغنیۃ مایعطی وفاقہ حیث قال التقیید یحصل للماء بکمال الامتزاج بالطبخ بان یطبخ فی الماء شیئ حتی ینضج فحینئذ یخرج الماء عن طبعہ وھو سرعۃ السیلان ولا شک انہ اذذاک اذابرد یثخن غالبافکانت القاعدۃ فی المخالطۃ بالطبخ ان ینضج المطبوخ فی الماء وفی المخالطۃ بدونہ ان تزول رقتہ ۱؎ اھ وتبعہ فی مراقی الفلاح فقال لابماء زال طبعہ بالطبخ لانہ اذابرد ثخن ۲؎۔
پھر میں کہتا ہوں وباللہ التوفیق،بلکہ کوئی خلاف ہی نہیں،اور دو۲ پہلے اقوال میں تطبیق واضح ہے کہ ھے جب باقلا پانی میں اچھی طرح پک جائے تو لامحالہ اس کی بُو پانی میں آئے گی اور پکنے کے یہی معنی ہیں جیسا کہ ۱۰۸ میں گزرا۔ ہاں اس تقدیر پر شرط لگانا بے سود ہوگا اور یہ امکان نہیں ہے کہ طبخ کو اس پر محمول کیا جائے کہ پکانے کے ارادہ سے ڈالنا، تاکہ اس صورت سے احتراز کیا جائے جب کہ اُس کو پانی میں اثر انداز ہونے سے قبل نکال لیا جائے کیونکہ یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جس کو نکالا جائے اس وقت جبکہ اس سے پانی کی بُو تبدیل ہوجائے اور وہ پکنے نہ پائے، کیونکہ بُو کا بدلنا پکنے پر موقوف نہیں اس بناء پر صرف بُو کا بدلنا بلاپکائے موجبِ تقیید ہوگا اور یہ نصوص مذکورہ کے خلاف ہوگا، نصوص ۸۹ میں مذکور ہیں، کیونکہ نہ پکنے کی صورت میں اُس میں اور نقیع (نچوڑا ہوا) میں کوئی فرق نہیں ہوگا،یہ مقامِ غور ہے، تیسرا قول،غنیہ کے مطابق وہ ہے جس سے اتفاق معلوم ہوتا ہے، وہ فرماتے ہیں تقیید پانی میں اس وقت ہوتی ہے جب پکنے سے مکمل امتزاج حاصل ہوجائے، مثلاً یہ کہ پانی میں کوئی چیز پکائی جائے حتّٰی کہ مکمل طور پر پک جائے، تو اس وقت وہ پانی اپنی طبیعت سے خارج ہوجائیگااوریہ اس کاتیزی سے بہنا ہے، اور ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں وہ ٹھنڈا ہونے پر گاڑھا ہوجائیگا تو پکانے والی چیز میں مخالطۃ کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ چیز پانی میں پک جائے، اور پکائے بغیر مخالطۃ میں یہ ہے کہ اس کی رقّت ختم ہوجائے اھ اور یہی بات مراقی الفلاح میں کہی گئی ہے، فرمایا نہ اس پانی سے جس کی طبیعت پکائے جانے کی وجہ سے ختم ہوگئی کیونکہ جب وہ ٹھنڈا ہوگا گاڑھا ہوجائے گا۔ (ت)
 (۱؎ غنیۃ المستملی     فصل احکام المیاہ    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۹۰)

(۲؎ مراقی الفلاح    کتاب الطہارۃ    مطبعۃ الامیریۃ مصر    ص۱۵)
اقول : لاطبخ الا بالنضج کما علمت فکان الطبخ نفسہ القاعدہ من دون شریطۃ زائدۃ وھذا یوافق اھل الضابطۃ ثم اذاکان الطبخ یورث الثخونۃ مطلقاحصل توافق الاقوال ومجال المقال فیہ من وجوہ۔
میں کہتا ہوں طبخ بلانضج نہیں ہوتا ہے جیسا کہ آپ نے جانا، تو طبخ بجائے خود قاعدہ ہے اس میں کسی زائد شرط کی حاجت نہیں اور یہ ضابطہ والوں کے موافق ہے، پھر جب طبخ سے مطلقاً گاڑھا پن پیدا ہوتا ہے تو اقوال میں توافق پیدا ہوگا،اور اس میں کئی وجوہ سے کلام ہوسکتا ہے۔
الاول: مااقول انہ علی ھذالم یبق الفرق بین النیئ والمطبوخ اذصارالمدارفیھماجمیعا الثخونۃ وکلام الشیخ یؤذن بالتفرقۃ۔
اوّل: یہ جو میں کہتا ہوں کہ اس بنا پر کچے اور پکے ہوئے میں کوئی فرق نہیں کیونکہ ان دونوں میں دارومدار گاڑھا ہونا ہے اور شیخ کے کلام سے دونوں میں فرق معلوم ہوتا ہے۔
والثانی:  مااقول ایضاتقسیم الطبخ فی الینابیع الی صورۃ الثخونۃ وبقاء الرقۃ یؤذن بان الطبخ لایوجب الثخانۃ ولا ینفع قولہ غالبالانہ اذابردفلم یثخن وجب جوازالوضوء بہ لاحاطۃ العلم بعدم المانع۔
دوم میں کہتا ہوں ینابیع میں طبخ کی تقسیم اس طرح کی گئی ہے کہ صورتاً گاڑھا پن ہو اور رقت باقی ہو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طبخ سے گاڑھا پن لازمی نہیں ہوتا ہے،اور ان کے قول غالب کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ جب ٹھنڈا ہونے پر گاڑھا نہ ہو تو اس سےوضوجائز ہے کیونکہ مانع کے نہ ہونے کا علم ہے۔
والثالث: قال المحقق البحر فی البحر لایتوضوء بماء تغیربالطبخ بمالایقصد بہ التنظیف کماء المرق والباقلاء لانہ ح لیس بماء مطلق لعدم تبادرہ عند اطلاق اسم الماء امالوکانت النظافۃ تقصد بہ کالسدر والصابون والاشنان یطبخ بہ فانہ یتوضوء بہ الا اذاخرج الماء عن طبعہ من الرقۃ والسیلان وبما تقرر علم ان ماذکرہ فی التجنیس والینابیع (فاثر مامر اٰنفا) لیس ھو المختار بل ھو قول الناطفی من مشایخنا رحمھم اللّٰہ تعالٰی یدل علیہ ماذکرہ قاضی خان (فنقل ماتقدم الاٰن) قال وبما قررناہ علم ان الماء المطبوخ بشیئ لایقصد بہ المبالغۃ فی التنظیف یصیر مقیدا سواء تغیر شیئ من اوصافہ اولم یتغیر فحینئذ لاینبغی عطفہ فی المختصر علی بکثرۃ الاوراق الا ان یقال انہ لما صارمقیدا فقد تغیر بالطبخ ۱؎ اھ وتبعہ ش فقال فی المرق والباقلأ انہ یصیر مقیداسواء تغیر شیئ من اوصافہ اولا وسواء بقیت فیہ رقۃ الماء اولا فی المختار کما فی البحر ۲؎۔
سوم محقق نے بحر میں فرمایا کہ اس متغیر پانی سے وضو نہ کیا جائے جس کوکسی ایسی چیز کے ساتھ پکایا گیا ہو جو تنظیف کیلئے نہیں ہوتی ہے جیسے شوربہ اور باقلا کا پانی، کیونکہ یہ مطلق پانی نہیں ہے اس لئے کہ جب پانی کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے یہ پانی متبادر نہیں ہوتا ہے اور اگر وہ چیز ایسی ہو کہ اس سے نظافت مقصود ہو جیسے جھربیری، صابون اور اشنان کو پانی کے ساتھ پکایا جائے تو اس پانی سے وضو کیا جائیگا،ہاں اگر پانی اپنی طبیعت سے نکل جائے یعنی رقت اور سیلان ختم ہوجائے تووضوجائز نہ ہوگا، اور گزشتہ تقریر سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو کچھ تجنیس اور ینابیع میں ہے (وہ نقل کیا جو ابھی گزرا) وہ مختار نہیں ہے بلکہ وہ ہمارے مشائخ میں سے ناطفی کا قول ہے، قاضی خان کا قول اس پر دلالت کرتا ہے (جو ابھی گزرا وہ نقل کیا) فرمایا ہماری تقریر سے معلوم ہوا کہ پانی کو اگر کسی ایسی چیز سے جوش دیا جائے جس سے زیادہ تنظیف مقصود نہ ہو تووہ مقیدہوجائیگاخواہ اس کے اوصاف میں تغیر ہو یانہ ہو اس صورت میں اس کا عطف مختصر میں ''بکثرۃ الاوراق'' پر مناسب نہیں،ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب وہ مقید ہوگیا تو پکنے سے متغیر ہوگیا اھ ''ش'' نے بھی یہی لکھااور شوربا اور باقلأ میں لکھا کہ وہ مقید ہوجائیگا خواہ اس کے اوصاف میں تبدیلی ہو یا نہ ہو،عام ازیں کہ اس میں پانی کی رقّت رہے یا نہ رہے، مختار یہی ہے جیسا کہ بحر میں ہے اھ (ت)
 (۱؎ بحرالرائق        بحث الماء     سعید کمپنی کراچی    ۱/۶۸)

(۲؎ ردالمحتار        باب المیاہ    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۳۳)
والرّابع:  قال العلامۃ البرجندی تحت قول النقایۃ وان تغیر بالمکث اواختلط بہ طاھر الا اذا اخرجہ عن طبع الماء اوغیرہ طبخاما۳؎ نصہ واطلاق التغییر وجعلہ قسیما للاخراج من طبع الماء یتبادر منہ ان مطلق التغیر بالطبخ مانع سواء اخرجہ عن طبع الماء اولا وھذا ھو المفھوم من الھدایۃ ویؤیدہ ما فی الخزانۃ وفتاوٰی قاضی خان انہ اذاطبخ فیہ الباقلی وریح الباقل یوجد منہ لایجوز بہ التوضی وقد ذکر فی الفتاوی الظھیریۃ انہ اذاطبخ الحمص اوالباقلی ۱؎ الی اٰخر ماتقدم عن الفتح۔
چہارم علامہ برجندی نے نقایہ کے قول وان تغیر بالمکث الخ کے تحت فرمایا، تغییر کو مطلق رکھنا اور اس کو اخراج من طبع الماء کا قسیم بنانا، اس سے متبادر یہ ہوتا ہے کہ مطلق تغیر پکانے کی وجہ سے مانع ہے، خواہ وہ اس کو پانی کی طبیعت سے نکالے یا نہ نکالے، ہدایہ سے یہی مفہوم ہے،اس کی تائید خزانہ اور فتاوٰی قاضی خان سے ہوتی ہے کہ اگر اس میں باقلٰی پکایا گیا اور اس کی بُو پانی میں آگئی تو اس سے وضو جائز نہیں،اور فتاوٰی ظہیریہ میں ہے کہ اذاطبخ الحمص اوالباقلی الخ جو فتح سے نقل ہوا۔ (ت)
 (۳؎ شرح النقایۃ للبرجندی    مسائل الماء    نولکشور لکھنؤ        ۱/۳۱)

(۱؎ شرح النقایۃ للبرجندی    مسائل الماء    نولکشور لکھنؤ    ۱/۳۲)
Flag Counter